Tag: درخت

  • درخت آدامسی: تہران کا چیونگم والا درخت

    درخت آدامسی: تہران کا چیونگم والا درخت

    آپ نے کبھی سنا ہے کہ چیونگم جانیں بچانےلگیں، ہوسکتا ہے نہ سنا ہو لیکن یہ حقیقت ہے

    ایران کے دارالحکومت تہران کی سب سے بڑی سڑک خیابان ولی عصر کی ایک عقبی گلی میں چیونگم لوگوں کی جان بچا رہی ہے

    قصہ کچھ یوں ہے کہ شمالی تہران کے ضلع نمبرایک میں فرشتہ نام کی ایک گلی ہے،اس گلی کے بیچوں بیچ ایک تنومند درخت ایستادہ ہے۔ اس درخت کی کوئی ایسی خصوصیت بھی نہیں کہ بہت قدیم ہو یا بہت نادر، وہ ایک عام سا درخت ہے جو تہران میں جگہ جگہ مل جاتے ہیں بلکہ خیابان ولی عصرتوایسے درختوں سے بھری پڑی ہے،خزاں میں جب درختوں کے پتے سرخ ہوجاتے ہیں تو یا علاقہ انتہائی خوبصورت لگتا ہے

     بات ہو رہی تھی فرشتہ محلے کی، تہران کی بلدیہ نے یہاں پکی سڑک ڈالی تو یہ درخت بالکل بیچوں بیچ آگیا،بلدیہ نےدرخت کاٹنا گوارا نہ کیا بلکہ سڑک اس کےارد گرد سے گذار دی۔ درخت تو بچ گیا البتہ شہری پریشان ہونے لگے،سڑک سے گذرتے ہوئے درخت کی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑتا۔

    دن میں تو جیسے تیسے راہگیر اور گاڑیاں اس گلی سے گذر جاتیں لیکن رات میں دشواری دگنا ہوجاتی،گلی میں اندھیرےیا کم روشنی کی وجہ سےحادثے ہونےلگے،ڈرائیور دور سے دیکھ نہ پاتے اور گاڑی یا موٹرسائیکل درخت سےٹکراجاتیں،اس کےباوجود بلدیہ یا علاقہ مکینوں نے درخت کاٹنے کا سوچا تک نہیں ۔

    لیکن حادثوں سےبچنابھی تھا،اس کےلیےشہریوں نےایک نہایت منفرد اور دلچسپ طریقہ نکالا، وہ آتے جاتےاس درخت پر چیونگمیں چپکانےلگے،جو گاڑی والا یا راہگیر یہاں سےگذرتا،اپنی استعمال شدہ چیونگم درخت پرچپکا دیتا،آہستہ آہستہ درخت رنگ برنگی چیونگموں سےبھرگیا، اس کا فائدہ یہ ہوا کہ رات میں کوئی گاڑی یا موٹرسائیکل گلی سےگذر رہی ہوتی تو اس کی ہیڈلائٹ درخت پرچپکی رنگ برنگی چیونگموں سے ٹکراتی، چیونگمیں ریفلیکٹر کا کام کرتیں گاڑی سوار فوری ہوشیار ہوجاتے اور حادثے سےبچ جاتے۔

    یہ ترکیب ایسی کارگرثابت ہوئی کہ یہ درخت اور علاقہ پورے تہران میں مشہور ہوگیا،لوگ اس درخت کو دیکھنےاوریہاں چیونگم چپکانے آنے لگے۔۔ اور تو اور گوگل میپ پربھی یہ علاقہ فرشتہ کے بجائے درخت آدامسی کےنام سےدرج ہوگیا

    اس درخت کو درخت آدامسی کیوں کہتے ہیں ۔ یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ ایران میں چیونگم کو آدامس کہتے ہیں،اگرآپ کو وہاں چیونگم درکار ہوگی تو دکاندار سےکہنا ہوگا، آقا یک دانہ آدامس می خواہم، یعنی جناب ایک عدد چیونگم چاہیے۔

    اب سوال یہ ہے کہ چیونگم کوآدامس کیوں کہتے ہیں تواس کا جواب یہ ہے کہ آدامس انگریزی لفظ ایڈمز کا مفرس یعنی فارسی لہجہ ہے۔  1950 میں جب ایران میں چیونگم متعارف ہوئی تو وہ ایڈمس کمپنی کی تھی، کمپنی کےنام کی وجہ سے تہران کے بھائی لوگوں نےچیونگم کو ہی آدامس کہنا شروع کردیا، جیسے ہمارے یہاں واشنگ پاؤڈر کو عرف عام میں سرف کہا جاتا ہے حالانکہ سرف تو واشنگ پاؤڈر بنانے والی کمپنی کا نام ہے۔

    یہ کہانی دلچسپ تو ہے لیکن سبق آموزبھی ہے، درخت کوئی بھی اور کیسا بھی ہو، وہ کبھی معمولی اور عام نہیں ہوتا، ایک درخت کتنا پیچیدہ ہے بلکہ اس کا ایک ایک پتہ کتنی زبردست کاریگری ہے یہ سوچیں تو عقل حیرت میں گم ہوجاتی ہے،ایک پتےمیں کتنی رگیں ہیں، کتنا کلوروفل ہے، کتنی دھوپ جذب کرتا ہے، درخت کےلیےکتنی غذا بناتا ہے، جڑوں تک سے کیسے جڑا ہوا ہے، انسانوں کو کتنا آکسیجن دیتا ہے، اس کی شاخیں پرندوں کا بسیرا ہیں، اس پر طرح طرح کے حشرات اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں، وہ درخت نہیں ایک پوری دنیا ہے،

    تہران کی بلدیہ اور لوگوں کو اس کا پورا احساس تھا، انہوں نے یہ دنیا اجڑنےنہیں دی۔

  • برگد کا درخت، قدرت کا ایک ایسا عجوبہ ہے جو صدیوں تک زندہ رہ سکتا ہے

    برگد کا درخت، قدرت کا ایک ایسا عجوبہ ہے جو صدیوں تک زندہ رہ سکتا ہے

    برگد کا درخت صرف ایک درخت نہیں بلکہ قدرت کا ایسا عجوبہ ہے جو صدیوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کی سب سے حیرت انگیز خصوصیت یہ ہے کہ اس کا بیج اکثر کسی دوسرے درخت کی شاخ پر اگتا ہے۔ جیسے جیسے برگد بڑھتا ہے، اس کی جڑیں ہوا میں لٹکتی ہوئی زمین تک پہنچتی ہیں، جہاں وہ نئے تنوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی عمل بار بار دہرایا جاتا ہے اور ایک ہی برگد اتنا وسیع ہو جاتا ہے کہ دیکھنے والا اسے پورا جنگل سمجھ بیٹھتا ہے، حالانکہ وہ درحقیقت ایک ہی درخت ہوتا ہے۔

    دنیا کا سب سے بڑا برگد بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے شہر ہاوڑہ میں واقع آچاریا جگدیش چندر بوس انڈین بوٹینک گارڈن میں موجود ہے۔ اس کا سایہ چار ایکڑ سے زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا ہے، جبکہ اس کی تین ہزار سے زائد ہوائی جڑیں زمین میں پہنچ کر الگ تنوں کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ درخت دنیا کے حیرت انگیز قدرتی عجائبات میں شمار کیا جاتا ہے۔

    برگد کی ایک اور دلچسپ تاریخی حقیقت اس کے انگریزی نام سے جڑی ہوئی ہے۔ انگریزی زبان میں ‘بنیان’ کا لفظ دراصل برصغیر کے لفظ ‘بنیا’ سے نکلا ہے۔ برطانوی تاجروں نے دیکھا کہ مقامی بنیا تاجر اکثر برگد کے گھنے سائے تلے بیٹھ کر تجارت کرتے تھے، چنانچہ انہوں نے اسی درخت کو ‘بنیان ٹری’ کہنا شروع کر دیا، اور یہی نام بعد میں انگریزی میں رائج ہو گیا۔

    برطانوی دور میں بھی برگد دیہی زندگی کا اہم حصہ تھا۔ طویل سفر کرنے والے مسافر اس کے سائے میں آرام کرتے، جبکہ کئی دیہات میں سرکاری اہلکار محصول وصول کرنے، عوامی ملاقاتیں کرنے اور مقامی امور نمٹانے کے لیے بھی اسی درخت کے نیچے بیٹھتے تھے۔ اگرچہ برگد کے لیے کوئی الگ قانون موجود نہیں تھا، تاہم جنگلات سے متعلق قوانین کے تحت محفوظ جنگلات میں موجود ایسے بڑے درختوں کی کٹائی محدود تھی۔

    پاکستان، خصوصاً سندھ اور پنجاب کے دیہی علاقوں میں قدیم برگد کے درخت آج بھی مقامی ثقافت، لوک روایات اور داستانوں کا حصہ ہیں۔ کئی مقامات پر انہیں بزرگوں یا صوفیا سے منسوب کیا جاتا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں یہ روایت بھی مشہور ہے کہ رات کے وقت برگد کے درخت کے قریب نہیں جانا چاہیے کیونکہ وہاں جنات کا بسیرا ہوتا ہے۔ اگرچہ اس عقیدے کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں، لیکن یہ روایت نسل در نسل زبانی طور پر منتقل ہوتی رہی ہے اور آج بھی بہت سے دیہی علاقوں میں سنائی جاتی ہے۔

    سائنسی اعتبار سے برگد صرف ایک درخت نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی نظام ہے۔ ماہرین ماحولیات اسے ‘قدرت کا زندہ شہر’ بھی کہتے ہیں کیونکہ اس کی شاخیں، جڑیں اور گھنا سایہ پرندوں، چمگادڑوں، گلہریوں، بندروں، کیڑوں اور بے شمار دوسرے جانداروں کو خوراک، رہائش اور افزائش کا محفوظ ماحول فراہم کرتے ہیں۔ اس کے پھل درجنوں اقسام کے پرندوں اور جنگلی حیات کی غذا بنتے ہیں، جبکہ اس کی گھنی شاخیں شدید گرمی میں قدرتی پناہ گاہ کا کردار ادا کرتی ہیں۔

    برگد صرف اپنے حجم کی وجہ سے منفرد نہیں بلکہ زمین کو مضبوط رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی پھیلی ہوئی جڑیں مٹی کے کٹاؤ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں، جبکہ اس کا گھنا سایہ اردگرد کے درجہ حرارت کو نسبتاً معتدل رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے یہ درخت دیہات، راستوں، عبادت گاہوں اور تاریخی مقامات کے قریب لگایا جاتا رہا ہے۔

    صدیوں تک زندہ رہنے والا برگد ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ فطرت کی بعض تخلیقات صرف درخت نہیں ہوتیں بلکہ تاریخ، ثقافت، ماحولیات اور انسانی یادوں کا ایک ایسا خزانہ ہوتی ہیں جو نسلوں تک اپنی کہانیاں سناتا رہتا ہے۔

  • پاکستان کا سب سے بڑا برگد: ایک درخت یا صدیوں پر پھیلا ہوا خاموش جنگل

    پاکستان کا سب سے بڑا برگد: ایک درخت یا صدیوں پر پھیلا ہوا خاموش جنگل

    سرگودھا کے نواحی علاقے مڈھ رانجھا کے قریب، دریائے چناب کے کنارے ایک ایسا درخت موجود ہے جو محض درخت نہیں بلکہ وقت، روایت اور فطرت کا جیتا جاگتا منظر نامہ محسوس ہوتا ہے۔ ابھل موہری کے علاقے میں کھڑا یہ برگد پاکستان کے بڑے اور قدیم ترین درختوں میں شمار کیا جاتا ہے، جس کی عمر ماہرین کم از کم چار سو سال بتاتے ہیں۔

    صدیوں سے زمین میں جڑا یہ درخت آج بھی اپنی وسعت میں اضافہ کرتا جا رہا ہے۔

    برگد کے اس درخت کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کی ساخت ہے۔ عام درختوں کے برعکس، برگد اپنی شاخوں سے ہوا میں جڑیں چھوڑتا ہے جو زمین تک پہنچ کر نئے تنوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ درخت ایک ہی جڑ سے نکل کر سینکڑوں نہیں بلکہ ہزار سے زائد جڑوں کے ساتھ پھیل چکا ہے۔

    دور سے دیکھنے پر یہ ایک درخت نہیں بلکہ چھوٹے جنگل یا قدرتی چھتری جیسا منظر پیش کرتا ہے، جہاں روشنی بھی چھن کر زمین تک پہنچتی ہے۔

    مقامی روایات اس درخت کو مزید پراسرار اور روحانی رنگ دیتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کئی صدیوں پہلے ایک صوفی بزرگ حضرت مرتضیٰ شاہ نے اپنے مرید بابا روڈے شاہ کے ساتھ مل کر یہ درخت لگایا تھا۔ اسی درخت کے سائے تلے بزرگ کی قبر بھی موجود ہے، جس کی وجہ سے یہ مقام صرف قدرتی نہیں بلکہ روحانی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ ہر سال اردگرد کے علاقوں سے لوگ یہاں حاضری دینے آتے ہیں، اور درخت کے سائے میں بیٹھ کر سکون تلاش کرتے ہیں۔

    یہ درخت صرف ماضی کی کہانی نہیں سناتا بلکہ ایک زندہ ماحولیاتی نظام بھی ہے۔ اس کی شاخوں میں درجنوں اقسام کے پرندے بسیرا کرتے ہیں، جب کہ گرمیوں میں یہ علاقہ ٹھنڈک کا قدرتی مرکز بن جاتا ہے۔ مقامی افراد کے لیے یہ نہ صرف سایہ فراہم کرتا ہے بلکہ ایک سماجی جگہ بھی ہے جہاں لوگ بیٹھتے، باتیں کرتے اور وقت گزارتے ہیں۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ برگد کے درخت ماحولیاتی لحاظ سے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ یہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں اور درجہ حرارت کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ایسے قدیم درخت دراصل قدرتی ورثہ ہوتے ہیں، جو نہ صرف زمین بلکہ تاریخ کو بھی سنبھالے رکھتے ہیں۔

    اس درخت کے ساتھ جڑی ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مقامی لوگ اسے نقصان پہنچانے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس درخت کو نقصان پہنچانا بدقسمتی کا باعث بن سکتا ہے، اسی لیے اسے نہایت احترام اور عقیدت کے ساتھ محفوظ رکھا جاتا ہے۔

    یہ برگد صرف ایک درخت نہیں، بلکہ وقت کی ایک زندہ یادگار ہے، جو اپنی جڑوں میں صدیوں کی کہانیاں سمیٹے آج بھی خاموشی سے کھڑا ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل
    جہاں کہانیاں صرف بتائی نہیں جاتیں، محسوس بھی کی جاتی ہیں

     

  • سانگھڑ: ہیڈ جمڑاؤ کے مقام پر موجود تقریباً سوا صدی قدیم پیپل کا درخت کیسا دکھتا ہے؟

    سانگھڑ: ہیڈ جمڑاؤ کے مقام پر موجود تقریباً سوا صدی قدیم پیپل کا درخت کیسا دکھتا ہے؟

    سندھ کے ضلع سانگھڑ کے منڈ جمرائو یا ہیڈ جمڑاؤ کے مقام پر موجود برطانوی دور حکومت کا تقریباً سوا صدی قدیم پیپل کا درخت آج بھی اپنی تاریخی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

    مقامی روایات کے مطابق یہ درخت برطانوی راج کے زمانے میں لگایا گیا تھا اور اس نے ایک صدی سے زائد عرصہ مختلف ادوار دیکھے ہیں۔ یہ درخت نہ صرف علاقے کی شناخت بن چکا ہے بلکہ ماضی کی یادوں کا امین بھی سمجھا جاتا ہے۔

    برطانوی دور حکومت کے دوران درخت لگانے کی مہم کے دوران لگائے گئے بہت سے درخت موجود ہیں جن میں ایک پیپل کا درخت ہیڈ جمڑاؤ پر موجود ہے۔ ہیڈ جمڑاؤ پر لگے بورڈ کے مطابق 24  نومبر 1899 جمڑاؤ نہر کے افتتاح کے موقعہ پراس وقت کے بمبئی کے گورنر ولیم بیرن سینڈہرسٹ نے کیا۔ اس تقریب کے دوراب پیپل کا یہ درخت انہوں نے لگایا تھا۔

    سماجی رہنما، صحافی اور محقق سردار بھیو نے ساگا ڈیجیتل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی دور میں سرکاری اہلکار اور مسافر اس درخت کے سائے تلے آرام کیا کرتے تھے، جبکہ یہ مقام سماجی سرگرمیوں کا مرکز بھی رہا۔

    ماہرین ماحولیات کے مطابق ایسے قدیمی درخت ماحول کے تحفظ، آکسیجن کی فراہمی اور حیاتیاتی توازن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    مقامی لوگوں کے مطابق اس تاریخی درخت کو سرکاری طور پر محفوظ ورثہ قرار دیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس تاریخی اور قدرتی اثاثے سے لطف اندوز ہو سکیں گی۔

  • کراچی میں کونوکارپس کا درخت مسئلہ کیوں بنا؟، درخت، سڑکیں اور شہری ذمہ داری

    کراچی میں کونوکارپس کا درخت مسئلہ کیوں بنا؟، درخت، سڑکیں اور شہری ذمہ داری

    کراچی میں کونوکارپس درختوں کی کاشت اور اب ان کی اُکھاڑ پھینکنے کی کارروائی ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ بلدیہ کراچی کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں ان درختوں کو ہٹایا جا رہا ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم بلدیہ کراچی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کی بنیاد محض سیاست نہیں بلکہ شہر کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔ 

    میئر کراچی بیریسٹر مرتضیٰ وہاب کے مطابق کونوکارپس کے درخت نہ تو ماحول دوست ہیں اور نہ ہی شہری ڈھانچے کے لیے موزوں۔ ان درختوں کی جڑیں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں جو سڑکوں، فٹ پاتھوں، نالیوں اور زیرِ زمین نظام کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان درختوں کی وجہ سے کئی مقامات پر سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئیں اور نکاسی آب کے نظام میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    میئر کراچی کے مطابق مقامی درخت نہ صرف ماحول کے لیے فائدہ مند ہوتے ہیں بلکہ مٹی کی مضبوطی، ہوا کی صفائی اور انسانی صحت کے لیے بھی بہتر ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر کو سرسبز بنانے کے لیے ایسے درخت لگانا ضروری ہے جو مقامی موسم سے ہم آہنگ ہوں اور طویل مدت میں نقصان کے بجائے فائدہ دیں۔

    کونوکارپس دراصل مشرقی افریقہ اور بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں کا پودا ہے۔ یہ زیادہ تر مینگروو جیسے ماحول میں اگتا ہے، جہاں نمکین پانی، دلدلی زمین اور ساحلی حالات پائے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ درخت تیزی سے بڑھتا ہے اور سخت ماحول میں بھی زندہ رہ سکتا ہے، مگر شہری علاقوں کے لیے اس کی موزونیت ہمیشہ سوالیہ رہی ہے۔

    کراچی میں کونوکارپس درختوں کی بڑے پیمانے پر شجرکاری کا آغاز اُس دور میں ہوا جب سابق فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرٖف کے دور میں شہر کے ناظم مصطفیٰ کمال تھے۔ اس زمانے میں شہر کو تیزی سے سرسبز بنانے اور سڑکوں کے کنارے فوری سبزہ فراہم کرنے کے لیے کونوکارپس کو ترجیح دی گئی۔

    اس دور میں یہ بتایا گیا کہ یہ درخت تیزی سے بڑھنے، کم پانی میں زندہ رہنے اور کم دیکھ بھال کی وجہ سے لگائے جارہے ہیںَ مختلف شاہراہوں، فٹ پاتھوں اور گرین بیلٹس میں اس کی شجرکاری کی گئی۔ تاہم اُس وقت اس کے طویل المدتی ماحولیاتی اور شہری اثرات پر خاطر خواہ تحقیق نہیں کی گئی، جس کے نتائج بعد میں سامنے آئے۔

    کونوکارپس ہٹانا کیوں ضوری ہیں؟

    ماہرینِ ماحولیات، طبی تنظیمیں اور شہری منصوبہ بندی سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد اس اقدام کو شہر کے مستقبل کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے۔

    طبی ماہرین اور تنظیموں نے بھی کونوکارپس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مختلف تحقیقی مطالعات اور مشاہدات میں بتایا گیا ہے کہ اس درخت کا پولن بعض افراد میں الرجی، سانس کی تکلیف اور دمے جیسے مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ شہری جو پہلے ہی سانس کے امراض میں مبتلا ہیں، ان کے لیے یہ درخت مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین صحت شجرکاری کے فیصلوں میں انسانی صحت کو مرکزی اہمیت دینے پر زور دے رہے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق کونوکارپس کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی مضبوط اور پھیلنے والی جڑیں ہیں، جو سڑکوں، فٹ پاتھوں، نالیوں اور زیرِ زمین لائنوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ کئی علاقوں میں فٹ پاتھ ٹوٹ گئے، سڑکوں میں دراڑیں پڑیں اور نکاسیٔ آب کا نظام متاثر ہوا۔ بلدیہ کراچی کا کہنا ہے کہ شہری انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا یہ نقصان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اسی لیے ان درختوں کو مرحلہ وار ہٹایا جا رہا ہے۔

    بلدیہ کراچی اور شہر کی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اصل ضرورت غیر مقامی اور نقصان دہ درختوں کے بجائے مقامی درخت لگانے کی ہے۔ نیم، گل مہر، پیپل، برگد، چیکو، پپیتا اور دیگر مقامی اقسام نہ صرف ماحول کے لیے بہتر ہیں بلکہ زمین کو مضبوط کرتی ہیں، پرندوں اور دیگر جانداروں کو فائدہ پہنچاتی ہیں اور شہری درجۂ حرارت کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ان درختوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ صدیوں سے اس خطے کے موسم کے مطابق ہیں اور طویل مدت میں کسی بڑے نقصان کا سبب نہیں بنتے۔

    میئر کراچی اور بلدیہ کے حکام بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ کونوکارپس کے خلاف مہم کا مقصد سبزہ ختم کرنا نہیں بلکہ بہتر اور پائیدار سبزہ پیدا کرنا ہے۔ ان کے مطابق کونوکارپس ہٹا کر مقامی درخت لگانا ایک طویل المدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کے نتائج فوری نظر نہ بھی آئیں تو آنے والی نسلوں کے لیے یہ فیصلہ فائدہ مند ثابت ہو گا۔

    کونوکارپس، ماحولیاتی آلودگی اور صحت کے مسائل

    کراچی میں کونوکارپس کے درختوں کے ممکنہ طبی اثرات سے متعلق تحقیقات میں تشویشناک پہلو سامنے آئے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی اور آغا خان یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے کیے گئے فضائی پولن کے ایک سروے کے مطابق کونوکارپس کے درختوں سے خارج ہونے والا پولن موسمِ بہار اور خزاں میں الرجی اور دمے جیسے امراض کو بڑھا سکتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان موسموں میں کونوکارپس پولن کی مقدار نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے، جو حساس افراد کے لیے صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

    البتہ کونوکارپس کے حامیوں کی رائے بھی یکسر نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ کراچی جیسے بڑے اور گنجان شہر میں تیزی سے بڑھنے والے درختوں کی ضرورت ہے، کیونکہ شہر کو فوری طور پر سایہ اور سبزہ درکار ہے۔ ان کے مطابق مقامی درختوں کو بڑا ہونے میں برسوں لگ جاتے ہیں، جبکہ کونوکارپس چند سالوں میں ہی ماحول کو سبز دکھائی دینے لگتا ہے۔ بعض افراد یہ بھی کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ درخت نہیں بلکہ ناقص منصوبہ بندی ہے، اور اگر کونوکارپس کو درست جگہوں پر لگایا جاتا تو اتنا نقصان نہ ہوتا۔

    ماہرین ماحولیات اس بحث میں توازن کی بات کرتے ہیں۔ ان کے مطابق شہر کو فوری سبزہ بھی چاہیے اور پائیدار حل بھی۔ مگر اگر کسی درخت کے نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ ہوں تو اس پر نظرثانی ضروری ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شجرکاری صرف درخت لگانے کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل سائنسی عمل ہے، جس میں زمین، موسم، صحت اور شہری ڈھانچے سب کو مدنظر رکھنا لازم ہے۔

    کراچی جیسے شہر کے لیے یہ فیصلہ ایک مثال بن سکتا ہے۔ اگر بلدیہ کراچی واقعی کونوکارپس کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر مقامی درخت لگانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ شہر کے ماحول، صحت اور خوبصورتی کے لیے ایک مثبت قدم ہو گا۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس مہم کو شفاف انداز میں، عوام کو اعتماد میں لے کر اور ماہرین کی رہنمائی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔

    یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ کراچی کو صرف زیادہ درخت نہیں بلکہ درست درخت درکار ہیں۔ ایسے درخت جو شہر کو نقصان کے بجائے فائدہ دیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند اور محفوظ ماحول چھوڑ جائیں۔ اسی سوچ کے تحت بلدیہ کراچی کی کونوکارپس کے خاتمے اور مقامی درختوں کی شجرکاری کی مہم کو ایک سنجیدہ اور ذمہ دارانہ کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔