[rank_math_breadcrumb]

لاہور کے قریب شیخوپورہ کا ‘ہرن مینار’ جہاں ایک بادشاہ نے ہرن کی قبر پر پانی کا شہر بسا دیا

مغلیہ سلطنت کے شاہی شکار گاہوں کا علاقہ آج بھی اپنی مٹی میں ایک ایسی خاموش داستان دفن کیے ہوئے ہے جو وفا کی تمام انسانی مثالوں کو پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ یہ کہانی کسی ملکہ کی محبت میں تعمیر کردہ تاج محل جیسی شاندار نہیں بلکہ ایک جنگلی جانور سے بے پناہ لگاؤ کی ہے۔

پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں واقع ہرن مینار اسی نایاب عقیدت کی لازوال علامت ہے جہاں ایک مغل شہنشاہ نے اپنے پالتو ہرن کی موت پر ایک بلند مینار اور اس کے گرد ایک وسیع و عریض تالاب تعمیر کروا دیا۔

یہ منفرد یادگار مغل بادشاہ نورالدین محمد جہانگیر کے حکم سے وجود میں آئی۔ شہنشاہ جہانگیر جہاں اپنی انصاف پسندی اور فن تعمیر کی باریک بینی کے لیے مشہور تھے، وہیں انہیں شکار کا بھی بے حد شوق تھا۔ موجودہ شیخوپورہ کا یہ جنگلاتی علاقہ دراصل شاہی شکار گاہ ہوا کرتا تھا جہاں دور دراز سے نواب اور مہاراجے شکار کی غرض سے آتے تھے۔ انہی شکار گاہوں میں شہنشاہ کا ایک خاص لاڈلا ہرن تھا جس کا نام منسراج تھا۔ فارسی زبان کے اس نام کا مطلب ہے ‘دماغ کی روشنی’ یا ‘ذہانت کا نور’۔

یہاں ایک کم معلوم تاریخی حقیقت یہ ہے کہ منسراج کوئی عام ہرن نہیں بلکہ ایک شکاری جانور کی حیثیت رکھتا تھا۔ تاریخ دان بتاتے ہیں کہ اسے خاص تربیت دے کر جنگلی جانوروں کو قابو کرنے اور انہیں اس مخصوص تالاب کی جانب ہانکنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا تاکہ شہنشاہ آسانی سے نشانہ لگا سکیں۔ منسراج نہ صرف انتہائی خوبصورت تھا بلکہ شاہی جلوس کا ایک اہم حصہ بھی سمجھا جاتا تھا۔

تاریخ کے اوراق میں المناک واقعہ کچھ یوں درج ہے کہ ایک روز شکار کے دوران بادشاہ کا تیر غلطی سے اسی منسراج کو جا لگا۔ یہ دیکھ کر شہنشاہ جہانگیر پر ایسا صدمہ طاری ہوا کہ وہ کئی روز تک غمگین رہے اور محل کے معمولات تک ترک کر دیے۔ اپنی اس نادانستہ غلطی اور پالتو جانور کی جدائی کے غم میں انہوں نے ایک ایسا حکم جاری کیا جو مغل تاریخ میں بے مثال ہے۔ انہوں نے منسراج کی قبر پر ایک بلند و بالا مینار تعمیر کرانے کا حکم دیا۔

سنہ 1606 میں شروع ہونے والی اس تعمیر پر اس وقت 80 ہزار روپے کی خطیر رقم خرچ ہوئی، جو موجودہ دور میں کروڑوں روپے بنتی ہے۔ مینار کی تکمیل کے بعد بھی یہ کہانی ختم نہیں ہوئی۔ ایک اور دلچسپ اور کم بیان کیا جانے والا پہلو یہ ہے کہ مینار کے گرد جو وسیع تالاب اور خوبصورت بارہ دری ہے، وہ جہانگیر نے نہیں بلکہ ان کے بیٹے شہنشاہ شاہ جہاں نے تقریباً 1620 میں تعمیر کروائی۔

گویا بیٹے نے اپنے والد کی اس عجیب و غریب محبت کو ایک باقاعدہ تعمیراتی شاہکار کی شکل دے دی۔ یہ چوکور تالاب جس کی لمبائی 750 فٹ اور چوڑائی 890 فٹ ہے، اس دور میں صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ شاہی ہرنوں کے ریوڑ کو پانی فراہم کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔ اس تالاب کے عین وسط میں ایک پختہ پل کے ذریعے پہنچی جانے والی بارہ دری شاہی خاندان کی تفریح کا ذریعہ تھی۔

ہرن مینار کی تعمیر کے پیچھے ایک اور کم معلوم مقامی روایت یہ بھی ہے کہ یہ مینار دراصل ایک نشان راہ بھی تھا جو دہلی سے لاہور جانے والے شاہی قافلوں کو رات کے وقت ان کی منزل کا پتہ دیتا تھا۔ اس مینار کی چوٹی پر جلنے والی روشنی دور سے مسافروں کو شیخوپورہ کے شاہی ٹھکانے کی نشاندہی کراتی تھی۔

صدیاں گزرنے کے باوجود یہ مقام آج بھی اپنی انفرادیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ وہ واحد مغل یادگار ہے جو کسی جانور کی محبت میں تعمیر کی گئی۔ لاہور سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ مقام اب ایک جدید سیاحتی مرکز میں تبدیل ہو رہا ہے۔

حکومت پنجاب کی جانب سے یہاں ایک چھوٹا چڑیا گھر بھی قائم کیا جا رہا ہے جہاں 30 سے زائد ہرن اور دیگر جنگلی حیات کو رکھا گیا ہے۔ سیاحوں کے لیے تالاب میں کشتی رانی کے ساتھ ساتھ الیکٹرک گاڑیوں کی سہولت بھی میسر ہے۔

ہرن مینار کی یہ خاموش عمارت آج بھی انسان اور حیوان کے درمیان اس رشتے کی گواہی دے رہی ہے جہاں ایک طاقتور ترین شہنشاہ اپنی سلطنت کی وسعتوں کو بھول کر صرف ایک وفادار جانور کی یاد میں جھک گیا تھا۔

اسی بارے میں: