کراچی سندھ کا تاریخی شہر اور اس کے معمار

نام نہاد بانیانِ پاکستان کا نعرہ لگانے والے کچھ متعصب افراد اور تنظیمیں کراچی کی ملکیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ کراچی، جو آج پاکستان کی معاشی شہ رگ اور دنیا کے بڑے میگا شہروں میں شمار ہوتا ہے، اس کی تاریخ ہندوستان کی تقسیم کے وقت ہجرت کرکے آنے والے مہاجروں کی آمد سے سینکڑوں سال پہلے شروع ہو چکی تھی۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کراچی کو جدید طرز پر تعمیر کرنے، اس کی بنیادیں مضبوط کرنے اور اسے ایک ترقی یافتہ تجارتی مرکز بنانے میں سندھیوں، سندھ کی سرکردہ شخصیات اور ہندو سندھی تاجروں کا کردار بنیادی اور فیصلہ کن رہا ہے۔

جب اردو بولنے والی مہاجر برادری کے زیادہ تر لوگ ہندوستان کے مختلف علاقوں، جیسے اتر پردیش، سینٹرل پردیش، بہار اور لکھنؤ میں اپنی زندگی گزار رہے تھے، اس وقت سندھ کے سرگرم رہنما کراچی کو عالمی معیار کا شہر بنانے کے لیے عملی میدان میں موجود تھے۔

کراچی اصل میں سندھ کے ماہی گیروں اور مقامی لوگوں، یعنی کولاچی کے ملاحوں کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ برطانوی راج کے دوران، خاص طور پر 1843ء میں سندھ پر انگریزوں کے قبضے کے بعد، کراچی کی جغرافیائی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اسے ایک بندرگاہ اور انتظامی مرکز کے طور پر ترقی دی گئی۔ اس پورے عمل میں سندھ کی زمین، سندھ کے پیسے اور سندھ کے مقامی لوگوں کا براہِ راست کردار تھا۔

کراچی کے اصل معمار: چند اہم تاریخی شخصیات

کراچی کو جدید شہر بنانے میں جن عظیم شخصیات کے نام سب سے نمایاں ہیں، ان میں جمشید مہتا، سائیں جی۔ ایم۔ سید اور رائے ہری چند رائے کے نام تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف میں لکھے گئے ہیں۔

جمشید این۔ آر۔ مہتا (جمشید مہتا):

جمشید مہتا کو ’کراچی کا فادر‘ (کراچی کا باپ) کہا جاتا ہے۔ وہ کراچی میونسپل کارپوریشن کے پہلے صدر اور بعد میں میئر رہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کراچی کی بہتری کے لیے وقف کیا۔ شہر میں پینے کے پانی کا نظام، صفائی کا بہترین انتظام، عوامی پارک، اسکول اور اسپتال قائم کرنے میں ان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ انہوں نے کراچی کو ایک صاف ستھرا، سرسبز اور جدید بین الاقوامی شہر بنانے کی بنیاد رکھی۔

1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے نتیجے میں لاکھوں لوگ ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آئے، جن میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو یو۔ پی، سی۔ پی، بہار اور لکھنؤ سے آئے تھے۔ جب وہ کراچی منتقل ہوئے تو کراچی پہلے ہی ایک تیار شدہ، ترقی یافتہ اور منظم شہر کی شکل اختیار کر چکا تھا۔

ہجرت کرکے آنے والوں نے شہر کی بنیادیں نہیں رکھیں، لیکن پہلے سے موجود ترقی یافتہ بنیادی ڈھانچے پر اپنا سماجی اور سیاسی اثر ضرور قائم کیا۔ تاہم، سندھیوں کی قربانیوں، زمینوں اور پہلے سے کیے گئے تعمیراتی کاموں کو نظر انداز کرکے کراچی کی ترقی کا تمام کریڈٹ صرف مہاجر برادری کو دینا تاریخ کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔

اگر دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کوئی بھی شہر راتوں رات ترقی نہیں کرتا۔ کراچی کی ترقی میں سندھیوں کی جغرافیائی، معاشی اور سیاسی قربانیاں شامل ہیں۔ جمشید مہتا جیسی شخصیات کی انتظامی صلاحیت اور سندھ کے وسائل نے اس شہر کو ایشیا کے ایک مثالی شہر کے طور پر متعارف کرایا تھا۔

تاریخ کسی بھی قوم کے حقوق اور کردار کو چھپا نہیں سکتی۔ کراچی سندھ کا حصہ ہے، سندھ کا دل ہے، اور اس دل کو دھڑکانے والے اصل ہاتھ سندھیوں کے ہی تھے اور ہیں۔

مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کراچی کی ترقی میں مختلف برادریوں نے اپنا حصہ ڈالا ہے، لیکن سندھیوں، سندھ کے خیرخواہوں، مقامی رہنماؤں اور ہندو سندھی معماروں کا کردار بنیادی اور ناقابلِ فراموش ہے۔ اردو بولنے والے مہاجروں کی آمد سے بہت پہلے کراچی اپنی ترقی کے بلند مراحل طے کر چکا تھا۔

اس لیے تاریخی حقائق کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ کراچی کو جدید اور ترقی یافتہ شہر بنانے کا اصل فخر سندھیوں کے حصے میں آتا ہے۔ جدید کراچی کی تعمیر میں سندھ ان تین سپوتوں کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔

سائیں جی۔ ایم۔ سید

برطانوی ہندوستان کے دور میں مقامی لوکل بورڈ کا نظام زیادہ تر نوآبادیاتی مفادات تک محدود تھا، لیکن سندھ کے کچھ روشن ضمیر رہنماؤں نے اس پلیٹ فارم کو عوام کی فلاح و بہبود کا ذریعہ بنایا۔ سائیں جی۔ ایم۔ سید نے اپنی جوانی کی ابتدائی دہائیوں ہی میں مقامی اداروں کے ذریعے عوامی خدمت کا آغاز کیا۔

سائیں جی۔ ایم۔ سید نے کراچی لوکل بورڈ کے صدر اور نائب صدر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے کراچی اور دیگر علاقوں کی ترقی کے لیے کوشش کی اور اہم انتظامی و سماجی اصلاحات متعارف کرائیں، جنہوں نے سندھ کی سیاسی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔

سائیں جی۔ ایم۔ سید کا مقامی حکومتوں میں سفر، مانجھند تعلقہ بورڈ سے کراچی ضلعی لوکل بورڈ تک، ترقی کا سفر تھا۔ کراچی لوکل بورڈ کے نائب صدر اور صدر کی حیثیت سے ان کے دور میں تعلیم، صحت اور آمدورفت کے حوالے سے کئی عملی اقدامات کیے گئے۔

لوکل بورڈ میں حاصل ہونے والے اس انتظامی تجربے نے سائیں جی۔ ایم۔ سید کے مجموعی سیاسی فکر اور عوام دوست حکمت عملی تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

سائیں جی۔ ایم۔ سید کا تعلق سن کے سنائی سادات کے ایک معزز خاندان سے تھا۔ بچپن میں والد کی وفات کے بعد خاندانی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے علاقے کے فلاحی کاموں میں دلچسپی لینا شروع کی۔

باقاعدہ اسکولی تعلیم کے بغیر انہوں نے عربی، فارسی، سندھی اور انگریزی ادب کا وسیع مطالعہ کیا، جس نے انہیں فکری طور پر اپنے ہم عصر لوگوں سے آگے کھڑا کر دیا۔

انہوں نے مانجھند تعلقہ بورڈ سے کراچی ضلعی لوکل بورڈ تک کا سفر طے کیا۔ 1925ء میں سائیں جی۔ ایم۔ سید پہلے مانجھند تعلقہ لوکل بورڈ کے رکن اور پھر صدر منتخب ہوئے۔

یہیں انہوں نے پہلی بار اپنی شاندار انتظامی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ انہوں نے سن اور مانجھند میں نائٹ اسکول، انگریزی اسکول اور بورڈنگ ہاؤس کی بنیاد رکھی۔

سائیں جی۔ ایم۔ سید نے 1928ء سے 1929ء تک اس وقت کے کراچی کلکٹریٹ کے وسیع ضلعی لوکل بورڈ میں، جس میں سندھ کے بڑے دیہی علاقے شامل تھے، نائب صدر اور پھر صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ انہوں نے رائے بہادر شیو رام دیون مل جیسی نامور شخصیات کے ساتھ مل کر کام کیا اور اپنی غیر معمولی کارکردگی منوائی۔

سائیں جی۔ ایم۔ سید کی لوکل بورڈ کی قیادت کا دور، بنیادی طور پر 1925ء سے 1929ء کے آخر تک نائب صدر اور صدر کی حیثیت سے، فلاحی کاموں کے حوالے سے سنہری دور سمجھا جاتا ہے۔ ان کے دور میں کراچی ضلعی لوکل بورڈ کے زیر انتظام علاقوں میں نئے پرائمری اور ہائی اسکول کھولے گئے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں کے طلبہ کے لیے تعلیم عام کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔

غریب اور قابل طلبہ کے لیے اسکالرشپ کا انتظام کیا گیا تاکہ معاشی مشکلات تعلیم کے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں۔

اس وقت کراچی ضلع کے دور دراز اور مشکل علاقوں میں آمدورفت کے ذرائع نہ ہونے کے برابر تھے۔ جی۔ ایم۔ سید کی کوششوں سے سن اسٹیشن تک پکی سڑک تعمیر کرائی گئی۔

کراچی سے کوٹری اور کوٹری سے منگھوپیر تک سڑکوں اور راستوں کا جال بچھانے کے منصوبے شروع کیے گئے تاکہ مقامی آبادی کو آمدورفت میں آسانی ہو۔ لوکل بورڈ کے فنڈز شفاف طریقے سے استعمال کرتے ہوئے دیہی سطح پر صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے شفاخانے اور اسپتال قائم کیے گئے۔

مقامی سطح پر عوام کے پانی اور صفائی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا گیا۔ کراچی لوکل بورڈ کی تاریخی عمارت کی تعمیر اور اس کی انتظامی بہتری میں بھی ان کی فلاحی سوچ کا بڑا کردار تھا۔ بعد میں یہ عمارت شہر کی انتظامی اور سیاسی تاریخ میں ایک اہم مرکز ثابت ہوئی۔

ایک مقامی انتظامی ادارے کے سربراہ کی حیثیت سے کام کرنے نے سائیں جی۔ ایم۔ سید کی مجموعی شخصیت اور سیاسی فکر پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

لوکل بورڈ کے صدر کی حیثیت سے انہیں سندھ کے کسانوں، مزدوروں اور عام لوگوں کی مشکلات، غربت اور پسماندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس تجربے سے متاثر ہو کر انہوں نے بعد میں 1930ء میں ’’سندھ ہاری کمیٹی‘‘ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

برطانوی انتظامی نظام کی سمجھ:
انگریز حکومت کے مقامی حکومتوں کے قوانین اور نظام کو سمجھنے کے دوران انہیں پارلیمانی سیاست اور قانون سازی، خصوصاً سندھ اسمبلی، کا تجربہ حاصل ہوا۔ اس تجربے نے آگے چل کر انہیں سندھ کا سینئر سیاست دان اور وزیر تعلیم بننے میں مدد دی۔

خودمختار اور بے لوث قیادت:
جی۔ ایم۔ سید کی پوری سیاسی زندگی بدعنوانی سے پاک اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے وابستہ تھی۔ لوکل بورڈ کے دور میں ان کی ایمانداری اور عوامی خدمت کے جذبے کی وجہ سے سندھ کے عوام نے انہیں عزت سے ’’سائیں‘‘ کا لقب دیا۔

سائیں جی۔ ایم۔ سید کی کراچی لوکل بورڈ کے صدر اور نائب صدر کی حیثیت سے کارکردگی صرف چند سڑکوں یا اسکولوں کی تعمیر تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ سندھ میں ’’مقامی خود اختیاری اور فلاحی ریاست‘‘ کے تصور کا پہلا عملی اظہار تھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر کسی رہنما میں اخلاق، دردِ دل اور انتظامی صلاحیت ہو تو محدود وسائل کے باوجود عوام کی زندگی میں انقلابی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔

سائیں جی۔ ایم۔ سید نے سندھ کے وزیر تعلیم کی حیثیت سے سندھ یونیورسٹی، کراچی میں پرائمری اسکولوں سے لے کر نئے کالجوں کے قیام اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بھی شاندار کام کیا۔

جمشید نسروانجی مہتا

کراچی، جو آج پاکستان کے سب سے بڑے معاشی اور میگا سٹی کے طور پر پہچانا جاتا ہے، اس کی جدید بنیادوں اور شہری ترقی میں جمشید نسروانجی مہتا کا نام سب سے نمایاں طور پر لیا جاتا ہے۔ انہیں ’کراچی کا باپ‘ (Father of Karachi) کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔

جمشید نسروانجی صرف ایک سیاست دان یا بلدیاتی رہنما نہیں تھے بلکہ وہ درویش صفت انسان، سماجی مصلح اور بین الاقوامی سطح کے شہری مفکر بھی تھے۔ ان کا انتظامی ماڈل آج بھی شہری منصوبہ بندی اور بہتر حکمرانی کے لیے ایک مثال سمجھا جاتا ہے۔

جمشید نسروانجی 1886ء میں کراچی کے ایک معزز پارسی خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد انسانی خدمت اور سماجی اصلاح بنایا۔ ان کا نظریہ اس اصول پر مبنی تھا کہ حکومت کا اصل مقصد شہریوں کی فلاح، برابری اور اخلاقی بلندی ہے، نہ کہ طاقت کا مرکز بننا۔

جمشید نسروانجی 1922ء میں کراچی میونسپل کارپوریشن (KMC) کے پہلے منتخب صدر، یعنی میئر، بنے اور تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک شہر کی ترقی کے لیے بے مثال کام کیا۔ ان کے دور میں کراچی میں کئی اہم ترقیاتی کام ہوئے۔

جدید شہری منصوبہ بندی

جمشید نسروانجی نے کراچی کو گندگی اور بے ترتیب پھیلاؤ سے نکال کر ایک خوبصورت شہر بنانے کا عزم کیا۔ انہوں نے کراچی کی توسیع، صفائی ستھرائی اور جدید سیوریج نظام کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے شہر کے مختلف علاقوں کو ملانے والی سڑکوں اور پارکوں کا ایک مربوط نظام ترتیب دیا۔

شہر کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فلٹریشن پلانٹ لگائے اور پانی کی نئی لائنیں بچھائیں۔ غریب لوگوں کے لیے سستے گھر اور اسپتال بنائے گئے، جن میں جمشید میڈیکل سینٹر کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

جمشید نسروانجی کا یقین تھا کہ ترقی کا راستہ تعلیم سے گزرتا ہے۔ ان کے دور میں کئی اسکول اور تعلیمی ادارے قائم کیے گئے۔ اس کے ساتھ بچوں اور خواتین کی صحت کے لیے خصوصی فلاحی پروگرام بھی شروع کیے گئے۔

کراچی کی ترقی میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ شہر کی مختلف برادریوں، یعنی ہندوؤں، مسلمانوں، پارسیوں اور عیسائیوں کو ساتھ رکھنا تھا۔ انہوں نے کبھی مذہب کی بنیاد پر فرق نہیں کیا۔ اسی وجہ سے پورے برصغیر میں کراچی کو امن اور رواداری کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا۔

جمشید نسروانجی نے اپنی ذاتی زندگی میں انتہائی سادگی اختیار کی اور میونسپل فنڈز کے ایک ایک پیسے کا حساب رکھا۔ وہ سرکاری کاموں کے لیے اپنی ذاتی رقم بھی خرچ کرتے تھے۔ وہ شہر کے غریب اور پسماندہ طبقات کو شہری ترقی کا مرکزی حصہ سمجھتے تھے، جو آج کے پائیدار ترقی کے اہداف کا بنیادی اصول بھی ہے۔

انہوں نے اقتدار کو اعزاز نہیں بلکہ عوام کی خدمت کا ذریعہ سمجھا۔ جب انہوں نے عہدہ چھوڑا تو ان کے پاس کوئی بڑی ذاتی جائیداد یا بینک بیلنس نہیں تھا، بلکہ وہ عوام کے دلوں پر حکومت کر رہے تھے۔

جمشید نسروانجی مہتا کا نام کراچی کی تاریخ کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑا رہے گا۔ ان کی زندگی یہ سبق دیتی ہے کہ کسی بھی شہر کی حقیقی ترقی صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں کی خوشحالی، انسانی اقدار اور ایماندار قیادت سے ہوتی ہے۔

عالمی سطح پر ہونے والی تحقیق میں انہیں ایک ایسے مثالی منتظم کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے جس نے جنوبی ایشیا کی شہری تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔

رائے بہادر ہری چند رائے

کراچی، جو آج پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی اور معاشی مرکز، یعنی میگا سٹی، ہے، اسے اس مقام تک پہنچانے میں برطانوی دور حکومت اور اس وقت کی نامور مقامی شخصیات کا اہم کردار رہا ہے۔ ان رہنماؤں میں رائے بہادر ہری چند رائے، یعنی سیٹھ ہری چند وشنداس، کا نام تاریخ میں ’جدید کراچی کا بانی‘ (Father of Modern Karachi) کے طور پر لیا جاتا ہے۔

یکم مئی 1862ء کو پیدا ہونے والے ہری چند رائے نے بمبئی کے ایلفنسٹن کالج سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور قانون کے شعبے میں پیشہ ورانہ مہارت حاصل کرنے کے بعد اپنی پوری زندگی کراچی کی ترقی کے لیے وقف کر دی۔

ہری چند رائے 1911ء سے 1921ء تک کراچی میونسپل کارپوریشن کے صدر رہے۔ صفائی اور سڑکوں کی تعمیر جیسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں ان کے کردار کو آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے لیاری ندی کا رخ تبدیل کرکے نئی آبادیوں کے لیے زمین فراہم کرنے کے منصوبے کی فنی بنیاد رکھی۔

کراچی کو ایک عام بندرگاہ سے جدید شہر بنانے کے لیے ہری چند رائے نے کئی اہم اقدامات کیے۔

جب برصغیر کے کئی اچھے خاصے شہروں میں بجلی کی سہولت موجود نہیں تھی، اس وقت ہری چند رائے نے کراچی شہر میں بجلی لانے اور اسے ’روشنیوں کا شہر‘(City of Lights) بنانے کی حکمت عملی تیار کی۔ ان کی کوششوں سے کراچی میں بجلی گھر تعمیر کیے گئے۔

ان کے دور میں شہر میں پینے کے پانی، گندے پانی کی نکاسی اور سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ گیس لیمپوں کا استعمال بھی شروع ہوا۔ 1912ء میں کراچی میں بجلی کی فراہمی شروع ہونے کے بعد اسے ’روشنیوں کا شہر‘ کہا جانے لگا۔

ان کے دور میں انجینئرنگ اور شہری منصوبہ بندی کے کئی شاندار منصوبے مکمل ہوئے۔ لیاری ندی اور زمین کی توسیع کے منصوبوں کے ذریعے شہر کو سیلاب سے بچانے اور مزید ترقی دینے کے لیے لیاری ندی کا رخ تبدیل کیا گیا۔ نئے علاقوں، کوارٹروں اور رہائشی اسکیموں کی تعمیر کے منصوبے بنائے گئے۔ پارکوں، تفریح گاہوں اور شہر کی خوبصورتی کے لیے بھی مختلف منصوبے تیار کیے گئے۔

کراچی جم خانہ اور سندھ کلب سمیت کراچی کو ایک شاندار شہر بنانے میں رائے بہادر ہری چند رائے کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اسی بارے میں: