میرپورخاص میں حساس اداروں کے نام پر بلیک میلنگ کے ایک کیس میں اہم شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزم ہمایوں مصطفیٰ گجر نے خود کو حساس ادارے کا جعلی افسر ظاہر کر کے ہائی وے ڈویژن کے ایکسین تاج محمد راہمون کو دھمکیاں دیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی جانب سے بھیجی گئی آڈیو ریکارڈنگز اور واٹس ایپ پیغامات کے اسکرین شاٹس حاصل کر لیے گئے ہیں، جن میں ایکسین کو دو کمپنیوں ایم ایس سعید احمد اور ایم ایس شوکت سلیم کو ٹھیکے دینے کی ہدایات دی گئی تھیں۔
تفتیش کے مطابق ایک واٹس ایپ اسکرین شاٹ عامر قریشی نامی شخص سے متعلق بھی سامنے آیا ہے، جس میں مخصوص کام انہی کمپنیوں کو دلوانے کی بات کی گئی ہے۔
اعترافی بیان میں ملزم ہمایوں مصطفیٰ گجر نے بتایا کہ اس نے ایکسین کی کال ڈیٹیل ریکارڈ اور ذاتی معلومات حاصل کرنے کے بعد حساس ادارے کے نام پر دباؤ ڈال کر ٹھیکے حاصل کیے۔ آڈیو پیغام میں ملزم ایکسین سے مشین کی خریداری اور حیدرآباد میں موجود دکان سے متعلق تفصیلات طلب کرتا ہوا سنا جا سکتا ہے۔
حکام کے مطابق ایک اور گرفتار ملزم رضا رند نے بھی اعتراف کیا ہے کہ دونوں نے مل کر حساس اداروں کے نام پر بلیک میلنگ کے ذریعے ٹھیکے حاصل کیے۔
تفتیشی اداروں کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
