Tag: میرپورخاص

  • میرپورخاص کا سرسید: تعلیم ایم اے انگریزی ادب، پیشہ زراعت اور جنون سماجی خدمت

    میرپورخاص کا سرسید: تعلیم ایم اے انگریزی ادب، پیشہ زراعت اور جنون سماجی خدمت

    سال 1949 جب میرپورخاص کو نئے ملک پاکستان کا حصہ بنے چند برس ہی گزرے تھے۔ شہر میں نہ کوئی کالج تھا، نہ لڑکیوں کا ہائی اسکول۔ جو بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے، انہیں حیدرآباد یا کراچی جانا پڑتا تھا، اور جو نہیں جا سکتے تھے وہ اندھیروں میں بھٹکتے رہ جاتے تھے۔

    یہ اندھیرا چوہدری رفیق احمد سے برداشت نہ ہوا۔

    اس سال انہوں نے چند ہم خیال رفقا کے ساتھ مل کر تھرپارکر ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن قائم کی۔ اور پھر جو ہوا، وہ میرپورخاص کی سماجی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جسے بھلانا ممکن نہیں۔

    جموں سے لدھر، لدھر سے میرپورخاص

    چوہدری رفیق احمد کا خاندان اصلاً جموں کشمیر سے تھا۔ کسی دور میں ان کے آبا و اجداد نے نقل مکانی کی اور ضلع سیالکوٹ کے گاؤں لدھر میں آ بسے۔ یہیں 17 نومبر 1924 کو رفیق احمد پیدا ہوئے۔

    ان کے والد، خان بہادر چوہدری غلام حسین، کوئی عام زمیندار نہ تھے۔ وہ زرعی کالج لائل پور (آج کا فیصل آباد) کے تعلیم یافتہ تھے۔ اس دور میں یہ بات اپنے آپ میں غیر معمولی تھی۔ مٹی سے محبت تھی، مگر سوچ جدید تھی۔

    سال 1932 میں ان کا پورا خاندان سندھ منتقل ہوا اور میرپورخاص میں مستقل سکونت اختیار کی۔ یہاں چوہدری غلام حسین نے انگریز ماہر زراعت سر راجر تھامس کے ساتھ مل کر تھرپارکر کے نیم صحرائی خطے میں زرعی انقلاب کی بنیاد رکھی۔ سندھ لینڈ ڈیولپمنٹ (ایس ایل ڈی) کی داغ بیل پڑی اور عمرکوٹ کے ڈینی سر فارم، حسین آباد فارم اور مسعود آباد فارم جیسے جدید زرعی منصوبے وجود میں آئے۔

    اعلیٰ معیار کی کپاس کی پیداوار کے لیے یہ فارم اپنے وقت میں مثالی حیثیت رکھتے تھے۔ میرپورخاص میں ایس ایل ڈی کاٹن جننگ فیکٹری بھی قائم ہوئی۔
    باپ نے بیٹے کو یہ سبق دیا کہ محنت اور جدت مل کر کسی بھی ریت کو زرخیز بنا سکتی ہے۔

    علی گڑھ نے سند دی، سرسید نے فکر

    رفیق احمد نے میٹرک میرپورخاص سے، انٹر کراچی سے، اور بی اے بمبئی سے کیا۔ پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا، وہی ادارہ جو سرسید احمد خان کی اصلاحی تحریک کا مرکز تھا۔ 1947 میں انہوں نے انگریزی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

    یہ محض ایک سند نہ تھی۔ علی گڑھ نے انہیں یہ احساس دیا کہ علم کسی ایک طبقے کی میراث نہیں، ہر انسان کا حق ہے۔ سرسید کی یہ سوچ ان کے رگ و پے میں اتر گئی۔

    ڈگری کے بعد ان کی خواہش تھی کہ محکمہ تعلیم میں سرکاری ملازمت کریں، لیکن والد کا حکم آیا: بیٹے، زمین کی طرف لوٹ آؤ۔ رفیق احمد نے بلا حیل و حجت اطاعت کی اور زرعی کاموں میں ہاتھ بٹانے لگے۔

    مگر ان کے اندر کا مصلح خاموش نہ رہ سکا۔

    ایک فیصلہ جس نے شہر کا نقشہ بدل دیا

    قیام پاکستان کے وقت پورے میرپورخاص اور اس کے گرد و نواح میں نہ لڑکوں کا کوئی کالج تھا، نہ لڑکیوں کے لیے ہائی اسکول۔ ایک پورا ضلع تعلیم کی روشنی سے خاصا محروم تھا۔

    سال 1949 میں چوہدری رفیق احمد نے ہم خیال ساتھیوں، جن میں پہلے پہل ڈاکٹر ایچ ایم اے ڈریگو اور بعد ازاں ایس اے خان ایڈوکیٹ نمایاں تھے، کے ساتھ مل کر تھرپارکر ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن کی داغ بیل ڈالی، کیونکہ اس وقت تھر سے لے کر میرپورخاص تک پورا ایک ضلع ہوا کرتا تھا۔

    اس تنظیم کا ڈھانچہ اس طرح بنایا گیا کہ ضلعے کا ڈپٹی کمشنر بربنائے عہدہ اس کا صدر جبکہ سماجی کارکن اس کے دیگر عہدیدار ہوتے تھے۔ اس ترتیب سے سرکاری تعاون اور نجی سرمائے کا ایک عملی اشتراک ممکن ہو گیا۔

    فنڈز کا انتظام چوہدری رفیق احمد نے ذاتی سرمائے اور علاقے کے مخیر حضرات کے تعاون سے کیا۔ دراصل انہوں نے اپنی خاندانی دولت اور کاروباری تعلقات کو ان اداروں کی بنیاد بنانے کے لیے استعمال کیا۔

    اداروں کی وہ لہر جو رکی نہیں

    1950 کی دہائی میں جو کچھ ہوا وہ صرف چند اسکول یا کالج کھلنے کی خبر نہ تھی، یہ ایک پوری نسل کی تقدیر بدلنے کا عمل تھا۔

    لڑکوں کے لیے میرپورخاص میں شاہ عبداللطیف سائنس کالج، ماڈل آرٹس اینڈ کامرس کالج (ایوننگ)، ماڈل پرائمری اسکول، ماڈل ہائی اسکول، مرکز تعلیم بالغاں، اور میرپورخاص لاء کالج جبکہ کنری میں بوائز ہائی اسکول قائم کیا گیا، جو قومیائے جانے کے بعد گورنمنٹ قاضی سلطان ہائی اسکول کہلایا۔

    لڑکیوں کے لیے یہاں وہ کام ہوا جسے اس دور کی سماجی فضا میں ایک جرات مندانہ قدم کہا جا سکتا ہے۔ جب عورت کی تعلیم کا تصور ہی کئی حلقوں میں اجنبی تھا، اس وقت میرپورخاص میں ابن رشد گرلز کالج، دارالنسواں گرلز ہائی اسکول اور رابعہ بصری گرلز ہائی اسکول قائم ہوئے۔ کنری میں غزالی گرلز ہائی اسکول اور نوکوٹ میں فارابی گرلز ہائی اسکول وجود میں آئے تاکہ دور دراز علاقوں کی بیٹیاں بھی علم کی روشنی سے محروم نہ رہیں۔

    یہ تمام ادارے ذاتی سرمائے اور عوامی تعاون سے قائم ہوئے۔ ریاست کی کوئی بڑی مدد نہیں تھی۔

    وہ موڑ جو بھٹو کے دور میں آیا

    1972 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے تعلیمی اداروں کی قومیانے کی پالیسی نافذ کی۔ سرکاری اعلان کے مطابق اس پالیسی کا آغاز یکم ستمبر 1972 سے ہوا اور پورے سندھ اور پنجاب میں 176 سے زائد نجی کالج قومی تحویل میں لے لیے گئے۔ بعد ازاں اسکول بھی اس پالیسی کی زد میں آئے۔

    چوہدری رفیق احمد کے قائم کردہ ادارے بھی اس پالیسی کے تحت آ گئے اور غالباً 1974 تک حکومت کے کنٹرول میں چلے گئے۔ یہ ایک تکلیف دہ لمحہ تھا، لیکن انہوں نے نہ شور مچایا اور نہ طویل شکایت کی۔ انہوں نے اپنا کام جاری رکھا۔

    صرف تعلیم نہیں، زندگی کا ہر رنگ

    چوہدری رفیق احمد کے لیے انسان صرف ایک طالب علم نہ تھا، بلکہ ایک مکمل وجود تھا، جسے علم کے ساتھ ساتھ صحت، ثقافت اور روزگار بھی درکار تھا۔

    ثقافت اور فنون کے میدان میں 1959 میں تھرپارکر کلچرل ایسوسی ایشن قائم ہوئی۔ گلستان بلدیہ میں لائبریری، عجائب گھر، مصوری مرکز اور بھٹائی کلچرل ہال بنائے گئے۔ ہر سال موسم بہار میں پھولوں کی نمائش کی روایت شروع ہوئی۔ آم اور موسمی پھلوں اور سبزیوں کی نمائشیں بھی انہی کی کاوش تھیں۔ تھر کی خواتین کی دستکاریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے نمائشیں اور مینا بازار منعقد کیے گئے۔

    خواتین کے روزگار کے لیے زنانہ صنعتی گھر قائم کیا گیا جہاں سلائی، کڑھائی اور دستکاری سکھا کر باعزت روزگار فراہم کیا گیا۔

    کاروبار اور خدمت ایک ساتھ

    چوہدری رفیق احمد محض ایک سماجی کارکن نہ تھے بلکہ ایک مصروف کاروباری شخصیت بھی تھے۔ والد کی وفات کے بعد تین زرعی فارموں کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر آئی اور وہ ایس ایل ڈی کاٹن جننگ فیکٹری کے مینیجنگ ڈائریکٹر بھی رہے۔

    اس کے باوجود انہوں نے سماجی خدمت کا سلسلہ کبھی نہیں روکا۔

    وہ روٹری انٹرنیشنل کے ڈسٹرکٹ گورنر، صدر اور سیکریٹری کے عہدوں پر بھی فائز رہے اور تھرپارکر جیم خانہ کے سیکریٹری کے طور پر طویل عرصہ خدمات انجام دیں۔ جب ان سے پوچھا جاتا کہ وہ اتنے کاموں کے باوجود تھکتے نہیں، تو وہ کہتے: ‘سماجی خدمت سے جو روحانی سکون ملتا ہے، وہ ساری تھکن اتار دیتا ہے۔’

    سیاست سے دوری، خدمت سے لگاؤ

    چوہدری رفیق احمد نے کبھی انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ وہ خالصتاً ایک سماجی کارکن رہے۔ مختلف ادوار کی حکومتوں سے انہوں نے نہ ذاتی فائدہ مانگا اور نہ کوئی عہدہ لیا۔ ان کا راستہ خدمت کا تھا، اقتدار کا نہیں۔

    ‘میرپورخاص کا سرسید’ ایک خطاب جو لوگوں نے خود دیا

    انہیں ‘میرپورخاص کا سرسید احمد خان’ کہا جانے لگا۔ یہ کوئی سرکاری اعزاز نہ تھا بلکہ عوامی محبت کا اظہار تھا۔

    سرسید احمد خان کی طرح انہوں نے بھی تعلیم کو ترقی کی بنیاد سمجھا اور محدود وسائل کے باوجود میرپورخاص میں ایک تعلیمی انقلاب برپا کیا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ قیام پاکستان کے بعد میرپورخاص کے اکثر طلبہ و طالبات نے کسی نہ کسی صورت ان کے قائم کردہ اداروں سے فائدہ اٹھایا۔

    خاموش رخصتی، زندہ وراثت

    25 ستمبر 1997 کو چوہدری رفیق احمد اس دنیا سے رخصت ہو گئے، ویسی ہی خاموشی کے ساتھ جیسے انہوں نے زندگی گزاری۔حکومت پاکستان نے 14 اگست 2005 کو انہیں بعد از مرگ ستارہ امتیاز سے نوازا، ایک اعتراف جو دیر سے آیا مگر ان کے کام کا سچا اعتراف تھا۔

    آج بھی میرپورخاص میں جب کوئی استاد کلاس روم میں قدم رکھتا ہے، جب کوئی لڑکی کتاب کھولتی ہے، یا جب کوئی مریض اسپتال کی دہلیز پر آتا ہے، تو کسی نہ کسی صورت میں چوہدری رفیق احمد کی محنت اور محبت کی جھلک وہاں موجود ہوتی ہے۔

    یہی ان کی اصل میراث ہے۔

  • میرپورخاص: جعلی حساس ادارے کے افسر کے ذریعے بلیک میلنگ، آڈیو اور واٹس ایپ شواہد سامنے آ گئے

    میرپورخاص: جعلی حساس ادارے کے افسر کے ذریعے بلیک میلنگ، آڈیو اور واٹس ایپ شواہد سامنے آ گئے

    میرپورخاص میں حساس اداروں کے نام پر بلیک میلنگ کے ایک کیس میں اہم شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزم ہمایوں مصطفیٰ گجر نے خود کو حساس ادارے کا جعلی افسر ظاہر کر کے ہائی وے ڈویژن کے ایکسین تاج محمد راہمون کو دھمکیاں دیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی جانب سے بھیجی گئی آڈیو ریکارڈنگز اور واٹس ایپ پیغامات کے اسکرین شاٹس حاصل کر لیے گئے ہیں، جن میں ایکسین کو دو کمپنیوں ایم ایس سعید احمد اور ایم ایس شوکت سلیم کو ٹھیکے دینے کی ہدایات دی گئی تھیں۔

    تفتیش کے مطابق ایک واٹس ایپ اسکرین شاٹ عامر قریشی نامی شخص سے متعلق بھی سامنے آیا ہے، جس میں مخصوص کام انہی کمپنیوں کو دلوانے کی بات کی گئی ہے۔

    اعترافی بیان میں ملزم ہمایوں مصطفیٰ گجر نے بتایا کہ اس نے ایکسین کی کال ڈیٹیل ریکارڈ اور ذاتی معلومات حاصل کرنے کے بعد حساس ادارے کے نام پر دباؤ ڈال کر ٹھیکے حاصل کیے۔ آڈیو پیغام میں ملزم ایکسین سے مشین کی خریداری اور حیدرآباد میں موجود دکان سے متعلق تفصیلات طلب کرتا ہوا سنا جا سکتا ہے۔

    حکام کے مطابق ایک اور گرفتار ملزم رضا رند نے بھی اعتراف کیا ہے کہ دونوں نے مل کر حساس اداروں کے نام پر بلیک میلنگ کے ذریعے ٹھیکے حاصل کیے۔

    تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

  • سات دہائیوں تک میرپورخاص ڈویژن کی عوام کی خدمت کرنے والا ڈاکٹر ڈریگو

    سات دہائیوں تک میرپورخاص ڈویژن کی عوام کی خدمت کرنے والا ڈاکٹر ڈریگو

     خوبصورت ساحلوں اور ناریل کے لمبے درختوں کی وجہ سے جانی جانے والی انڈیا کی ریاست گووا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں کے لوگ سماجی دباؤ سے بے نیاز اور آرام پسند ہوتے ہیں۔

    سنہ 1933 میں اسی گووا سے ایک 26 سالہ فریش میڈیکل گریجویٹ مسیحی ڈاکٹر اُس وقت کے تھرپارکر ڈویژن کے ہیڈکوارٹر شہر میرپورخاص میں آنکھوں کے مریضوں پر تحقیق کے سلسلے میں آیا۔ یہاں کے لوگوں کے لیے صحت کی سہولتیں نہ دیکھ کر اس نے اپنی بقیہ زندگی کے تقریباً ستر برس صحت اور تعلیم کے ادارے قائم کرنے میں گزار دیے۔

    میرپورخاص شہر میں ان کے نام سے منسوب ایک سڑک پر آویزاں بورڈ کب کا غائب ہو چکا ہے، مگر میرپورخاص کے لوگ آج بھی ڈاکٹر ہرمینیگِلڈو مارکوس انتونیو ڈریگو، المعروف ڈاکٹر ڈریگو، کو ایک مسیحا اور غریب پرور ڈاکٹر کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

    1998 میں ڈاکٹر ڈریگو میرپورخاص شہر میں اسٹیشن روڈ پر واقع قدیم نشاط فوٹو اسٹوڈیو والی جگہ اپنی کلینک میں سال بیٹھے نظر  آرہے ہیں۔

    ڈاکٹر ڈریگو سنہ 1907 میں گووا کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا انڈیا کے پہلے جج تھے جبکہ نانا اناٹومی کے گولڈ میڈلسٹ تھے۔ معروف سندھی صحافی طاہرہ بلوچ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر ڈریگو نے بتایا تھا کہ بچپن میں انہیں پادری بننے کا شوق تھا، مگر بعدازاں بمبئی کے تعلیمی اداروں سینٹ زیویئرز اور گرانٹ میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کر کے والد کی خواہش پر ڈاکٹر بن گئے۔

    ڈاکٹر ڈریگو سنہ 1933 میں میرپورخاص آئے اور اسٹیشن روڈ پر واقع شہر کی قدیم نشاط فوٹو اسٹوڈیو والی جگہ اپنی کلینک کا آغاز کیا۔ وہ اُس وقت شہر کے واحد گریجویٹ ڈاکٹر تھے۔

    ان کی بیٹی ڈاکٹر فلومینا کے مطابق ‘پورے علاقے کے زمیندار اکثر رات کے وقت ان کے دروازے پر دستک دیتے اور انہیں اونٹ پر بٹھا کر دور دراز علاقوں میں مریض دیکھنے کے لیے لے جاتے تھے۔ اگر مریض عورت ہوتی تو ڈاکٹر اور مریض کے درمیان ایک چادر تان دی جاتی، جہاں سے مریض عورت صرف اپنا ہاتھ علاج کے لیے آگے بڑھایا کرتی تھی’۔

    انہی دنوں ڈاکٹر ڈریگو نے پتھورو شہر میں ملیریا کا پہلا کیس دریافت کیا۔ سنہ 1936 میں ہیضے کے مرض کی تشخیص بھی کی۔ ایک نوجوان ڈاکٹر کی ان دو دریافتوں نے اُس وقت میرپورخاص ہسپتال کے سول سرجن ہیرانند کو ناراض کر دیا، جنہوں نے کہا کہ ‘بمبئی سے آیا ہوا یہ ڈاکٹر سستی شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے’۔

    اس مخالفت کے باوجود ڈاکٹر ڈریگو نے اپنا کام جاری رکھا اور سنہ 1942 میں انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی، جس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔

    ملیریا اور ہیضے کے کیسز کی نشاندہی کے بعد سنہ 1947 میں ڈاکٹر ڈریگو نے ایک بار پھر اعلیٰ حکام کو ناراض کیا، جب انہوں نے انڈیا سے ہجرت کر کے آنے والے لوگوں کے لیے کھوکھراپار میں میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا۔

    معروف سندھی صحافی طاہرہ بلوچ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا: ‘وہاں ایک ٹی بی کے مریض کے اردگرد بیس لوگ بیٹھے تھے۔ میں نے حکام کو بتایا کہ اس طرح ٹی بی مزید پھیلے گی، مگر مجھے خاموش کرا دیا گیا’۔

    سنہ 1951 میں ڈاکٹر ڈریگو نے میرپورخاص میں پہلا ٹی بی سینٹر قائم کیا اور اسی برس حمیدپورہ کالونی میں زچہ و بچہ سینٹر بھی کھولا۔

    انہی دنوں وہ کراچی منتقل ہوئے اور وہاں ڈاکٹر رتھ فاؤ کے ساتھ مل کر جزام یعنی لیپروسی سینٹر قائم کیا، مگر جلد ہی یہ کہتے ہوئے میرپورخاص واپس آ گئے کہ :’کراچی بڑا شہر ہے، وہاں میرے جیسے بہت سے لوگ ہیں۔ چھوٹے شہروں اور پسماندہ علاقوں میں کام کرنے کی زیادہ ضرورت ہے’۔

    سال 1960 میں ڈاکٹر ڈریگو میرپورخاص شہر میں صحت کے آگاہی مارچ کی قیادت  کرتے ہوئے۔ تصویر: ڈاکٹر فلومینا جانسن

    میرپورخاص میں انہوں نے اپنی والدہ کے نام پر ماریا ارڈلینڈ ڈریگو لیپروسی سینٹر قائم کیا۔ شہر کے لوگوں نے ابتدا میں جزام کے مریضوں کے علاج کے لیے سینٹر کھولنے کی شدید مخالفت کی، جس کے باعث ڈاکٹر ڈریگو نے کئی مریضوں کو اپنے ذاتی گھر میں رکھ کر علاج کیا۔

    ڈاکٹر ڈریگو نے میڈیکل مشن سسٹرز کے تعاون سے میرپورخاص میں سینٹ ٹیریزا ہسپتال اور کراچی میں ہولی فیملی ہسپتال بھی قائم کیے۔ سنہ 1980 میں انہوں نے پولیو کلینک اور فزیوتھراپی سینٹر کا آغاز کیا۔

    92 برس پر محیط اپنی زندگی میں ڈاکٹر ڈریگو نے خدمت کو مہم بنا لیا تھا۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا اور طرزِ زندگی مریضوں کے گرد گھومتا تھا۔ انتہائی کم فیس پر علاج کرنے والے ڈاکٹر ڈریگو نے شادی کے دن ہی اپنی دلہن جوزفین سے کہا تھا کہ ‘یاد رکھنا، ہم لوگ کبھی امیر نہیں ہوں گے’۔

    ڈاکٹر ڈریگو کی یہ غریب پروری ان کی اولاد نے بھی جاری رکھی۔ ان کی بیٹی ڈاکٹر فلومینا نے کراچی کے ایک بڑے نجی ہسپتال کی ملازمت یہ کہہ کر چھوڑ دی کہ ‘وہاں صرف امیر لوگوں کا علاج ہوتا ہے’۔ ڈاکٹر فلومینا گذشتہ 25 برسوں سے کنری اور چھاچھرو میں ہسپتال چلا رہی ہیں۔

    سال 1960 میں ڈاکٹر ڈریگو میرپورخاص شہر میں صحت کے آگاہی مارچ کی قیادت ؎ کرتے ہوئے۔ تصویر: ڈاکٹر فلومینا جانسن

    ڈاکٹر ڈریگو کو ان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ ہجرت کر کے آنے والوں کی خدمت کے عوض پوپ جان پال دوم نے سنہ 1950 میں انہیں ‘نائٹ آف سینٹ گریگوری دی گریٹ’ کا خطاب دیا۔

    حکومتِ پاکستان نے پہلی مرتبہ سنہ 1967 میں اور دوسری بار ان کی وفات کے بعد سنہ 2002 میں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔ سنہ 1994 میں انہیں روٹری انٹرنیشنل ایوارڈ بھی ملا۔

    ڈاکٹر ڈریگو کے لیے سب سے بڑا اعزاز نہ کوئی تمغہ تھا اور نہ کوئی خطاب، بلکہ میرپورخاص کے لوگوں کی وہ بے لوث محبت تھی جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔

    اپنے آخری انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘یہاں کے لوگوں نے مجھے کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ میں ان میں سے نہیں ہوں۔ انہوں نے مجھے میری شناخت سے پہلے انسان سمجھ کر قبول کیا، اور میں نے بھی رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر ان کی خدمت کی’۔

    16 جنوری 1999 کو جب ڈاکٹر ڈریگو اس دنیا سے رخصت ہوئے تو میرپورخاص نے صرف ایک ڈاکٹر نہیں بلکہ ایک ایسا انسان کھو دیا جو اس شہر کی نبض میں شامل ہو چکا تھا۔

    آج شہر کی کسی گلی میں ان کے نام کی تختی شاید نہ ہو، مگر ہر وہ ہاتھ جو کبھی ان کے لمس سے شفا یاب ہوا، ہر وہ آنکھ جو ان کی بدولت روشنی سے آشنا ہوئی، اور ہر وہ ماں جس نے ان کے قائم کردہ مراکز میں نئی زندگی کو جنم دیا، وہ سب آج بھی ڈاکٹر ڈریگو کی موجودگی کی گواہی دیتے ہیں۔

    کچھ لوگ زمین پر رہ کر اجنبی رہتے ہیں، اور کچھ اجنبی آ کر اسی مٹی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈریگو انہی لوگوں میں سے تھے، جو گووا سے آئے، مگر میرپورخاص کا ہو کر رہ گئے، ہمیشہ کے لیے۔