بلوچ قومی مزاحمتی تحریک کا ذکر میر شیر محمد مری المعروف جنرل شیروف کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ بلوچوں کے مری قبیلے کی سرداری پگ مریوں کے گزینی پاڑے سے نواب خیر بخش مری کے پاس تھی، لیکن بلوچ مسلح جدوجہد میں جدید ‘گوریلا وار فیئر’ اور بلوچ سرمچار تحریک کے بانی کے طور پر میر شیر محمد مری عرف جنرل شیروف کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
انہیں مختلف ناموں سے پکارا جاتا تھا۔ نواب خیر بخش مری اور دیگر لوگ انہیں ‘شیرو مری’ کہتے تھے، جبکہ بلوچ قوم پرست حلقوں میں بائیں بازو کے رجحانات، ماسکو میں قیام، اور مزاحمتی تحریک میں جدید گوریلا جنگ کی قیادت کرنے کی وجہ سے ساتھی انہیں ‘جنرل شیروف’ کے نام سے یاد کرتے تھے۔
میر شیر محمد مری 1920 میں مری قبیلے کی بجارانی شاخ کے نہالان زئی پاڑے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے برطانوی دور حکومت میں ہی بغاوت کی، جس کے باعث انہیں سبی جیل میں قید رکھا گیا اور وہاں ان سے مشقت لی جاتی رہی۔
قیام پاکستان کے بعد جب ریاست قلات نے پاکستان میں شمولیت سے انکار کیا تو قائداعظم محمد علی جناح کے حکم پر پاکستانی فوج نے میجر جنرل اکبر خان کی قیادت میں قلات پر فوجی کارروائی کی۔ خان آف قلات کو گرفتار کر کے پاکستان سے الحاق کا اعلان کروایا گیا۔ اس کے بعد پرنس عبدالکریم نے مزاحمت شروع کی، جس میں میر شیر محمد مری بھی شامل ہوگئے۔
ان کے والد سیدان خان مری قبائلی تنازعات کے باعث افغانستان منتقل ہوگئے تھے، جہاں ان کا انتقال ہوا۔ بعد ازاں ان کے چچا شربت خان مری انہیں واپس بلوچستان لے آئے اور ان کی پرورش کی۔ ان کے بھائیوں نے زمینداری اختیار کی جبکہ میر شیر محمد مری سیاست کی جانب آگئے۔ انہوں نے ابتدا میں مزدوری اور ڈرائیوری بھی کی۔
بلوچوں کے ساتھ ناانصافیوں اور ظلم کو دیکھتے ہوئے انہوں نے 1946 میں میر نہالان خان کے ساتھ مل کر ‘مظلوم پارٹی’ قائم کی، جس کا مقصد سرداروں کے جبری ٹیکس اور ناانصافیوں کے خلاف جدوجہد کرنا تھا۔ اسی سال کوہلو میں پارٹی کا پہلا کنونشن منعقد ہوا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا۔
ان کی گرفتاری کے خلاف ان کے حامیوں نے سرکاری کیمپ پر حملہ بھی کیا۔ دو سال بعد 1948 میں انہیں رہا کردیا گیا۔
جنرل ایوب خان کے دور میں بلوچستان میں فوجی کارروائیوں اور نواب نوروز خان کی بغاوت کے بعد میر شیر محمد مری نے بلوچ باغیوں کو منظم کر کے ‘سرمچاری’ اور ‘فراری’ کیمپ قائم کیے اور مسلح جدوجہد شروع کی۔ نواب خیر بخش مری سیاسی طور پر ان کی حمایت کرتے رہے۔ انہی جدوجہدوں کے باعث بلوچ عوام نے انہیں ‘جنرل شیروف’ کا لقب دیا۔
وہ تقریباً گیارہ برس تک جنرل ایوب خان، جنرل یحیی خان اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومتوں کے خلاف پہاڑوں میں رہ کر گوریلا جنگ کرتے رہے۔ اس دوران وہ کئی مرتبہ گرفتار بھی ہوئے۔
1973 میں ذوالفقار علی بھٹو حکومت نے بلوچستان میں نیپ حکومت برطرف کردی اور سردار عطا اللہ مینگل، میر غوث بخش بزنجو سمیت بلوچ رہنماؤں کو گرفتار کرلیا۔ اس کے خلاف میر شیر محمد مری نے بلوچ مزاحمت کی قیادت کی اور مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔
بعد ازاں ‘حیدرآباد ٹریبونل’ قائم کیا گیا، جہاں نیپ رہنماؤں پر غداری اور بغاوت کے مقدمات چلائے گئے۔ میر شیر محمد مری بھی دیگر بلوچ اور پشتون رہنماؤں کے ساتھ حیدرآباد سینٹرل جیل میں قید رہے۔ 1977 میں جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے بعد حیدرآباد ٹریبونل ختم کردیا گیا اور تمام سیاسی قیدی رہا ہوگئے۔
رہائی کے بعد نواب خیر بخش مری اور میر شیر محمد مری کابل چلے گئے، تاہم بعد میں ان کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے اور ان کی راہیں جدا ہوگئیں۔ کچھ عرصہ بعد وہ واپس بلوچستان آگئے۔
میر شیر محمد مری صرف ایک گوریلا کمانڈر ہی نہیں بلکہ ایک ادیب، مقرر اور کئی زبانوں کے ماہر بھی تھے۔ وہ بلوچی، سندھی، اردو سمیت کئی زبانیں جانتے تھے۔ ان کی تصانیف میں ‘بلوچی زبان و ادب کی تاریخ’، ‘بلوچی اردو لغت’ اور ‘بلوچی شاعری’ شامل ہیں۔
وہ سکھر، حیدرآباد اور کراچی کی سینٹرل جیلوں میں بھی قید رہے۔
میر شیر محمد مری 11 مئی 1993 کو انتقال کرگئے اور انہیں کوہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔












