اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا، جھوٹی خبروں اور بدلتی ہوئی ڈیجیٹل دنیا نے صحافت کو ایک نئے اور مشکل دور میں داخل کر دیا ہے۔ ادارے کے مطابق اگرچہ روایتی میڈیا شدید مالی اور پیشہ ورانہ دباؤ کا شکار ہے، لیکن درست، غیر جانبدار اور قابل اعتماد صحافت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
یونیسکو کوریئر کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی خصوصی رپورٹ ’کیا صحافت پرانی خبر بن چکی ہے؟‘ میں کہا گیا ہے کہ آج دنیا بھر میں لوگ خبروں کے لیے پہلے کی نسبت زیادہ سوشل میڈیا، ویڈیو پلیٹ فارمز، پیغام رسانی کی ایپس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سرچ ٹولز استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث روایتی اخبارات، ٹیلی ویژن اور نیوز ویب سائٹس کے ناظرین اور قارئین کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں رائٹرز انسٹی ٹیوٹ کی 2025 کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں پہلی مرتبہ سوشل میڈیا خبروں کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا ہے اور دنیا بھر میں 25 سال سے کم عمر نوجوانوں کی تقریباً نصف تعداد خبروں کے لیے بنیادی طور پر سوشل میڈیا پر انحصار کرتی ہے۔ یہ رجحان افریقہ، لاطینی امریکہ اور ایشیا کے کئی ممالک میں زیادہ نمایاں ہے۔
رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی نئے سرچ اور چیٹ ٹولز بھی لوگوں کے معلومات حاصل کرنے کے طریقے کو تبدیل کر رہے ہیں۔ یہ نظام مختلف ذرائع سے معلومات جمع کر کے مختصر جواب فراہم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے صارفین اصل ویب سائٹس پر کم جا رہے ہیں۔ اس سے میڈیا اداروں کی ویب ٹریفک اور اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں ایک اور تشویش ناک رجحان خبروں سے لوگوں کی دوری ہے۔ 2025 کی تحقیق کے مطابق ہر دس میں سے چار افراد جان بوجھ کر خبروں سے گریز کرتے ہیں، جبکہ 2017 میں یہ شرح 29 فیصد تھی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ مسلسل منفی خبریں انہیں پریشان، بے بس اور ذہنی دباؤ کا شکار کر دیتی ہیں، جبکہ کئی افراد کے نزدیک خبریں بار بار ایک ہی موضوع کو دہراتی ہیں اور ان کی روزمرہ زندگی سے زیادہ تعلق نہیں رکھتیں۔

یونیسکو کے مطابق خبروں سے اس دوری کا نقصان صرف میڈیا تک محدود نہیں بلکہ جمہوری نظام بھی اس سے متاثر ہوتا ہے، کیونکہ جب شہری مستند معلومات سے دور ہو جاتے ہیں تو وہ افواہوں، سازشی نظریات اور گمراہ کن مہمات کا آسان شکار بن سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عوام کا روایتی میڈیا اداروں پر اعتماد بھی کئی ممالک میں کم ہوا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل اب اداروں کے بجائے انفرادی شخصیات، یوٹیوبرز، پوڈ کاسٹرز، انفلوئنسرز اور آن لائن مواد تیار کرنے والوں پر زیادہ اعتماد کرنے لگی ہے۔ اگرچہ ان میں سے بعض افراد معیاری معلومات فراہم کرتے ہیں، لیکن ان پر صحافتی ضابطہ اخلاق، حقائق کی تصدیق اور غیر جانبداری کی وہ ذمہ داریاں عائد نہیں ہوتیں جو روایتی صحافیوں پر ہوتی ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے جعلی تصاویر، ویڈیوز، آوازوں اور ڈیپ فیک مواد کی تیاری کو انتہائی آسان بنا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں آن لائن جھوٹی معلومات کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سروے کے مطابق 58 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ ان کے لیے انٹرنیٹ پر سچی اور جھوٹی خبر میں فرق کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
یونیسکو کے مطابق اگر عوام مستند ذرائع پر اعتماد کھو دیں تو پیشہ ورانہ صحافت کی اہمیت مزید کمزور ہو سکتی ہے، اسی لیے حقائق کی تصدیق اور قابل اعتماد رپورٹنگ کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ میں صحافیوں کو درپیش خطرات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ یونیسکو کی عالمی رپورٹ کے مطابق 2022 سے 2025 کے دوران جنگی علاقوں میں رپورٹنگ کرتے ہوئے 186 صحافی مارے گئے، جو گزشتہ عرصے کے مقابلے میں 67 فیصد زیادہ ہیں۔ اسی طرح خواتین صحافیوں کو آن لائن ہراسانی کا سامنا بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 2025 میں 75 فیصد خواتین صحافی کسی نہ کسی شکل کی آن لائن تشدد یا ہراسانی کا شکار ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق صحافیوں پر حملے صرف جنگی علاقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ انہیں روزانہ کی بنیاد پر جسمانی تشدد، آن لائن ہراسانی، قانونی مقدمات، دھمکیوں اور دیگر دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی صحافی اپنی جان بچانے کے لیے اپنے گھر اور ملک چھوڑنے پر بھی مجبور ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماحولیاتی مسائل پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی بھی بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ 2009 سے 2023 کے دوران ایسے صحافیوں پر 749 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ اگرچہ مجرموں کو سزا دینے کی شرح میں معمولی بہتری آئی ہے، تاہم اب بھی صحافیوں کے خلاف جرائم کے زیادہ تر ملزمان سزا سے بچ جاتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ عالمی سطح پر صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے لیے مختلف معاہدے اور وعدے کیے گئے ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد اب بھی ناکافی ہے۔ 2012 میں صحافیوں کے خلاف جرائم میں سزا نہ ملنے کی شرح 95 فیصد تھی، جو 2024 میں کم ہو کر 85 فیصد رہ گئی ہے، تاہم اس معمولی بہتری کے باوجود زیادہ تر حملہ آور آج بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔
یونیسکو کا کہنا ہے کہ آزادیٔ اظہار کو درپیش بڑھتے خطرات کے باوجود کچھ مثبت پیش رفت بھی سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2020 سے 2025 کے درمیان مزید ڈیڑھ ارب افراد کو سوشل میڈیا اور پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل ہوئی، جس سے معلومات تک رسائی کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یونیسکو کے مطابق متعدد میڈیا اداروں نے غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حقائق کی جانچ کرنے والی خصوصی ٹیمیں بھی قائم کی ہیں، جو جعلی خبروں اور گمراہ کن مواد کی نشاندہی کر کے درست معلومات عوام تک پہنچا رہی ہیں۔
یونیسکو کا کہنا ہے کہ ان تمام مشکلات کے باوجود صحافت ختم نہیں ہو رہی بلکہ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ دنیا بھر کے کئی میڈیا ادارے ویڈیو صحافت، پوڈ کاسٹس، نیوز لیٹرز، وضاحتی صحافت اور کمیونٹی پر مبنی رپورٹنگ جیسے نئے طریقے اپنا رہے ہیں تاکہ نوجوان نسل سے بہتر رابطہ قائم کیا جا سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کئی معروف ادارے کم مگر معیاری خبریں شائع کرنے کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر مشترکہ تحقیقی صحافت بھی فروغ پا رہی ہے، جہاں مختلف ممالک کے صحافی مل کر کرپشن، منظم جرائم، ماحولیاتی مسائل اور غلط معلومات کے خلاف تحقیق کر رہے ہیں۔
نیویارک کے معروف جریدے ’دی نیو یارکر‘ کے فیکٹ چیکنگ شعبے کے سربراہ فرگس میک انٹوش نے رپورٹ میں کہا ہے کہ حقائق کی جانچ ایک گاڑی کو ورکشاپ میں کھول کر ہر پرزے کی جانچ کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اگر چھوٹے حقائق غلط ہوں تو پوری خبر پر اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی انسانی فیکٹ چیکنگ کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ صحافت کے مستقبل کا انحصار صرف نئی ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کرنے پر ہے۔ اس مقصد کے لیے شفافیت، غیر جانبداری، درست معلومات، اخلاقی اصولوں کی پابندی اور عوامی مفاد کو ہر حال میں مقدم رکھنا ضروری ہے۔
یونیسکو نے حکومتوں، میڈیا اداروں اور تعلیمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ صحافت کے تحفظ، آزادی اظہار، میڈیا کی مالی مضبوطی، صحافیوں کی سلامتی، ڈیجیٹل شفافیت اور میڈیا خواندگی کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ معاشرے کو مستند اور قابل اعتماد معلومات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ ادارے کے مطابق تیزی سے بدلتی دنیا میں صحافت کی شکل ضرور بدل رہی ہے، لیکن سچائی کی تلاش، حقائق کی جانچ اور عوام کو درست معلومات فراہم کرنے کی بنیادی ذمہ داری آج بھی پہلے کی طرح اہم ہے۔








