[rank_math_breadcrumb]

لاہور: بسنت میں مانجھے کی کلیدی اہمیت، مضبوط مانجھا کیسے ایجاد ہوا؟

لاہور میں بسنت کا میلہ سجتا تھا تو اس تہوار کا اصل محور مانجھا ہوتا تھا۔ یہ کوئی عام دھاگا نہیں تھا بلکہ ایک باقاعدہ تیار کی جانے والی چیز تھی، جس کے اپنے اصول، طریقے اور مقامی تجربے پر مبنی سائنس موجود تھی۔

لاہور میں بسنت کے لیے مانجھا عام دھاگا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ہر محلے میں چند لوگ ایسے ہوتے تھے جو صرف مانجھا بنانے میں مہارت رکھتے تھے۔ ان کے طریقے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے تھے اور یہ ہنر برسوں کے مشاہدے اور تجربے سے منتقل ہوتا تھا۔

بسنت ایک قدیم تہوار ہے جو بہار کی آمد کے ساتھ ساتھ رشتوں کی مضبوطی، دوستوں اور خاندان کے ساتھ خوشی بانٹنے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اس تہوار میں موسیقی، رقص، پتنگ اور مانجھے کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔

کم لوگوں کو معلوم ہے کہ مانجھا بنانے میں شیشے کی قسم بھی اہم سمجھی جاتی تھی۔ بوتل کا شیشہ، بلب کا شیشہ اور کھڑکی کا شیشہ الگ الگ پیسا جاتا تھا کیونکہ ہر شیشہ دھاگے پر مختلف اثر ڈالتا تھا۔ شیشے کو باریک یا موٹا پیسنے کا فیصلہ موسم دیکھ کر کیا جاتا تھا، خاص طور پر ہوا اور نمی کو مدنظر رکھا جاتا تھا۔

چپکنے کے لیے ہر وقت ایک ہی چیز استعمال نہیں ہوتی تھی۔ زیادہ نمی میں چاول کی لیئی کو بہتر سمجھا جاتا تھا جبکہ خشک موسم میں قدرتی گوند استعمال کی جاتی تھی۔ مقصد یہ ہوتا تھا کہ شیشہ دھاگے پر مضبوطی سے جڑا رہے مگر دھاگا خود کمزور نہ ہو۔

مانجھا کبھی تیز دھوپ میں نہیں سکھایا جاتا تھا۔ اسے ہمیشہ سایہ دار جگہ پر رکھا جاتا کیونکہ دھوپ دھاگے کو سخت اور ٹوٹنے والا بنا دیتی تھی۔ تیار مانجھا مقابلے سے پہلے اینٹ یا کھردی دیوار پر رگڑ کر آزمایا جاتا تھا۔ اگر دھاگا خود سلامت رہتا تو اسے قابلِ استعمال سمجھا جاتا تھا۔

بعض علاقوں میں مانجھا رات کے وقت تیار کیا جاتا تھا کیونکہ رات کی ہوا اور درجہ حرارت زیادہ قابلِ اعتماد سمجھے جاتے تھے۔ یہ علم کسی کتاب یا ہدایت نامے میں درج نہیں تھا بلکہ نسل در نسل تجربے سے منتقل ہوتا تھا۔

بعد میں جب مانجھے سے حادثات اور اموات ہونے لگیں تو اسے خطرناک سمجھا گیا۔ لیکن ایک وقت تھا جب یہی مانجھا لاہور کے شہری ہنر، عملی علم اور خاموش مہارت کی ایک نمایاں مثال سمجھا جاتا تھا۔

اسی بارے میں: