Tag: سوشل میڈیا

  • آسٹریلیا، فرانس کے بعد پرتگال نے بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک آزادانہ رسائی پر پابندی لگادی

    آسٹریلیا، فرانس کے بعد پرتگال نے بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک آزادانہ رسائی پر پابندی لگادی

    یورپ کے جنوب مغرب میں واقع ملک پرتگال نے بھی بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق سخت قدم اٹھاتے ہوئے سولہ سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا اور مختلف آن لائن پلیٹ فارمز تک آزادانہ رسائی محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بحرِ اوقیانوس کے ساحل پر واقع یہ ملک یورپی یونین کا رکن ہے اور حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل پالیسی اور ڈیٹا تحفظ کے قوانین کو مزید مضبوط بنانے کی سمت اقدامات کرتا رہا ہے۔

    پرتگال کی پارلیمنٹ نے سولہ سال تک کے بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کا بل منظور کرلیا ہے، جس کے تحت کمسن افراد کی سوشل نیٹ ورکس تک آزادانہ رسائی ختم کی جا رہی ہے۔ اس قانون کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات، نامناسب مواد اور ڈیجیٹل استحصال سے بچانا بتایا جا رہا ہے، جبکہ پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق کے مؤثر نظام نافذ کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔

    حکمران جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے پیش کیے گئے بل کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی حمایت کی ہے۔ بل کے مطابق کم عمر بچوں کیٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز تک آزادانہ رسائی محدود کر دی جائے گی، جبکہ اکاؤنٹ بنانے یا استعمال کرنے کے لیے والدین یا قانونی سرپرست کی باقاعدہ اجازت لازمی قرار دی جائے گی۔

    موجودہ قانون کے تحت سوشل نیٹ ورکس تک رسائی کے لیے کم از کم عمر تیرہ سال مقرر ہے، تاہم نئے مجوزہ قانون میں اس حد کو مزید سخت کرتے ہوئے عمر کی شرط بڑھانے اور تصدیقی نظام کو مؤثر بنانے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ کم عمر بچوں کو غیر مناسب مواد اور آن لائن خطرات سے بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

    بل میں کہا گیا ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز، ویڈیو شیئرنگ سروسز اور اوپن کمیونیکیشن سروسز تک خودمختار رسائی کے لیے کم از کم ڈیجیٹل عمر سولہ سال مقرر کی جا رہی ہے، جبکہ تیرہ سال یا اس سے زائد عمر کے بچے صرف واضح اور والدین کی تصدیق شدہ اجازت کے بعد ہی ان پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔

    مجوزہ قانون کے مطابق والدین کی رضامندی نہ صرف لازمی ہوگی بلکہ اس کی باقاعدہ تصدیق بھی کی جائے گی، تاکہ کم عمر صارفین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام بچوں کو آن لائن خطرات، سائبر بدسلوکی اور نامناسب مواد سے محفوظ رکھنے کی وسیع حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی عمر کی مؤثر جانچ کے نظام نافذ کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔

    پارلیمانی حمایت اور مؤقف

    اپوزیشن جماعت سوشلسٹ پارٹی نے اس معاملے پر قانون سازی کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ متعدد اسٹڈیزسوشل  میڈیا کے نوجوانوں پر منفی اثرات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق کئی ممالک پہلے ہی نوجوانوں کے تحفظ کے لیے اسی نوعیت کی قانون سازی کر رہے ہیں۔

    تکنیکی خدشات اور مباحث

    اگرچہ سوشلسٹ پارٹی عمومی طور پر اس تجویز سے متفق ہے، تاہم اس نے چند تکنیکی نکات پر مزید غور کی ضرورت پر زور دیا ہے، جن میں 13 سے 16 سال کی عمر میں والدین کی اجازت کے طریقہ کار، عمر کی تصدیق کے نظام، اور ریگولیٹر کو پلیٹ فارمز تک رسائی روکنے کے اختیارات دینے جیسے معاملات شامل ہیں۔

    بل کے مطابق صارفین کو سوشل نیٹ ورکس تک رسائی کے لیے اپنی عمر کی تصدیق "ڈیجیٹل موبائل کی” سسٹم کے ذریعے کرنا ہوگی۔

    تعلیمی اقدامات

    واضح رہے کہ پرتگال میں ستمبر 2025 سے چھٹی جماعت تک کے طلبا کے اسکول میں اسمارٹ فون لانے پر بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے، جس کا مقصد تعلیمی ماحول کو بہتر بنانا اور طلبہ کی توجہ تعلیم پر برقرار رکھنا بتایا گیا ہے۔

    یہ قانون نوجوانوں کو آن لائن نقصانات سے بچانے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے عملی اطلاق، عمر کی مؤثر تصدیق کے نظام، رازداری کے تحفظ اور تکنیکی نفاذ کے حوالے سے عوامی اور قانونی سطح پر بحث جاری ہے۔

    پابندی لگانے والے ممالک کی پیروی

    کئی یورپی اور دیگر ممالک میں کمسن بچوں کے لئے سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کیا جارہا ہے اس حوالے سے کچھ ممالک نے پابندیاں عائد کی ہیں کئی ممالک قانون سازی پر غور کررہے ہیں۔

    آسٹریلیا وہ پہلا ملک تھا سال سے سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے 10 دسمبر 2025 کوسوشل میڈیا تک رسائی پر مکمل پابندی عائد کی تھی۔

    اس پابندی کے تحت فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر 16 سال سے کم عمر کے صارفین کے اکاؤنٹس کو روکا یا ختم کیا گیا تھا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق  آسٹریلیا کے بعد اسپین یورپ کا پہلا ملک تھا جس نے سولہ سال کی عمرکے بچوں تک سوشل میڈیا کی آزادانہ رسائی کو محدود بنانے کا اعلان کیا تھا۔

    ہسپانوی حکومت کہتی ہے کہ اس پابندی کا مقصد بچوں کو آن لائن نقصان دہ مواد اور غلط اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

    اسی طرح کی پابندیاں فرانس بھی عائد کرچکا ہے جبکہ برطانیہ، ڈنمارک اور ناروے جسے ممالک میں بھی کمسن بچوں تک سوشل میڈیا کی رسائی کو محدود کرنے پر غور کیا جارہا ہے ۔

  • جین زیوں کا پیغام: ‘بھاڑ میں جائو بوڑھوں’

    جین زیوں کا پیغام: ‘بھاڑ میں جائو بوڑھوں’

    گذشتہ کئی روز سے سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا سمیت عام لوگوں میں زورین نظامانی کا پاکستان کے معروف انگریزی اخبار روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والا مضمون ‘It is over’ زیر بحث ہے۔ بظاہر اس مضمون میں کوئی خاص دلیل، حوالہ یا جواز موجود نہیں، مگر یہ سوشل میڈیا بالخصوص ایکس پر سرگرم یا ایکس کی سرگرمیوں سے متاثر ایک زیر تعلیم لڑکے کے ہیجانی جذبات کا اظہار ہے۔

    انسانی فطرت میں ہر نوجوان عمر کے اس حصے میں اسی طرح کے جذبات ظاہر کرتا ہے، بالخصوص جب خاندانی، اخلاقی، معاشرتی اور اصلاحی تربیت موجود نہ ہو تو صورتحال زیادہ سنگین ہو جاتی ہے۔

    اسی لیے بزرگ کہتے ہیں کہ باپ ماں کے جوتے یا کپڑے اولاد کو پورے آجائیں تو ماں باپ کو فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔ عمر کا یہی حصہ انسان کو باغی یا خودسر ہونے پر مجبور کرتا ہے۔ ماضی کے مقابلے میں لڑکپن اور نوجوان نسل کے لیے خطرات اس لیے بھی بڑھ گئے ہیں کہ اب ہر چیز تک رسائی انگلیوں کے پوروں پر ہے۔

    مجموعی طور پر مضمون میں کوئی ایسی غیر معمولی بات نہیں کہ وہ سب سے بڑا ایشو بن جائے، مگر 420 توپوں کی سلامی ان لوگوں کو جنہوں نے اخبار کی ویب سائٹ سے مضمون ہٹوا دیا اور یوں یہ مضمون پورے پاکستان میں زبان زد عام ہو گیا۔

    مضمون کے نکات اور جواب

    1۔ مضمون پر غور کیا جائے تو چند اصطلاحات ہی اصل بحث کا مرکز ہیں، جن میں بومرز 1946 سے 1964، جین زی 1997 سے 2012 اور جین الفا 2013 سے تاحال پیدا ہونے والی نسلیں شامل ہیں۔ تاہم جین ایکس 1965 سے 1980 اور جین ملینیلز 1981 سے 1996 تک کی نسل کو نظرانداز کرتے ہوئے ان کا رد کر دیا گیا ہے اور اہلیت و معیار صرف جین زی اور جین الفا کو قرار دیا گیا ہے۔

    مضمون میں سب سے زیادہ نشانہ بومرز کو بنایا گیا ہے۔

    جدید انٹرنیٹ کلچر میں بومر کا لفظ اکثر بزرگوں یا روایتی سوچ رکھنے والوں کے لیے طنزاً استعمال ہوتا ہے، جیسے او بومرز، اٹ از اوور بومرز یا بائے بائے بومرز۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں بومرز یا بیبی بومرز سے مراد دوسری جنگ عظیم کے بعد 1946 سے 1964 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل ہے۔

    یوں مضمون میں بادی النظر جین زیوں کی جانب سے واضح پیغام یہی ہے کہ بھاڑ میں جائے بوڑھوں، ہماری جان چھوڑو، تمہارا دور ختم ہے اور تم اس زمین پر بوجھ ہو۔ بظاہر نشانہ اقتدار کے لوگ ہیں، مگر اقتدار کی سطحیں گھر سے لے کر اقوام عالم تک پھیلی ہوئی ہیں، لہٰذا یہ پیغام سب کے لیے ہے۔

    یہ پیغام دیتے وقت شاید جین زی یہ بھول گئے کہ مہذب معاشروں میں اس نسل کو بوجھ نہیں بلکہ تخلیق کار سمجھا جاتا ہے اور اہم ذمہ داریاں اکثر انہی کے سپرد کی جاتی ہیں، کیونکہ یہ نسل زندگی کے ہر امتحان سے گزر کر پختگی کو پہنچ چکی ہے۔

    اتفاق سے زورین نظامانی کے والد قیصر نظامانی اور والدہ فضیلہ قاضی بھی اسی نسل کے قریب ہیں۔ بادی النظر زورین نظامانی یا ان کے حامی یہی پیغام دے رہے ہیں کہ بھاڑ میں جائے بوڑھوں، ہماری جان چھوڑو، تمہارا دور ختم ہے اور تم زمین پر بوجھ ہو۔

    2۔ مضمون کے آغاز میں یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ بوڑھوں کے ٹولے کے لیے اب سب ختم ہو چکا ہے، جین زی تم سے کچھ خریدنے کو تیار نہیں اور بیچنے کی کوشش بھی نہ کرنا۔ تمہارے دروس، اصلاحی پیغامات اور قوم و ملک سے محبت کی باتیں غیر ضروری اور لایعنی ہیں۔

    اس پیغام کے وقت جین زی یہ بھول گئے کہ انہوں نے ابھی شعوری زندگی میں قدم بھی نہیں رکھا۔ وہ ابھی تربیتی اور لاابالی دور سے گزر رہے ہیں۔ آج جس مال و دولت، تعلیم، جاہ و حشم کی بات کی جا رہی ہے وہ سب بومرز، جین ایکس یا جین ملینیلز ہی کی مرہون منت ہے۔

    زورین نظامانی سے ہی پوچھا جائے کہ پاکستان سے امریکہ تک ان کی تعلیم و تربیت میں ان کے والدین نے کیا قربانیاں دیں۔

    3۔ مضمون میں جین زی نے جدید ایجادات اور انٹرنیٹ پر فخر کرتے ہوئے بادی النظر یہ پیغام دیا ہے کہ ہمارے پاس جدید دنیا ہے اور جب تم اس عمر میں تھے تو ان سہولیات سے محروم تھے۔ گویا یہ محض ایک پھبتی ہے۔

    اے کاش جین زی یہ سوچتے کہ یہ ایجادات کس کی ہیں۔ کیا یہ جین زی کی ہیں یا بومرز، جین ایکس اور جین ملینیلز کی۔ جین زیو، تمہارا وجود بھی انہی نسلوں کی مرہون منت ہے۔ شاید تمہیں اندازہ نہیں کہ اس وجود کو یہاں تک پہنچانے کے لیے کن تکالیف سے گزرنا پڑا۔ تم اپنی ساری زندگی لگا کر بھی ان کی ایک رات یا ایک تکلیف کا قرض ادا نہیں کر سکتے۔

    4۔ مضمون میں جین زی یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ وہ جدید ذرائع سے زندگی میں آگے بڑھ رہے ہیں، مگر جس معیشت کو وہ وراثت میں لے رہے ہیں وہ انہی نسلوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ یہ پیغام بھی انہی کے کندھوں پر سوار ہو کر دیا جا رہا ہے۔ اگر ذرا سی لغزش ہو جائے تو جین زی تباہی کے پاتال میں جا سکتے ہیں، مگر بڑی نسلیں جین زی کی طرح بے رحم اور لاابالی نہیں ہیں۔

    5۔ مضمون میں یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ اب کوئی کسی کو سن نہیں رہا، کیوں کہ جین زی کے ہیڈ فون لگے ہیں اور اسپاٹیفائی چل رہا ہے۔ گویا سماعت، بصارت اور شعور پر ہیڈ فون کی مہر لگ چکی ہے۔ ایسی کیفیتیں پاگلوں یا جانوروں میں پائی جاتی ہیں۔

    6۔ آخری پیغام یہ ہے کہ اگر حالات ناقابل برداشت ہوئے تو وسائل والے لوگ ملک چھوڑ جائیں گے اور باقی لوگ زندگی اجیرن کر دیں گے۔ جن وسائل کی بات کی جا رہی ہے وہ بھی انہی نسلوں کی کمائی ہے، اس لیے اس طرز فکر کو لاابالی پن ہی کہا جا سکتا ہے۔

    7۔ جین زی کے حامی کچھ مبینہ کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہیں، جیسے 2011 کی عرب بہار، سوڈان، سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش کی تبدیلیاں۔ مگر ان مثالوں سے پہلے لیبیا، یمن، سوڈان اور دیگر ممالک کی خانہ جنگیوں، تباہی اور معاشی زوال پر بھی غور ضروری ہے۔

    خلاصہ

    اول، بومرز، جین ایکس یا جین ملینیلز نہیں ہارے، بلکہ جین زی نے اپنی کاہلی اور خود غرضی کا اعتراف کیا ہے۔
    دوم، یہ کہنا کہ مضمون غیر سیاسی تھا، سراسر غلط ہے، یہ مکمل سیاسی تحریر ہے اور ممکن ہے نوجوان لکھاری غیر دانستہ استعمال ہوا ہو۔
    سوم، جین زی کے مسائل پر توجہ ضروری ہے مگر گھر، علاقہ، ملک یا دنیا کا نظام مکمل طور پر ان کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
    چہارم، ان کی تعلیم و تربیت کے لیے مناسب اور سنجیدہ انتظام ناگزیر ہے۔

     

  • 2025 کا ڈیجیٹل سال، وہ واقعات جنہوں نے پاکستان کا سوشل میڈیا ہلا کر رکھ دیا

    2025 کا ڈیجیٹل سال، وہ واقعات جنہوں نے پاکستان کا سوشل میڈیا ہلا کر رکھ دیا

    سنہ 2025 پاکستان میں سوشل میڈیا کے لیے ایک غیر معمولی سال ثابت ہوا۔ یہ وہ سال تھا جب موبائل فون کی اسکرین محض تفریح یا ذاتی اظہار تک محدود نہیں رہی بلکہ قومی دکھ، غصے، سوال اور اجتماعی ردعمل کا مرکز بن گئی۔

    سیاست سے لے کر سماجی سانحات تک، کئی واقعات ایسے تھے جنہوں نے دنوں اور بعض اوقات ہفتوں تک سوشل میڈیا کو اپنی گرفت میں رکھا۔

    کم عمر سوشل میڈیا صارف ثنا یوسف کے قتل

    جون 2025 میں اسلام آباد میں کم عمر سوشل میڈیا صارف ثنا یوسف کے قتل نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ واقعہ چند گھنٹوں میں سوشل میڈیا کا مرکزی موضوع بن گیا۔

    خواتین کے تحفظ، آن لائن شناخت کے خطرات اور معاشرتی رویوں پر شدید بحث شروع ہوئی۔ عوامی دباؤ، احتجاجی ویڈیوز اور انصاف کے مطالبات نے اس واقعے کو سال کے سب سے زیادہ زیر بحث موضوعات میں شامل کر دیا۔

    سوات میں مون سون کے دوران آن کیمرا 13 افراد کا ریلے کے ساتھ بہنے والا واقعہ

    مون سون کے مہینوں میں آنے والے شدید سیلاب کے دوران سوات میں سیالکوٹ کے رہائشی ایک خاندان کے افراد کو سیلابی ریلے کے دوران بے یار و مددگار کھڑے ہونے کی ویڈیو وائرل ہوئی۔ کئی گھنٹے چیخ و پکار اور مدد کی فریادوں کے باوجود کوئی مدد نہیں پہنچی اور 13 افراد پانی کے ریلے میں بہہ گئے۔

    اس سانحے کے ساتھ دیگر  کئی مقامات پر امداد کی رسائی، حکومتی ردعمل اور تاخیر پر عوامی تنقید نے آن لائن بیانیے کو شکل دی۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کی قید، عدالتی کارروائیاں، احتجاج

    سیاسی منظرنامہ بھی پورا سال ڈیجیٹل بحث کا مرکز رہا۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی قید، عدالتی کارروائیاں اور ان سے جڑی احتجاجی تحریکیں بار بار سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنیں۔ گرفتاریوں کی ویڈیوز، جلسوں کی لائیو نشریات اور سیاسی بیانات نے سوشل میڈیا کو ایک متوازی سیاسی میدان بنا دیا جہاں حامی اور مخالف مسلسل آمنے سامنے رہے۔

    خیبر پختونخوا کے کٹلنگ میں سیکیورٹی آپریشن

    مارچ 2025 میں خیبر پختونخوا کے علاقے کٹلنگ میں ہونے والا سیکیورٹی آپریشن سوشل میڈیا پر شدید تنازع کی شکل اختیار کر گیا۔ مقامی افراد کی جانب سے سامنے آنے والی ویڈیوز اور بیانات نے شہری ہلاکتوں کے سوال کو جنم دیا۔ عوامی دباؤ کے نتیجے میں تحقیقات اور اعلانات بھی اسی ڈیجیٹل دباؤ کا نتیجہ سمجھے گئے۔ یہ واقعہ ریاستی مؤقف اور عوامی مشاہدے کے درمیان فاصلے کی علامت بن گیا۔

    سال بھر ڈیجیٹل آزادی کا سوال بھی سوشل میڈیا پر چھایا رہا۔ اکاؤنٹس کی معطلی، مواد ہٹائے جانے اور انٹرنیٹ کی سست روی پر صارفین نے کھل کر ردعمل دیا۔ آزادی اظہار، سنسرشپ اور شہری حقوق جیسے موضوعات پہلی بار عام صارفین کی گفتگو کا مستقل حصہ بنتے دکھائی دیے۔

    سنہ 2025 نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا اب محض ایک پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک طاقتور سماجی حقیقت ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سوال اٹھتے ہیں، بیانیے بنتے ہیں اور بعض اوقات فیصلوں پر دباؤ بھی ڈالا جاتا ہے۔ یہ سال پاکستانی ڈیجیٹل تاریخ میں اس تبدیلی کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب عوامی آواز نے اسکرین کے ذریعے خود کو منوانا سیکھ لیا۔

  • شدت پسند تنظیمیں بلوچ بچیوں کو خودکُش بمبار بننے کی تربیت دیتی ہیں: وزیر داخلہ سندھ کا دعویٰ

    شدت پسند تنظیمیں بلوچ بچیوں کو خودکُش بمبار بننے کی تربیت دیتی ہیں: وزیر داخلہ سندھ کا دعویٰ

    وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے انکشاف کیا ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں بلوچ بچیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے خودکُش بمبار بنانے کی تربیت دیتی ہیں، والدین بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر نظر رکھیں۔

    انسداد دہشت گردی کے محکمے سی ٹی ڈی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) آزاد خان اور کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے دعویٰ کیا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ایک بچی سے رابطہ کیا گیا، دہشت گردوں نے بچی کی ذہن سازی کرکے بچی کو خودکش بمبار بننے کے لیے تیار کیا۔’مگر سیکیورٹی اداروں نے بچی کو خودکش بمبار بننے سے بچالیا ہے۔’

    ضیا لنجار نے مزید کہا کہ شدت پسندوں کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے، یہ سوشل میڈیا کے ذریعے سٹیٹ کے خلاف جھوٹا بیانیہ بناتے ہیں۔

    بقول ضیا لنجار: ‘ریاست بلوچ کمیونٹی کے ساتھ کھڑی ہے۔’

    ایڈیشنل آئی جی (سی ٹی ڈی) آزاد خان نے دعویٰ کیا: ‘ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے ایک اہلکار نے بچی سے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ انسٹاگرام پر رابطہ کرکے ان کا نمبر کو واٹس اپ گروپ میں شامل کیا بچی کی مکمل ذہن سازی کی گئی تھی، کراچی سے باہر بچی کو لے جایا گیا، اسنیپ چیکنگ کے دوران بچی کو پکڑا گیا۔’

    آزاد خان کے مطابق بچی کے والدین کو بلاکر تمام حقائق بتائے گئے۔ ‘کم عمری کی وجہ سے ہم اس بچی کو ملزم نہیں سمجھتے، ان کو پروٹیکشن دی جائے گی۔’

    اس موقع پر بچے کے مبینہ بیان کی ویڈیو بھی جاری کی گئی۔

     

  • ساگا فیکٹ چیک: کیا آسٹریلوی وزیر اعظم نے پاکستانی ویزے معطل کرنے کا اعلان کیا؟

    ساگا فیکٹ چیک: کیا آسٹریلوی وزیر اعظم نے پاکستانی ویزے معطل کرنے کا اعلان کیا؟

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر ایک پوسٹ شیئر کی جا رہی ہے، جس میں چھ سیکنڈ کی ایک ویڈیو دکھائی دیتی ہے۔ اس ویڈیو میں بظاہر آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانی کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ ایک پاکستانی شہری نوید اکرم کی جانب سے دہشت گرد حملے کے بعد آسٹریلیا نے تمام پاکستانی ویزے معطل کر دیے ہیں۔

    لیکن حقیقت میں یہ دعویٰ غلط ہے۔
    متعدد معتبر فیکٹ چیک اداروں، جن میں اے ایف پی (AFP)، پی ٹی آئی (PTI) اور بوم لائیو (Boom Live) شامل ہیں، نے تصدیق کی ہے کہ گردش کرنے والی ویڈیو مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ ایک ڈیپ فیک ہے۔
    ویڈیو کے تجزیے میں درج ذیل خامیاں سامنے آئیں:
    وزیر اعظم کے ہونٹوں کی حرکت ان کی آواز سے مطابقت نہیں رکھتی۔ آواز غیر فطری اور اصل لہجے سے مختلف محسوس ہوتی ہے۔ ویڈیو میں چہرے کے تاثرات اور روشنی غیر معمولی ہیں

    یہ تمام علامات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ویڈیو کو ڈیجیٹل طور پر تیار یا ایڈٹ کیا گیا ہے۔
    اصل واقعہ کیا تھا؟

    14 دسمبر 2025 کو سڈنی کے بونڈی بیچ پر فائرنگ کا ایک حقیقی واقعہ پیش آیا تھا، تاہم:
    حملے میں ملوث افراد کا پاکستانی شہری ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔ آسٹریلوی حکومت نے پاکستانی ویزوں کے حوالے سے کسی قسم کی پابندی یا معطلی کا اعلان نہیں کیا۔ محکمہ داخلہ کے مطابق پاکستان سے ویزا درخواستوں کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی
    گمراہ کن بیانیہ

    وائرل پوسٹ کے ساتھ موجود ہندی متن میں بھارت میں امیگریشن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے حوالے سے مبینہ دوہرے معیار پر تنقید کی گئی ہے، اور جان بوجھ کر مخصوص افراد کو ٹیگ کر کے بحث اور اشتعال کو بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

    تبصروں میں صارفین دو واضح حصوں میں منقسم نظر آئے:
    ایک طبقہ دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کی حمایت کرتا دکھائی دیا، دوسرا طبقہ اس پوسٹ کو نفرت پھیلانے اور غلط معلومات پر مبنی قرار دیتا رہا
    نتیجہ

    آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانی کی جانب سے پاکستانی ویزے معطل کرنے کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ وائرل ویڈیو جعلی اور AI سے تیار کردہ ہے، جس کا مقصد غلط معلومات پھیلانا اور عوام کو گمراہ کرنا ہے۔

    قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی حساس خبروں کی تصدیق معتبر ذرائع سے ضرور کریں۔
    جبکہ حملہ آوور کا تعلق انڈیا کے شہر حیدرآباد سے تھا ۔

  • پٹنہ بھارت میں سرکاری تقریب کے دوران وزیراعلیٰ کا متنازع اقدام، سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل

    پٹنہ بھارت میں سرکاری تقریب کے دوران وزیراعلیٰ کا متنازع اقدام، سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل

    بھارتی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں 15 دسمبر 2025 کو منعقد ہونے والی ایک سرکاری تقریب اس وقت تنازع کا شکار ہو گئی جب وزیراعلیٰ نتیش کمار نے تقرری نامے تقسیم کرتے ہوئے ایک مسلم آیوش خاتون ڈاکٹر کے نقاب کو اپنے ہاتھ سے نیچے کیا۔ یہ لمحہ تقریب میں موجود کیمروں میں قید ہو گیا اور تقریباً 14 سیکنڈ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ اسٹیج پر کھڑی خاتون ڈاکٹر کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہیں اور ان کے چہرے سے نقاب ہٹا دیتے ہیں، جس پر خاتون واضح طور پر حیران اور پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ اس واقعے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔

    اپوزیشن جماعت راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنماؤں نے اس اقدام کو ’’قابلِ مذمت‘‘ اور ’’خواتین کی تذلیل‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سے فوری معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف ذاتی حدود کی خلاف ورزی ہے بلکہ مذہبی حساسیت سے لاعلمی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کو اب تک بارہ لاکھ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے، جبکہ ہزاروں صارفین نے سخت تنقیدی تبصرے کیے ہیں۔ کئی افراد نے اس واقعے کو بھارت میں مسلم اقلیت، بالخصوص مسلم خواتین کو درپیش وسیع تر مسائل سے جوڑا ہے۔

    پس منظر: حجاب اور مذہبی شناخت پر جاری بحث

    یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں مذہبی لباس، خصوصاً حجاب اور نقاب، ایک عرصے سے سیاسی اور عدالتی بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ 2022 میں کرناٹک میں حجاب تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب سرکاری تعلیمی اداروں میں یونیفارم کی پابندی کے تحت حجاب پہننے پر عملی پابندی عائد کر دی گئی۔

    مارچ 2022 میں کرناٹک ہائی کورٹ نے حکومت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا تھا کہ حجاب اسلام کی ’’لازمی مذہبی روایت‘‘ نہیں، تاہم اکتوبر 2022 میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کا فیصلہ منقسم رہا اور معاملہ بڑی بینچ کو بھیج دیا گیا، جہاں یہ کیس تاحال زیرِ سماعت ہے۔

    اگرچہ دسمبر 2023 میں کرناٹک کی نئی حکومت نے اس پابندی کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا، مگر سپریم کورٹ میں مقدمہ زیرِ التوا ہونے کے باعث عملی طور پر صورتِ حال اب بھی غیر واضح ہے۔

    مبصرین کے مطابق پٹنہ میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ محض ایک انفرادی عمل نہیں بلکہ بھارت میں مذہبی آزادی، شخصی وقار اور اقلیتی حقوق سے جڑی جاری بحث کی ایک کڑی ہے، جس نے ایک بار پھر سیاسی قیادت کے رویّوں کو کڑی جانچ کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے

    ایڈیٹر فارن افئیرز ساگا ڈیجیٹل اے آئی

  • آسٹریلیا: 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند، ‘والدین نے ٹیک کمپنیوں سے اپنے بچوں کا حق واپس لے لیا’

    آسٹریلیا: 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند، ‘والدین نے ٹیک کمپنیوں سے اپنے بچوں کا حق واپس لے لیا’

    آسٹریلیا کی حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے کے لیے ٹیک کمپنیز کو پابند کرنے کا قانون نافذ کردیا، جس پر عمل درآمد آج سے نافذ ہوجائے گا۔
    آسٹریلیا کی حکومت کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا سخت قانون ہے جسے بچوں کو آن لائن ہراسانی، استحصال اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے مضر اثرات سے بچانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

    عالمی سطح پر اس قانون کو بڑی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اب تک کسی بھی ملک نے سوشل میڈیا کے حوالے سے اس قدر وسیع اور پابندیاں عائد کرنے والا طریقہ اختیار نہیں کیا تھا۔

    قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی ملک میں مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ سولہ برس سے کم عمر صارفین کے تمام اکاؤنٹس ختم یا معطل کریں۔

    ان پلیٹ فارمز میں فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز، اسنیپ چیٹ، یوٹیوب، ٹک ٹاک، ریڈٹ، کِک، ٹوئچ اور ایکس یا سابقہ ٹوئٹر شامل ہیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر کمپنیاں اس قانون پر عمل درآمد میں ناکام رہیں تو اُن پر بھاری مالی جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جس کی حد کئی کروڑ آسٹریلین ڈالر تک مقرر کی گئی ہے۔

    وزیر اعظم انتھونی البانیز نے اس قانون پر عمل درآمد کے دن کو آسٹریلوی خاندانوں کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا: ‘والدین نے بالآخر بڑی ٹیک کمپنیوں سے اپنے بچوں کا حق واپس لے لیا ہے۔’
    اُن کا کہنا تھا کہ یہ اقدام بچوں کی حفاظت کے لیے ضروری تھا۔ تاہم وزیر اعظم نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اس قانون پر مکمل طور پر عمل کروانا آسان نہیں ہوگا اور حکومت کو اس حوالے سے مختلف تکنیکی اور عملی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
    نئے قانون کے مطابق بیشتر پلیٹ فارمز نے اعلان کیا ہے کہ وہ دس دسمبر سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس مرحلہ وار بند کر دیں گے۔ یوٹیوب کم عمر صارف کو خود بخود سائن آؤٹ کرے گا اور اس کا چینل نظروں سے اوجھل ہو جائے گا، لیکن اس کا ڈیٹا محفوظ رکھا جائے گا تاکہ وہ سولہ برس کی عمر کے بعد دوبارہ اپنا اکاؤنٹ استعمال کر سکے۔
    ٹک ٹاک نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایسے تمام اکاؤنٹس کو بلاک کر دے گا جو عمر کی حد پوری نہیں کرتے، چاہے وہ کسی بھی نام یا ای میل سے بنائے گئے ہوں۔ ٹوئچ نے واضح کیا ہے کہ نئے کم عمر اکاؤنٹس فوراً بند کیے جائیں گے جبکہ موجودہ کم عمر اکاؤنٹس آئندہ ماہ مکمل طور پر معطل ہو جائیں گے۔

    قانون کی خلاف ورزی کرنے والے بچوں یا والدین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی مگر پلیٹ فارمز کے لیے یہ لازم ہوگا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ پلیٹ فارمز اس پابندی کی فہرست میں شامل نہیں کیے گئے۔ ان میں ڈسکارڈ، گٹ ہب، گوگل کلاس روم، میسنجر، پنٹرسٹ، روبلوکس، اسٹیِم، واٹس ایپ، یوٹیوب کڈز اور لیگو پلے شامل ہیں۔ خاص طور پر روبلوکس کو فہرست سے باہر رکھنا ماہرین کے لیے حیران کن ہے کیونکہ حالیہ رپورٹس میں وہاں بچوں کو نشانہ بنانے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ روبلوکس میں بچوں کی بڑی تعداد کے باعث اس پر نظر رکھنے کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
    حکومت نے عمر کی تصدیق کے لیے مختلف طریقے بھی تجویز کیے ہیں۔ ویڈیو سیلفی کے ذریعے چہرے کی بنیاد پر عمر کا اندازہ لگایا جائے گا جبکہ سرکاری شناختی دستاویزات اور ای میل یا اکاؤنٹ ڈیٹا بھی استعمال ہوگا۔
    حکومت کا کہنا ہے کہ یہ تمام طریقے صارف کی نجی معلومات کی خلاف ورزی کے بغیر اختیار کیے جائیں گے، تاہم بعض ماہرین پرائیویسی کے حوالے سے اب بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

    پابندی کے فوراً بعد بہت سے بچے متبادل پلیٹ فارمز کی جانب بڑھنے لگے ہیں۔ فوٹو شیئرنگ پلیٹ فارم یوپ نے صرف چند دنوں میں آسٹریلیا سے ایک لاکھ سے زائد نئے صارف حاصل کیے جبکہ لیمن ایٹ نامی ایپ، جو ٹک ٹاک سے ملتی جلتی سمجھی جاتی ہے، انتہائی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ نئے پلیٹ فارمز کم عمر صارفین میں اسی رفتار سے مقبول ہوتے رہے تو اُنہیں بھی اسی قسم کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس قانون کے اثرات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔ ماہرین یہ دیکھیں گے کہ آیا پابندی کے بعد بچوں کی نیند میں بہتری آتی ہے، وہ زیادہ وقت باہر گزارتے ہیں، اُن کی ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے یا وہ غیر محفوظ آن لائن جگہوں کی طرف منتقل ہونے لگتے ہیں۔
    اس تحقیق میں سٹینفرڈ یونیورسٹی کے ماہرین بھی شامل ہوں گے اور اس کے نتائج عالمی سطح پر جاری کیے جائیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ جائزہ مستقبل کی پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرے گا۔