[rank_math_breadcrumb]

چرواہوں کا ساز نڑ، جو اب محفلوں کی شان سمجھا جاتا ہے

نڑ سندھ کا قدیم لوک ساز ہے جو بانس یا لکڑی سے تیار کیا جاتا۔ اس ساز کی آواز میں صحرائی تنہائی اور درویشی کیفیت گہری محسوس ہوتی۔ نڑ عموماً چرواہے اور فقیر فطرت کے فنکار بجاتے آئے ہیں صدیوں سے ذوالفقار فقیر نڑ کے نمایاں فنکار ہیں جو اسے روحانی رنگ دیتے ہیں۔ ان کے بجانے میں صوفیانہ جذبہ اور لوک روایت کی جھلک نمایاں رہتی۔
نڑ ایک سیدھی بانسری ہوتی ہے جس میں مخصوص سوراخ بنائے جاتے، اسے بجانے کے لیے سانس اور انگلیوں کا کامل توازن ضروری ہوتا، نڑ کی دھن سن کر سندھ کی مٹی بولتی اور خاموشی گونجتی محسوس ہوتی ہے۔

یہ ساز میلوں فقیرانہ محفلوں اور لوک داستانوں کا اہم حصہ رہا۔ ذوالفقار فقیر نے نڑ کو نئی نسل تک دوبارہ متعارف کرایا ہے۔ نڑ کی آواز میں سادگی درد اور سکون ایک ساتھ سنا جاتا۔ یہ ساز موسیقی کے ذریعے انسان کو فطرت کے قریب لے آتا ہے۔
نڑ آج بھی سندھ کی ثقافتی شناخت کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے

اسی بارے میں: