Tag: سعودی عرب

  • سعودی عرب نے اونٹوں کو پاسپورٹ کیوں جاری کیے؟ دنیا میں کن جانوروں اور پرندوں کو پاسپورٹ جاری ہوتے ہیں اور کیوں؟

    سعودی عرب نے اونٹوں کو پاسپورٹ کیوں جاری کیے؟ دنیا میں کن جانوروں اور پرندوں کو پاسپورٹ جاری ہوتے ہیں اور کیوں؟

    سعودی عرب نے حال ہی میں اونٹوں کے لیے باقاعدہ پاسپورٹ اور شناختی نظام متعارف کرایا۔ اس اعلان نے سوشل میڈیا پر حیرت کا باعث بنا۔ صارفین نے میم بناکر ایسے اعلان کا مذاق اڑیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلہ غیر معمولی نہیں، بلکہ ایک طویل عالمی عمل کا حصہ ہے۔

    سعودی عرب میں اونٹ صرف جانور نہیں۔ یہ ثقافت، معیشت اور کھیل کا حصہ ہیں۔ ملک میں اونٹوں کی دوڑ، افزائش نسل اور خرید و فروخت ایک باقاعدہ صنعت بن چکی ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر حکومت نے اونٹوں کے لیے سرکاری رجسٹریشن اور پاسپورٹ جاری کیے۔

    یہ پاسپورٹ انسانوں کے سفری پاسپورٹ جیسا نہیں۔ اس میں اونٹ کی نسل، عمر، مالک، جسمانی شناخت، طبی ریکارڈ اور بعض صورتوں میں مائیکروچپ کی تفصیل شامل ہوتی ہے۔ مقصد اونٹ چوری روکنا، غیر قانونی تجارت پر قابو پانا، بیماریوں کی نگرانی اور ریسنگ سسٹم کو منظم کرنا ہے۔

    اہم بات یہ ہے کہ جانوروں اور پرندوں کے لیے پاسپورٹ یا شناختی دستاویزات کوئی نئی چیز نہیں۔

    متحدہ عرب امارات میں باز کو باقاعدہ پاسپورٹ دیا جاتا ہے۔ باز شکاری پرندے ہیں اور خلیجی ثقافت میں ان کی خاص اہمیت ہے۔ باز پاسپورٹ کی مدد سے یہ پرندے اپنے مالک کے ساتھ سرحد پار بغیر طویل قرنطینہ کے سفر کر سکتے ہیں، اس کا مقصد اسمگلنگ روکنا اور جنگلی بازوں کے غیر قانونی شکار کو کنٹرول کرنا ہے۔

    یورپی یونین میں کتے، بلیاں اور فیرٹس کے لیے یورپی پالتو جانور پاسپورٹ موجود ہے۔ اس پاسپورٹ میں ریبیز ویکسین، صحت کی تفصیل اور مالک کی معلومات درج ہوتی ہیں۔ اس نظام کا مقصد یورپ کے اندر جانوروں کے ساتھ محفوظ سفر اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

    یورپی ممالک اور برطانیہ میں گھوڑوں کے لیے پاسپورٹ لازمی ہے۔ ہر رجسٹرڈ گھوڑے کا پاسپورٹ ہوتا ہے جس میں اس کی نسل، مالک اور طبی علاج کا ریکارڈ شامل ہوتا ہے۔ گھوڑوں کی ریسنگ، افزائش نسل اور بین الاقوامی نقل و حمل کے لیے یہ دستاویز ضروری سمجھی جاتی ہے۔

    امریکا، برطانیہ، آئرلینڈ، آسٹریلیا اور متحدہ عرب امارات میں ریس گھوڑوں کے لیے بین الاقوامی ایکوائن پاسپورٹ اور اسٹڈ بک رجسٹریشن استعمال ہوتی ہے۔ اس کا مقصد دھوکہ دہی روکنا اور ریسنگ انڈسٹری کو شفاف بنانا ہے۔

    دنیا کے کئی ممالک میں چڑیا گھروں کے جانوروں کے لیے بھی سفری اور شناختی دستاویزات ہوتی ہیں۔ یہ دستاویزات چڑیا گھروں کے درمیان جانوروں کی منتقلی، افزائشی پروگرام اور تحفظاتی منصوبوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔

    نایاب اور خطرے سے دوچار جنگلی جانوروں اور پرندوں کے لیے سی آئی ٹی ای ایس اجازت نامے جاری کیے جاتے ہیں، جنہیں عام طور پر غلطی سے پاسپورٹ کہا جاتا ہے۔ ان اجازت ناموں کا مقصد غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت کو روکنا ہے۔

    اہم نکتہ یہ ہے کہ زیادہ تر جانوروں کے پاسپورٹ شہریت یا آزادی سے سفر کا حق نہیں دیتے۔ یہ شناخت، صحت اور قانونی ملکیت کے ریکارڈ ہوتے ہیں۔

    سعودی عرب کا اونٹ پاسپورٹ اسی عالمی رجحان کی ایک مثال ہے، نہ کہ کوئی انوکھا یا غیر معمولی فیصلہ۔

    جانوروں کے پاسپورٹ دراصل انسانوں کے لیے فائدہ مند ہیں، کیونکہ یہ صحت عامہ، معیشت، ثقافت اور قدرتی حیات کے تحفظ سے جڑے ہوتے ہیں۔

     

  • خلا سے مسجدِ الحرام، خانہِ کعبہ کی وائرل تصویر بنانے والے فوٹوگرافر ڈونلڈ پیٹٹ کون ہیں؟

    خلا سے مسجدِ الحرام، خانہِ کعبہ کی وائرل تصویر بنانے والے فوٹوگرافر ڈونلڈ پیٹٹ کون ہیں؟

    گذشتہ چند روز سے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر سعودی عرب کے شہر مکہ میں واقع اسلام کی مقدس ترین عمارت خانہِ کعبہ، مسجدِ الحرام کی خلا سے لی گئی تصویر وائرل ہے۔ صارفین اس تصویر پر تبصرے کرکے اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کرنے کے ساتھ فوٹوگرافر کو داد دے رہے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک صارف نے لکھا: ‘خلا سے خانہِ کعبہ ایک ہیرے کی ماند چمک رہا ہے۔’

    یہ تصویر امریکہ کے خلائی ادارے ناسا کے سائنسدان اور فوٹوگرافر ڈونلڈ پیٹٹ  نے خلا سے لی۔

    ڈونلڈ پیٹٹ  حال ہی میں خلا کے 220 دن کے دورے سے واپس آئے ہیں۔ انہوں اپنے ایکس اکاؤنٹ پر دو دسمبر کو یہ منفرد تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: ‘خلا سے سعودی عرب کے شہر مکہ کا منظر، مرکز میں روشن مقام اسلام کا مقدس ترین مقام کعبہ ہے جو خلا سے بھی نظر آتا ہے۔‘

    خانہِ کعبہ کو جہاں مسلمانوں کا قبلہ ہونے کا شرف حاصل ہے وہیں یہ دنیا میں سب سے زیادہ زیارت کیے جانے والے مقامات میں سے ایک ہے۔

    اس تصویر کو ایک ہزار سات سو سے زائد بار شیئر کیا ہے اور تقریباً دو لاکھ لوگوں نے س تصویر کو اب تک دیکھا ہے۔

    صارفین خانہِ کعبہ سے نکلنے والی چمک پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

    صارفین ایکس کے مصنوعی ذہانت اے آئی گروک سے چمک کے بارے معلوم کررہے ہیں اور گروک کے مطابق یہ چمک بہت زیادہ فلڈ لائٹس کی وجہ سے ہے اور رات کے اندھیرے میں اسی وجہ سے یہ نمایاں ہے۔

    ڈونلڈ پیٹٹ کون ہیں؟

    ڈونلڈ پیٹٹ ایک امریکی ایسٹروناٹ  (خلاباز)، کیمیکل انجینئر، فوٹوگرافر اور موجد ہیں، جنہوں نے خلا اور زمین کے مدار سے لی گئی اپنی تصاویر اور سائنسی تجربات کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل کی ہے۔

    وہ بیس اپریل انیس سو پچپن کو امریکی ریاست اوریگن کے شہر سلورٹن میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اوریگن اسٹیٹ یونیورسٹی سے بی ایس اور بعد ازاں یونیورسٹی آف ایریزونا سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

    1996 میں ناسا میں شمولیت سے قبل وہ لاس آلاموس کی قومی لیبارٹری میں سائنسدان کے طور پر کام کرتے رہے جہاں انہوں نے کیمیکل انجینیئرنگ، روبوٹکس اور خلائی تحقیق سے متعلق مختلف تجربات پر کام کیا۔

    ڈونلڈ پیٹٹ نے انیس سو چھیانوے میں ناسا کے سولہویں گروپ میں بطور ایسٹروناٹ (خلاباز) شمولیت اختیار کی۔ اس کے بعد وہ کئی اہم مشنز کا حصہ بنے جن میں ایک سپیس شٹل کی پرواز اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں طویل قیام شامل ہیں۔

    انہوں نے مجموعی طور پر چھ سو کے قریب دن مدار میں گزارے، جس کے دوران انہوں نے نہ صرف سائنسی تجربات کیے بلکہ خلا سے زمین کے انتہائی نایاب مناظر بھی ریکارڈ کیے۔ وہ کئی مرتبہ خلا میں باہر نکل کر بھی کام کر چکے ہیں۔

    ڈونلڈ پیٹٹ کی اصل شہرت خلا سے لی گئی ان کی تصاویر سے وابستہ ہے۔ وہ رات کی زمین، شہروں کی روشنی کے نمونوں، ستاروں کی حرکت اور طوفانی بادلوں جیسی مناظر کو طویل ایکسپوژر اور سائنسی مہارت کے ساتھ کیمرے میں محفوظ کرتے ہیں۔

    ان کی ہزاروں تصاویر دنیا بھر کے سائنسی اور میڈیا پلیٹ فارمز پر شائع ہوچکی ہیں اور کئی مرتبہ وائرل بھی ہوئیں۔ وہ خاص طور پر ستاروں کی ٹریل والی تصاویر اور زمین کے گرد روشنی کے دائروں کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی تصاویر میں سائنسی معلومات، جمالیاتی تاثر اور تخلیقی انداز ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔

    ڈونلڈ پیٹٹ موجد بھی ہیں۔ انہوں نے خلا میں دستیاب مواد سے متعدد آلات خود تیار کیے جن میں ’زیرو جی کپ‘ شامل ہے۔ یہ ایک خاص ڈیزائن کا کپ ہے جو مائیکرو گریویٹی میں مشروبات کو بہے بغیر کنٹرول کے ساتھ پینے کے قابل بناتا ہے۔

    اس ایجاد نے خلا میں مائع کے برتاؤ سے متعلق تحقیق میں مدد دی اور اسے ایک منفرد سائنسی کارنامے کے طور پر پہچانا گیا۔ انہوں نے فوٹوگرافی کے لیے ایک سادہ ویژیول ٹریکنگ آلہ بھی بنایا جو خلائی اسٹیشن سے تصویر کشی میں مدد دیتا ہے۔

    کم معروف حقائق میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ڈونلڈ پیٹٹ نے انٹارکٹیکا میں شہابِ ثاقب کے نمونے تلاش کرنے کے لیے ایک برفانی مہم میں حصہ لیا۔ یہ تجربہ ان کے کیریئر کا ایسا حصہ ہے جس کے بارے میں عام طور پر کم بات کی جاتی ہے۔

    انہوں نے دورانِ خلائی قیام ایک منفرد سیریز شروع کی جسے وہ ’سنیچرڈے مارننگ سائنس‘ کہتے ہیں۔ اس میں وہ اپنے فارغ وقت میں ایسے سائنسی تجربات کرتے تھے جنہیں باضابطہ فنڈ نہیں دیا جاتا تھا، مگر ان کے نتائج مائیکرو گریویٹی میں مائع، روشنی اور مادے کے رویے کو سمجھنے میں مدد دیتے تھے۔

    پیٹِٹ اپنی تخلیقی صلاحیت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ انہوں نے خلائی اسٹیشن میں روزمرہ کے سامان سے موسیقی کے آلات جیسی آوازیں نکالنے کے عجیب مگر سائنسی تجربات بھی کیے۔ ان سرگرمیوں نے ظاہر کیا کہ خلا میں زندگی صرف سائنسی نہیں بلکہ انسانی جذبات اور تخلیقیت سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

    ذاتی زندگی میں وہ شادی شدہ ہیں اور ان کے دو بچے ہیں۔ ان کی فیملی سے متعلق تفصیلی معلومات عام طور پر سیکیورٹی اور رازداری کی وجہ سے شائع نہیں کی جاتیں، تاہم ناسا کی بنیادی معلومات کے مطابق وہ ایک مستحکم خاندانی زندگی رکھتے ہیں۔

    ڈونلڈ پیٹٹ کا کام خلا اور زمین کے درمیان ایک منفرد ربط پیدا کرتا ہے۔ ان کی تصاویر عام افراد کو خلا کی حقیقت سے قریب کرتی ہیں، ان کے تجربات سائنسی دنیا کے لیے نئی راہیں کھولتے ہیں، اور ان کی تخلیقی سوچ ناسا کے مشنوں میں انفرادیت کا رنگ بھرتی ہے۔

    حالیہ کعبہ کی تصویر نے انہیں ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں کردیا ہے، اور ان کی شخصیت سائنسی تحقیق، فوٹوگرافی اور خلا کی خوبصورتی کا مجموعہ بن چکی ہے۔