اپریل میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کنزیومر پرائس انڈیکس سی پی آئی گزشتہ 21 ماہ کے بعد دوبارہ ڈبل ڈیجٹ میں داخل ہو گیا ہے۔ اپریل میں سی پی آئی بڑھ کر 10.89 فیصد ہو گیا، جبکہ اس سے قبل جولائی 2024 میں یہ شرح 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
فیڈرل بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق مہنگائی میں یہ اضافہ پچھلے ماہ مارچ کے مقابلے میں 2.48 فیصد رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال کے جولائی سے اپریل 2024-25 کے مقابلے میں موجودہ مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں 6.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس اضافے کی بڑی وجہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور ضروری اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں تیز اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے سے نہ صرف سفر بلکہ اشیاء کی ترسیل بھی مہنگی ہو گئی ہے، جس کا براہ راست اثر عام صارفین پر پڑ رہا ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء، خاص طور پر سبزیاں اور دیگر جلد خراب ہونے والی غذائیں بھی نمایاں حد تک مہنگی ہو چکی ہیں۔
اگرچہ گندم اور آٹے کی قیمتوں میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم یہ ریلیف محدود ہے اور مجموعی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے میں ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا، جہاں قیمتیں ایک ماہ کے دوران 15.47 فیصد تک بڑھ گئیں۔ اسی طرح جلد خراب ہونے والی غذائی اشیاء کی قیمتوں میں بھی 15.25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ گھروں کے کرائے، پانی، بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں بھی 2.43 فیصد اضافہ ہوا، جس سے گھریلو بجٹ مزید دباؤ کا شکار ہو گیا ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ایران امریکہ کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کو قرار دیا جا رہا ہے، جو پاکستان کے لیے توانائی کی درآمد کا اہم راستہ ہے۔ اس صورتحال کے باعث تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی اپنی پالیسی شرح سود 10.50 فیصد سے بڑھا کر 11.50 فیصد کر دی ہے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کیا جا سکے۔ اس سے قبل 2025 میں شرح سود 10.50 فیصد تھی۔
مجموعی طور پر مہنگائی میں حالیہ اضافہ عوام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، اور اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

