Tag: مہنگائی

  • زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں کئی سو گنا اضافہ: ڈریپ کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ

    زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں کئی سو گنا اضافہ: ڈریپ کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ

    ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ‘ڈریپ’ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران مختلف ادویات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    ڈریپ پاکستان میں ادویات کی رجسٹریشن، معیار، درآمد، فروخت اور قیمتوں کی نگرانی کرنے والا وفاقی ادارہ ہے، جو وزارتِ قومی صحت کے تحت کام کرتا ہے۔ ادارہ ادویات کی قیمتوں کے تعین اور ان میں اضافے کی منظوری کا اختیار بھی رکھتا ہے۔

    بریفنگ کے مطابق نزلہ، زکام اور بخار کے لیے استعمال ہونے والی دوا ‘کولڈریکس’ کی قیمت میں 1621 فیصد اضافہ ہوا۔ حکام کے مطابق 27 روپے میں فروخت ہونے والا ایک پیکٹ بڑھ کر 475 روپے تک پہنچ گیا۔

    ہڈیوں کی صحت کے لیے استعمال ہونے والی دوا ‘کال وی’ کی قیمت میں 302 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ عام استعمال کی درد کش دوا ‘بروفین’ کی قیمت میں بھی 244 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔

    ڈریپ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ آنکھوں کی دوا ‘پولی فیکس’ کی قیمت 34 روپے سے بڑھ کر 113 روپے ہو گئی، جبکہ معدے اور آنتوں کی تکلیف کے لیے استعمال ہونے والی دوا ‘لیبریکس’ کی قیمت میں 241 فیصد اضافہ ہوا۔

    بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ الرجی کے انجکشن ‘ایویل’ کی قیمت 432 روپے سے بڑھ کر 1500 روپے تک پہنچ گئی، جبکہ قبض کشا سیرپ اور قطروں ‘لیکسوبیرون’ کی قیمت میں 200 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    متلی اور چکر کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا ‘اسٹیمیٹل’ بھی 188 فیصد مہنگی ہو گئی۔
    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بعض اراکین نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہنگی ادویات عام شہری کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔

    وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کمیٹی اجلاس میں مؤقف اختیار کیا کہ ادارہ شفاف انداز میں کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے کبھی کسی فارماسیوٹیکل کمپنی سے ایک پیالی چائے بھی نہیں پی۔’

  • اپریل میں مہنگائی ڈبل ڈیجٹ میں داخل، اخراجات کا دباؤ مزید بڑھ گیا

    اپریل میں مہنگائی ڈبل ڈیجٹ میں داخل، اخراجات کا دباؤ مزید بڑھ گیا

    اپریل میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس سی پی آئی گزشتہ 21 ماہ کے بعد دوبارہ ڈبل ڈیجٹ میں داخل ہو گیا ہے۔ اپریل میں سی پی آئی بڑھ کر 10.89 فیصد ہو گیا، جبکہ اس سے قبل جولائی 2024 میں یہ شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔

    فیڈرل بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق مہنگائی میں یہ اضافہ پچھلے ماہ مارچ کے مقابلے میں 2.48 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے جولائی سے اپریل 2024-25 کے مقابلے میں موجودہ مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں 6.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    اس اضافے کی بڑی وجہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور ضروری اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں تیز اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے نہ صرف سفر بلکہ اشیاء کی ترسیل بھی مہنگی ہو گئی ہے، جس کا براہ راست اثر عام صارفین پر پڑ رہا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء، خاص طور پر سبزیاں اور دیگر جلد خراب ہونے والی غذائیں بھی نمایاں حد تک مہنگی ہو چکی ہیں۔

    اگرچہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم یہ ریلیف محدود ہے اور مجموعی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے میں ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، جہاں قیمتیں ایک ماہ کے دوران 15.47 فیصد تک بڑھ گئیں۔ اسی طرح جلد خراب ہونے والی غذائی اشیاء کی قیمتوں میں بھی 15.25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ گھروں کے کرائے، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں بھی 2.43 فیصد اضافہ ہوا، جس سے گھریلو بجٹ مزید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔

    توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ایران امریکہ کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کو قرار دیا جا رہا ہے، جو پاکستان کے لیے توانائی کی درآمد کا اہم راستہ ہے۔ اس صورتحال کے باعث تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی اپنی پالیسی شرح سود 10.50 فیصد سے بڑھا کر 11.50 فیصد کر دی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کیا جا سکے۔ اس سے قبل 2025 میں شرح سود 10.50 فیصد تھی۔

    مجموعی طور پر مہنگائی میں حالیہ اضافہ عوام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، اور اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

  • مہنگائی اور توانائی چیلنجز کے باوجود آئی ایم ایف اور پاکستان میں تقریباً سوا دو ارب ڈالر کے اجرا پر اسٹاف لیول معاہدہ

    مہنگائی اور توانائی چیلنجز کے باوجود آئی ایم ایف اور پاکستان میں تقریباً سوا دو ارب ڈالر کے اجرا پر اسٹاف لیول معاہدہ

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نکے مطابق پاکستان کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جو 1.2 ارب ڈالر کی فنڈنگ کے اجرا کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

    آئی ایم ایف نے پاکستان کی ایندھن کی قیمتوں سے متعلق پالیسی کو بھی خاموشی سے درست قرار دیا ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان نے پروگرام پر عمل درآمد مجموعی طور پر درست سمت میں رکھا ہے۔ اس عمل کا مقصد عوامی مالیات کو مضبوط بنانا، مہنگائی کو اسٹیٹ بینک کے ہدف کے اندر رکھنا، توانائی کے شعبے میں بہتری لانا اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔

    آئی ایم ایف مشن کی سربراہ آئیوا پیٹرووا کے مطابق، بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 21 کروڑ ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی۔ اس طرح دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 4.5 ارب ڈالر مل چکے ہوں گے۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو دو مختلف قرضے دیے جا رہے ہیں۔ 37 ماہ دورانیے کے ای ایف ایف کے تحت پاکستان کو 7.1 ارب ڈالر ملیں گے، جب کہ 28 ماہ دورانیے کے آر ایس ایف پروگرام کے تحت پاکستان کو کل 1.4 ارب ڈالر ملنے ہیں۔

    ای ایف ایف پروگرام مضبوط پالیسیوں اور اصلاحات کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کا مقصد حکومت کی جاری کوششوں کو سہارا دینا ہے تاکہ معیشت کو مستحکم بنایا جا سکے، گہرے ڈھانچہ جاتی مسائل حل کیے جائیں اور ایسی صورتحال پیدا ہو جس سے مضبوط، سب کو ساتھ لے کر چلنے والی اور دیرپا ترقی ممکن ہو۔ اس پروگرام کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے ترقیاتی اور دوطرفہ شراکت داروں کی مسلسل مالی مدد بھی نہایت اہم ہوگی۔

    آر ایس ایف کے تحت قرض ان مسائل کے حل کے لیے دیا جاتا ہے جو فوری نہیں بلکہ وقت کے ساتھ معیشت کو متاثر کرتے ہیں، جیسے ماحولیاتی تبدیلی اور توانائی کے مسائل۔ 2022 کے سیلاب کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 2025 میں یہ نیا قرض پاکستان کو دیا گیا تھا۔

    آئی ایم ایف کے بیان کے مطابق پاکستان کی معیشت میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ مالی سال 2025 میں بحالی کے بعد رواں مالی سال کے ابتدائی حصے میں معاشی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئی ہے۔ مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رہے ہیں، جبکہ بیرونی مالی پوزیشن بھی بہتر ہوئی ہے۔ تاہم ادارے نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالی حالات کی سختی مہنگائی میں اضافے اور معاشی ترقی پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔

    ادارے نے کہا کہ پاکستانی حکام مستحکم معاشی پالیسیوں پر کاربند ہیں۔ حکومت نے ایک نیا ٹیکس پالیسی آفس بھی قائم کیا ہے۔ یہ ادارہ درمیانی مدت کی ٹیکس اصلاحات کی حکمت عملی تیار کر رہا ہے۔ اس کا مقصد ٹیکس نظام میں استحکام لانا اور محصولات کو بہتر بنانا ہے۔

    آئی ایم ایف نے سماجی تحفظ کے اقدامات کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غریب طبقے کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔ اس پروگرام میں نقد امداد کو مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔ مستحق افراد کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے اور ادائیگی کے نظام کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے۔

    مرکزی بینک کی پالیسی کے حوالے سے بھی آئی ایم ایف نے اطمینان ظاہر کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک مہنگائی کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے تیار ہے۔ اگر قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو شرح سود بڑھائی جا سکتی ہے۔

    توانائی کے شعبے کے بارے میں آئی ایم ایف نے کہا کہ حکومت اس شعبے کو مستحکم بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ گردشی قرضوں کو روکنا ضروری ہے کیونکہ یہ معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ بجلی کی قیمتوں میں بروقت ردوبدل کیا جانا چاہیے تاکہ لاگت پوری ہو سکے۔ ساتھ ہی غیر ضروری سبسڈیز سے گریز کرنا ہوگا۔

    ادارے نے مزید کہا کہ بجلی کے نظام میں بہتری، نجکاری اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی جیسے اقدامات جاری رہنے چاہئیں۔ اس سے نہ صرف کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ ماحول پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔

    آئی ایم ایف نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو بھی سراہا ہے۔ حکومت سرکاری اداروں کی نجکاری اور کارکردگی بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔ کاروباری ماحول کو بہتر بنانے اور نجی شعبے کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بدعنوانی کے خلاف کوششیں بھی تیز کی جا رہی ہیں۔

    ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے بھی پاکستان اقدامات کر رہا ہے۔ گرین ٹرانسپورٹ، موسمیاتی معلومات کے نظام اور خطرات کے انتظام جیسے منصوبے جاری ہیں۔ حکومت پانی کے نظام کو بہتر بنانے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے پر بھی کام کر رہی ہے۔

  • ایران میں سلگتی چنگاری کا انجام کیا ہوگا؟

    ایران میں سلگتی چنگاری کا انجام کیا ہوگا؟

    عمر خیام، فردوسی اور حافظ شیرازی کا دیس ایران آج کل ایک بار پھر عالمی میڈیا کی سرخیوں میں ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور حکومتی نظام سے بیزاری نے خاص طور پر نوجوانوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔
    اطلاعات کے مطابق درجنوں شہری جان سے جا چکے ہیں، ہزاروں گرفتار ہوئے ہیں، اور حالات کے بگڑتے ہی فیس بک، ایکس، انسٹاگرام اور ٹیلیگرام جیسی معروف سوشل میڈیا سروسز بھی ملک میں بلاک کر دی گئیں۔

    کوئی اسے عرب بہار کا ایرانی ایڈیشن قرار دے رہا ہے، تو کوئی بنگلہ دیش اور شام کی طرز پر انتشار پھیلانے کی امریکی سازش۔ ویسے بھی ایران کی تاریخ میں یہ باب نیا نہیں۔ 1953 میں ڈاکٹر مصدق کی حکومت کے خلاف سی آئی اے کی کارروائیوں کا حوالہ آج بھی بحث میں زندہ ہے۔
    جب ڈاکٹر مصدق نے ایرانی تیل کمپنیوں کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا تو سی آئی اے نے ڈالروں کا استعمال کر کے ڈاکٹر مصدق کے خلاف مظاہرے کروائے اور حکومت چھوڑنے پر مجبور کیا۔

    احتجاج کیوں بھڑکے؟

    احتجاج کی تازہ لہر 28 دسمبر 2025 کو اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ایران میں پھیل گئی۔ ابتدا میں کہا گیا کہ انڈوں، گوشت اور روزمرہ ضروریات کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے عوام کو سڑکوں پر نکالا۔
    بنیادی سبب یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایرانی کرنسی کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں غیر معمولی حد تک گر گئی۔

    تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جس ملک میں ایک دور میں شاہِ ایران کی شان و شوکت کے تذکرے ہوتے تھے، یہاں تک کہ 1970 میں 2500 سالہ جشنِ شاہنشاہی میں فرانس کے ہوٹلوں سے کھانے منگوائے گئے اور جنگل میں منگل کا سماں تھا، جس میں پاکستان کے سابق فوجی آمر یحییٰ خان بھی شریک ہونے پہنچے تھے، آج اسی ملک کے شہری انڈوں کی قیمتوں پر احتجاج کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    داخلی و خارجی دباؤ، چیلنجز کی بھرمار

    یہ حقیقت ہے کہ ایران اس وقت اندرونی اور بیرونی، دونوں سطحوں پر شدید دباؤ کی زد میں ہے۔ 2024 کے بعد سے مہنگائی، کرنسی کی گرتی قدر اور توانائی کی قلت نے صورتحال کو مسلسل دباتے رکھا، جس کے نتیجے میں بار بار بجلی اور گیس کی بندشیں سامنے آئیں، اور صدر مسعود پزشکیاں کو عوام سے معذرت بھی کرنا پڑی۔

    دوسری طرف علاقائی منظرنامے میں بھی ایران کو جھٹکے لگے۔ شام میں اسد حکومت کا خاتمہ، غزہ میں حماس کے بعض اہم ٹھکانوں اور شخصیات کے خلاف کارروائیاں، اور لبنان میں حزب اللہ کی قیادت کو نشانہ بنانے جیسے واقعات نے ایرانی اثرورسوخ پر سوالات اٹھا دیے۔

    اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟

    2025 کے آخری مہینوں میں زرِ مبادلہ کی منڈی میں بے مثال ہلچل دیکھی گئی۔
    ایرانی ریال یا تومان تیزی سے گرا اور ڈالر کے مقابلے میں شرح تبادلہ تقریباً ایک لاکھ پینتالیس ہزار تومان تک پہنچنے کا تذکرہ ہوا۔

    سرکاری ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر 2025 میں مہنگائی 42.2 فیصد رہی، جو نومبر کے مقابلے میں 1.8 فیصد اضافہ تھا۔ خوراک کی قیمتیں سال بہ سال 72 فیصد بڑھیں، جبکہ صحت اور طبی سامان 50 فیصد تک مہنگا ہوا۔

    پانی کے بحران کی بدانتظامی بھی عوامی بے چینی میں اضافہ کر رہی ہے۔ مزید یہ کہ ایرانی میڈیا کے مطابق حکومت نے 21 مارچ، ایرانی نئے سال، سے ٹیکس بڑھانے کا عندیہ دیا، جس سے شہریوں میں تشویش مزید بڑھی۔ اسی پس منظر میں احتجاج کے دوران یہ نعرہ بھی سنائی دیا، نہ غزہ، نہ لبنان، میری جان ایران پر قربان۔

    احتجاج کا رخ کہاں گیا؟

    وقت کے ساتھ احتجاج محض مہنگائی تک محدود نہ رہا۔ بدعنوانی، سخت گیر طرزِ حکمرانی، اور داخلی ضرورتوں کے مقابلے میں پراکسیز، مثلاً حزب اللہ اور حماس، کو ترجیح دینے کے الزامات بھی نمایاں ہوئے۔

    ساتھ ہی ایران کو کرد، آذربائجانی، خوزستانی عرب اور بلوچ علاقوں میں علیحدگی پسند تحریکوں کے چیلنجز، اور امریکا اور اسرائیل جیسے طاقتور ممالک کے دباؤ کا بھی سامنا ہے۔

    زرِ مبادلہ کی صورتحال نے بحران کو مزید گہرا کیا۔ بتایا گیا کہ 29 دسمبر کو ریال تاریخی کم ترین سطح پر گیا۔ حکومت نے 3 جنوری کو شرح میں مصنوعی بہتری لانے کی کوشش کی، مگر 6 جنوری تک کرنسی پھر نئی کم ترین حد توڑ گئی، اور اس کے ساتھ ہی خوراک سمیت ضروری اشیا کی قیمتیں مزید اوپر چلی گئیں۔

    ماہرین کی نظر میں وجوہات

    معاشی ماہرین کے مطابق حکومتی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیاں، مسلسل بدانتظامی، دائمی بجٹ خسارہ اور بین الاقوامی پابندیوں کا تسلسل بنیادی اسباب ہیں۔ درآمدات پر انحصار کرنے والے کاروبار خاص طور پر متاثر ہوئے۔ شرحِ تبادلہ کے شدید اتار چڑھاؤ نے تاجروں کے لیے قیمتیں مقرر کرنا، سپلائی حاصل کرنا اور کاروبار چلانا مشکل بنا دیا۔

    سیاسی مفہوم، نعرے، گرفتاریاں اور طاقت کا استعمال

    رپورٹس کے مطابق احتجاج کی سیاسی جہت اس وقت نمایاں ہوئی جب مرگ بر خامنہ ای جیسے نعرے لگے، جن کا رخ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جانب سمجھا گیا۔
    صدر پزشکیاں سے بھی عوامی توقعات کمزور پڑتی دکھائی دیں۔ کہا گیا کہ وہ 2024 میں گڈ گورننس کے وعدوں کے ساتھ آئے تھے، مگر پانی اور بجلی کی بندشیں جاری رہیں اور انٹرنیٹ سنسرشپ میں خاطر خواہ نرمی نہ آ سکی۔

    اگرچہ پرامن احتجاج کے آئینی حق کی بات کی گئی اور نمائندوں سے ملاقات کے وعدے بھی سامنے آئے، مگر سیکورٹی اداروں پر صدارتی اختیار محدود بتایا جاتا ہے۔
    یکم جنوری 2026 تک متعدد گرفتاریاں، اور بعض مقامات پر براہِ راست گولی چلانے کے واقعات کا ذکر بھی سامنے آیا، جن میں طلبہ، پنشنرز اور نوجوان شامل بتائے گئے۔

    پس منظر میں جوہری معاہدہ، ٹرمپ اور نئی کشیدگیاں

    اس تناظر میں 2013 میں حسن روحانی کے تبدیلی کے نعروں، 2015 کے جوہری معاہدے اور پابندیوں میں جزوی نرمی کا حوالہ بھی اہم ہے۔
    پھر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد معاہدے سے دستبرداری، سفری پابندیوں میں سختی اور یروشلم سے متعلق امریکی فیصلوں نے خطے میں کشیدگی بڑھائی، اور ایران کی بے چینی میں اضافہ ہوا۔

    تازہ مظاہروں کے دوران بھی امریکی بیانات، ٹویٹس اور سابق شاہِ ایران کے صاحبزادے رضا پہلوی کی سرگرمیوں کو بعض حلقے بیرونی پشت پناہی کے اشارے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
    کل لندن میں ایران کے سفارتخانے پر شاہِ ایران کے دور کا پرچم دوبارہ لہرایا گیا، اور یہ منظر بی بی سی سمیت دنیا بھر کے نیوز چینلز نے ایکسکلیوزلی نشر کیا۔

    اندرونِ ملک، ثقافتی اور سیاسی غصہ

    1979 سے پہلے ایران کو نسبتاً جدید اور کھلا معاشرہ سمجھا جاتا تھا۔ انقلاب کے بعد ولایتِ فقیہ کے نظام کے نفاذ کے ساتھ سماجی اور ثقافتی پابندیاں بڑھیں۔ فنونِ لطیفہ، گائیکی اور عوامی طرزِ زندگی پر قدغنیں لگیں۔ اسی تبدیلی نے ایک بڑے طبقے، خصوصاً نوجوانوں میں، ریاستی اور مذہبی قیادت کے خلاف ناراضی کو جنم دیا۔

    ایران کے سیاسی ڈھانچے میں اگرچہ صدارتی اور پارلیمانی ادارے موجود ہیں، مگر اصل مرکزِ اختیار سپریم لیڈر ہے۔ مجلسِ خبرگان کو سپریم لیڈر کے انتخاب اور برطرفی کا اختیار حاصل ہے۔ پارلیمان کے 290 اراکین حکومت کی نگرانی کرتے ہیں، مگر آبادی کا بڑا حصہ، تیس سال سے کم عمر، ایسا ہے جو انقلاب کے بعد پیدا ہوا اور اپنی سماجی اور معاشی حقیقتوں میں جینے پر مجبور ہے۔

    ایران کے لیے اس وقت سعودی عرب کی پالیسیاں بھی ایک چیلنج ہیں، جہاں ایم بی ایس نے مذہبی ماحول کے باوجود کنسرٹس اور عورتوں کو ڈرائیونگ کی اجازت دی، جس سے ایران پر یہ دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ بھی لبرل اوپن نیس کی پالیسی کو آگے بڑھائے۔

    یہی وہ دبی ہوئی چنگاری ہے جو اب بار بار بھڑکتی نظر آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ چنگاری وقتی دباؤ میں بجھ جائے گی، یا ایران کے اندر کوئی بڑا سیاسی اور سماجی موڑ پیدا کرے گی؟ کیا یہ ابھار وقتی ثابت ہوگا، یا تاریخ ایک بار پھر دہرائی جائے گی، جیسے خمینی ایئر فرانس کی فلائٹ سے پیرس سے تہران پہنچے تھے؟ کیا پرنس رضا شاہ بھی واشنگٹن سے اسی انداز میں لنگرانداز ہوں گے؟

    خمینی کی آمد کے وقت 1979 میں ایک افواہ اڑی کہ ایران کی نامور ترین گلوکارہ خانم گگوش کو مذہبی پولیس نے گھر میں گھس کر مار دیا ہے، اگرچہ یہ بعد میں افواہ ہی ثابت ہوئی۔ اس موقع پر سندھی کے نامور رومانوی شاعر حسن درس نے خانم گگوش لکھی تھی، جس کا منظوم ترجمہ درج ذیل ہے۔

    خانم گگوش کی تصویر کے فریم میں
    ایک ملک قید ہے،
    جس کی سرحدوں کے اندر جوانی ممنوع ہے۔

    تاریخ کے سگریٹ کو
    جب تیلی نے چھوا
    تو وقت سلگ اٹھا،

    اور ایک لمبی کش میں
    درد کا سرمئی دھواں
    ہوا میں بکھرنے لگا۔

    خمینی
    تم ایک راکھ کی طرح
    اپنی قبر کی ایش ٹرے میں
    بے معنی ہو کر جھڑ جاؤ گے۔

    گگوش کی آنکھوں میں
    ایک کربلا چونک کر جاگ اٹھتی ہے،

    اور خوابوں کے حسین
    اپنے قتل کی ناانصافی پر
    ہر یزید، ہر خمینی کے
    ابدی زوال اور موت کو روندتے ہوئے

    دل کے نئے موسموں کے
    نئے عنوان بن جاتے ہیں۔

    درد کی اس پرانی جھیل پر
    جب دیس اور پردیس کے پرندے
    اکٹھے اڑان بھریں گے

    تو نیلگوں آسمان میں بھی
    پرندوں کا ایک بادل
    جھیل پر سایہ کر دے گا۔

    تب کروڑوں لڑکے اور لڑکیاں
    جوانی کی شاخ پر
    زندگی کی کمر میں بانہیں ڈالے
    مسلسل ہنستے رہیں گے،

    اور اُن قہقہوں میں
    گگوش ہمیشہ جوان رہے گی۔

    حسن درس