Tag: آگ

  • ‘آگ میں پھنسے لوگ سیکنڈ فلور سے موبائل کی لائٹس آن کرکے مدد مانگ رہے تھے’ : سانحہ گل پلازہ عدالتی کمیشن کو لحواقین نے کیا بیانات دیے؟

    ‘آگ میں پھنسے لوگ سیکنڈ فلور سے موبائل کی لائٹس آن کرکے مدد مانگ رہے تھے’ : سانحہ گل پلازہ عدالتی کمیشن کو لحواقین نے کیا بیانات دیے؟

    گذشتہ مہینے کراچی کی اہم مارکٹ گل پلازہ میں ہونے والے آتشزدگی کی تحقیقات کرنے والی عدالتی کمیشن کے سامنے پیر کو بیان رکارڈ کراتے ہوئے مرنےوالوں کے لواحقین نے امدادی کارروائی میں تاخیراور انتظامی غفلت کا الزام عائد کیا۔

    جسٹس آغا فیصل پر مشتمل عدالتی کمیشن کے سامنے 23 متاثرین نے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔

    صدر کے علاقے میں واقع گُل پلازہ میں 17 جنوری کو آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، پلازے میں جیولری، گھریلو اشیا، کمبل، قالین، بیگز، کراکری اور دیگر مصنوعات کی سینکڑوں دکانیں تھیں جو جل کر خاکستر ہو گئی ہیں جبکہ عمارت کا کچھ حصہ بھی آگ کی وجہ سے گر گیا ہے۔

    سرکاری اعدد و شمار کے مطابق 79 افراد ہلاک ہوئے۔

    کمیشن نے متاثرین سے کہا کہ اس کمیشن کامقصد ہے کہ آئندہ ایسے سانحات نہ ہوں،ہم آپ سے کچھ معلومات چاہتے ہیں ہم آپ کوسوال نامہ دے دیتےہیں۔ ‘ آپ چاہیں تو سوالات کے جواب ہم سے لکھوالیں یاکسی اور سے لکھوالیں،جولواحقین یہاں نہیں ہیں انھیں بھی اگاہ کریں،ہم حکومت سمیت سب سے معلومات حاصل کریں گے ،ایمبولینس والوں سے بھی جواب لیں گے۔’

    مرنے والے حمید کے بھائی نے بتایا کہ: ‘ایک بجے رات اندر پھنسے ہوئے لوگوں سے رابطہ قائم رہا اور مسجد کی جگہ پر کئی افراد نے پناہ لی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ یونین عہدیدار کا دعویٰ تھا کہ دروازے کھلے تھے مگر ہم نے دیکھا دروازے بند تھے۔’

    محمد حفیظ نامی شہری نے بتایا کہ ان کا بیٹا عابد دبئی کراکری میں کام کرتا تھا،اس کی لاش تک نہ مل سکی، ڈین اے میچ ہونے پر موت کی تصدیق ہوئی۔

    ایک دکاندار عامر علی کے بھائی نے بتایا کہ رات تین بجے بھائی کا موبائل فون آن تھا اور اس پر کال جارہی تھی۔

    عینی شاہدین نےیہ بھی بتایا کہ ‘کئی افراد سیکنڈ فلور سے موبائل کی لائٹس آن کرکے مدد کے لئے پکارتے رہے مگر دھواں بھرجانے کی وجہ سے کوئی مدد کے لئے آگے نہیں جاسکا۔’

    شاہد علی نے بتایا کہ سانحے میں ان کا بیٹا، بہو اور پوتا جاں بحق ہوئےہیں وہ شاپنگ کے لئے گئے تھے،جب وہ گل پلازہ پہنچے تو فائر بریگیڈ کی صڑف ایک گاڑی ایم اے جناح روڈ پر موجود تھی اور اس میں پانی ختم ہوچکا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عقبی حصے کی طرف سے آگ نہیں بجھائی جبکہ بیسمنٹ سے آگ کے شعلے بلند ہورہے تھے۔

    محمد عروا نے بتایا کہ میرا بھائی تو مسجد کے راستے سے باہر نکل آیا مگر والد نہں نکل سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر لگ رہا تھا ریسکیو اہلکار تربیت یافتہ نہیں ہیں،فاہر بریگیڈ کی دوسری گاڑی 45 منٹ بعد پہنچی، لوگ جل رہے تھے اور ریسکیو اہلکارانہیں جلتا دیکھ رہے تھے۔

    عبدالحفیظ نامی شہری نے بتایا کہ سانحے میں ان کے داماد محسن جاں بحق ہوئے جب آگ لگی تو فائر بریگیڈ افسر نے کہا کہ ہمارے پاس پانی بھی نہیں اور ڈیزل بھی ختم ہوچکا ہے آپ لوگ انتظام کریں۔

    شہری نے انتظامیہ اور حکومت سے شکوہ کیا کہ کم از کم فائر بریگیڈ کو اتنا تو فعال کریں کہ ان کے پاس مطلوبہ مقدار میں موجود ہو۔

    کمیشن نے استفسار کیاکہ یہ اپ کو کس نے کہاں ؟ شہری کا کہن اتھا کہ مجھ سے فائر بریگیڈ والوں نے کہاں کہ پانی کا بندوبست کریں

    ہمارا فجر تک محسن سے رابطہ تھا ،اس سوال پر کہ آپ کا براہ راست رابطہ تھا ؟ شہری نت کہا کہ ان سے میرا ڈائریکٹ رابطہ نہیں تھا لیکن وہاں ایک لڑکا سعد موجود تھا وہ فجر تک زندہ تھا اور کہہ رہا تھا کہ محسن بھی ہمارے ساتھ ہے ہمیں بچائیں۔

    ایک متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ پانی صرف دیواروں پر مارا جارہا تھا، ایک اور شخص نے کہا کہ وہ اپنے ایک عزیز کے ساتھ رمپا پلازہ کے راستے گل پلازہ کی چھت تک پہنچنے میں کاہیاب ہوگیا تھا۔

    صائمہ نامی خاتون نے بتایا کہ ان کا بیٹا انس آگ لگنے کے بعد بھی بڑی دیر تک رابطے میں تھا۔ میرے بیٹے نے کہاں کہ امی یہاں فائربریگیڈ کے پاس پانی بھی ختم ہوگیا ہے۔

    خاتون یہ بتاتے ہوئے زار و قطار روتی رہیں کہ ان بیٹا اندر سے مدد کے لئے پکارتا رہا ہم اسے نہیں بچا سکے۔

    گل پلازہ آگ میں جھلس کر جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین میں بیشتر نے انتظامی غفلت کی شکایت کی اور بتایا کہ آگ بجھانے کے لئے پانی بار بار ختم ہوتا رہا، دھواں بھر جانے کی وجہ سے کوئی اندر داخل نہیں ہوپارہا تھا۔

    اگر ریسکیو اہلکار تربیت یافتہ اور جدید آلات سے لیس ہوتے تو صورت حال مختلف ہوسکتی تھی۔

    عدالتی کمیشن نے لواحقین کو ایک سوالنامہ بھی دیا یے اور ہدایت کی کہ اسے پر کرکے ڈی سی سائوتھ کے دفتر میں جمع کرائیں۔

  • سانحہ گل پلازہ-ایک بچے کی غلطی سے فلاور شاپ میں آگ لگی جو تیزی سے پھیل گئی

    سانحہ گل پلازہ-ایک بچے کی غلطی سے فلاور شاپ میں آگ لگی جو تیزی سے پھیل گئی

    کمشنر کراچی کی جانب سےتیار کی گئی حتمی تحقیقاتی رپورٹ منظر عام آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے ایک بچے کی وجہ سے گرائونڈ فلور پر ایک فلاور شاپ میں آگ لگی تھی جو تیزی سے پھیل گئی،
    کمشنر کراچی کی رپورٹ میں آگ لگنے کی وجوہات، آگ بجھانے ریسکیو سے متعلق تفصیلات شامل ہیں، عینی شاہدین اور ریسکیو کی مکمل تفصیلات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں، کمشنر کراچی کی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں آگ رات دس بج کر پندرہ منٹ پر لگی، رات 10:26 پر فائر بریگیڈ کو آگ کی اطلاع ملی اور پہلا فائر ٹینڈر گیارہ منٹ کے اندر پہنچا ۔ پہلا فائر ٹینڈر 10:37 منٹ پر گل پلازہ پہنچا تھا ،ریسکیو 1122 کا عملہ 10:53 پر گل پلازہ پہنچا، تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آگ گرائونڈ فلور پر لگی جو ائیر کنڈیشنز کے ڈکٹس کی طرف س پھیلتی چلی گئی، سانحے میں 79 افراد جاں بحق ہوئے ، سب سے ذیادہ اموات میزنائن فلور پر ہوئی ہیں،یہ رپورٹ کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی پر مشتمل کمیٹی نے تیار کی ہے جو وزیراعلی سندھ کو پیش کی جائےگی۔

  • سانحہ گل پلازہ: خواتین کے مقبول شاپنگ سینٹر میں لگی آگ چند منٹوں میں کیسے پھیلی؟

    سانحہ گل پلازہ: خواتین کے مقبول شاپنگ سینٹر میں لگی آگ چند منٹوں میں کیسے پھیلی؟

    کراچی میں گل پلازہ کو لگی آگ کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ یہ ایک تلخ اور دردناک حقیقت ہے کہ اب تک کئی خاندان اپنے پیاروں کی لاشیں نہیں ڈھونڈ سکے۔ بعض افراد مکمل طور پر جل چکے تھے، جس کے باعث شناخت ممکن نہ رہی۔ کئی مقامات پر انسانی جسموں کے جلے ہوئے اعضا ٹکڑوں کی صورت میں ملے۔ یہ سانحہ متاثرہ خاندانوں کی زندگی میں ایک ایسا گہرا دکھ چھوڑ گیا ہے جو شاید کبھی مٹ نہ سکے۔

    کراچی میں رپورٹنگ کرتے ہوئے 34 برس گزر چکے ہیں۔ اس دوران آتشزدگی کے بے شمار واقعات دیکھے۔ اسی لیے پہلے دن سے ایک سوال مسلسل ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ چار منزلہ عمارت کو آگ نے اتنی تیزی سے کیسے گھیر لیا کہ اندر موجود افراد کو نکلنے کا موقع تک نہ مل سکا۔

    ماضی کے سانحات کو سامنے رکھ کر جب گل پلازہ کے واقعے سے موازنہ کیا جاتا ہے تو ہر گزرتے دن شکوک مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ خدشہ یہی ہے کہ یہ آگ محض ایک حادثہ نہیں تھی۔ یہ بات دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ یہ اندیشہ غلط ثابت ہو۔ سوال مگر اپنی جگہ قائم ہے کہ آگ آخر لگی کیسے۔

    اب آہستہ آہستہ شواہد سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔ ایک فائر فائٹر کی ویڈیو میں بتایا گیا کہ اطلاع ملنے کے صرف پانچ منٹ بعد جب ٹیم موقع پر پہنچی تو عمارت چاروں اطراف سے آگ کی لپیٹ میں تھی۔ وہ خود اس بات پر حیران دکھائی دیا کہ آگ اتنی قلیل مدت میں اس قدر شدت سے کیسے پھیل گئی۔

    تفتیشی حکام اب یہ کہہ رہے ہیں کہ آگ بجلی کے شارٹ سرکٹ سے نہیں لگی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق پلاسٹک کے پھولوں کو ماچس یا لائٹر سے آگ لگائی گئی۔ پولیس تخریب کاری کے پہلو سے تحقیقات کر رہی ہے۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کاروبار بند ہونے کے بعد، جب دروازے مقفل ہوتے ہیں، آگ لگی کیسے، اور پھر چند ہی منٹوں میں پوری عمارت کیوں شعلوں میں گھِر گئی۔

    سیاسی بیان بازی سے ہٹ کر اگر ایک عام شہری کی نظر سے دیکھا جائے تو ذہن بلدیہ فیکٹری، بولٹن مارکیٹ، آر جے مال، ریجنٹ پلازہ اور لائٹ ہاؤس کی مارکیٹوں کے سانحات کی طرف جاتا ہے۔ ان واقعات میں بھی ابتدا میں حادثے کا تاثر دیا گیا، مگر بعد میں تخریب کاری کے شواہد سامنے آئے۔

    اندیشہ یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں گل پلازہ سانحے کے پس پردہ عوامل بھی واضح ہو جائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آگ لگنے کے ساتھ ساتھ آگ لگانے کے پہلو کو بھی سنجیدگی سے دیکھا جائے۔ تحقیقات میں تخریب کاری، دہشت گردی اور سیاسی یا معاشی مفادات کے ممکنہ گٹھ جوڑ کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

    یہ اسی شہر کی تلخ حقیقت ہے کہ ماضی میں وکلا کو ایک پلازہ میں بند کر کے آگ لگائی گئی۔ بلدیہ فیکٹری کے دروازے بند تھے جب آگ بھڑکی۔ ریجنٹ پلازہ میں سوئے ہوئے افراد بند دروازوں کے پیچھے آگ کے حوالے ہو گئے۔ ان سانحات کے پیچھے مختلف محرکات سامنے آئے، کہیں لالچ، کہیں بھتہ، کہیں قبضہ، اور کہیں کسی عمارت یا ہوٹل کو خالی کرانے کی کوشش۔

    آگ کے بعد ریجنٹ پلازہ دوبارہ بحال نہ ہو سکا۔ بلدیہ فیکٹری بھی دوبارہ چل نہ سکی۔ آج وہ عمارتیں ایک ویران اور خوفناک منظر پیش کرتی ہیں۔

    یہ شہر پہلے ہی بدانتظامی اور ناقص گورننس کا شکار رہا ہے، مگر اس کے ساتھ خوف اور عدم تحفظ کی فضا بھی بار بار لوٹ آتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس چہرے کو پہچانا جائے اور اس کا سنجیدگی سے سامنا کیا جائے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس بار بھی کوئی طاقتور کھیل کھیلا گیا ہے، جس کی قیمت عام شہریوں نے اپنی جانوں سے چکائی۔

  • سانحہ گل پلازہ: آگ بجھانے کے لیے ریسکیو 1122 کی خواتین فائر فائٹرز کو کتنی مشکلات پیش آئیں؟

    سانحہ گل پلازہ: آگ بجھانے کے لیے ریسکیو 1122 کی خواتین فائر فائٹرز کو کتنی مشکلات پیش آئیں؟

    یہ کہانی ریسکیو 1122 کے اُن فائر فائٹرز کی ہے جنہوں نے آگ کے واقعے کے دوران اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر لوگوں کو محفوظ بنانے کی کوشش کی۔ ریسکیو آپریشن کے دوران اہلکاروں کو شدید دھوئیں، آگ اور خطرناک حالات کا سامنا رہا، جبکہ بعض مناظر ایسے تھے جو طویل عرصے تک ان کے ذہنوں میں محفوظ رہ گئے۔

    ریسکیو اہلکار عروسہ کے مطابق آگ کی شدت کے باعث ہر لمحہ خطرے سے بھرپور تھا۔ اُن کا کہنا ہے کہ انسانوں کو بچانے کی ذمہ داری نے انہیں کام جاری رکھنے کا حوصلہ دیا، حالانکہ کئی مقامات پر حالات انتہائی مشکل تھے۔

    عروسہ میمن نے بتایا کہ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اپنے دو سالہ کیریئر میں اس طرح کی صورتحال پہلے کبھی سامنے نہیں آئی۔ ریسکیو کے دوران اہلکاروں کو کام کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا، جبکہ پھنسے ہوئے افراد کی آوازیں اور اپنوں کی تلاش کے مناظر ماحول کو مزید سنگین بنا رہے تھے۔

    ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کے مطابق یہ کام محض ڈیوٹی نہیں بلکہ انسانی خدمت ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ ہر صورتحال میں خطرہ مول لے کر متاثرہ افراد تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہی جذبہ انہیں آخری لمحے تک ذمہ داری نبھانے پر قائم رکھتا ہے۔