کراچی میں گل پلازہ کو لگی آگ کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ یہ ایک تلخ اور دردناک حقیقت ہے کہ اب تک کئی خاندان اپنے پیاروں کی لاشیں نہیں ڈھونڈ سکے۔ بعض افراد مکمل طور پر جل چکے تھے، جس کے باعث شناخت ممکن نہ رہی۔ کئی مقامات پر انسانی جسموں کے جلے ہوئے اعضا ٹکڑوں کی صورت میں ملے۔ یہ سانحہ متاثرہ خاندانوں کی زندگی میں ایک ایسا گہرا دکھ چھوڑ گیا ہے جو شاید کبھی مٹ نہ سکے۔
کراچی میں رپورٹنگ کرتے ہوئے 34 برس گزر چکے ہیں۔ اس دوران آتشزدگی کے بے شمار واقعات دیکھے۔ اسی لیے پہلے دن سے ایک سوال مسلسل ذہن میں گردش کر رہا ہے کہ چار منزلہ عمارت کو آگ نے اتنی تیزی سے کیسے گھیر لیا کہ اندر موجود افراد کو نکلنے کا موقع تک نہ مل سکا۔
ماضی کے سانحات کو سامنے رکھ کر جب گل پلازہ کے واقعے سے موازنہ کیا جاتا ہے تو ہر گزرتے دن شکوک مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ خدشہ یہی ہے کہ یہ آگ محض ایک حادثہ نہیں تھی۔ یہ بات دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ یہ اندیشہ غلط ثابت ہو۔ سوال مگر اپنی جگہ قائم ہے کہ آگ آخر لگی کیسے۔
اب آہستہ آہستہ شواہد سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔ ایک فائر فائٹر کی ویڈیو میں بتایا گیا کہ اطلاع ملنے کے صرف پانچ منٹ بعد جب ٹیم موقع پر پہنچی تو عمارت چاروں اطراف سے آگ کی لپیٹ میں تھی۔ وہ خود اس بات پر حیران دکھائی دیا کہ آگ اتنی قلیل مدت میں اس قدر شدت سے کیسے پھیل گئی۔
تفتیشی حکام اب یہ کہہ رہے ہیں کہ آگ بجلی کے شارٹ سرکٹ سے نہیں لگی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق پلاسٹک کے پھولوں کو ماچس یا لائٹر سے آگ لگائی گئی۔ پولیس تخریب کاری کے پہلو سے تحقیقات کر رہی ہے۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کاروبار بند ہونے کے بعد، جب دروازے مقفل ہوتے ہیں، آگ لگی کیسے، اور پھر چند ہی منٹوں میں پوری عمارت کیوں شعلوں میں گھِر گئی۔
سیاسی بیان بازی سے ہٹ کر اگر ایک عام شہری کی نظر سے دیکھا جائے تو ذہن بلدیہ فیکٹری، بولٹن مارکیٹ، آر جے مال، ریجنٹ پلازہ اور لائٹ ہاؤس کی مارکیٹوں کے سانحات کی طرف جاتا ہے۔ ان واقعات میں بھی ابتدا میں حادثے کا تاثر دیا گیا، مگر بعد میں تخریب کاری کے شواہد سامنے آئے۔
اندیشہ یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں گل پلازہ سانحے کے پس پردہ عوامل بھی واضح ہو جائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آگ لگنے کے ساتھ ساتھ آگ لگانے کے پہلو کو بھی سنجیدگی سے دیکھا جائے۔ تحقیقات میں تخریب کاری، دہشت گردی اور سیاسی یا معاشی مفادات کے ممکنہ گٹھ جوڑ کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ اسی شہر کی تلخ حقیقت ہے کہ ماضی میں وکلا کو ایک پلازہ میں بند کر کے آگ لگائی گئی۔ بلدیہ فیکٹری کے دروازے بند تھے جب آگ بھڑکی۔ ریجنٹ پلازہ میں سوئے ہوئے افراد بند دروازوں کے پیچھے آگ کے حوالے ہو گئے۔ ان سانحات کے پیچھے مختلف محرکات سامنے آئے، کہیں لالچ، کہیں بھتہ، کہیں قبضہ، اور کہیں کسی عمارت یا ہوٹل کو خالی کرانے کی کوشش۔
آگ کے بعد ریجنٹ پلازہ دوبارہ بحال نہ ہو سکا۔ بلدیہ فیکٹری بھی دوبارہ چل نہ سکی۔ آج وہ عمارتیں ایک ویران اور خوفناک منظر پیش کرتی ہیں۔
یہ شہر پہلے ہی بدانتظامی اور ناقص گورننس کا شکار رہا ہے، مگر اس کے ساتھ خوف اور عدم تحفظ کی فضا بھی بار بار لوٹ آتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس چہرے کو پہچانا جائے اور اس کا سنجیدگی سے سامنا کیا جائے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس بار بھی کوئی طاقتور کھیل کھیلا گیا ہے، جس کی قیمت عام شہریوں نے اپنی جانوں سے چکائی۔

