بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نکے مطابق پاکستان کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جو 1.2 ارب ڈالر کی فنڈنگ کے اجرا کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کی ایندھن کی قیمتوں سے متعلق پالیسی کو بھی خاموشی سے درست قرار دیا ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان نے پروگرام پر عمل درآمد مجموعی طور پر درست سمت میں رکھا ہے۔ اس عمل کا مقصد عوامی مالیات کو مضبوط بنانا، مہنگائی کو اسٹیٹ بینک کے ہدف کے اندر رکھنا، توانائی کے شعبے میں بہتری لانا اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو آگے بڑھانا ہے۔
آئی ایم ایف مشن کی سربراہ آئیوا پیٹرووا کے مطابق، بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 21 کروڑ ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی۔ اس طرح دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو مجموعی طور پر تقریباً 4.5 ارب ڈالر مل چکے ہوں گے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو دو مختلف قرضے دیے جا رہے ہیں۔ 37 ماہ دورانیے کے ای ایف ایف کے تحت پاکستان کو 7.1 ارب ڈالر ملیں گے، جب کہ 28 ماہ دورانیے کے آر ایس ایف پروگرام کے تحت پاکستان کو کل 1.4 ارب ڈالر ملنے ہیں۔
ای ایف ایف پروگرام مضبوط پالیسیوں اور اصلاحات کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کا مقصد حکومت کی جاری کوششوں کو سہارا دینا ہے تاکہ معیشت کو مستحکم بنایا جا سکے، گہرے ڈھانچہ جاتی مسائل حل کیے جائیں اور ایسی صورتحال پیدا ہو جس سے مضبوط، سب کو ساتھ لے کر چلنے والی اور دیرپا ترقی ممکن ہو۔ اس پروگرام کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے پاکستان کے ترقیاتی اور دوطرفہ شراکت داروں کی مسلسل مالی مدد بھی نہایت اہم ہوگی۔
آر ایس ایف کے تحت قرض ان مسائل کے حل کے لیے دیا جاتا ہے جو فوری نہیں بلکہ وقت کے ساتھ معیشت کو متاثر کرتے ہیں، جیسے ماحولیاتی تبدیلی اور توانائی کے مسائل۔ 2022 کے سیلاب کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 2025 میں یہ نیا قرض پاکستان کو دیا گیا تھا۔
آئی ایم ایف کے بیان کے مطابق پاکستان کی معیشت میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ مالی سال 2025 میں بحالی کے بعد رواں مالی سال کے ابتدائی حصے میں معاشی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئی ہے۔ مہنگائی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رہے ہیں، جبکہ بیرونی مالی پوزیشن بھی بہتر ہوئی ہے۔ تاہم ادارے نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی مالی حالات کی سختی مہنگائی میں اضافے اور معاشی ترقی پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔
ادارے نے کہا کہ پاکستانی حکام مستحکم معاشی پالیسیوں پر کاربند ہیں۔ حکومت نے ایک نیا ٹیکس پالیسی آفس بھی قائم کیا ہے۔ یہ ادارہ درمیانی مدت کی ٹیکس اصلاحات کی حکمت عملی تیار کر رہا ہے۔ اس کا مقصد ٹیکس نظام میں استحکام لانا اور محصولات کو بہتر بنانا ہے۔
آئی ایم ایف نے سماجی تحفظ کے اقدامات کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غریب طبقے کو سہولت فراہم کر رہی ہے۔ اس پروگرام میں نقد امداد کو مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔ مستحق افراد کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے اور ادائیگی کے نظام کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے۔
مرکزی بینک کی پالیسی کے حوالے سے بھی آئی ایم ایف نے اطمینان ظاہر کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک مہنگائی کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے تیار ہے۔ اگر قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا تو شرح سود بڑھائی جا سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے کے بارے میں آئی ایم ایف نے کہا کہ حکومت اس شعبے کو مستحکم بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ گردشی قرضوں کو روکنا ضروری ہے کیونکہ یہ معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ بجلی کی قیمتوں میں بروقت ردوبدل کیا جانا چاہیے تاکہ لاگت پوری ہو سکے۔ ساتھ ہی غیر ضروری سبسڈیز سے گریز کرنا ہوگا۔
ادارے نے مزید کہا کہ بجلی کے نظام میں بہتری، نجکاری اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی جیسے اقدامات جاری رہنے چاہئیں۔ اس سے نہ صرف کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ ماحول پر بھی مثبت اثر پڑے گا۔
آئی ایم ایف نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو بھی سراہا ہے۔ حکومت سرکاری اداروں کی نجکاری اور کارکردگی بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔ کاروباری ماحول کو بہتر بنانے اور نجی شعبے کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بدعنوانی کے خلاف کوششیں بھی تیز کی جا رہی ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے بھی پاکستان اقدامات کر رہا ہے۔ گرین ٹرانسپورٹ، موسمیاتی معلومات کے نظام اور خطرات کے انتظام جیسے منصوبے جاری ہیں۔ حکومت پانی کے نظام کو بہتر بنانے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے پر بھی کام کر رہی ہے۔

