Tag: لاہور

  • شاہی قلعہ لاہور: صدیوں پر محیط اقتدار اور فنِ تعمیر کی داستان

    شاہی قلعہ لاہور: صدیوں پر محیط اقتدار اور فنِ تعمیر کی داستان

    لاہور کے قدیم شہر کے قلب میں واقع لاہور قلعہ، جسے شاہی قلعہ بھی کہا جاتا ہے، برصغیر کی تاریخ کا ایک نمایاں نشان ہے جہاں مختلف سلطنتوں کے آثار ایک ہی جگہ پر جمع دکھائی دیتے ہیں۔ یہ قلعہ نہ صرف دفاعی اہمیت رکھتا تھا بلکہ صدیوں تک حکمرانی، سیاست اور ثقافت کا مرکز بھی رہا۔

    تاریخی شواہد کے مطابق اس مقام پر قدیم دور میں بھی کسی نہ کسی نوعیت کی قلعہ بندی موجود تھی، تاہم موجودہ قلعے کی بڑی تعمیر جلال الدین اکبر کے دور میں سولہویں صدی میں عمل میں آئی۔ بعد ازاں نورالدین جہانگیر، شاہجہان اور اورنگزیب عالمگیر نے اس میں مزید توسیع اور آرائش کا اضافہ کیا، جس کے باعث قلعہ مختلف ادوار کی تعمیراتی جھلک پیش کرتا ہے۔

    تقریباً بیس ہیکٹر سے زائد رقبے پر پھیلا یہ قلعہ کئی حصوں پر مشتمل ہے جن میں دربار ہال، شاہی رہائش گاہیں، باغات اور مذہبی و ثقافتی عمارتیں شامل ہیں۔ قلعے کے اندر واقع شیش محل اپنی آئینہ کاری کے باعث خاص شہرت رکھتا ہے جہاں روشنی پڑنے پر دیواریں چمک اٹھتی ہیں۔ اسی طرح نولکھا پویلین مغل فنِ تعمیر کی نفاست کی ایک اعلیٰ مثال سمجھا جاتا ہے، جبکہ دیوان عام اور دیوان خاص وہ مقامات تھے جہاں حکومتی امور اور اہم ملاقاتیں انجام پاتی تھیں۔

    قلعہ محض رہائش گاہ نہیں تھا بلکہ اقتدار کا مرکز تھا، جہاں سلطنتی فیصلے کیے جاتے اور ریاستی معاملات طے ہوتے تھے۔ مغل دور میں اس کی حیثیت ایک شاہی دارالحکومت کی سی تھی، جبکہ اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں تعمیر ہونے والا عالمگیری دروازہ آج بھی اس قلعے کی شناخت سمجھا جاتا ہے۔

    مغل دور کے بعد جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکمرانی قائم ہوئی تو قلعے کو فوجی اور انتظامی مرکز کے طور پر استعمال کیا گیا۔ بعد ازاں برطانوی دور میں بھی اس کی حیثیت برقرار رہی اور اسے مختلف سرکاری مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔

    لاہور قلعہ کو اس کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کے باعث UNESCO نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا، جس کے بعد اس کی حفاظت اور بحالی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ آج یہ مقام نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے لیے کشش رکھتا ہے۔

    قلعے کے اندر موجود کچھ زیرِ زمین حصوں کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ وہ مکمل طور پر دریافت نہیں ہو سکے، جو اس تاریخی مقام کو مزید پراسرار بنا دیتے ہیں۔ یہ قلعہ اینٹوں اور پتھروں سے بنی ایک عمارت سے بڑھ کر ایک ایسی تاریخی دستاویز ہے جو مختلف ادوار کی سیاسی، ثقافتی اور سماجی کہانیوں کو اپنے اندر محفوظ کیے ہوئے ہے۔

    لاہور قلعہ آج بھی اپنے وجود کے ساتھ یہ یاد دلاتا ہے کہ تاریخ محض گزرا ہوا وقت نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جو آج بھی ہماری شناخت کا حصہ ہے۔

  • لاہور کے قریب شیخوپورہ کا ‘ہرن مینار’ جہاں ایک بادشاہ نے ہرن کی قبر پر پانی کا شہر بسا دیا

    لاہور کے قریب شیخوپورہ کا ‘ہرن مینار’ جہاں ایک بادشاہ نے ہرن کی قبر پر پانی کا شہر بسا دیا

    مغلیہ سلطنت کے شاہی شکار گاہوں کا علاقہ آج بھی اپنی مٹی میں ایک ایسی خاموش داستان دفن کیے ہوئے ہے جو وفا کی تمام انسانی مثالوں کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ یہ کہانی کسی ملکہ کی محبت میں تعمیر کردہ تاج محل جیسی شاندار نہیں بلکہ ایک جنگلی جانور سے بے پناہ لگاؤ کی ہے۔

    پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں واقع ہرن مینار اسی نایاب عقیدت کی لازوال علامت ہے جہاں ایک مغل شہنشاہ نے اپنے پالتو ہرن کی موت پر ایک بلند مینار اور اس کے گرد ایک وسیع و عریض تالاب تعمیر کروا دیا۔

    یہ منفرد یادگار مغل بادشاہ نورالدین محمد جہانگیر کے حکم سے وجود میں آئی۔ شہنشاہ جہانگیر جہاں اپنی انصاف پسندی اور فن تعمیر کی باریک بینی کے لیے مشہور تھے، وہیں انہیں شکار کا بھی بے حد شوق تھا۔ موجودہ شیخوپورہ کا یہ جنگلاتی علاقہ دراصل شاہی شکار گاہ ہوا کرتا تھا جہاں دور دراز سے نواب اور مہاراجے شکار کی غرض سے آتے تھے۔ انہی شکار گاہوں میں شہنشاہ کا ایک خاص لاڈلا ہرن تھا جس کا نام منسراج تھا۔ فارسی زبان کے اس نام کا مطلب ہے ‘دماغ کی روشنی’ یا ‘ذہانت کا نور’۔

    یہاں ایک کم معلوم تاریخی حقیقت یہ ہے کہ منسراج کوئی عام ہرن نہیں بلکہ ایک شکاری جانور کی حیثیت رکھتا تھا۔ تاریخ دان بتاتے ہیں کہ اسے خاص تربیت دے کر جنگلی جانوروں کو قابو کرنے اور انہیں اس مخصوص تالاب کی جانب ہانکنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا تاکہ شہنشاہ آسانی سے نشانہ لگا سکیں۔ منسراج نہ صرف انتہائی خوبصورت تھا بلکہ شاہی جلوس کا ایک اہم حصہ بھی سمجھا جاتا تھا۔

    تاریخ کے اوراق میں المناک واقعہ کچھ یوں درج ہے کہ ایک روز شکار کے دوران بادشاہ کا تیر غلطی سے اسی منسراج کو جا لگا۔ یہ دیکھ کر شہنشاہ جہانگیر پر ایسا صدمہ طاری ہوا کہ وہ کئی روز تک غمگین رہے اور محل کے معمولات تک ترک کر دیے۔ اپنی اس نادانستہ غلطی اور پالتو جانور کی جدائی کے غم میں انہوں نے ایک ایسا حکم جاری کیا جو مغل تاریخ میں بے مثال ہے۔ انہوں نے منسراج کی قبر پر ایک بلند و بالا مینار تعمیر کرانے کا حکم دیا۔

    سنہ 1606 میں شروع ہونے والی اس تعمیر پر اس وقت 80 ہزار روپے کی خطیر رقم خرچ ہوئی، جو موجودہ دور میں کروڑوں روپے بنتی ہے۔ مینار کی تکمیل کے بعد بھی یہ کہانی ختم نہیں ہوئی۔ ایک اور دلچسپ اور کم بیان کیا جانے والا پہلو یہ ہے کہ مینار کے گرد جو وسیع تالاب اور خوبصورت بارہ دری ہے، وہ جہانگیر نے نہیں بلکہ ان کے بیٹے شہنشاہ شاہ جہاں نے تقریباً 1620 میں تعمیر کروائی۔

    گویا بیٹے نے اپنے والد کی اس عجیب و غریب محبت کو ایک باقاعدہ تعمیراتی شاہکار کی شکل دے دی۔ یہ چوکور تالاب جس کی لمبائی 750 فٹ اور چوڑائی 890 فٹ ہے، اس دور میں صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ شاہی ہرنوں کے ریوڑ کو پانی فراہم کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔ اس تالاب کے عین وسط میں ایک پختہ پل کے ذریعے پہنچی جانے والی بارہ دری شاہی خاندان کی تفریح کا ذریعہ تھی۔

    ہرن مینار کی تعمیر کے پیچھے ایک اور کم معلوم مقامی روایت یہ بھی ہے کہ یہ مینار دراصل ایک نشان راہ بھی تھا جو دہلی سے لاہور جانے والے شاہی قافلوں کو رات کے وقت ان کی منزل کا پتہ دیتا تھا۔ اس مینار کی چوٹی پر جلنے والی روشنی دور سے مسافروں کو شیخوپورہ کے شاہی ٹھکانے کی نشاندہی کراتی تھی۔

    صدیاں گزرنے کے باوجود یہ مقام آج بھی اپنی انفرادیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ وہ واحد مغل یادگار ہے جو کسی جانور کی محبت میں تعمیر کی گئی۔ لاہور سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ مقام اب ایک جدید سیاحتی مرکز میں تبدیل ہو رہا ہے۔

    حکومت پنجاب کی جانب سے یہاں ایک چھوٹا چڑیا گھر بھی قائم کیا جا رہا ہے جہاں 30 سے زائد ہرن اور دیگر جنگلی حیات کو رکھا گیا ہے۔ سیاحوں کے لیے تالاب میں کشتی رانی کے ساتھ ساتھ الیکٹرک گاڑیوں کی سہولت بھی میسر ہے۔

    ہرن مینار کی یہ خاموش عمارت آج بھی انسان اور حیوان کے درمیان اس رشتے کی گواہی دے رہی ہے جہاں ایک طاقتور ترین شہنشاہ اپنی سلطنت کی وسعتوں کو بھول کر صرف ایک وفادار جانور کی یاد میں جھک گیا تھا۔

  • کراچی اور لاہور میں تعینات امریکی سفارتی عملے کو فوری پاکستان چھوڑنے کی ہدایت

    کراچی اور لاہور میں تعینات امریکی سفارتی عملے کو فوری پاکستان چھوڑنے کی ہدایت

    امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں کراچی اور لاہور کے قونصل خانوں میں تعینات عملے کو اہل خانہ سمیت ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    اس فیصلے کا اطلاق اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے پر نہیں ہوگا اور وہاں سفارتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔ یہ فیصلہ خطے کی سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

    تین مارچ 2026 کو امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ٹریول ایڈوائزری کے مطابق پاکستان میں تعینات ایسے امریکی سرکاری ملازمین جو ہنگامی یا ضروری خدمات انجام نہیں دے رہے اور امریکی سرکاری اہلکاروں کے اہلِ خانہ کو کراچی اور لاہور میں قائم امریکی قونصل خانوں سے فوری طور پر پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام سیکیورٹی خدشات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اٹھایا گیا ہے۔

    ہفتے کے روز امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد اتوار کے روز پاکستان کے مختلف شہروں میں شدید احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔ کراچی میں مشتعل مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کی طرف مارچ کیا اور عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی، اس دوران فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور معتدد زخمی ہوئے۔

    لاہور اور اسلام آباد میں بھی امریکی تنصیبات کے قریب احتجاجی مظاہرے ہوئے جبکہ سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔ گلگت بلتستان میں بھی بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور بعض مقامات پر سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا، جس کی وجہ سے گلگت شہر میں کرفیو نافذ کیا گیا۔

    امریکی انتظامیہ نے پیر کے روز کراچی اور لاہور میں قائم اپنے قونصل خانوں کو بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں فیصلہ کیا گیا کہ دونوں قونصل خانے رواں ہفتے کے اختتام تک، یعنی جمع تک بند رہیں گے۔
    امریکی حکام کے مطابق 28 فروری 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد خطے میں سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ڈرون اور میزائل حملوں کے ممکنہ خطرات اور تجارتی پروازوں میں خلل کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں تعینات سفارتی عملے کے لیے حفاظتی اقدامات سخت کیے گئے ہیں۔

    امریکی حکام نے پاکستان میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کا بھی ذکر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مختلف شدت پسند تنظیمیں ماضی میں حملے کرتی رہی ہیں اور دہشت گردی کے واقعات خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاقوں میں زیادہ دیکھے گئے ہیں۔ سابق قبائلی اضلاع بھی ان خطرات سے متاثر رہے ہیں۔

    تاہم بعض مواقع پر بڑے شہروں جیسے کراچی اور اسلام آباد میں بھی دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق دہشت گرد حملے کسی بھی وقت اور بغیر پیشگی اطلاع کے ہو سکتے ہیں۔ شدت پسند عناصر عام طور پر ٹرانسپورٹ کے مراکز، ہوٹلوں، بازاروں، شاپنگ مالز، سیکیورٹی اداروں کے دفاتر، ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں، اسکولوں، اسپتالوں، عبادت گاہوں، سیاحتی مقامات اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    امریکی حکام نے اپنے شہریوں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان میں مظاہروں اور بڑے اجتماعات سے دور رہیں۔ مقامی قوانین کے مطابق بغیر اجازت احتجاج یا مظاہرہ کرنا ممنوع ہے۔ امریکی حکام کے مطابق بعض مواقع پر احتجاج کے قریب موجود افراد کو بھی سیکیورٹی اداروں کی جانب سے تفتیش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض امریکی شہریوں کو احتجاج میں شرکت یا سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹس کرنے پر حراست میں بھی لیا گیا ہے جو پاکستانی حکومت یا اداروں پر تنقید سمجھی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مظاہروں کے دوران بعض علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر معطل کی جا سکتی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں تعینات امریکی سرکاری ملازمین کی نقل و حرکت پر بھی مختلف پابندیاں عائد ہیں۔ امریکی حکام کو ملک کے بعض علاقوں میں سفر کے دوران مسلح سیکیورٹی اور بکتر بند گاڑیوں کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ دیگر علاقوں میں سفر کے لیے میزبان حکومت سے خصوصی اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔

    امریکی حکومت نے اپنے شہریوں کو بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں کا سفر نہ کرنے کی ہدایت بھی جاری کر رکھی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان علاقوں میں دہشت گردی اور اغوا کے واقعات کا خطرہ زیادہ ہے جبکہ عسکریت پسند گروہ سیکیورٹی فورسز، سرکاری اہلکاروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

    ایڈوائزری کے مطابق امریکی حکومت کے پاس خیبر پختونخوا، بلوچستان، پاکستان کے زیر انتظام آزاد کشمیر اور اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ ملک کے زیادہ تر علاقوں میں موجود اپنے شہریوں کی مدد کرنے یا انہیں قونصلر خدمات فراہم کرنے کی محدود صلاحیت ہے۔

    اسی طرح لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں بھی سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے کیونکہ وہاں دہشت گردی اور ممکنہ مسلح تصادم کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان میں قیام کے دوران مقامی میڈیا پر نظر رکھیں، ہجوم اور حساس مقامات سے دور رہیں، سفری دستاویزات اپنے پاس رکھیں اور ہنگامی صورتحال میں ملک چھوڑنے کا متبادل منصوبہ بھی تیار رکھیں۔

    امریکی حکام کے مطابق سیکیورٹی صورتحال میں اچانک تبدیلی آ سکتی ہے، اس لیے شہریوں کو ہر وقت محتاط رہنے اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

  • امریکی محکمہ خارجہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری جان مارک پومر شائم کی پاکستان کے دورے کے دوران کیا سرگرمیاں رہیں؟

    امریکی محکمہ خارجہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری جان مارک پومر شائم کی پاکستان کے دورے کے دوران کیا سرگرمیاں رہیں؟

    امریکی محکمہ خارجہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری جان مارک پومر شائم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ انہوں نے اعلیٰ سرکاری حکام، کاروباری شخصیات اور مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ ماہرین سے ملاقاتیں کیں۔

    ملاقاتوں میں ابھرتی ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور مستقبل کی شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت عالمی معیشت اور سفارت کاری کا اہم موضوع بن چکی ہے، اسی تناظر میں یہ روابط اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

    لاہور میں امریکی سفارتی حکام نے بسنت کے تہوار میں بھی شرکت کی۔ پنجاب کی اس قدیم روایت کی بحالی پر شہریوں کے ساتھ مل کر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ بسنت ماضی میں پابندیوں اور تنازعات کا شکار رہی، تاہم یہ تہوار شہری ثقافت اور سماجی ہم آہنگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ غیر ملکی سفارت کاروں کی شرکت کو عوامی روابط کے ایک نرم پہلو کے طور پر دیکھا گیا۔

    اسلام آباد میں فریڈم 250 لیکچر سیریز کا انعقاد جاری رہا۔ اس نشست میں قیادت اور تاریخی ورثے پر گفتگو کی گئی جبکہ امریکی صدارتی تاریخ کے مختلف ادوار کو موضوع بنایا گیا۔ یہ پروگرام ملک بھر میں قائم لنکن کارنرز کے ذریعے نشر کیا گیا۔

    لنکن کارنرز دراصل ایسے مراکز ہیں جو تعلیمی اور ثقافتی معلومات تک رسائی فراہم کرتے ہیں اور نوجوانوں کے لیے مباحثے کا پلیٹ فارم بنتے ہیں۔

    تعلیم کے شعبے میں ایجوکیشن یو ایس اے ٹیم نے کراچی اور لاہور میں امریکی جامعات کے تعلیمی میلوں کا انعقاد کیا۔ طلبہ کو داخلہ طریقہ کار، وظائف اور تعلیمی مواقع سے متعلق رہنمائی دی گئی۔

    اسلام آباد میں آخری میلہ اتوار کو منعقد ہو رہا ہے جہاں طلبہ براہ راست معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان سے ہر سال ہزاروں طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ جاتے ہیں، جو دو طرفہ تعلقات کا ایک مستقل اور اہم پہلو ہے۔

    کھیلوں کے میدان میں ٹی 20 مقابلے میں امریکی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کے خلاف حصہ لیا۔ مقابلہ دوستانہ ماحول میں دیکھا گیا۔ اسی ہفتے سپر باؤل بھی پاکستانی شائقین کے ساتھ دیکھا گیا، جسے امریکی کھیلوں کی ثقافت کی ایک نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔

    ہفتے کے اختتام پر امریکی حکام کی جانب سے پاکستان کے لیے تشکر کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں نئی شراکت داری، جدت اور آئندہ 250 برس کی سفارت کاری کے عزم کو دہرایا گیا۔ ماہرین کے مطابق تعلقات میں سیاسی اتار چڑھاؤ کے باوجود تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط ایسے شعبے ہیں جو مسلسل رابطے کا ذریعہ بنتے رہتے ہیں۔

     

  • لاہور: بسنت میں مانجھے کی کلیدی اہمیت، مضبوط مانجھا کیسے ایجاد ہوا؟

    لاہور: بسنت میں مانجھے کی کلیدی اہمیت، مضبوط مانجھا کیسے ایجاد ہوا؟

    لاہور میں بسنت کا میلہ سجتا تھا تو اس تہوار کا اصل محور مانجھا ہوتا تھا۔ یہ کوئی عام دھاگا نہیں تھا بلکہ ایک باقاعدہ تیار کی جانے والی چیز تھی، جس کے اپنے اصول، طریقے اور مقامی تجربے پر مبنی سائنس موجود تھی۔

    لاہور میں بسنت کے لیے مانجھا عام دھاگا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ہر محلے میں چند لوگ ایسے ہوتے تھے جو صرف مانجھا بنانے میں مہارت رکھتے تھے۔ ان کے طریقے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے تھے اور یہ ہنر برسوں کے مشاہدے اور تجربے سے منتقل ہوتا تھا۔

    بسنت ایک قدیم تہوار ہے جو بہار کی آمد کے ساتھ ساتھ رشتوں کی مضبوطی، دوستوں اور خاندان کے ساتھ خوشی بانٹنے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس تہوار میں موسیقی، رقص، پتنگ اور مانجھے کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔

    کم لوگوں کو معلوم ہے کہ مانجھا بنانے میں شیشے کی قسم بھی اہم سمجھی جاتی تھی۔ بوتل کا شیشہ، بلب کا شیشہ اور کھڑکی کا شیشہ الگ الگ پیسا جاتا تھا کیونکہ ہر شیشہ دھاگے پر مختلف اثر ڈالتا تھا۔ شیشے کو باریک یا موٹا پیسنے کا فیصلہ موسم دیکھ کر کیا جاتا تھا، خاص طور پر ہوا اور نمی کو مدنظر رکھا جاتا تھا۔

    چپکنے کے لیے ہر وقت ایک ہی چیز استعمال نہیں ہوتی تھی۔ زیادہ نمی میں چاول کی لیئی کو بہتر سمجھا جاتا تھا جبکہ خشک موسم میں قدرتی گوند استعمال کی جاتی تھی۔ مقصد یہ ہوتا تھا کہ شیشہ دھاگے پر مضبوطی سے جڑا رہے مگر دھاگا خود کمزور نہ ہو۔

    مانجھا کبھی تیز دھوپ میں نہیں سکھایا جاتا تھا۔ اسے ہمیشہ سایہ دار جگہ پر رکھا جاتا کیونکہ دھوپ دھاگے کو سخت اور ٹوٹنے والا بنا دیتی تھی۔ تیار مانجھا مقابلے سے پہلے اینٹ یا کھردی دیوار پر رگڑ کر آزمایا جاتا تھا۔ اگر دھاگا خود سلامت رہتا تو اسے قابلِ استعمال سمجھا جاتا تھا۔

    بعض علاقوں میں مانجھا رات کے وقت تیار کیا جاتا تھا کیونکہ رات کی ہوا اور درجہ حرارت زیادہ قابلِ اعتماد سمجھے جاتے تھے۔ یہ علم کسی کتاب یا ہدایت نامے میں درج نہیں تھا بلکہ نسل در نسل تجربے سے منتقل ہوتا تھا۔

    بعد میں جب مانجھے سے حادثات اور اموات ہونے لگیں تو اسے خطرناک سمجھا گیا۔ لیکن ایک وقت تھا جب یہی مانجھا لاہور کے شہری ہنر، عملی علم اور خاموش مہارت کی ایک نمایاں مثال سمجھا جاتا تھا۔

  • لاہور میں دو دہائیوں بعد بسنت کی مشروط واپسی، روایت، پابندیاں اور سیاست ایک ساتھ

    لاہور میں دو دہائیوں بعد بسنت کی مشروط واپسی، روایت، پابندیاں اور سیاست ایک ساتھ

    پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز چھ فروری سے آٹھ فروری تک لاہور میں بسنت میلہ منانے جا رہی ہیں۔ دو دہائیوں کے وقفے کے بعد بسنت کی واپسی نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا یہ تہوار روایتی انداز میں منایا جا سکے گا یا اس پر قانونی اور سیاسی پابندیاں غالب رہیں گی۔

    لاہور میں صدیوں تک موسم بہار کی آمد کا مطلب بسنت ہوا کرتا تھا۔ شہر رنگوں کی چادر اوڑھ لیتا۔ چھتوں پر خاندان جمع ہوتے۔ گلیوں میں ڈھول کی تھاپ سنائی دیتی۔ پیلے کپڑے عام نظر آتے اور آسمان ہزاروں پتنگوں سے بھر جاتا۔

    پھر یہ سب اچانک رک گیا۔ تقریباً دو دہائیوں تک بسنت، جو کبھی لاہور کی ثقافتی شناخت تھی، عدالتی پابندیوں، حکومتی فیصلوں اور عوامی خدشات کے باعث عملی طور پر معطل رہی۔

    مریم نواز نے برسوں بعد اس پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا اور بسنت کی واپسی کا فیصلہ کیا۔ ان کا مؤقف ثقافت اور زبان کے فروغ سے جڑا ہوا بتایا جاتا ہے، مگر اس فیصلے کے ساتھ کئی سوالات بھی دوبارہ سامنے آ گئے ہیں۔

    بسنت کا لفظ سنسکرت کے لفظ وسنت سے نکلا ہے، جس کا مطلب بہار ہے۔ ریاستوں اور جدید سیاسی نظام سے پہلے برصغیر میں موسم سرما کے خاتمے اور بہار کی آمد پر مقامی سطح پر جشن منایا جاتا تھا۔ پنجاب کے زرعی معاشرے میں بہار نئی فصل، نئی امید اور زندگی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔

    لاہور میں بسنت کی خاص حیثیت اکثر مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور سے جوڑی جاتی ہے، جب شاہی دربار میں پتنگ بازی اور موسیقی کی محفلیں منعقد ہوتی تھیں۔ مغل دور کے زوال، سکھ دور اور بعد ازاں برطانوی دور میں بھی یہ روایت کسی نہ کسی شکل میں برقرار رہی۔

    قیام پاکستان کے بعد شہر کی آبادی اور ساخت بدلتی رہی، مگر بسنت کئی دہائیوں تک ایک گھریلو اور خاندانی نوعیت کا تہوار رہی۔ بعد ازاں یہ روایت بدلنے لگی اور بسنت نے کاروباری شکل اختیار کر لی۔

    1980 سے 1990 کی دہائی میں بسنت ایک بڑی صنعت بن گئی۔ ٹی وی چینلز نے براہ راست نشریات شروع کیں۔ کمپنیوں نے اسپانسرشپ دی۔ ہوٹلوں نے بسنت پیکجز متعارف کرائے اور غیر ملکی سیاح لاہور کا رخ کرنے لگے۔

    اسی دوران پتنگ بازی، جو کبھی تفریح سمجھی جاتی تھی، خطرناک مقابلے میں بدل گئی۔ جیت کے لیے ڈور کو زیادہ تیز بنانے کے تجربات ہوئے۔ شیشہ، کیمیکل اور دھاتی ذرات استعمال ہونے لگے اور بسنت مختلف حادثات سے جڑتی چلی گئی۔

    موٹر سائیکل سواروں کے گلے کٹنے کے واقعات سامنے آئے۔ بچے زخمی ہوئے۔ بجلی کی تاروں سے ٹکرانے پر کرنٹ لگنے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ لوگ چھتوں سے گرنے لگے اور ہسپتالوں نے بسنت کو ایمرجنسی سیزن کہنا شروع کر دیا۔

    عدالتوں نے مداخلت کی۔ حکومتوں نے وعدے کیے۔ پولیس کارروائیاں کرتی رہی، مگر صورتحال میں نمایاں بہتری نہ آ سکی۔ بالآخر حکومت نے پتنگ بازی پر تقریباً مکمل پابندی عائد کر دی اور بسنت عملاً غائب ہو گئی۔

    اب حکومت کنٹرولڈ اور مشروط بسنت متعارف کرا رہی ہے۔ حکومتی فیصلے کے مطابق بسنت صرف لاہور تک محدود ہو گی۔ پتنگ بنانے اور فروخت کرنے والے رجسٹرڈ ہوں گے۔ صرف منظور شدہ پتنگ اور ڈور فروخت کی جائے گی۔ شیشہ، کیمیکل اور دھات والی ڈور پر پابندی ہو گی۔

    حکومت کے مطابق مارکیٹوں اور چھتوں کی نگرانی کی جائے گی۔ خطرناک عمارتیں بند کی جائیں گی۔ اگرچہ یہ ایس او پیز کاغذ پر مؤثر نظر آتی ہیں، مگر ان پر عمل درآمد اصل امتحان قرار دیا جا رہا ہے۔

    حکومت نے سیاسی پہلو کے تحت ایک اور پابندی بھی عائد کی ہے۔ پتنگوں پر سیاسی رہنماؤں کی تصاویر، جماعتی جھنڈے، مذہبی تحریریں اور قومی پرچم لگانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ صرف سادہ یا ڈیزائن والی پتنگیں اڑائی جا سکیں گی۔

    تحریک انصاف کے وکلا نے ان پابندیوں کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ اسی طرح گانوں کی ایک فہرست پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، جس پر مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔

    اتنی پابندیوں اور سیاسی دباؤ کے ماحول میں بسنت مریم نواز حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بنتی جا رہی ہے۔ جو تہوار ثقافتی شناخت کے طور پر واپس لانے کا ارادہ کیا گیا تھا، وہ اب انتظامی اور سیاسی چیلنج میں تبدیل ہو چکا ہے۔

     

  • لاہور سمیت پنجاب میں مین ہولز میں بچوں کے گرنے واقعات کیوں معمول ہوئے؟

    لاہور سمیت پنجاب میں مین ہولز میں بچوں کے گرنے واقعات کیوں معمول ہوئے؟

    28 جنوری 2026 کی ایک سرد صبح، لاہور کے تاریخی بھاٹی گیٹ کے قریب ایک خاتون اپنی نو ماہ کی بچی کے ساتھ سڑک پر چل رہی تھیں کہ اچانک زمین ان کے قدموں تلے سے غائب ہو گئی۔
    وہ دونوں ایک کھلے مین ہول میں جا گریں، اور ان کی لاشیں ایک ساتھ نہ مل سکیں۔

    خاتون کی لاش تین کلومیٹر دور سے ملی، جبکہ بچی کی لاش ایک دن بعد پانچ کلومیٹر دور سے برآمد ہوئی۔

    پنجاب حکومت نے اس واقعے کو فیک نیوز قرار دیا اور شکایت کرنے والے والد کو جیل بھیج دیا گیا، جہاں وہ رات بھر رہے۔
    لیکن جب خاندان کی خواتین میڈیا پر سامنے آئیں تو وزیرِ اعلیٰ مریم نواز حرکت میں آئیں، جس کے بعد واسا کے پراجیکٹ مینیجر، سیفٹی انچارج اور سائٹ انچارج کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

    لاہور کا یہ واقعہ شہریوں کے لیے صدمے کا باعث بنا، مگر افسوسناک طور پر یہ کوئی نیا یا پہلا واقعہ نہیں تھا۔
    پورے پنجاب میں کھلے اور بغیر ڈھکن کے مین ہول ایک مستقل مسئلے کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جنہوں نے کئی قیمتی جانیں لیں اور ہزاروں افراد کو زخمی کیا ہے۔

    اس صورتِ حال نے حکمرانی، قانون کے نفاذ اور شہری ڈھانچے میں سنگین ناکامیوں کو بے نقاب کیا ہے۔

    بار بار ہونے والے حادثات اور سرکاری دعوؤں کے باوجود یہ خطرہ اب بھی پنجاب میں وسیع پیمانے پر موجود ہے۔
    مین ہول میں گرنے سے ہونے والی اموات یا زخمیوں کا کوئی الگ ریکارڈ موجود نہیں۔

    ایسے واقعات اکثر “پیدل چلنے والوں کے حادثات” یا “ڈوبنے” جیسے الفاظ کے لبادے میں چھپا دیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے مسئلے کی اصل شدت کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

    تاہم میڈیا رپورٹس، ریسکیو 1122 اور واسا کے اعداد و شمار انفرادی واقعات کے ایک خوفناک تسلسل کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    دسمبر 2025 میں ضلع لودھراں کے قصبے دھنوٹ میں سات سالہ ریحان اسکول جاتے ہوئے ایک کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گیا۔
    لاہور میں بھی اسی نوعیت کے واقعات میں کئی کم عمر بچے ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک پانچ سالہ بچہ بھی شامل ہے جو رہائشی علاقے میں کھلے گٹر میں گر گیا۔

    یہ واقعات کسی ایک علاقے تک محدود نہیں۔ پتوکی، کروڑ پکا اور دیگر شہری علاقوں میں بھی بغیر ڈھکن نالوں والی گلیوں میں ایسے حادثات بار بار رپورٹ ہو رہے ہیں۔

    آئیے دیکھتے ہیں کہ دستیاب اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں۔

    اگرچہ مین ہول سے متعلق اموات کے درست اعداد و شمار دستیاب نہیں، لیکن ایمرجنسی ریسپانس ڈیٹا مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
    ریسکیو 1122 نے 2025 میں پنجاب بھر میں پانچ لاکھ ستر ہزار سے زائد زخمیوں کو امداد فراہم کی، جن میں گیارہ فیصد حادثات پیدل چلنے والوں سے متعلق تھے۔

    یہ وہ طبقہ ہے جو کھلے مین ہولز سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، اور حکام خود تسلیم کرتے ہیں کہ نالوں یا گٹروں میں گرنے کے کئی واقعات انہی زمروں میں شامل ہو جاتے ہیں۔

    ایک اور خطرناک حقیقت مین ہولز کی گہرائی ہے۔ مرکزی سیور لائنوں کے مین ہولز چالیس فٹ تک گہرے ہوتے ہیں؛ ایک بار کوئی شخص اس میں گر جائے تو زندہ بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں۔

    صفائی کے عملے کے لیے بھی یہ جگہیں جان لیوا ہیں۔ فیصل آباد میں کئی واقعات رپورٹ ہوئے جن میں صفائی کے کارکن زہریلی گیسوں یا حفاظتی سامان کے بغیر مین ہول صاف کرتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔
    ایسے دو واقعات 2024 کے آغاز میں سرکاری طور پر درج کیے گئے، جبکہ 2025 میں بھی ایسے کیسز سامنے آتے رہے۔

    مین ہول کھلے کیوں رہتے ہیں؟

    پنجاب کی صورتِ حال کراچی سے ہرگز مختلف نہیں؛ یہاں بھی مین ہول کے ڈھکن غائب ہونے کی سب سے بڑی وجہ چوری ہے۔
    لوہے کے روایتی مین ہول ڈھکن تیس کلوگرام تک وزنی ہوتے ہیں، جنہیں چوری کر کے اسکریپ مارکیٹ میں 500 سے 1,000 روپے میں فروخت کر دیا جاتا ہے، جبکہ حکومت کو ایک نیا ڈھکن لگانے پر 8,000 سے 12,000 روپے تک خرچ آتا ہے۔

    پنجاب حکومت اب مان رہی ہے کہ یہ صرف چھوٹی موٹی چوری نہیں بلکہ منظم گروہ اس میں ملوث ہیں، جو چوری شدہ لوہا اسکریپ ڈیلرز، فیکٹریوں اور ہارڈویئر کی دکانوں کو فروخت کرتے ہیں۔ اس کے باوجود خریداروں کے خلاف کارروائی ماضی میں نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔

    حکومت کی جانب سے اس کی روک تھام کے لیے اسکریپ ڈیلرز اور فیکٹریوں پر دس کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔
    اس کے علاوہ سی سی ٹی وی کے ذریعے اے آئی پر مبنی نگرانی کا نظام اور لوہے کے ڈھکنوں کی جگہ فائبر گلاس ڈھکن لگانے کا فیصلہ بھی شامل ہے، جن کی کوئی اسکریپ ویلیو نہیں ہوتی۔

    کراچی کی طرح لاہور میں بھی مون سون کے دوران ایک اور مسئلہ سامنے آتا ہے۔ بارش کا پانی جلدی نکالنے کے لیے مین ہول کے ڈھکن جان بوجھ کر ہٹا دیے جاتے ہیں یا صفائی کے دوران کھلے چھوڑ دیے جاتے ہیں، مگر بعد میں نہ تو وارننگ سائن لگائے جاتے ہیں اور نہ ہی ڈھکن بروقت واپس رکھے جاتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ اگر کسی علاقے میں کھلے مین ہول کے باعث موت واقع ہو تو متعلقہ واسا یا میونسپل افسر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
    لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب مسئلے کی وجوہات برسوں سے معلوم تھیں تو یہ اقدامات پہلے کیوں نہیں کیے گئے؟