Tag: سانحہ گل پلازہ

  • ‘آگ میں پھنسے لوگ سیکنڈ فلور سے موبائل کی لائٹس آن کرکے مدد مانگ رہے تھے’ : سانحہ گل پلازہ عدالتی کمیشن کو لحواقین نے کیا بیانات دیے؟

    ‘آگ میں پھنسے لوگ سیکنڈ فلور سے موبائل کی لائٹس آن کرکے مدد مانگ رہے تھے’ : سانحہ گل پلازہ عدالتی کمیشن کو لحواقین نے کیا بیانات دیے؟

    گذشتہ مہینے کراچی کی اہم مارکٹ گل پلازہ میں ہونے والے آتشزدگی کی تحقیقات کرنے والی عدالتی کمیشن کے سامنے پیر کو بیان رکارڈ کراتے ہوئے مرنےوالوں کے لواحقین نے امدادی کارروائی میں تاخیراور انتظامی غفلت کا الزام عائد کیا۔

    جسٹس آغا فیصل پر مشتمل عدالتی کمیشن کے سامنے 23 متاثرین نے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔

    صدر کے علاقے میں واقع گُل پلازہ میں 17 جنوری کو آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، پلازے میں جیولری، گھریلو اشیا، کمبل، قالین، بیگز، کراکری اور دیگر مصنوعات کی سینکڑوں دکانیں تھیں جو جل کر خاکستر ہو گئی ہیں جبکہ عمارت کا کچھ حصہ بھی آگ کی وجہ سے گر گیا ہے۔

    سرکاری اعدد و شمار کے مطابق 79 افراد ہلاک ہوئے۔

    کمیشن نے متاثرین سے کہا کہ اس کمیشن کامقصد ہے کہ آئندہ ایسے سانحات نہ ہوں،ہم آپ سے کچھ معلومات چاہتے ہیں ہم آپ کوسوال نامہ دے دیتےہیں۔ ‘ آپ چاہیں تو سوالات کے جواب ہم سے لکھوالیں یاکسی اور سے لکھوالیں،جولواحقین یہاں نہیں ہیں انھیں بھی اگاہ کریں،ہم حکومت سمیت سب سے معلومات حاصل کریں گے ،ایمبولینس والوں سے بھی جواب لیں گے۔’

    مرنے والے حمید کے بھائی نے بتایا کہ: ‘ایک بجے رات اندر پھنسے ہوئے لوگوں سے رابطہ قائم رہا اور مسجد کی جگہ پر کئی افراد نے پناہ لی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یونین عہدیدار کا دعویٰ تھا کہ دروازے کھلے تھے مگر ہم نے دیکھا دروازے بند تھے۔’

    محمد حفیظ نامی شہری نے بتایا کہ ان کا بیٹا عابد دبئی کراکری میں کام کرتا تھا،اس کی لاش تک نہ مل سکی، ڈین اے میچ ہونے پر موت کی تصدیق ہوئی۔

    ایک دکاندار عامر علی کے بھائی نے بتایا کہ رات تین بجے بھائی کا موبائل فون آن تھا اور اس پر کال جارہی تھی۔

    عینی شاہدین نےیہ بھی بتایا کہ ‘کئی افراد سیکنڈ فلور سے موبائل کی لائٹس آن کرکے مدد کے لئے پکارتے رہے مگر دھواں بھرجانے کی وجہ سے کوئی مدد کے لئے آگے نہیں جاسکا۔’

    شاہد علی نے بتایا کہ سانحے میں ان کا بیٹا، بہو اور پوتا جاں بحق ہوئےہیں وہ شاپنگ کے لئے گئے تھے،جب وہ گل پلازہ پہنچے تو فائر بریگیڈ کی صڑف ایک گاڑی ایم اے جناح روڈ پر موجود تھی اور اس میں پانی ختم ہوچکا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عقبی حصے کی طرف سے آگ نہیں بجھائی جبکہ بیسمنٹ سے آگ کے شعلے بلند ہورہے تھے۔

    محمد عروا نے بتایا کہ میرا بھائی تو مسجد کے راستے سے باہر نکل آیا مگر والد نہں نکل سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر لگ رہا تھا ریسکیو اہلکار تربیت یافتہ نہیں ہیں،فاہر بریگیڈ کی دوسری گاڑی 45 منٹ بعد پہنچی، لوگ جل رہے تھے اور ریسکیو اہلکارانہیں جلتا دیکھ رہے تھے۔

    عبدالحفیظ نامی شہری نے بتایا کہ سانحے میں ان کے داماد محسن جاں بحق ہوئے جب آگ لگی تو فائر بریگیڈ افسر نے کہا کہ ہمارے پاس پانی بھی نہیں اور ڈیزل بھی ختم ہوچکا ہے آپ لوگ انتظام کریں۔

    شہری نے انتظامیہ اور حکومت سے شکوہ کیا کہ کم از کم فائر بریگیڈ کو اتنا تو فعال کریں کہ ان کے پاس مطلوبہ مقدار میں موجود ہو۔

    کمیشن نے استفسار کیاکہ یہ اپ کو کس نے کہاں ؟ شہری کا کہن اتھا کہ مجھ سے فائر بریگیڈ والوں نے کہاں کہ پانی کا بندوبست کریں

    ہمارا فجر تک محسن سے رابطہ تھا ،اس سوال پر کہ آپ کا براہ راست رابطہ تھا ؟ شہری نت کہا کہ ان سے میرا ڈائریکٹ رابطہ نہیں تھا لیکن وہاں ایک لڑکا سعد موجود تھا وہ فجر تک زندہ تھا اور کہہ رہا تھا کہ محسن بھی ہمارے ساتھ ہے ہمیں بچائیں۔

    ایک متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ پانی صرف دیواروں پر مارا جارہا تھا، ایک اور شخص نے کہا کہ وہ اپنے ایک عزیز کے ساتھ رمپا پلازہ کے راستے گل پلازہ کی چھت تک پہنچنے میں کاہیاب ہوگیا تھا۔

    صائمہ نامی خاتون نے بتایا کہ ان کا بیٹا انس آگ لگنے کے بعد بھی بڑی دیر تک رابطے میں تھا۔ میرے بیٹے نے کہاں کہ امی یہاں فائربریگیڈ کے پاس پانی بھی ختم ہوگیا ہے۔

    خاتون یہ بتاتے ہوئے زار و قطار روتی رہیں کہ ان بیٹا اندر سے مدد کے لئے پکارتا رہا ہم اسے نہیں بچا سکے۔

    گل پلازہ آگ میں جھلس کر جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین میں بیشتر نے انتظامی غفلت کی شکایت کی اور بتایا کہ آگ بجھانے کے لئے پانی بار بار ختم ہوتا رہا، دھواں بھر جانے کی وجہ سے کوئی اندر داخل نہیں ہوپارہا تھا۔

    اگر ریسکیو اہلکار تربیت یافتہ اور جدید آلات سے لیس ہوتے تو صورت حال مختلف ہوسکتی تھی۔

    عدالتی کمیشن نے لواحقین کو ایک سوالنامہ بھی دیا یے اور ہدایت کی کہ اسے پر کرکے ڈی سی سائوتھ کے دفتر میں جمع کرائیں۔

  • سانحہ گل پلازہ-ایک بچے کی غلطی سے فلاور شاپ میں آگ لگی جو تیزی سے پھیل گئی

    سانحہ گل پلازہ-ایک بچے کی غلطی سے فلاور شاپ میں آگ لگی جو تیزی سے پھیل گئی

    کمشنر کراچی کی جانب سےتیار کی گئی حتمی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے ایک بچے کی وجہ سے گرائونڈ فلور پر ایک فلاور شاپ میں آگ لگی تھی جو تیزی سے پھیل گئی،
    کمشنر کراچی کی رپورٹ میں آگ لگنے کی وجوہات، آگ بجھانے ریسکیو سے متعلق تفصیلات شامل ہیں، عینی شاہدین اور ریسکیو کی مکمل تفصیلات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں، کمشنر کراچی کی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں آگ رات دس بج کر پندرہ منٹ پر لگی، رات 10:26 پر فائر بریگیڈ کو آگ کی اطلاع ملی اور پہلا فائر ٹینڈر گیارہ منٹ کے اندر پہنچا ۔ پہلا فائر ٹینڈر 10:37 منٹ پر گل پلازہ پہنچا تھا ،ریسکیو 1122 کا عملہ 10:53 پر گل پلازہ پہنچا، تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آگ گرائونڈ فلور پر لگی جو ائیر کنڈیشنز کے ڈکٹس کی طرف س پھیلتی چلی گئی، سانحے میں 79 افراد جاں بحق ہوئے ، سب سے ذیادہ اموات میزنائن فلور پر ہوئی ہیں،یہ رپورٹ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل کمیٹی نے تیار کی ہے جو وزیراعلی سندھ کو پیش کی جائےگی۔

  • سابق ایس ایس پی نیاز احمد کھوسہ سانحہ گل پلازہ کو  بھتے کے لیے جلائی جانے والے بلدیہ فیکٹری سے جوڑتے ہیں

    سابق ایس ایس پی نیاز احمد کھوسہ سانحہ گل پلازہ کو بھتے کے لیے جلائی جانے والے بلدیہ فیکٹری سے جوڑتے ہیں

    1. سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کے وقت میری پوسٹنگ ایس ایس پی اے وی سی سی کراچی تھی، اُس وقت ہمارے ایڈیشنل آئی جی اقبال محمود صاحب تھے۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی نے ہمارے ڈی آئی جی جناب منظور مغل صاحب کے ذمے لگایا کہ آپ فاروق اعوان صاحب اور نیاز کو لے کر جائے وقوع پر جائیں اور اپنی طرف سے ایک آزادانہ انکوائری کر کے رپورٹ بھی دیں اور منظور مغل صاحب نے میرے ذمے لگایا کہ آپ ایس ایچ او کو بلا کر ایف آئی آر ڈرافٹ کر دیں۔

    سب کے علم میں ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری بھتہ نہ دینے کی وجہ سے ہوا اور 266 افراد کو کس نے سفاکانہ طریقے سے دروازوں کو تالے لگا کر کیمیکل کی آگ کی نذر کر دیا گیا تھا اور 2012 میں بھی بلدیہ فیکٹری کی آگ تین دن تک جلتی رہی کیونکہ کیمیکل سے لگائی گئی آگ آسانی سے بجھتی نہیں۔

    کیس کی تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ فیکٹری کے مالکان سے 200 کروڑ کیش، فیکٹری میں 50 فیصد مالکانہ حقوق اور فیکٹری کا اکاؤنٹنٹ اُن کی مرضی کا تعینات ہوگا کی ڈیمانڈ کی گئی تھی جس پر مالکان راضی نہ ہوئے، اُس کی پاداش میں فیکٹری کو آگ لگائی گئی اور آگ کے لیے ایک ایسے دن کا انتخاب کیا گیا جس دن ریشمی کپڑے کے دو ٹرک اترے ہوئے تھے۔ دو ٹرکوں میں سے ایک ٹرک کا مال اوپر کی منزل پر پہنچ چکا تھا اور دوسرے ٹرک کا مال ابھی گراؤنڈ فلور پر آف لوڈ ہو رہا تھا۔ ریشمی کپڑے نے پیٹرول سے بھی زیادہ آگ کو بڑھانے کا کام کیا جس کے نتیجے میں 266 افراد ہلاک ہوئے اور 100 سے زائد وہ زندہ بچ جانے والے افراد ہیں جن کا نچلا دھڑ نہیں ہے اور وہ آگ کی نذر ہو چکا ہے اور ابھی تک کسمپرسی اور اپاہجی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

    گل پلازہ کے مالکان کا تعلق گھوم پھر کر کسی نہ کسی طرح جا کر بلدیہ فیکٹری سے بھتہ کی ڈیمانڈ اور بعد میں فیکٹری کو آگ لگانے والوں اور اُن کے ماسٹر مائنڈ سے جا کر ملتا ہے۔ گل پلازہ کی عمارت میں کل 1200 دکانیں تھیں، اگر ایک دکان کا اوسطاً ایک لاکھ روپیہ ماہانہ کرایہ لگایا جائے تو ایک ماہ میں 12 کروڑ کی خطیر رقم کا کرایہ بنتا ہے۔ جب گراؤنڈ پلس تھری کی عمارت میں 1200 دکانیں بن سکتی ہیں تو گراؤنڈ پلس الیون یا ٹویلول کی عمارت میں کتنی دکانیں بنیں گی؟ اور مستقبل میں بننے والی دکانوں سے کم از کم پچاس کروڑ ماہانہ کرایہ لینے کی پلاننگ کے بعد ہی گل پلازہ کو نذرِ آتش کرنے کا پلان بنایا گیا ہوگا۔

    بلدیہ فیکٹری میں دو شفٹوں میں کام ہوتا تھا، پہلی شفٹ کے اینڈنگ ٹائم شام 06:30 پر سارے دروازوں پر تالے لگا کر فیکٹری کو آگ لگائی گئی تھی اور عین اسی طرح گل پلازہ کے اینڈنگ ٹائم رات 10:15 پر آگ لگی اور ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا صاحب کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کے 16 گیٹ میں سے 13 گیٹ پر تالے لگے ہوئے تھے۔

    بلدیہ فیکٹری میں روزانہ 1500 سے 2000 افراد کام کرتے تھے۔ واقعے والے دن پہلی شفٹ میں صرف 800 افراد موجود تھے، پھر بھی ہلاکتیں تقریباً 266 ہوئیں۔ جب گرفتار ملزمان سے پوچھا گیا کہ یہ رعایتکیوں دی گئی، تو انہوں نے بتایا کہ ماسٹر مائنڈ نے ہدایت کی تھی کہ "رحم دلی سے کام لیتے ہوئے، شفٹ ختم ہونے پر زیادہ تر کارکنوں کو جانے دیا جائے تاکہ ہلاکتیں کم ہوں۔ٹھیک اسی طرح گل پلازہ میں بھی بند ہونے کے وقت آگ لگائی گئی تاکہ اموات کم ہوں۔ اگر 1200 دکانوں پر صرف دو دو افراد بھی کام کر رہے ہوتے، تو صرف دکاندار اور کارندوں کی تعداد ہی 2400 ہوتی!!!! گاہک اور خریدار الگ ہزاروں میں ہوتے۔

    اگر بلدیہ فیکٹری کی طرح گل پلازہ کی آگ کی بھی مناسب اور غیر جانبدارانہ تفتیش ہوئی اور ملزمان گرفتار ہوئے!! تو یہ بات ضرور سامنے آئے گی کہ جانی نقصان کم کرنے کے لیے ہی رات 10:15 بجے کا وقت چنا گیا تھا، تاکہ "ایک تیر سے دو شکارہو سکیں: ایک طرف مالی فائدہ حاصل کیا جائے اور دوسری طرف ہلاکتوں کے ذریعے توجہ بھٹکائی جا سکے۔ یہ واقعہ رات کے کسی بھی ایسے وقت ہو سکتا تھا جب عمارت بالکل خالی ہوتی اور جانی نقصان صفر ہوتا۔ لیکن اگر جانی نقصان صفر ہوتا، تو نئے صوبے یا کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کا واویلا کون کرتا۔

    اگر بدقسمتی سے کراچی کو الگ صوبہ بنا دیا گیا، تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ ایسے میں لوگ صومالیہ کی مثال کو بھی بھول جائیں گے، کیونکہ کراچی خود ایک انتہائی غیر مستحکم اور متنازع خطہ بن جائے گا۔ صوبے کے قیام کے فوراً بعد ہی، اندرونی تقسیم کی سیاست عود کر آئے گی:

    لیاری کے بلوچ مطالبہ کریں گے کہ لیاری کو الگ صوبہ بنایا جائے۔ سہراب گوٹھ، کٹی پہاڑی اور شیریں جناح کالونی کے پٹھان اپنے لیے تین الگ صوبوں کا مطالبہ کریں گے۔ اسی طرح جن علاقوں میں پنجابی اکثریت میں ہیں وہ اپنے لیے الگ صوبہ کا مطالبہ کریں گے۔

    یوں، صوبہ بننے کا یہ عمل شہر کو مزید ٹکڑوں میں بانٹنے اور دائمی تنازعات کی بنیاد رکھنے کا کام کرے گا۔

    اصل سوال یہ ہے کہ اس ممکنہ "صوبےکی باگ دوڑ کس کے ہاتھ میں ہوگی؟ اگر یہ کراچی انہی طاقتوں کے حوالے کر دیا گیا، جو کہ بھتہ خور ہیں، بوری بند لاشوں کے ذمہ دار ہیں، بلدیہ ٹاؤن فیکٹری جیسے سانحوں کے مجرم ہیں، 12 مئی 2007 کو بے گناہ شہریوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے ہیں، 300 سے زائد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے قاتل ہیں اور لیاری کے گینگسٹر یا سہراب گوٹھ، کٹی پہاڑی اور شیریں جناح کے منشیات فروش۔

    کیونکہ اگر کراچی شہر کی آبادی کو لسانی بنیادوں پر الگ صوبہ بنا کر دینا مقصود ہے تو کراچی شہر ہی صرف 4 یا 6 صوبوں میں بٹ جائے گا اور ان صوبوں کی باگ دوڑ جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہوگی ان سے تو شیطان بھی پناہ مانگے گا۔

    تو پھر ہمیں خود ہی سوچنا چاہیے کہ ہم اپنا اور اپنے شہر کا مستقبل کتنے محفوظ یا غیر محفوظ ہاتھوں میں دے رہے ہوں گے۔

  • سانحہ گل پلازہ: خواتین کے مقبول شاپنگ سینٹر میں لگی آگ چند منٹوں میں کیسے پھیلی؟

    سانحہ گل پلازہ: خواتین کے مقبول شاپنگ سینٹر میں لگی آگ چند منٹوں میں کیسے پھیلی؟

    کراچی میں گل پلازہ کو لگی آگ کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ یہ ایک تلخ اور دردناک حقیقت ہے کہ اب تک کئی خاندان اپنے پیاروں کی لاشیں نہیں ڈھونڈ سکے۔ بعض افراد مکمل طور پر جل چکے تھے، جس کے باعث شناخت ممکن نہ رہی۔ کئی مقامات پر انسانی جسموں کے جلے ہوئے اعضا ٹکڑوں کی صورت میں ملے۔ یہ سانحہ متاثرہ خاندانوں کی زندگی میں ایک ایسا گہرا دکھ چھوڑ گیا ہے جو شاید کبھی مٹ نہ سکے۔

    کراچی میں رپورٹنگ کرتے ہوئے 34 برس گزر چکے ہیں۔ اس دوران آتشزدگی کے بے شمار واقعات دیکھے۔ اسی لیے پہلے دن سے ایک سوال مسلسل ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ چار منزلہ عمارت کو آگ نے اتنی تیزی سے کیسے گھیر لیا کہ اندر موجود افراد کو نکلنے کا موقع تک نہ مل سکا۔

    ماضی کے سانحات کو سامنے رکھ کر جب گل پلازہ کے واقعے سے موازنہ کیا جاتا ہے تو ہر گزرتے دن شکوک مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ خدشہ یہی ہے کہ یہ آگ محض ایک حادثہ نہیں تھی۔ یہ بات دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ یہ اندیشہ غلط ثابت ہو۔ سوال مگر اپنی جگہ قائم ہے کہ آگ آخر لگی کیسے۔

    اب آہستہ آہستہ شواہد سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔ ایک فائر فائٹر کی ویڈیو میں بتایا گیا کہ اطلاع ملنے کے صرف پانچ منٹ بعد جب ٹیم موقع پر پہنچی تو عمارت چاروں اطراف سے آگ کی لپیٹ میں تھی۔ وہ خود اس بات پر حیران دکھائی دیا کہ آگ اتنی قلیل مدت میں اس قدر شدت سے کیسے پھیل گئی۔

    تفتیشی حکام اب یہ کہہ رہے ہیں کہ آگ بجلی کے شارٹ سرکٹ سے نہیں لگی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق پلاسٹک کے پھولوں کو ماچس یا لائٹر سے آگ لگائی گئی۔ پولیس تخریب کاری کے پہلو سے تحقیقات کر رہی ہے۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کاروبار بند ہونے کے بعد، جب دروازے مقفل ہوتے ہیں، آگ لگی کیسے، اور پھر چند ہی منٹوں میں پوری عمارت کیوں شعلوں میں گھِر گئی۔

    سیاسی بیان بازی سے ہٹ کر اگر ایک عام شہری کی نظر سے دیکھا جائے تو ذہن بلدیہ فیکٹری، بولٹن مارکیٹ، آر جے مال، ریجنٹ پلازہ اور لائٹ ہاؤس کی مارکیٹوں کے سانحات کی طرف جاتا ہے۔ ان واقعات میں بھی ابتدا میں حادثے کا تاثر دیا گیا، مگر بعد میں تخریب کاری کے شواہد سامنے آئے۔

    اندیشہ یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں گل پلازہ سانحے کے پس پردہ عوامل بھی واضح ہو جائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آگ لگنے کے ساتھ ساتھ آگ لگانے کے پہلو کو بھی سنجیدگی سے دیکھا جائے۔ تحقیقات میں تخریب کاری، دہشت گردی اور سیاسی یا معاشی مفادات کے ممکنہ گٹھ جوڑ کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

    یہ اسی شہر کی تلخ حقیقت ہے کہ ماضی میں وکلا کو ایک پلازہ میں بند کر کے آگ لگائی گئی۔ بلدیہ فیکٹری کے دروازے بند تھے جب آگ بھڑکی۔ ریجنٹ پلازہ میں سوئے ہوئے افراد بند دروازوں کے پیچھے آگ کے حوالے ہو گئے۔ ان سانحات کے پیچھے مختلف محرکات سامنے آئے، کہیں لالچ، کہیں بھتہ، کہیں قبضہ، اور کہیں کسی عمارت یا ہوٹل کو خالی کرانے کی کوشش۔

    آگ کے بعد ریجنٹ پلازہ دوبارہ بحال نہ ہو سکا۔ بلدیہ فیکٹری بھی دوبارہ چل نہ سکی۔ آج وہ عمارتیں ایک ویران اور خوفناک منظر پیش کرتی ہیں۔

    یہ شہر پہلے ہی بدانتظامی اور ناقص گورننس کا شکار رہا ہے، مگر اس کے ساتھ خوف اور عدم تحفظ کی فضا بھی بار بار لوٹ آتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس چہرے کو پہچانا جائے اور اس کا سنجیدگی سے سامنا کیا جائے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس بار بھی کوئی طاقتور کھیل کھیلا گیا ہے، جس کی قیمت عام شہریوں نے اپنی جانوں سے چکائی۔

  • سانحہ گل پلازہ: آگ بجھانے کے لیے ریسکیو 1122 کی خواتین فائر فائٹرز کو کتنی مشکلات پیش آئیں؟

    سانحہ گل پلازہ: آگ بجھانے کے لیے ریسکیو 1122 کی خواتین فائر فائٹرز کو کتنی مشکلات پیش آئیں؟

    یہ کہانی ریسکیو 1122 کے اُن فائر فائٹرز کی ہے جنہوں نے آگ کے واقعے کے دوران اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر لوگوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کی۔ ریسکیو آپریشن کے دوران اہلکاروں کو شدید دھوئیں، آگ اور خطرناک حالات کا سامنا رہا، جبکہ بعض مناظر ایسے تھے جو طویل عرصے تک ان کے ذہنوں میں محفوظ رہ گئے۔

    ریسکیو اہلکار عروسہ کے مطابق آگ کی شدت کے باعث ہر لمحہ خطرے سے بھرپور تھا۔ اُن کا کہنا ہے کہ انسانوں کو بچانے کی ذمہ داری نے انہیں کام جاری رکھنے کا حوصلہ دیا، حالانکہ کئی مقامات پر حالات انتہائی مشکل تھے۔

    عروسہ میمن نے بتایا کہ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اپنے دو سالہ کیریئر میں اس طرح کی صورتحال پہلے کبھی سامنے نہیں آئی۔ ریسکیو کے دوران اہلکاروں کو کام کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا، جبکہ پھنسے ہوئے افراد کی آوازیں اور اپنوں کی تلاش کے مناظر ماحول کو مزید سنگین بنا رہے تھے۔

    ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کے مطابق یہ کام محض ڈیوٹی نہیں بلکہ انسانی خدمت ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ ہر صورتحال میں خطرہ مول لے کر متاثرہ افراد تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہی جذبہ انہیں آخری لمحے تک ذمہ داری نبھانے پر قائم رکھتا ہے۔