Tag: ساز

  • بلوچستان کے آخری چنگ نواز: اس خطے میں چنگ سمیت روایتی سازوں کو کیا خطرات درپیش ہیں؟

    بلوچستان کے آخری چنگ نواز: اس خطے میں چنگ سمیت روایتی سازوں کو کیا خطرات درپیش ہیں؟

    ماضی کے روایتی اور قدیم ساز چنگ کے حوالے سے بلوچستان کے مایہ ناز فنکار بنگل مصری کے پوتے محمد اقبال مصری کو آج بلوچستان کے آخری چنگ نوازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ جدید دور میں درپیش متعدد خطرات کے باوجود اس نایاب ساز کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    بلوچستان کی سنگلاخ زمین، خاموش پہاڑ اور دور تک پھیلے ریگستان صرف قدرتی مناظر نہیں بلکہ صدیوں پرانی تہذیب کی زندہ گواہی بھی ہیں۔ اسی تہذیب کا ایک نایاب اور آہستہ آہستہ خاموش ہوتا ہوا ورثہ چنگ ہے، ایک ایسا قدیم ساز جس کی آواز کبھی بلوچ بستیوں، قافلوں اور میلوں میں سنائی دیتی تھی، مگر اب یہ آواز مدھم پڑ چکی ہے۔

    چنگ بنیادی طور پر ایک سادہ مگر گہرے اثرات رکھنے والا ساز ہے۔ لکڑی یا دھات سے بنے اس ساز میں باریک زبانیں ہوتی ہیں جنہیں منہ کے قریب رکھ کر بجایا جاتا ہے۔ اس کی آواز نرم، اداس اور دل میں اتر جانے والی ہوتی ہے۔ بلوچستان میں چنگ کو محض موسیقی کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ یہ تنہائی، ہجرت، محبت اور فراق جیسے جذبات کا ترجمان بھی تھا۔

    ساگا ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چنگ نواز محمد اقبال مصری نے بتایا کہ جدید سازوں اور بدلتے سماجی رجحانات کے باعث بلوچستان میں روایتی اور قدیم چنگ کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں چنگ زیادہ تر رات کے وقت بجایا جاتا تھا۔

    ‘چرواہے، مسافر یا طویل سفر پر نکلنے والے لوگ چنگ کی آواز کے ساتھ اپنا دل بہلاتے تھے۔ یہ ساز محفلوں کے شور کے لیے نہیں بلکہ خاموشی کے لیے بنا تھا، شاید اسی لیے جدید دور کے تیز اور اونچی آواز والے سازوں کے سامنے چنگ پیچھے رہ گیا۔’

    محمد اقبال مصری کا کہنا ہے کہ اب نہ وہ ماحول باقی رہا ہے اور نہ ہی وہ سننے والے۔ موبائل فون، جدید موسیقی اور بدلتی سماجی ترجیحات نے چنگ کو تقریباً فراموش کر دیا ہے۔ نوجوان نسل اس ساز سے ناآشنا ہے اور اگر اس کا نام سن بھی لے تو اسے پرانا اور غیر متعلق سمجھتی ہے۔

    چنگ صرف ایک ساز نہیں بلکہ بلوچستان کی غیر تحریری تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کی دھنوں میں ہجرتوں کی کہانیاں، قحط کے دن، محبت کے وعدے اور پہاڑوں کی خاموشی سمٹی ہوئی ہے۔ جب آخری چنگ نواز خاموش ہو جائے گا تو صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک پوری آواز ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔

    ماہرین ثقافت کا کہنا ہے کہ اگر چنگ جیسے روایتی سازوں کو محفوظ نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں اپنی ہی سرزمین کے کئی ثقافتی رنگوں سے ناواقف رہ جائیں گی۔ چنگ کی بقا صرف ایک ساز کی بقا نہیں بلکہ اس سوچ کی بقا ہے جس میں سادگی، تنہائی اور احساس کو موسیقی کا درجہ حاصل تھا۔

    بلوچستان میں آخری چنگ نواز آج بھی کبھی کبھار اس ساز کو ہونٹوں سے لگا کر ایک دھن چھیڑتا ہے۔ شاید اسے معلوم ہے کہ سننے والے کم ہیں، مگر تاریخ اب بھی کہیں نہ کہیں اس آواز کو محفوظ کر رہی ہے۔

     

  • چرواہوں کا ساز نڑ، جو اب محفلوں کی شان سمجھا جاتا ہے

    چرواہوں کا ساز نڑ، جو اب محفلوں کی شان سمجھا جاتا ہے

    نڑ سندھ کا قدیم لوک ساز ہے جو بانس یا لکڑی سے تیار کیا جاتا۔ اس ساز کی آواز میں صحرائی تنہائی اور درویشی کیفیت گہری محسوس ہوتی۔ نڑ عموماً چرواہے اور فقیر فطرت کے فنکار بجاتے آئے ہیں صدیوں سے ذوالفقار فقیر نڑ کے نمایاں فنکار ہیں جو اسے روحانی رنگ دیتے ہیں۔ ان کے بجانے میں صوفیانہ جذبہ اور لوک روایت کی جھلک نمایاں رہتی۔
    نڑ ایک سیدھی بانسری ہوتی ہے جس میں مخصوص سوراخ بنائے جاتے، اسے بجانے کے لیے سانس اور انگلیوں کا کامل توازن ضروری ہوتا، نڑ کی دھن سن کر سندھ کی مٹی بولتی اور خاموشی گونجتی محسوس ہوتی ہے۔

    یہ ساز میلوں فقیرانہ محفلوں اور لوک داستانوں کا اہم حصہ رہا۔ ذوالفقار فقیر نے نڑ کو نئی نسل تک دوبارہ متعارف کرایا ہے۔ نڑ کی آواز میں سادگی درد اور سکون ایک ساتھ سنا جاتا۔ یہ ساز موسیقی کے ذریعے انسان کو فطرت کے قریب لے آتا ہے۔
    نڑ آج بھی سندھ کی ثقافتی شناخت کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے

  • سنیے جوگیوں کی روحانی پہچان والے ساز مرلی کے سُر مرلی نواز  ستار جوگی سے

    سنیے جوگیوں کی روحانی پہچان والے ساز مرلی کے سُر مرلی نواز ستار جوگی سے

    مرلی ایک قدیم لوک ساز ہے جو سانس اور احساس کے امتزاج سے بجایا جاتا ہے۔
    یہ ساز سپیروں اور جوگیوں کی روحانی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
    کہا جاتا ہے کہ مرلی کی دھن دلوں کو مسخر کر لیتی ہے۔
    لوک کہانیوں میں مرلی کو دل جیتنے اور روح کو جھنجھوڑنے والا ساز مانا گیا۔
    مرلی کی آواز میں ایسی کشش ہے جو سننے والے کو اپنے سحر میں لے لیتی ہے۔
    یہ ساز طاقت نہیں بلکہ نرمی اور محبت سے انسان کو زیر کر لیتا ہے۔
    ستار جوگی اس منفرد ساز کی تال کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

  • سادگی کے باوجود تال اور لے کا مضبوط سہارا سمجھنے والے قدیم ساز گھڑے (مٹکے) بجانے والے ماہر احمد شیخ سے سنیے گھڑے کے سُر

    سادگی کے باوجود تال اور لے کا مضبوط سہارا سمجھنے والے قدیم ساز گھڑے (مٹکے) بجانے والے ماہر احمد شیخ سے سنیے گھڑے کے سُر

    قدیم روایتی ساز گھڑے (مٹکے) پر تال اور لے کا جادو جگانے والے معروف فنکار احمد شیخ کی ایک لاجواب پرفارمنس۔ اس ویڈیو میں دیکھیے کہ کس طرح احمد شیخ اپنی مہارت سے ایک سادہ مٹی کے برتن کو موسیقی کے شاہکار میں بدل دیتے ہیں۔ اگر آپ کو لوک موسیقی اور قدیم سازوں سے لگاؤ ہے، تو یہ ویڈیو آپ کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے۔

  • روائتی ساز چنگ کے سُر کیسے ہیں؟

    روائتی ساز چنگ کے سُر کیسے ہیں؟

    چنگ ایک قدیم لوک ساز ہے جو مکمل طور پر دھات کا بنا ہوا ہوتا ہے۔ اس ساز کو عموماً منہ پر رکھ کر بجایا جاتا ہے اور اس کی آواز چھوٹی مگر گہری ہوتی ہے۔ چنگ کی گونج مقامی ثقافت میں اہم مقام رکھتی ہے اور صدیوں سے قبائلی رسموں اور لوک تقریبات کا حصہ رہی ہے۔

    چنگ کے اندر ایک دھات کی تار ہوتی ہے، جسے انگلی سے ہلانے پر منفرد دھن پیدا ہوتی ہے اور یہ آواز منہ کے اندر گونجتی ہے۔ اسی وجہ سے چنگ کی دھنیں بہت مخصوص اور دل کو چھو لینے والی سمجھی جاتی ہیں۔ اس ساز کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے اور یہ ہندوستان، پاکستان اور وسطی ایشیا کے صحرائی علاقوں میں مشہور رہا ہے۔

    سندھ کے معروف لوک فنکار علی محمد رونجھو نے چنگ کے فن کو برقرار رکھا ہے اور اس کی قدیم روایت کو نئی نسل تک منتقل کیا ہے۔ چنگ عموماً تنہا بجایا جاتا ہے، مگر اب اسے دیگر سازوں کے ساتھ بھی شامل کر کے محافل میں پیش کیا جاتا ہے۔

    چنگ کی دھنیں محبت، فطرت اور لوک کہانیوں کی عکاس ہوتی ہیں۔ اس ساز کو بجانے کے لیے صبر اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب چنگ کے تار ہلتے ہیں اور ردھم پیدا ہوتا ہے تو سننے والے کو روحانی سکون اور خوشی محسوس ہوتی ہے۔

  • سنیے قدیم ساز بینجو کے سُر

    سنیے قدیم ساز بینجو کے سُر

    جدید دور کا ساز جو قدیم روایات میں ڈھل گیا! بینجو (Banjo) پاکستان کے ساحلی اور صحرائی علاقوں، خاص طور پر بلوچستان اور سندھ کی لوک موسیقی کی روح ہے۔ اس میں جاپانی منڈولن اور روایتی سرود کی گونج شامل ہے۔ استاد نور بخش جیسے ماسٹر موسیقاروں کی انگلیوں سے نکلنے والی اس کی تیز اور دل کو چھو لینے والی آواز علاقائی کہانیوں، رومان اور ثقافت کو زندہ رکھتی ہے۔

  • ملیے ممتاز سارنگی نواز استاد مظہر امراؤ بندو خان سے

    ملیے ممتاز سارنگی نواز استاد مظہر امراؤ بندو خان سے

    سارنگی برصغیر کے قدیم ترین سازوں میں سے ایک ساز ہے۔ رباب، سرود اور ستار کی طرح سارنگی بھی کمان سے بجنے والا ساز ہے۔قدیمی مصوری اور تحریری شواہد میں اس ساز کا ذکر صدیوں پہلے سے ملتا ہے۔

    ماضی میں یہ ساز زیادہ تر درباری موسیقی اور کلاسیکل گائیکی کے ساتھ بجایا جاتا تھا۔

    سارنگی لکڑی سے تیار کی جاتی ہے اور اس کے اندر جانور کی کھال لگائی جاتی ہے۔

    پہلے سارنگی ہاتھ سے تراشی جاتی تھی۔ مگر اب جدید آلات سے اس کی تیاری ہوتی ہے۔

    یہ ساز انسانی آواز سے قریب تر مانا جاتا ہے اسی لیے اسے موسیقی کا مشکل ترین ساز بھی کہتے ہیں۔
    اس وقت اس کے ماہر فنکار بہت کم رہ گئے ہیں۔

    ان میں استاد مظہر امراؤ بندو خان ممتاز سارنگی نواز سمجھے جاتے ہیں۔

    استاد مظہر نے سارنگی بجانے پر کئی اعزازات حاصل کیے اور اپنی اگلی نسل کو بھی اس نایاب فن کی تربیت دے رہے ہیں۔

  • موہن جو دڑو سے ملنے والا قدیم ساز بوڑینڈو، جس کو بجانے والے کم لوگ بچے ہیں

    موہن جو دڑو سے ملنے والا قدیم ساز بوڑینڈو، جس کو بجانے والے کم لوگ بچے ہیں

    بوڑینڈو سندھ کے قدیم سازوں میں سے ایک ساز ہے۔ بانسری، الگوزو، مرلی کی طرح بوڑینڈو پُھونک سے بجنے والے ساز ہے۔

    موہن جو دڑو کے قدیمی آثار سے کھدائی کے دوران ملنے والے اشیا میں بوڑینڈو بھی شامل ہے۔

    بنیادی طور پر یہ چرواہوں کا ساز ہے مگر اب یہ میوزک کا اہم حصہ ہے۔

    یہ موسیقی کا آلہ مٹی سے گولائی میں بنایا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں یہ ساز کچا بجایا جاتا تھا مگر اب اسے بھٹی میں پکاتے ہیں۔

    بوڑینڈو مٹی سے بنا ساز ہے اس لیے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے اوائلی سازوں میں سے ایک ساز ہے۔

    اس وقت سندھ میں بوڑینڈو بجانے والے بہت ہی کم لوگ رہ گئے ہیں۔ ان میں سے ذوالفقار لونڈ اچھا بوڑینڈو نواز آرٹسٹ سمجھے جاتے ہیں۔

    ذوالفقار لنڈ کو بوڑینڈو بجانے پر پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ اور سندھ کا سب سے مشہور شاہ لطیف ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

  • بادشاہ کا سر لینے والے کماچ ساز کو تھر کے فنکار کیسے زندہ رکھے ہوئے ہیں؟

    بادشاہ کا سر لینے والے کماچ ساز کو تھر کے فنکار کیسے زندہ رکھے ہوئے ہیں؟

    تھر کے صحرا کے فنکار ایک ایسے ساز کو صدیوں سے زندہ رکھے ہوئے یہ ساز اپنی مدھم مگر جادوئی آواز جسے سن کر وقت تھم جاتا ہے۔

    کماچ نایاب تار والا ساز، جس کا گول تراشا ہوا لکڑی کا طاس اپنی گہری گونج کے ساتھ دل میں گھر کر لیتا ہے۔
    اس کی آواز میں وہ درد، وہ ہجر، اور وہ جذبہ ہے جو صدیوں سے سندھ کی زبانی روایت کا حصہ رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کماچ کے سُر صرف موسیقی نہیں، بلکہ ایک داستان ہوتے ہیں۔

    اسی کماچ کے سُروں نے ایک ایسا واقعہ جنم دیا جو آج بھی سندھ کی لوک کہانیوں، صوفی شاعری اور لوک ورثے میں زندہ ہے۔

    روایت ہے کہ قدیم دور کے بادشاہ رائے ڈیاچ کماچ کے مداح تھے۔ سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبدالطیف بھٹائی نے بھی اپنی شاعری میں رائے ڈیاچ اور ان کے سر دان کرنے کا ذکر کیا ہے۔

    کہانی یوں ہے کہ مخالف بادشاہ کی طرف سے بھیجا گیا ایک چاران فقیر کماچ لے کر رائے ڈیاچ کے محل کے باہر پہنچا۔ جب اس نے کماچ کے تار چھیڑے، تو ساز کی گونج ایسی تھی جیسے صحرا کا پورا آسمان سُروں میں تبدیل ہوگیا ہو۔

    رائے ڈیاچ اس آواز سے اتنے مسحور ہوئے کہ فقیر کو اندر بلا لیا۔ ساز کے سُر سن کر بادشاہ نے فقیر سے کہا کہ جو چاہو مانگ لو۔

    لوک روایت کے مطابق فقیر نے وہ سوال کیا جس نے تاریخ بدل دی۔ اس نے بادشاہ کا سر مانگ لیا۔ رائے ڈیاچ نے اپنا وعدہ نبھایا، اور اپنے قول کی حفاظت میں اپنا سر کٹوا کر فقیر کے حوالے کردیا۔

    کماچ کے سُروں پر دیا گیا یہ ‘سر دان’ سندھ کی تاریخ کا وہ باب ہے جو آہستہ سے سنایا جاتا ہے مگر کبھی بھلایا نہیں جاتا۔

    آج، جب کہ کماچ بجانے والے ماہر فنکار صرف چند رہ گئے ہیں، یہ ساز اپنا ورثہ بچانے کی آخری جنگ لڑ رہا ہے۔ سندھ میں استاد عبداشکور چند فنکاروں میں ایک ہیں جو آج بھی کماچ بجانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ عمر رسیدی کے باعث اب وہ قلیل اور انہوں نے اپنے بیٹے اصغر کو بھی یہ فن سکھایا ہے، جو آج محفلوں میں اس ساز کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

    اس ویڈیو میں ہم آپ کو سنائیں گے اور دکھائیں گے کہ بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کے دور سے بھی پہلے بجایا جانے والا یہ قدیم ساز کیسے زندہ ہے، اس کے سُر کیسے ہیں، اور اسے بجانے والے فنکار اسے کیسے روح دیتے ہیں۔