خوبصورت ساحلوں اور ناریل کے لمبے درختوں کی وجہ سے جانی جانے والی انڈیا کی ریاست گووا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں کے لوگ سماجی دباؤ سے بے نیاز اور آرام پسند ہوتے ہیں۔
سنہ 1933 میں اسی گووا سے ایک 26 سالہ فریش میڈیکل گریجویٹ مسیحی ڈاکٹر اُس وقت کے تھرپارکر ڈویژن کے ہیڈکوارٹر شہر میرپورخاص میں آنکھوں کے مریضوں پر تحقیق کے سلسلے میں آیا۔ یہاں کے لوگوں کے لیے صحت کی سہولتیں نہ دیکھ کر اس نے اپنی بقیہ زندگی کے تقریباً ستر برس صحت اور تعلیم کے ادارے قائم کرنے میں گزار دیے۔
میرپورخاص شہر میں ان کے نام سے منسوب ایک سڑک پر آویزاں بورڈ کب کا غائب ہو چکا ہے، مگر میرپورخاص کے لوگ آج بھی ڈاکٹر ہرمینیگِلڈو مارکوس انتونیو ڈریگو، المعروف ڈاکٹر ڈریگو، کو ایک مسیحا اور غریب پرور ڈاکٹر کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

ڈاکٹر ڈریگو سنہ 1907 میں گووا کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا انڈیا کے پہلے جج تھے جبکہ نانا اناٹومی کے گولڈ میڈلسٹ تھے۔ معروف سندھی صحافی طاہرہ بلوچ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر ڈریگو نے بتایا تھا کہ بچپن میں انہیں پادری بننے کا شوق تھا، مگر بعدازاں بمبئی کے تعلیمی اداروں سینٹ زیویئرز اور گرانٹ میڈیکل کالج سے تعلیم حاصل کر کے والد کی خواہش پر ڈاکٹر بن گئے۔
ڈاکٹر ڈریگو سنہ 1933 میں میرپورخاص آئے اور اسٹیشن روڈ پر واقع شہر کی قدیم نشاط فوٹو اسٹوڈیو والی جگہ اپنی کلینک کا آغاز کیا۔ وہ اُس وقت شہر کے واحد گریجویٹ ڈاکٹر تھے۔
ان کی بیٹی ڈاکٹر فلومینا کے مطابق ‘پورے علاقے کے زمیندار اکثر رات کے وقت ان کے دروازے پر دستک دیتے اور انہیں اونٹ پر بٹھا کر دور دراز علاقوں میں مریض دیکھنے کے لیے لے جاتے تھے۔ اگر مریض عورت ہوتی تو ڈاکٹر اور مریض کے درمیان ایک چادر تان دی جاتی، جہاں سے مریض عورت صرف اپنا ہاتھ علاج کے لیے آگے بڑھایا کرتی تھی’۔
انہی دنوں ڈاکٹر ڈریگو نے پتھورو شہر میں ملیریا کا پہلا کیس دریافت کیا۔ سنہ 1936 میں ہیضے کے مرض کی تشخیص بھی کی۔ ایک نوجوان ڈاکٹر کی ان دو دریافتوں نے اُس وقت میرپورخاص ہسپتال کے سول سرجن ہیرانند کو ناراض کر دیا، جنہوں نے کہا کہ ‘بمبئی سے آیا ہوا یہ ڈاکٹر سستی شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے’۔
اس مخالفت کے باوجود ڈاکٹر ڈریگو نے اپنا کام جاری رکھا اور سنہ 1942 میں انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی، جس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔
ملیریا اور ہیضے کے کیسز کی نشاندہی کے بعد سنہ 1947 میں ڈاکٹر ڈریگو نے ایک بار پھر اعلیٰ حکام کو ناراض کیا، جب انہوں نے انڈیا سے ہجرت کر کے آنے والے لوگوں کے لیے کھوکھراپار میں میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا۔
معروف سندھی صحافی طاہرہ بلوچ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا: ‘وہاں ایک ٹی بی کے مریض کے اردگرد بیس لوگ بیٹھے تھے۔ میں نے حکام کو بتایا کہ اس طرح ٹی بی مزید پھیلے گی، مگر مجھے خاموش کرا دیا گیا’۔
سنہ 1951 میں ڈاکٹر ڈریگو نے میرپورخاص میں پہلا ٹی بی سینٹر قائم کیا اور اسی برس حمیدپورہ کالونی میں زچہ و بچہ سینٹر بھی کھولا۔
انہی دنوں وہ کراچی منتقل ہوئے اور وہاں ڈاکٹر رتھ فاؤ کے ساتھ مل کر جزام یعنی لیپروسی سینٹر قائم کیا، مگر جلد ہی یہ کہتے ہوئے میرپورخاص واپس آ گئے کہ :’کراچی بڑا شہر ہے، وہاں میرے جیسے بہت سے لوگ ہیں۔ چھوٹے شہروں اور پسماندہ علاقوں میں کام کرنے کی زیادہ ضرورت ہے’۔

میرپورخاص میں انہوں نے اپنی والدہ کے نام پر ماریا ارڈلینڈ ڈریگو لیپروسی سینٹر قائم کیا۔ شہر کے لوگوں نے ابتدا میں جزام کے مریضوں کے علاج کے لیے سینٹر کھولنے کی شدید مخالفت کی، جس کے باعث ڈاکٹر ڈریگو نے کئی مریضوں کو اپنے ذاتی گھر میں رکھ کر علاج کیا۔
ڈاکٹر ڈریگو نے میڈیکل مشن سسٹرز کے تعاون سے میرپورخاص میں سینٹ ٹیریزا ہسپتال اور کراچی میں ہولی فیملی ہسپتال بھی قائم کیے۔ سنہ 1980 میں انہوں نے پولیو کلینک اور فزیوتھراپی سینٹر کا آغاز کیا۔
92 برس پر محیط اپنی زندگی میں ڈاکٹر ڈریگو نے خدمت کو مہم بنا لیا تھا۔ ان کا اٹھنا بیٹھنا اور طرزِ زندگی مریضوں کے گرد گھومتا تھا۔ انتہائی کم فیس پر علاج کرنے والے ڈاکٹر ڈریگو نے شادی کے دن ہی اپنی دلہن جوزفین سے کہا تھا کہ ‘یاد رکھنا، ہم لوگ کبھی امیر نہیں ہوں گے’۔
ڈاکٹر ڈریگو کی یہ غریب پروری ان کی اولاد نے بھی جاری رکھی۔ ان کی بیٹی ڈاکٹر فلومینا نے کراچی کے ایک بڑے نجی ہسپتال کی ملازمت یہ کہہ کر چھوڑ دی کہ ‘وہاں صرف امیر لوگوں کا علاج ہوتا ہے’۔ ڈاکٹر فلومینا گذشتہ 25 برسوں سے کنری اور چھاچھرو میں ہسپتال چلا رہی ہیں۔

ڈاکٹر ڈریگو کو ان کی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ ہجرت کر کے آنے والوں کی خدمت کے عوض پوپ جان پال دوم نے سنہ 1950 میں انہیں ‘نائٹ آف سینٹ گریگوری دی گریٹ’ کا خطاب دیا۔
حکومتِ پاکستان نے پہلی مرتبہ سنہ 1967 میں اور دوسری بار ان کی وفات کے بعد سنہ 2002 میں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔ سنہ 1994 میں انہیں روٹری انٹرنیشنل ایوارڈ بھی ملا۔
ڈاکٹر ڈریگو کے لیے سب سے بڑا اعزاز نہ کوئی تمغہ تھا اور نہ کوئی خطاب، بلکہ میرپورخاص کے لوگوں کی وہ بے لوث محبت تھی جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔
اپنے آخری انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘یہاں کے لوگوں نے مجھے کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ میں ان میں سے نہیں ہوں۔ انہوں نے مجھے میری شناخت سے پہلے انسان سمجھ کر قبول کیا، اور میں نے بھی رنگ، نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر ان کی خدمت کی’۔
16 جنوری 1999 کو جب ڈاکٹر ڈریگو اس دنیا سے رخصت ہوئے تو میرپورخاص نے صرف ایک ڈاکٹر نہیں بلکہ ایک ایسا انسان کھو دیا جو اس شہر کی نبض میں شامل ہو چکا تھا۔
آج شہر کی کسی گلی میں ان کے نام کی تختی شاید نہ ہو، مگر ہر وہ ہاتھ جو کبھی ان کے لمس سے شفا یاب ہوا، ہر وہ آنکھ جو ان کی بدولت روشنی سے آشنا ہوئی، اور ہر وہ ماں جس نے ان کے قائم کردہ مراکز میں نئی زندگی کو جنم دیا، وہ سب آج بھی ڈاکٹر ڈریگو کی موجودگی کی گواہی دیتے ہیں۔
کچھ لوگ زمین پر رہ کر اجنبی رہتے ہیں، اور کچھ اجنبی آ کر اسی مٹی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈریگو انہی لوگوں میں سے تھے، جو گووا سے آئے، مگر میرپورخاص کا ہو کر رہ گئے، ہمیشہ کے لیے۔

