یورپ کے جنوب مغرب میں واقع ملک پرتگال نے بھی بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق سخت قدم اٹھاتے ہوئے سولہ سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا اور مختلف آن لائن پلیٹ فارمز تک آزادانہ رسائی محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بحرِ اوقیانوس کے ساحل پر واقع یہ ملک یورپی یونین کا رکن ہے اور حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل پالیسی اور ڈیٹا تحفظ کے قوانین کو مزید مضبوط بنانے کی سمت اقدامات کرتا رہا ہے۔
پرتگال کی پارلیمنٹ نے سولہ سال تک کے بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کا بل منظور کرلیا ہے، جس کے تحت کمسن افراد کی سوشل نیٹ ورکس تک آزادانہ رسائی ختم کی جا رہی ہے۔ اس قانون کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات، نامناسب مواد اور ڈیجیٹل استحصال سے بچانا بتایا جا رہا ہے، جبکہ پلیٹ فارمز کو عمر کی تصدیق کے مؤثر نظام نافذ کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔
حکمران جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے پیش کیے گئے بل کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی حمایت کی ہے۔ بل کے مطابق کم عمر بچوں کیٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز تک آزادانہ رسائی محدود کر دی جائے گی، جبکہ اکاؤنٹ بنانے یا استعمال کرنے کے لیے والدین یا قانونی سرپرست کی باقاعدہ اجازت لازمی قرار دی جائے گی۔
موجودہ قانون کے تحت سوشل نیٹ ورکس تک رسائی کے لیے کم از کم عمر تیرہ سال مقرر ہے، تاہم نئے مجوزہ قانون میں اس حد کو مزید سخت کرتے ہوئے عمر کی شرط بڑھانے اور تصدیقی نظام کو مؤثر بنانے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ کم عمر بچوں کو غیر مناسب مواد اور آن لائن خطرات سے بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
بل میں کہا گیا ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارمز، ویڈیو شیئرنگ سروسز اور اوپن کمیونیکیشن سروسز تک خودمختار رسائی کے لیے کم از کم ڈیجیٹل عمر سولہ سال مقرر کی جا رہی ہے، جبکہ تیرہ سال یا اس سے زائد عمر کے بچے صرف واضح اور والدین کی تصدیق شدہ اجازت کے بعد ہی ان پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق والدین کی رضامندی نہ صرف لازمی ہوگی بلکہ اس کی باقاعدہ تصدیق بھی کی جائے گی، تاکہ کم عمر صارفین کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام بچوں کو آن لائن خطرات، سائبر بدسلوکی اور نامناسب مواد سے محفوظ رکھنے کی وسیع حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی عمر کی مؤثر جانچ کے نظام نافذ کرنے کا پابند بنایا جائے گا۔
پارلیمانی حمایت اور مؤقف
اپوزیشن جماعت سوشلسٹ پارٹی نے اس معاملے پر قانون سازی کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ متعدد اسٹڈیزسوشل میڈیا کے نوجوانوں پر منفی اثرات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق کئی ممالک پہلے ہی نوجوانوں کے تحفظ کے لیے اسی نوعیت کی قانون سازی کر رہے ہیں۔
تکنیکی خدشات اور مباحث
اگرچہ سوشلسٹ پارٹی عمومی طور پر اس تجویز سے متفق ہے، تاہم اس نے چند تکنیکی نکات پر مزید غور کی ضرورت پر زور دیا ہے، جن میں 13 سے 16 سال کی عمر میں والدین کی اجازت کے طریقہ کار، عمر کی تصدیق کے نظام، اور ریگولیٹر کو پلیٹ فارمز تک رسائی روکنے کے اختیارات دینے جیسے معاملات شامل ہیں۔
بل کے مطابق صارفین کو سوشل نیٹ ورکس تک رسائی کے لیے اپنی عمر کی تصدیق "ڈیجیٹل موبائل کی” سسٹم کے ذریعے کرنا ہوگی۔
تعلیمی اقدامات
واضح رہے کہ پرتگال میں ستمبر 2025 سے چھٹی جماعت تک کے طلبا کے اسکول میں اسمارٹ فون لانے پر بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے، جس کا مقصد تعلیمی ماحول کو بہتر بنانا اور طلبہ کی توجہ تعلیم پر برقرار رکھنا بتایا گیا ہے۔
یہ قانون نوجوانوں کو آن لائن نقصانات سے بچانے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے عملی اطلاق، عمر کی مؤثر تصدیق کے نظام، رازداری کے تحفظ اور تکنیکی نفاذ کے حوالے سے عوامی اور قانونی سطح پر بحث جاری ہے۔
پابندی لگانے والے ممالک کی پیروی
کئی یورپی اور دیگر ممالک میں کمسن بچوں کے لئے سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کیا جارہا ہے اس حوالے سے کچھ ممالک نے پابندیاں عائد کی ہیں کئی ممالک قانون سازی پر غور کررہے ہیں۔
آسٹریلیا وہ پہلا ملک تھا سال سے سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے 10 دسمبر 2025 کوسوشل میڈیا تک رسائی پر مکمل پابندی عائد کی تھی۔
اس پابندی کے تحت فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز پر 16 سال سے کم عمر کے صارفین کے اکاؤنٹس کو روکا یا ختم کیا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کے بعد اسپین یورپ کا پہلا ملک تھا جس نے سولہ سال کی عمرکے بچوں تک سوشل میڈیا کی آزادانہ رسائی کو محدود بنانے کا اعلان کیا تھا۔
ہسپانوی حکومت کہتی ہے کہ اس پابندی کا مقصد بچوں کو آن لائن نقصان دہ مواد اور غلط اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
اسی طرح کی پابندیاں فرانس بھی عائد کرچکا ہے جبکہ برطانیہ، ڈنمارک اور ناروے جسے ممالک میں بھی کمسن بچوں تک سوشل میڈیا کی رسائی کو محدود کرنے پر غور کیا جارہا ہے ۔







