[rank_math_breadcrumb]

پاکستان کا سب سے بڑا برگد: ایک درخت یا صدیوں پر پھیلا ہوا خاموش جنگل

سرگودھا کے نواحی علاقے مڈھ رانجھا کے قریب، دریائے چناب کے کنارے ایک ایسا درخت موجود ہے جو محض درخت نہیں بلکہ وقت، روایت اور فطرت کا جیتا جاگتا منظر نامہ محسوس ہوتا ہے۔ ابھل موہری کے علاقے میں کھڑا یہ برگد پاکستان کے بڑے اور قدیم ترین درختوں میں شمار کیا جاتا ہے، جس کی عمر ماہرین کم از کم چار سو سال بتاتے ہیں۔

صدیوں سے زمین میں جڑا یہ درخت آج بھی اپنی وسعت میں اضافہ کرتا جا رہا ہے۔

برگد کے اس درخت کی سب سے حیران کن خصوصیت اس کی ساخت ہے۔ عام درختوں کے برعکس، برگد اپنی شاخوں سے ہوا میں جڑیں چھوڑتا ہے جو زمین تک پہنچ کر نئے تنوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ درخت ایک ہی جڑ سے نکل کر سینکڑوں نہیں بلکہ ہزار سے زائد جڑوں کے ساتھ پھیل چکا ہے۔

دور سے دیکھنے پر یہ ایک درخت نہیں بلکہ چھوٹے جنگل یا قدرتی چھتری جیسا منظر پیش کرتا ہے، جہاں روشنی بھی چھن کر زمین تک پہنچتی ہے۔

مقامی روایات اس درخت کو مزید پراسرار اور روحانی رنگ دیتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کئی صدیوں پہلے ایک صوفی بزرگ حضرت مرتضیٰ شاہ نے اپنے مرید بابا روڈے شاہ کے ساتھ مل کر یہ درخت لگایا تھا۔ اسی درخت کے سائے تلے بزرگ کی قبر بھی موجود ہے، جس کی وجہ سے یہ مقام صرف قدرتی نہیں بلکہ روحانی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ ہر سال اردگرد کے علاقوں سے لوگ یہاں حاضری دینے آتے ہیں، اور درخت کے سائے میں بیٹھ کر سکون تلاش کرتے ہیں۔

یہ درخت صرف ماضی کی کہانی نہیں سناتا بلکہ ایک زندہ ماحولیاتی نظام بھی ہے۔ اس کی شاخوں میں درجنوں اقسام کے پرندے بسیرا کرتے ہیں، جب کہ گرمیوں میں یہ علاقہ ٹھنڈک کا قدرتی مرکز بن جاتا ہے۔ مقامی افراد کے لیے یہ نہ صرف سایہ فراہم کرتا ہے بلکہ ایک سماجی جگہ بھی ہے جہاں لوگ بیٹھتے، باتیں کرتے اور وقت گزارتے ہیں۔

کم لوگ جانتے ہیں کہ برگد کے درخت ماحولیاتی لحاظ سے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ یہ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں اور درجہ حرارت کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ایسے قدیم درخت دراصل قدرتی ورثہ ہوتے ہیں، جو نہ صرف زمین بلکہ تاریخ کو بھی سنبھالے رکھتے ہیں۔

اس درخت کے ساتھ جڑی ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ مقامی لوگ اسے نقصان پہنچانے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس درخت کو نقصان پہنچانا بدقسمتی کا باعث بن سکتا ہے، اسی لیے اسے نہایت احترام اور عقیدت کے ساتھ محفوظ رکھا جاتا ہے۔

یہ برگد صرف ایک درخت نہیں، بلکہ وقت کی ایک زندہ یادگار ہے، جو اپنی جڑوں میں صدیوں کی کہانیاں سمیٹے آج بھی خاموشی سے کھڑا ہے۔

ساگا ڈیجیٹل
جہاں کہانیاں صرف بتائی نہیں جاتیں، محسوس بھی کی جاتی ہیں

 

اسی بارے میں: