Tag: ترکیہ

  • ‘ترکیہ ایک ارب ڈالر اور سب سے خوبصورت خاتون دے ورنہ سفارتی تعلقات ختم’: یوگنڈا آرمی چیف کے متنازع بیانات وائرل

    ‘ترکیہ ایک ارب ڈالر اور سب سے خوبصورت خاتون دے ورنہ سفارتی تعلقات ختم’: یوگنڈا آرمی چیف کے متنازع بیانات وائرل

    یوگنڈا کے آرمی چیف جنرل موہوزی کینیرُوگابا نے حالیہ دنوں میں ترکیہ کے بارے میں ایک ایسا متنازع بیان دیا ہے جس نے عالمی سطح پر ہل چل مچا دی ہے۔ سفارتی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے ترکیہ سے ایک ارب امریکی ڈالر کا مطالبہ کیا ہے، جسے انہوں نے ‘سیکیورٹی ڈیویڈنڈ’ کا نام دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یوگنڈا کی فوج نے صومالیہ میں کئی برسوں تک امن و امان قائم رکھنے، دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیاں کرنے اور استحکام پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    جبکہ ترکیہ نے وہاں معاشی اور تجارتی فائدے حاصل کیے، اس لیے یوگنڈا کو بھی اس کا مالی حصہ ملنا چاہیے۔ جنرل کینیرُوگابا کے مطابق، صومالیہ میں جاری سیکیورٹی آپریشنز میں یوگنڈا کی فوج نے نمایاں قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی ملک کسی خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے اپنی فوج بھیجتا ہے، اور اس کے نتیجے میں دوسرے ممالک وہاں سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، تو یہ انصاف کا تقاضا ہے کہ سیکیورٹی فراہم کرنے والے ملک کو بھی مالی طور پر حصہ دیا جائے۔

    اسی بنیاد پر انہوں نے ترکیہ سے ایک ارب ڈالر ادا کرنے کا مطالبہ کیا، جسے وہ یوگنڈا کا حق قرار دیتے ہیں۔ تاہم ان کا بیان صرف اسی مطالبے تک محدود نہیں رہا۔ بلکہ اس میں ایک انتہائی متنازعہ پہلو بھی شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کو انہیں اپنے ملک کی سب سے خوبصورت خاتون بطور بیوی بھی دینی چاہیے۔ اس بیان کو دنیا بھر میں سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ بلکہ اسے غیر مناسب اور غیر سفارتی قرار دیا گیا ہے۔

    سوشل میڈیا تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات کسی بھی اعلیٰ فوجی عہدیدار کے منصب کے مطابق نہیں ہوتے۔ اور یہ بین الاقوامی سطح پر منفی تاثر پیدا کرتے ہیں۔ جنرل کینیرُوگابا نے اپنے بیانات میں مزید کہا کہ اگر ترکیہ نے ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا تو یوگنڈا سخت اقدامات اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ یوگنڈا ترکیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے، کمپالا میں ترکیہ کا سفارت خانہ بند کرنے اور ترکیہ کی پروازوں یا دیگر سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کرنے جیسے اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔

    ان دھمکیوں نے صورتحال کو مزید سنجیدہ بنا دیا ہے۔ اگرچہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ بیانات سرکاری پالیسی کا حصہ ہیں یا ذاتی خیالات۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام بیانات زیادہ تر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر سامنے آئے ہیں، جہاں جنرل کینیرُوگابا کافی متحرک رہتے ہیں۔ یوگنڈا کی حکومت کی طرف سے ان بیانات کی کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جس کی وجہ سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

    اسی طرح ترکیہ کی جانب سے بھی اب تک کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔ جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ اس معاملے کو فی الحال نظر انداز کر رہا ہے یا صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔

    پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو جنرل موہوزی کینیرُوگابا یوگنڈا کے صدر یووری موسیوینی کے صاحبزادے ہیں۔ اور ملک کی فوج میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ وہ ماضی میں بھی اپنے غیر روایتی اور بعض اوقات متنازعہ بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہ چکے ہیں۔ ان کی سوشل میڈیا سرگرمیاں اکثر سفارتی حلقوں میں تشویش کا باعث بنتی ہیں۔ کیونکہ بعض اوقات ان کے بیانات کو سرکاری مؤقف سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ وہ ذاتی رائے بھی ہو سکتی ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات سے بین الاقوامی تعلقات میں غیر ضروری کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف ممالک کو سیکیورٹی اور معاشی معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ یوگنڈا اور ترکیہ دونوں ہی مختلف شعبوں میں تعاون رکھتے ہیں، جن میں تجارت، تعمیرات اور ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔

    اس لیے اس طرح کے بیانات مستقبل کے تعلقات پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ مزید برآں، یہ معاملہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں اعلیٰ عہدیداروں کے بیانات کس طرح فوری طور پر عالمی سطح پر پھیل جاتے ہیں۔

    اور ان کے اثرات سفارتی تعلقات تک پہنچ سکتے ہیں۔ ایک طرف یہ پلیٹ فارمز اظہارِ رائے کی آزادی فراہم کرتے ہیں، تو دوسری طرف غیر محتاط بیانات تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں۔ بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنرل کینیرُوگابا کا ایک ارب ڈالر کا مطالبہ عملی طور پر پورا ہونا مشکل ہے۔ کیونکہ اس طرح کے معاملات عام طور پر بین الاقوامی معاہدوں اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے طے ہوتے ہیں، نہ کہ عوامی بیانات یا سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے۔

    اسی لیے اس مطالبے کو زیادہ تر علامتی یا سیاسی بیان سمجھا جا رہا ہے۔

    ایک اور حالیہ ٹویٹ میں صومالیہ کے آرمی چیف نے لکھا: ‘میں تمام یوگنڈا کے شہریوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ ترکیہ کا سفر کرنے سے گریز کریں، اپنی حفاظت کے لیے۔’ اب تک نہ ترکیہ اور نہ ہی صومالیہ کے حکام نے ان مطالبات پر کوئی عوامی ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اسرائیل کے لیے سپورٹ کے سلسلے میں کینیرُوگابا نے ‘ایکس’ پر لکھا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے ایک لاکھ یوگنڈا کے فوجیوں کو تعینات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    انہوں نے لکھا: ‘میں اپنی کمان میں ایک لاکھ یوگنڈا کے فوجیوں کو اسرائیل میں تعینات کرنے کے لیے تیار ہوں، تاکہ مقدس سرزمین کی حفاظت کی جا سکے، جو ہمارے خدا حضرت عیسیٰ کی سرزمین ہے۔’

    ایران کو دھمکی دیتے ہوئے جنرل کینیرُوگابا نے ‘ایکس’ پر ایک اور پوسٹ میں لکھا: ‘میرے پاس تقریباً پانچ لاکھ افراد جنگ کے لیے تیار نوجوان ہیں۔ انہیں صرف پیسہ چاہیے۔ وہ تہران کو مفت میں بھی فتح کر لیں گے۔’

    ایک صارف نے اس پر تبصرہ کیا: ‘تم خود کو کیوں شامل نہیں کرتے؟ کیا تم خود بھوکے نہیں ہو؟ تم بھائیوں، باپوں اور بیٹوں کو ایسی جنگ میں بھیجنا چاہتے ہو جو سرے سے موجود ہی نہیں، کیونکہ تمہارا دماغ بیمار ہے۔ انہیں بھوکے نوجوان کہنا ان کی توہین ہے۔ تمہیں فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے۔’

  • ترکیہ،آزربائیجان، عمان اور سعودی عرب کے علاقوں پر حملوں کا ذمہ دار کون؟

    ترکیہ،آزربائیجان، عمان اور سعودی عرب کے علاقوں پر حملوں کا ذمہ دار کون؟

    مشرق وسطی میں جاری کشیدگی صرف خلیجی ممالک تک ہی محدود نہیں رہی۔ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کی اور اب سینٹرل ایشیائی ممالک پر بھی جنگ کے بادل نظر آنے لگے ہیں۔

    مشرق وسطی کے مختلف ممالک میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، دوسری جانب ترکیہ اور آزربائیجان کے علاقوں میں بھی حملے ہوئے جس پر ایران کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران آذربائیجان پر مبینہ ڈرون حملے کے بعد خطے میں سفارتی اور سیاسی تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

    پاکستان، سعودی عرب اور قطر سمیت کئی ممالک نے اس واقعے پر ردعمل دیا ہے جبکہ ایران نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ قابلِ مذمت اقدامات خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں اور علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

    آزربائیجان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایرانی ڈرونز نے نخچیوان کے ہوائی اڈے کے قریب حملہ کیا جبکہ ایک ڈرون ایک اسکول کے قریب گر کر تباہ ہوا۔

    آزربائیجان کی حکومت نے  اس حملے کو ‘بلا جواز دہشت گردانہ اور جارحانہ اقدام’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام کو اس کی وضاحت اور معافی پیش کرنا ہوگی۔

    ماہرین کے مطابق آذربائیجان  کے اسرائیل کے ساتھ قریبی دفاعی اور اقتصادی تعلقات بھی اس کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔

    اسرائیل آذربائیجان کو ڈرونز، فضائی دفاعی نظام اور نگرانی کی جدید ٹیکنالوجی فراہم کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزربائیجان پر حملے کو ایران کی جانب سے بھیجے گئے ڈروز سے کیا گیا حملہ قرار دیا جارہا ہے۔

    تاہم ایران کی وزارتِ خارجہ کے مطابق تہران کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں۔

    ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی  نے آذربائیجان کے وزیرِ خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ ایران نے آذربائیجان کی سرزمین کو نشانہ نہیں بنایا اور تہران ہمسایہ ممالک کے خلاف کارروائی نہیں کرتا۔

    ایران نے ترکیہ پر حملے کی خبروں کی بھی تردید کی ہے۔

    ترکیہ کا کہنا تھا کہ ایران سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل ترک فضائی حدود کی جانب بڑھ رہا تھا جسے نیٹو کے دفاعی نظام نے روک لیا۔

    تاہم ایرانی مسلح افواج نے کہا کہ ترکیہ کی جانب کوئی میزائل فائر نہیں کیا گیا۔

    مشرق وسطی کے طاقتور ممالک قطر اور سعودی عرب نے بھی ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایران پر کڑی تنقید کی جس سے تنائو میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    دو روز قبل معروف امریکی صحافی ٹکر کالسن نے ایک خبر میں دعویٰ کیا کہ قطر اور سعودی عرب نے موساد کے ایجنٹس کو گرفتار کیا ہے، جو وہاں دھماکوں کی منصوبہ بندی کرہے تھے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورت حال ایران کے لئے تشویشناک ہوسکتی ہے جب خطے کے تمام ممالک باالخصوص ہمسائے ممالک ناراض ہوجائیں توایران کی تنہائی اس جاری لڑائی میں نقصان دہ ہوسکتی ہے۔

    خطے کے سفارتی اور سیاسی محاذ پر بدھ اور جمعرات کو ڈرامائی تبدیلی دیکھنے میں آئی جب سعودی عرب نے اعلان کیا کہ وہ  اپنی زمین، فضائی اور بحری حدود کو ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے کی اجازت نہیں دے گا، ایران نے بھی اس اعلان کا خیر مقدم کیا۔

    سعودی عرب میں ایران کے سفیرعلی رضا عنایتی  نے کہا کہ تہران سعودی عرب کے اس مؤقف کو سراہتا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف جنگ میں استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔

    ایران کی جانب سے  آذربائیجان، ترکیہ، سعودی عرب اور عمان پر حملوں کی تردید کے بعد دلچسپ صورت حال سامنے آرہی ہے جب تجزی کاروں نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔

    اگر ایران نے  آذربائیجان، ترکیہ، سعودی عرب اور عمان پر حملے نہیں کے تو یہ ان ممالک کو کون ہدف بنارہا ہے ؟

    ایران کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے ایران کے خلاف کارروائیوں میں استعمال ہوں تو وہ فوجی اہداف بن سکتے ہیں۔ تاہم تہران کا اصرار ہے کہ اس کا مقصد خطے کے ممالک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ امریکی فوجی تنصیبات کو ہدف بنانا ہے۔

    دوسری جانب قطر کا کہنا ہے کہ اس کی سرزمین کو نشانہ بنایا جانا اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے کیونکہ دوحہ اس تنازع میں براہ راست شامل نہیں۔

    ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی کشیدگی اور متضاد بیانات کے باعث خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید پھیلا تو خطے کے مزید ممالک بھی اس میں براہ راست شامل ہو سکتے ہیں۔