سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جسے تین اہم مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاہدے پر جمعہ کو مکہ مکرمہ میں دستخط کیے گئے، جہاں تینوں ممالک کی اعلیٰ قیادت موجود تھی۔
اس معاہدے کا بنیادی مقصد دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی اور خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا ہے۔
معاہدے کے تحت اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور مشترکہ دفاع کے اصول کے تحت ردعمل دیا جائے گا۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کئی ماہ سے شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران اور اس کے اتحادی مختلف خلیجی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کر رہے ہیں، جبکہ توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔ ان حالات نے خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا گیا ہے اور اس کا مقصد کسی ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی نہیں بلکہ رکن ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ منصوبہ بندی اور مؤثر بازدار قوت کو فروغ دینا ہے۔ ذرائع کے مطابق مستقبل میں خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی اس میں شمولیت کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
اس معاہدے کی ایک اہم علامتی حیثیت بھی ہے کیونکہ اس پر دستخط مکہ مکرمہ میں کیے گئے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تین بڑے سنی اکثریتی مسلم ممالک کے درمیان سیاسی اور عسکری ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان پہلے ہی مختلف شعبوں میں دفاعی تعاون رکھتے ہیں۔ پاکستان کئی برسوں سے سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون کرتا آ رہا ہے اور ماضی میں سعودی عرب کو فوجی دستے اور دفاعی نظام بھی فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان بھی حالیہ برسوں میں دفاعی صنعت اور اسلحے کے شعبے میں تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ترکیہ نیٹو کا دوسرا بڑا فوجی رکن ملک ہے، سعودی عرب مشرق وسطیٰ کی اہم معاشی اور تیل پیدا کرنے والی طاقت ہے، جبکہ پاکستان دنیا کا واحد ایٹمی صلاحیت رکھنے والا مسلم ملک ہے۔ ان تینوں ممالک کا مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں نئی دفاعی صف بندی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملوں اور سمندری راستوں کو نشانہ بنانے کے واقعات کے بعد کئی ممالک اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کر رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی کے لیے صرف بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے مستقبل میں ایک زیادہ خودمختار علاقائی دفاعی ڈھانچے کی بنیاد پڑ سکتی ہے۔
معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں اور یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہر ملک کی عملی دفاعی ذمہ داریاں کس حد تک ہوں گی۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت دفاعی مشاورت، مشترکہ منصوبہ بندی، فوجی تعاون اور سلامتی سے متعلق مختلف شعبوں میں روابط کو مزید وسعت دی جائے گی۔
اس معاہدے کو خطے میں بدلتے ہوئے جغرافیائی اور سیاسی حالات کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں مشرق وسطیٰ اور وسیع تر خطے کی سلامتی اور دفاعی تعاون پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔

