جین زیوں کا پیغام: ‘بھاڑ میں جائو بوڑھوں’

گذشتہ کئی روز سے سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا سمیت عام لوگوں میں زورین نظامانی کا پاکستان کے معروف انگریزی اخبار روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہونے والا مضمون ‘It is over’ زیر بحث ہے۔ بظاہر اس مضمون میں کوئی خاص دلیل، حوالہ یا جواز موجود نہیں، مگر یہ سوشل میڈیا بالخصوص ایکس پر سرگرم یا ایکس کی سرگرمیوں سے متاثر ایک زیر تعلیم لڑکے کے ہیجانی جذبات کا اظہار ہے۔

انسانی فطرت میں ہر نوجوان عمر کے اس حصے میں اسی طرح کے جذبات ظاہر کرتا ہے، بالخصوص جب خاندانی، اخلاقی، معاشرتی اور اصلاحی تربیت موجود نہ ہو تو صورتحال زیادہ سنگین ہو جاتی ہے۔

اسی لیے بزرگ کہتے ہیں کہ باپ ماں کے جوتے یا کپڑے اولاد کو پورے آجائیں تو ماں باپ کو فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔ عمر کا یہی حصہ انسان کو باغی یا خودسر ہونے پر مجبور کرتا ہے۔ ماضی کے مقابلے میں لڑکپن اور نوجوان نسل کے لیے خطرات اس لیے بھی بڑھ گئے ہیں کہ اب ہر چیز تک رسائی انگلیوں کے پوروں پر ہے۔

مجموعی طور پر مضمون میں کوئی ایسی غیر معمولی بات نہیں کہ وہ سب سے بڑا ایشو بن جائے، مگر 420 توپوں کی سلامی ان لوگوں کو جنہوں نے اخبار کی ویب سائٹ سے مضمون ہٹوا دیا اور یوں یہ مضمون پورے پاکستان میں زبان زد عام ہو گیا۔

مضمون کے نکات اور جواب

1۔ مضمون پر غور کیا جائے تو چند اصطلاحات ہی اصل بحث کا مرکز ہیں، جن میں بومرز 1946 سے 1964، جین زی 1997 سے 2012 اور جین الفا 2013 سے تاحال پیدا ہونے والی نسلیں شامل ہیں۔ تاہم جین ایکس 1965 سے 1980 اور جین ملینیلز 1981 سے 1996 تک کی نسل کو نظرانداز کرتے ہوئے ان کا رد کر دیا گیا ہے اور اہلیت و معیار صرف جین زی اور جین الفا کو قرار دیا گیا ہے۔

مضمون میں سب سے زیادہ نشانہ بومرز کو بنایا گیا ہے۔

جدید انٹرنیٹ کلچر میں بومر کا لفظ اکثر بزرگوں یا روایتی سوچ رکھنے والوں کے لیے طنزاً استعمال ہوتا ہے، جیسے او بومرز، اٹ از اوور بومرز یا بائے بائے بومرز۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں بومرز یا بیبی بومرز سے مراد دوسری جنگ عظیم کے بعد 1946 سے 1964 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل ہے۔

یوں مضمون میں بادی النظر جین زیوں کی جانب سے واضح پیغام یہی ہے کہ بھاڑ میں جائے بوڑھوں، ہماری جان چھوڑو، تمہارا دور ختم ہے اور تم اس زمین پر بوجھ ہو۔ بظاہر نشانہ اقتدار کے لوگ ہیں، مگر اقتدار کی سطحیں گھر سے لے کر اقوام عالم تک پھیلی ہوئی ہیں، لہٰذا یہ پیغام سب کے لیے ہے۔

یہ پیغام دیتے وقت شاید جین زی یہ بھول گئے کہ مہذب معاشروں میں اس نسل کو بوجھ نہیں بلکہ تخلیق کار سمجھا جاتا ہے اور اہم ذمہ داریاں اکثر انہی کے سپرد کی جاتی ہیں، کیونکہ یہ نسل زندگی کے ہر امتحان سے گزر کر پختگی کو پہنچ چکی ہے۔

اتفاق سے زورین نظامانی کے والد قیصر نظامانی اور والدہ فضیلہ قاضی بھی اسی نسل کے قریب ہیں۔ بادی النظر زورین نظامانی یا ان کے حامی یہی پیغام دے رہے ہیں کہ بھاڑ میں جائے بوڑھوں، ہماری جان چھوڑو، تمہارا دور ختم ہے اور تم زمین پر بوجھ ہو۔

2۔ مضمون کے آغاز میں یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ بوڑھوں کے ٹولے کے لیے اب سب ختم ہو چکا ہے، جین زی تم سے کچھ خریدنے کو تیار نہیں اور بیچنے کی کوشش بھی نہ کرنا۔ تمہارے دروس، اصلاحی پیغامات اور قوم و ملک سے محبت کی باتیں غیر ضروری اور لایعنی ہیں۔

اس پیغام کے وقت جین زی یہ بھول گئے کہ انہوں نے ابھی شعوری زندگی میں قدم بھی نہیں رکھا۔ وہ ابھی تربیتی اور لاابالی دور سے گزر رہے ہیں۔ آج جس مال و دولت، تعلیم، جاہ و حشم کی بات کی جا رہی ہے وہ سب بومرز، جین ایکس یا جین ملینیلز ہی کی مرہون منت ہے۔

زورین نظامانی سے ہی پوچھا جائے کہ پاکستان سے امریکہ تک ان کی تعلیم و تربیت میں ان کے والدین نے کیا قربانیاں دیں۔

3۔ مضمون میں جین زی نے جدید ایجادات اور انٹرنیٹ پر فخر کرتے ہوئے بادی النظر یہ پیغام دیا ہے کہ ہمارے پاس جدید دنیا ہے اور جب تم اس عمر میں تھے تو ان سہولیات سے محروم تھے۔ گویا یہ محض ایک پھبتی ہے۔

اے کاش جین زی یہ سوچتے کہ یہ ایجادات کس کی ہیں۔ کیا یہ جین زی کی ہیں یا بومرز، جین ایکس اور جین ملینیلز کی۔ جین زیو، تمہارا وجود بھی انہی نسلوں کی مرہون منت ہے۔ شاید تمہیں اندازہ نہیں کہ اس وجود کو یہاں تک پہنچانے کے لیے کن تکالیف سے گزرنا پڑا۔ تم اپنی ساری زندگی لگا کر بھی ان کی ایک رات یا ایک تکلیف کا قرض ادا نہیں کر سکتے۔

4۔ مضمون میں جین زی یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ وہ جدید ذرائع سے زندگی میں آگے بڑھ رہے ہیں، مگر جس معیشت کو وہ وراثت میں لے رہے ہیں وہ انہی نسلوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ یہ پیغام بھی انہی کے کندھوں پر سوار ہو کر دیا جا رہا ہے۔ اگر ذرا سی لغزش ہو جائے تو جین زی تباہی کے پاتال میں جا سکتے ہیں، مگر بڑی نسلیں جین زی کی طرح بے رحم اور لاابالی نہیں ہیں۔

5۔ مضمون میں یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ اب کوئی کسی کو سن نہیں رہا، کیوں کہ جین زی کے ہیڈ فون لگے ہیں اور اسپاٹیفائی چل رہا ہے۔ گویا سماعت، بصارت اور شعور پر ہیڈ فون کی مہر لگ چکی ہے۔ ایسی کیفیتیں پاگلوں یا جانوروں میں پائی جاتی ہیں۔

6۔ آخری پیغام یہ ہے کہ اگر حالات ناقابل برداشت ہوئے تو وسائل والے لوگ ملک چھوڑ جائیں گے اور باقی لوگ زندگی اجیرن کر دیں گے۔ جن وسائل کی بات کی جا رہی ہے وہ بھی انہی نسلوں کی کمائی ہے، اس لیے اس طرز فکر کو لاابالی پن ہی کہا جا سکتا ہے۔

7۔ جین زی کے حامی کچھ مبینہ کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہیں، جیسے 2011 کی عرب بہار، سوڈان، سری لنکا، نیپال اور بنگلہ دیش کی تبدیلیاں۔ مگر ان مثالوں سے پہلے لیبیا، یمن، سوڈان اور دیگر ممالک کی خانہ جنگیوں، تباہی اور معاشی زوال پر بھی غور ضروری ہے۔

خلاصہ

اول، بومرز، جین ایکس یا جین ملینیلز نہیں ہارے، بلکہ جین زی نے اپنی کاہلی اور خود غرضی کا اعتراف کیا ہے۔
دوم، یہ کہنا کہ مضمون غیر سیاسی تھا، سراسر غلط ہے، یہ مکمل سیاسی تحریر ہے اور ممکن ہے نوجوان لکھاری غیر دانستہ استعمال ہوا ہو۔
سوم، جین زی کے مسائل پر توجہ ضروری ہے مگر گھر، علاقہ، ملک یا دنیا کا نظام مکمل طور پر ان کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
چہارم، ان کی تعلیم و تربیت کے لیے مناسب اور سنجیدہ انتظام ناگزیر ہے۔

 

اسی بارے میں: