یہ کہانی ریسکیو 1122 کے اُن فائر فائٹرز کی ہے جنہوں نے آگ کے واقعے کے دوران اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر لوگوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کی۔ ریسکیو آپریشن کے دوران اہلکاروں کو شدید دھوئیں، آگ اور خطرناک حالات کا سامنا رہا، جبکہ بعض مناظر ایسے تھے جو طویل عرصے تک ان کے ذہنوں میں محفوظ رہ گئے۔
ریسکیو اہلکار عروسہ کے مطابق آگ کی شدت کے باعث ہر لمحہ خطرے سے بھرپور تھا۔ اُن کا کہنا ہے کہ انسانوں کو بچانے کی ذمہ داری نے انہیں کام جاری رکھنے کا حوصلہ دیا، حالانکہ کئی مقامات پر حالات انتہائی مشکل تھے۔
عروسہ میمن نے بتایا کہ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اپنے دو سالہ کیریئر میں اس طرح کی صورتحال پہلے کبھی سامنے نہیں آئی۔ ریسکیو کے دوران اہلکاروں کو کام کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا، جبکہ پھنسے ہوئے افراد کی آوازیں اور اپنوں کی تلاش کے مناظر ماحول کو مزید سنگین بنا رہے تھے۔
ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کے مطابق یہ کام محض ڈیوٹی نہیں بلکہ انسانی خدمت ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ ہر صورتحال میں خطرہ مول لے کر متاثرہ افراد تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہی جذبہ انہیں آخری لمحے تک ذمہ داری نبھانے پر قائم رکھتا ہے۔
