Tag: بلوچستان

  • 11 مئی 1993: بلوچستان کی مزاحمتی تحریک کے بانی، پراری کیمپوں کے خالق شیر محمد خان مری عرف جنرل شیروف کے انتقال کا دن

    11 مئی 1993: بلوچستان کی مزاحمتی تحریک کے بانی، پراری کیمپوں کے خالق شیر محمد خان مری عرف جنرل شیروف کے انتقال کا دن

    بلوچ قومی مزاحمتی تحریک کا ذکر میر شیر محمد مری المعروف جنرل شیروف کے بغیر ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ بلوچوں کے مری قبیلے کی سرداری پگ مریوں کے گزینی پاڑے سے نواب خیر بخش مری کے پاس تھی، لیکن بلوچ مسلح جدوجہد میں جدید ‘گوریلا وار فیئر’ اور بلوچ سرمچار تحریک کے بانی کے طور پر میر شیر محمد مری عرف جنرل شیروف کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

    انہیں مختلف ناموں سے پکارا جاتا تھا۔ نواب خیر بخش مری اور دیگر لوگ انہیں ‘شیرو مری’ کہتے تھے، جبکہ بلوچ قوم پرست حلقوں میں بائیں بازو کے رجحانات، ماسکو میں قیام، اور مزاحمتی تحریک میں جدید گوریلا جنگ کی قیادت کرنے کی وجہ سے ساتھی انہیں ‘جنرل شیروف’ کے نام سے یاد کرتے تھے۔

    میر شیر محمد مری 1920 میں مری قبیلے کی بجارانی شاخ کے نہالان زئی پاڑے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے برطانوی دور حکومت میں ہی بغاوت کی، جس کے باعث انہیں سبی جیل میں قید رکھا گیا اور وہاں ان سے مشقت لی جاتی رہی۔

    قیام پاکستان کے بعد جب ریاست قلات نے پاکستان میں شمولیت سے انکار کیا تو قائداعظم محمد علی جناح کے حکم پر پاکستانی فوج نے میجر جنرل اکبر خان کی قیادت میں قلات پر فوجی کارروائی کی۔ خان آف قلات کو گرفتار کر کے پاکستان سے الحاق کا اعلان کروایا گیا۔ اس کے بعد پرنس عبدالکریم نے مزاحمت شروع کی، جس میں میر شیر محمد مری بھی شامل ہوگئے۔

    ان کے والد سیدان خان مری قبائلی تنازعات کے باعث افغانستان منتقل ہوگئے تھے، جہاں ان کا انتقال ہوا۔ بعد ازاں ان کے چچا شربت خان مری انہیں واپس بلوچستان لے آئے اور ان کی پرورش کی۔ ان کے بھائیوں نے زمینداری اختیار کی جبکہ میر شیر محمد مری سیاست کی جانب آگئے۔ انہوں نے ابتدا میں مزدوری اور ڈرائیوری بھی کی۔

    بلوچوں کے ساتھ ناانصافیوں اور ظلم کو دیکھتے ہوئے انہوں نے 1946 میں میر نہالان خان کے ساتھ مل کر ‘مظلوم پارٹی’ قائم کی، جس کا مقصد سرداروں کے جبری ٹیکس اور ناانصافیوں کے خلاف جدوجہد کرنا تھا۔ اسی سال کوہلو میں پارٹی کا پہلا کنونشن منعقد ہوا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس کے بعد انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

    ان کی گرفتاری کے خلاف ان کے حامیوں نے سرکاری کیمپ پر حملہ بھی کیا۔ دو سال بعد 1948 میں انہیں رہا کردیا گیا۔

    جنرل ایوب خان کے دور میں بلوچستان میں فوجی کارروائیوں اور نواب نوروز خان کی بغاوت کے بعد میر شیر محمد مری نے بلوچ باغیوں کو منظم کر کے ‘سرمچاری’ اور ‘فراری’ کیمپ قائم کیے اور مسلح جدوجہد شروع کی۔ نواب خیر بخش مری سیاسی طور پر ان کی حمایت کرتے رہے۔ انہی جدوجہدوں کے باعث بلوچ عوام نے انہیں ‘جنرل شیروف’ کا لقب دیا۔

    وہ تقریباً گیارہ برس تک جنرل ایوب خان، جنرل یحیی خان اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومتوں کے خلاف پہاڑوں میں رہ کر گوریلا جنگ کرتے رہے۔ اس دوران وہ کئی مرتبہ گرفتار بھی ہوئے۔

    1973 میں ذوالفقار علی بھٹو حکومت نے بلوچستان میں نیپ حکومت برطرف کردی اور سردار عطا اللہ مینگل، میر غوث بخش بزنجو سمیت بلوچ رہنماؤں کو گرفتار کرلیا۔ اس کے خلاف میر شیر محمد مری نے بلوچ مزاحمت کی قیادت کی اور مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔

    بعد ازاں ‘حیدرآباد ٹریبونل’ قائم کیا گیا، جہاں نیپ رہنماؤں پر غداری اور بغاوت کے مقدمات چلائے گئے۔ میر شیر محمد مری بھی دیگر بلوچ اور پشتون رہنماؤں کے ساتھ حیدرآباد سینٹرل جیل میں قید رہے۔ 1977 میں جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے بعد حیدرآباد ٹریبونل ختم کردیا گیا اور تمام سیاسی قیدی رہا ہوگئے۔

    رہائی کے بعد نواب خیر بخش مری اور میر شیر محمد مری کابل چلے گئے، تاہم بعد میں ان کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے اور ان کی راہیں جدا ہوگئیں۔ کچھ عرصہ بعد وہ واپس بلوچستان آگئے۔

    میر شیر محمد مری صرف ایک گوریلا کمانڈر ہی نہیں بلکہ ایک ادیب، مقرر اور کئی زبانوں کے ماہر بھی تھے۔ وہ بلوچی، سندھی، اردو سمیت کئی زبانیں جانتے تھے۔ ان کی تصانیف میں ‘بلوچی زبان و ادب کی تاریخ’، ‘بلوچی اردو لغت’ اور ‘بلوچی شاعری’ شامل ہیں۔

    وہ سکھر، حیدرآباد اور کراچی کی سینٹرل جیلوں میں بھی قید رہے۔

    میر شیر محمد مری 11 مئی 1993 کو انتقال کرگئے اور انہیں کوہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔

  • بلوچستان: دریائے ہنگول، جہاں زندگی، جنگلی حیات، عقیدت اور ارضیات کا سنگم

    بلوچستان: دریائے ہنگول، جہاں زندگی، جنگلی حیات، عقیدت اور ارضیات کا سنگم

    بلوچستان کے وسیع اور خشک پہاڑی سلسلوں کے درمیان ایک ایسا منظر بھی موجود ہے جو بظاہر بنجر زمین میں زندگی کی روانی کا احساس دلاتا ہے۔ یہ منظر دریائے ہنگول کا ہے، جو اس خطے کی رگوں میں دوڑتی ایک زندہ کہانی کی مانند ہے۔

    تقریباً 560 کلومیٹر طویل یہ دریا ضلع آواران کی بلند پہاڑیوں سے نکلتا ہے اور ایک طویل سفر طے کرتے ہوئے جنوب میں عرب سمندر سے جا ملتا ہے۔ اپنے راستے میں یہ آواران، گوادر اور لسبیلہ کے علاقوں کو سیراب کرتا ہوا نہ صرف پانی بلکہ ہزاروں برس پرانی ارضیاتی تاریخ بھی اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔

    یہ دریا محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ پاکستان کے سب سے بڑے نیشنل پارک، ہنگول نیشنل پارک، کی زندگی بھی ہے۔ 1988 میں قائم ہونے والا یہ پارک تقریباً چھ ہزار ایک سو مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور اپنی منفرد جغرافیائی ساخت اور حیاتیاتی تنوع کے باعث عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔

    کراچی سے تقریباً 190 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ پارک ایک ہی مقام پر چھ مختلف ماحولیاتی نظام سمیٹے ہوئے ہے، جن میں صحرا، پہاڑ، جنگلات، میدان، مٹی کے آتش فشاں اور سمندری علاقے شامل ہیں۔ یہی تنوع اسے قدرت کا ایک نایاب شاہکار بناتا ہے۔

    ہنگول نیشنل پارک کی پہچان اس کی حیرت انگیز چٹانیں بھی ہیں، جن میں سب سے مشہور پرنسیز آف ہوپ کی چٹان ہے۔ یہ منفرد ساخت رکھنے والی چٹان 2004 میں عالمی شہرت یافتہ اداکارہ انجلینا جولی کی توجہ کا مرکز بنی، جنہوں نے اسے یہ نام دیا۔ اس طرح یہ چٹان نہ صرف قدرتی حسن بلکہ عالمی شناخت کی علامت بھی بن گئی۔

    اس علاقے کی ایک اور حیران کن خصوصیت مٹی کے آتش فشاں ہیں، جو دنیا کے چند مخصوص خطوں میں ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں چاندرا گپ کا آتش فشاں ہے، جسے بابا چندر گپ بھی کہا جاتا ہے۔ تقریباً 330 فٹ بلند یہ آتش فشاں پگھلی ہوئی مٹی اور میتھین گیس خارج کرتا ہے اور اپنی نوعیت کا منفرد مظہر ہے۔ لیکن اس کی اہمیت صرف سائنسی یا قدرتی نہیں بلکہ مذہبی بھی ہے۔

    ہندو عقیدت مند اسے ایک مقدس مقام مانتے ہیں اور ہر سال ہزاروں کی تعداد میں یہاں آ کر ناریل چڑھاتے ہیں اور اپنی مرادیں مانگتے ہیں۔

    یہی عقیدت کا سفر آگے بڑھتے ہوئے ہنگلاج ماتا کے مندر تک پہنچتا ہے، جو ہنگول ندی کے کنارے پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔ یہ مندر پاکستان میں ہندو برادری کی سب سے بڑی عبادت گاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ ہر سال مارچ یا اپریل میں یہاں چار روزہ یاترا کا انعقاد ہوتا ہے، جس میں اندازاً ڈھائی لاکھ سے زائد یاتری شرکت کرتے ہیں۔

    بلوچستان حکومت کی جانب سے اس مقام کی ترقی اور سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات بھی کیے گئے ہیں، جو مذہبی رواداری اور ثقافتی ہم آہنگی کی ایک مثبت مثال ہے۔

    ہنگول نیشنل پارک کی زندگی کا اصل راز اس کا پانی ہے۔ اس خطے کے دیگر ندی نالوں کے برعکس دریائے ہنگول پورا سال بہتا رہتا ہے اور اس کا پانی نسبتاً صاف اور میٹھا ہوتا ہے۔ یہی پانی اس علاقے کی حیاتیاتی زندگی کو ممکن بناتا ہے، جہاں مگر مچھ جیسی نایاب اور خطرے سے دوچار نسل بھی پائی جاتی ہے۔

    اس کے علاوہ یہ دریا پرندوں، مچھلیوں اور دیگر جنگلی حیات کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بھی ہے۔

    دریائے ہنگول اور اس کے گرد و نواح صرف ایک قدرتی منظر نہیں بلکہ ایک مکمل ماحولیاتی، ثقافتی اور روحانی نظام کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ارضیات، حیات اور عقیدت ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔ بلوچستان کا یہ خطہ آج بھی اپنی خوبصورتی اور اسرار کے ساتھ ایک ایسی کہانی سناتا ہے جو ابھی مکمل طور پر دنیا کے سامنے نہیں آ سکی۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسی ہی انوکھی اور دلکش کہانیاں سامنے لاتا ہے جو ہمارے اردگرد موجود ہیں مگر اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔

  •  استولا جزیرہ: محفوظ سمندری ورثہ یا نیا سیاحتی خواب؟

     استولا جزیرہ: محفوظ سمندری ورثہ یا نیا سیاحتی خواب؟

    بحیرہ عرب کے نیلگوں پانیوں میں بلوچستان کے خوبصورت ساحل سے کچھ فاصلے پر واقع استولا جزیرہ ایک ایسا قدرتی خزانہ ہے جو برسوں سے دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا، مگر اب اچانک قومی بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان نے اس ویران مگر دلکش جزیرے کو ترقی اور تحفظ کے ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

    ایک طرف اسے مالدیپ جیسا عالمی سیاحتی مرکز بنانے کے خواب دکھائے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف اس کے نایاب سمندری ماحول اور محفوظ حیثیت کو لاحق ممکنہ خطرات پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اب یہ جزیرہ صرف ایک جغرافیائی مقام نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا امتحان بن چکا ہے جس میں یہ طے ہونا ہے کہ پاکستان اپنی قدرتی وراثت کو کس حد تک سنبھال سکتا ہے۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں ایک ٹوئرزم سرمایہ کاری سے متعلق کانفرنس میں کہا تھا کہ اگر مناسب منصوبہ بندی کی جائے تو لوگ مالدیپ جیسے عالمی سیاحتی مقامات کوجانا بھول جائیں گے۔

    استولا جزیرہ کیوں اہم ہے؟

    استولا جزیرہ ضلع گوادر میں واقع ہے اور اس کا کل محفوظ رقبہ تقریباً 401.47 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ اس میں ایک کور زون اور ایک بفر زون شامل ہے، جن کی حدود باقاعدہ جغرافیائی نقاط (coordinates) کے ذریعے متعین کی گئی ہیں۔

    استولا کو پاکستان کا سب سے بڑے آف شور جزیرے کے طور پر پہچانا جاتا ہے جو اپنی منفرد جغرافیائی ساخت، بلند چٹانوں اور صاف شفاف پانی کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں انسانی آبادی تو موجود نہیں مگر اس کے باوجود مقامی مچھیرے باقائدگی سے وہاں جاتے ہیں اور کچھ وقت گذار کر ڈیپ سی کی طرف مچھلی کا شکار کرنے جاتے ہیں۔ انسانی تعلق کم ہونے کے باعث اس جزیرے کا قدرتی ماحول بڑی حد تک محفوظ رہا ہے۔

    جنگلی ماحولیات کے ماہر معظم علی خان کہتے ہیں کہ گہرے سمندر میں واقع یہ جزیرہ مون سون کے موسم کے دوران  قابلِ رسائی نہیں ہوتا، اور ماہی گیر بھی وہاں نہیں جاتے۔

    مگر جزیرے کے آس پاس سمندری حیات کی وجہ سے اس کی بڑی اہمیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 15 جون 2017 کو حکومت بلوچستان نے ایک باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے اسے ’میرین پروٹیکٹڈ ایریا‘ قرار دیا تھا، جس کے بعد یہ پاکستان کا پہلا محفوظ سمندری علاقہ بن گیا۔ یہ اقدام بلوچستان وائلڈ لائف ایکٹ 2014 کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد سمندری حیاتیاتی تنوع کا تحفظ اور قدرتی ماحول کو نقصان سے بچانا ہے۔

    اس نوٹیفکیشن کے تحت استولا جزیرہ اور اس کے گرد و نواح کے تقریباً 400 مربع کلومیٹر سمندری علاقے کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد نایاب سمندری حیات، مرجان کی چٹانوں اور کچھوؤں کی افزائش کے مقامات کو بچانا تھا۔ یہاں سبز کچھوے اور دیگر نسلوں کے کچھوے انڈے دینے آتے ہیں، جبکہ مختلف اقسام کی مچھلیاں، پرندے اور دیگر سمندری جاندار بھی پائے جاتے ہیں۔ معظم خان کے مطابق یہ جزیرہ پاکستان کے چند ایسے مقامات میں شامل ہے جہاں قدرتی حیاتیاتی تنوع اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔

    محفوظ علاقہ قرار دیے جانے کے بعد یہاں کئی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ شکار، غیر قانونی ماہی گیری، زہریلے یا دھماکہ خیز مواد کے استعمال، اور بغیر اجازت تعمیرات جیسے اقدامات کو سختی سے ممنوع قرار دیا گیا۔ حتیٰ کہ سیاحتی سرگرمیوں جیسے اسکیوبا ڈائیونگ یا جیٹ اسکی بھی حکومتی اجازت سے مشروط کر دی گئی۔ ان اقدامات کا مقصد اس نازک ماحولیاتی نظام کو ہر ممکن نقصان سے بچانا تھا۔

    ماہیگیر اور ماحولیاتی ماہرین کیا کہتے ہیں؟

    پاکستان فشرفوک فورم کے جنرل سیکریٹری سعید بلوچ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ کا یہ بیان ماہی گیروں کے روزگار کے وسائل پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ ’ہم سمجھتے ہیں کہ اس جزیرے کو ٹوئرزم کے لیے بنانے سے بلوچستان میں ماہی گیری کی سرگرمیاں شدید متاثر ہوں گی۔‘ گوادر پورٹ بننے کے بعد مقامی ماہی گیروں کو اس علاقے میں مچھلی سے روکا جاتا ہے۔ جس طرح کراچی کے ساحل پر سی ویو اور ڈی ایچ اے بننے کے بعد گذری کے ماہی گیروں کا روزگار ختم ہوچکا ہے ، اسی طرح بلوچستان کے ماہی گیروں کا بھی اس جزیرے کو ٹوئرزم کے لیے بنانے سے استحصال ہوگا۔

    ماہرین ماحولیات بھی بلوچستا کے ساحل پر ٹوئرزم سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک طرف حکومت اس جزیرے کو عالمی معیار کے سیاحتی مقام میں تبدیل کر کے معیشت کو فروغ دینا چاہتی ہے، تو دوسری جانب ماہرین ماحولیات اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی بھی ترقیاتی منصوبے سے پہلے اس کے ماحولیاتی اثرات کو سنجیدگی سے جانچا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ استولا جزیرہ ایک حساس ماحولیاتی نظام رکھتا ہے، جہاں معمولی انسانی مداخلت بھی بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

    محسن نقوی نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں جزیرے کی ماحولیات کو برقرار رکھتے ہوئے سیاحت کو فروغ دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اگر جدید سہولیات، جیسے فیری سروس، محدود اور ماحول دوست ریزورٹس، اور بنیادی انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے تو یہ جزیرہ نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے بھی ایک پرکشش مقام بن سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ فی الحال محدود پیمانے پر ایکو ٹورزم سرگرمیاں جیسے اسنارکلنگ اور کیمپنگ پہلے ہی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں۔ مستقبل میں لگژری ریزورٹس بھی بنائے جائیں گے، لیکن جزیرے کے قدرتی حسن کو برقرار رکھا جائے گا۔

    حکومت کے خیال میں اگر اس منصوبے کو احتیاط اور منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ بلوچستان کی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، مقامی کاروبار کو فروغ ملے گا اور پاکستان کی سیاحتی صنعت کو نئی شناخت مل سکتی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ سخت نگرانی، واضح قوانین اور مؤثر عملدرآمد ناگزیر ہوگا تاکہ جزیرے کی اصل خوبصورتی اور حیاتیاتی تنوع کو نقصان نہ پہنچے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں کئی محفوظ علاقوں کو مناسب نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس لیے استولا جزیرہ کے معاملے میں صرف اعلانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک جامع مینجمنٹ پلان پر عملدرآمد یقینی بنائے، جس میں ماحولیاتی ماہرین، مقامی کمیونٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کو شامل کیا جائے۔

  • بلوچستان: مکران ساحل پر دنیا کا منفرد راز: اورماڑہ  اور گوادر کے ہتھوڑی کی شکل کے جزیرہ نما جو دنیا میں اپنی نوعیت کے منفرد مقام

    بلوچستان: مکران ساحل پر دنیا کا منفرد راز: اورماڑہ اور گوادر کے ہتھوڑی کی شکل کے جزیرہ نما جو دنیا میں اپنی نوعیت کے منفرد مقام

    جب آپ پاکستان کے نقشے پر جنوب مغرب کی طرف سفر کرتے ہیں، مکران کے ساحل کے ساتھ نظریں دوڑاتے ہیں، تو سمندر اور خشکی کے بیچ دو عجیب و غریب شکلیں ابھرتی دکھائی دیتی ہیں۔ گوادر اور اورماڑہ کے قریب موجود یہ ہتھوڑی نما جزیرہ نما بظاہر ایک جیسے لگتے ہیں، مگر ان کی کہانی لاکھوں برس پر محیط ہے۔ لمبی، بلند اور ڈھلوانی سطحیں، جنہیں ٹیریسز کہا جاتا ہے، سمندر کی طرف جھکی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اور یہ تمام بلندیاں ایک باریک ریتلی پٹی کے ذریعے مرکزی زمین سے جڑی ہوئی ہیں، جسے ٹومبولو کہا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ منفرد شکلیں آخر وجود میں کیسے آئیں، اور دنیا میں کہیں اور اس انداز سے کیوں نہیں ملتیں؟

    اس راز کی ابتدا زمین کی گہرائی میں ہوتی ہے۔ مکران کا ساحل دراصل ایک متحرک خطہ ہے جہاں عربین پلیٹ مسلسل یوریشین پلیٹ کے نیچے سرک رہی ہے۔ سمندری پلیٹ بھاری ہوتی ہے، اسی لئے جب وہ برِاعظمی پلیٹ سے ٹکراتی ہے تو اس کے نیچے چلی جاتی ہے۔ اس عمل کو سبڈکشن کہا جاتا ہے، اور یہاں یہی مکران سبڈکشن جاری ہے۔ مگر یہ ٹکراؤ صرف نیچے کی طرف حرکت نہیں، بلکہ اوپر کی دنیا کو بھی بدل دیتا ہے۔

    سمندری تہہ میں جمع ریت اور کیچڑ کے ذخیرے دباؤ کے باعث ٹوٹتے اور جڑتے رہتے ہیں۔ ان ٹوٹے ہوئے حصوں کو ایکریشنی ویج کہا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی تلچھٹ سینڈ اسٹون اور لائم اسٹون جیسی چٹانوں میں بدل جاتی ہے۔ انہی چٹانوں سے وہ زمینی ڈھانچے تشکیل پاتے ہیں جو بعد میں جزیرہ نما کی صورت اختیار کرتے ہیں۔

    زمین کی پرت ہر جگہ یکساں نہیں ٹوٹتی۔ کہیں فالٹ لائنز زیادہ سرگرم ہوتی ہیں، کہیں تلچھٹ کا دباؤ مختلف ہوتا ہے۔ انہی دراڑوں کے ساتھ کچھ حصے اوپر اٹھ جاتے ہیں، جنہیں ہورسٹ کہا جاتا ہے، جبکہ اردگرد کی زمین نسبتاً نیچے دھنس جاتی ہے، جسے گریبن کہا جاتا ہے۔ گوادر اور اورماڑہ دراصل ایسے ہی ہورسٹ بلاکس ہیں، جو سمندر کی تہہ سے بلند ہوئے اور نمایاں شکل اختیار کر گئے۔

    مگر کہانی ابھی مکمل نہیں ہوتی۔ یہ بلند حصے کبھی مکمل جزیرے تھے۔ وقت کے ساتھ لہروں کی مسلسل آمد و رفت اور ریت کی حرکت نے ان کے گرد لمبی ریتلی پٹیاں بنا دیں۔ یہی ٹومبولو ہیں، جنہوں نے ان جزیروں کو مرکزی زمین سے جوڑ دیا۔ یوں پہلے یہ الگ تھلگ جزیرے تھے، پھر ریت نے راستہ بنایا، اور آج وہ ہتھوڑی نما جزیرہ نما بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔

    یہ صرف ایک جغرافیائی ساخت نہیں۔ یہ زمین کی گہرائی میں جاری طاقتور حرکات کی خاموش گواہی ہیں۔ لاکھوں برس کی سبڈکشن، ایکریشنی ویجز، فالٹ لائنز اور سمندری لہروں کی مسلسل محنت نے مکران کے ساحل پر یہ عجوبہ تخلیق کیا۔

    ساگا ڈیجیٹل پر زمین کے راز صرف دکھائے نہیں جاتے، سمجھائے جاتے ہیں۔

    اور یہ تھی گوادر اور اورماڑہ کی حیران کن جغرافیائی کہانی۔

  • بلوچستان: ہنگول نیشنل پارک میں ‘امید کی شہزادی’ کی خاموش نگہبانی، پرنسیس آف ہوپ کی اسل کہانی ہے کیا؟

    بلوچستان: ہنگول نیشنل پارک میں ‘امید کی شہزادی’ کی خاموش نگہبانی، پرنسیس آف ہوپ کی اسل کہانی ہے کیا؟

    بلوچستان کے جنوب میں واقع ہنگول نیشنل پارک پاکستان کا سب سے بڑا قومی پارک ہے، جہاں سمندر، ریگستان، پہاڑ اور مٹی کے آتش فشاں ایک ہی جغرافیائی خطے میں موجود ہیں۔ یہ علاقہ اپنی قدرتی ساخت، نایاب جنگلی حیات اور منفرد زمینی مناظر کے باعث ملک کے اہم سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

    اسی پارک کے اندر ایک قدرتی چٹان موجود ہے جو دور سے دیکھنے پر تاج پہنے کسی خاتون کے مجسمے جیسی محسوس ہوتی ہے۔ اس چٹان کو امید کی شہزادی یا پرنسیس آف ہوپ کہا جاتا ہے۔ یہ انسانی ہاتھوں سے تراشی گئی ساخت نہیں بلکہ صدیوں پر محیط قدرتی کٹاؤ کا نتیجہ ہے، جس نے مٹی اور پتھریلی پرتوں کو مجسمے جیسی شکل دے دی۔

    2002 میں عالمی شہرت یافتہ اداکارہ انجلینا جولی اقوام متحدہ کی خیرسگالی سفیر کی حیثیت سے اس علاقے کے دورے پر آئیں۔ انہوں نے اس چٹان کو امید کی علامت قرار دیا، جس کے بعد یہ نام عالمی سطح پر مقبول ہوا۔ چٹان کی بلندی تقریباً 25 میٹر بتائی جاتی ہے اور یہ تلچھٹی اور چکنی مٹی کی پرتوں پر مشتمل ہے، جو ہوا اور موسموں کے اثر سے مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔

    ماہرین ارضیات کے مطابق ہنگول کا علاقہ قدیم ادوار میں سمندر کی تہہ کا حصہ تھا۔ زمینی حرکات کے باعث یہ خطہ سطح زمین پر ابھرا جبکہ قدرتی عوامل نے وقت کے ساتھ اس چٹان کو موجودہ شکل دی۔ اسی وجہ سے یہ مقام جغرافیائی تحقیق کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

    1988 میں ہنگول کو نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔ یہاں سندھ آئبیکس سمیت متعدد نایاب جنگلی حیات پائی جاتی ہے، تاہم امید کی شہزادی اس پارک کی سب سے نمایاں شناخت بن چکی ہے۔ مکران کوسٹل ہائی وے سے گزرتے ہوئے یہ چٹان نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے اور شام کے وقت سورج کی روشنی اسے سنہری رنگ دے دیتی ہے، جس سے اس کا منظر مزید واضح اور دلکش ہو جاتا ہے۔

    امید کی شہزادی قدرتی عمل کی ایک مثال ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وقت، زمین اور ہوا مل کر کس طرح ایک منفرد منظر تخلیق کر سکتے ہیں۔

  • لسبیلہ: بارہ سالہ طالب علم انصار رونجھا، مصنوعی ذہانت سے شاعری اور ویڈیوز کیسے تخلیق کرتے ہیں؟

    لسبیلہ: بارہ سالہ طالب علم انصار رونجھا، مصنوعی ذہانت سے شاعری اور ویڈیوز کیسے تخلیق کرتے ہیں؟

    بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے احمد آباد بیلہ گاؤں کے بارہ سالہ انصار رونجھا چھٹی جماعت کے طالب علم ہیں۔ کم عمری کے باوجود انہوں نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں عملی مہارت حاصل کر لی ہے۔

    انصار اپنا یوٹیوب چینل خود چلاتے ہیں۔ وہ مصنوعی ذہانت کے مختلف ٹولز کے ذریعے تخلیقی مواد تیار کرتے ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی سے اردو شاعری تخلیق کرتے ہیں، پھر سُنو اے آئی کے ذریعے آواز بناتے ہیں، اور گوگل جیمنائی سے موسیقی اور مناظر کے مطابق ویڈیوز تیار کر کے یوٹیوب پر اپلوڈ کرتے ہیں۔

    ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے انصار رونجھا نے کہا: ‘مصنوعی ذہانت نے مجھے نئے خیالات پیدا کرنے اور انہیں دنیا تک پہنچانے کا موقع دیا۔ میں اپنی شاعری اور ویڈیوز خود تخلیق کرتا ہوں تاکہ سب دیکھ سکیں۔’

    انصار رونجھا نے یہ مہارت اپنے چچا سے سیکھی، جنہوں نے بلوچستان کے ایک چھوٹے گاؤں میں وانگ لیب آف انوویشن قائم کی۔ یہ لیب مقامی نوجوانوں اور بچوں کو مفت مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تربیت فراہم کرتی ہے۔

    اس پروگرام کے بانی قیصر رونجھا کے مطابق: ‘انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت لوگوں کی زندگی بدل سکتے ہیں۔ ہم نے مقامی زبانوں میں تربیت دے کر بچوں اور نوجوانوں کو جدید مواقع سے جوڑا ہے تاکہ ہر بچہ اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکے۔’

    وانگ لیب نے گوگل، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اے وی پی این جیسے عالمی اداروں کے ساتھ شراکت کی ہے۔ اس تربیت سے انصار جیسے بچے نہ صرف اپنی تخلیقی صلاحیتیں نکھار رہے ہیں بلکہ ڈیجیٹل دور میں اپنی شناخت بھی بنا رہے ہیں۔

    انصار رونجھا کی کہانی بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ کم وسائل کے باوجود مہارت اور محنت سے عالمی سطح پر پہچان بنائی جا سکتی ہے۔

  • بلوچستان کے کئی شہروں میں حملے ناکام، کم از کم 37 عسکریت پسند، حکومت کا دعویٰ، 10 اہلکاروں کے علاوہ متعدد شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق

    بلوچستان کے کئی شہروں میں حملے ناکام، کم از کم 37 عسکریت پسند، حکومت کا دعویٰ، 10 اہلکاروں کے علاوہ متعدد شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق

    بلوچستان میں ہفتے کی صبح شروع ہونے والے حملوں میں دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف شہر نشانہ بنے، حکومت کے مطابق صوبے کے مختلف شہروں میں دہشت گردوں نے حملے کیے۔
    پاکستان کے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے سنیچر کے روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں کو ناکام بنا دیا ہے اور کارروائی کے دوران کم از کم 37 شدت پسند اور 10 سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
    پولیس حکام کے مطابق مستونگ جیل پر ہونے والے حملے کے دوران 27 قیدی بھی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
    ریڈیو پاکستان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے جاری آپریشنز کے دوران سنیچر کی صبح بلوچستان میں 67 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جب کہ گذشتہ دو دنوں میں بلوچستان میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 108 ہو گئی ہے اور پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے 10 اہلکار جان سے گئے۔
    ریڈیو پاکستان کے مطابق گوادر میں دہشت گردوں کے ہاتھوں جان سے جانے والے بلوچ شہریوں کی تعداد بھی 11 ہو گئی ہے، جن میں تین بچے بھی شامل ہیں۔

  • بلوچستان کے آخری چنگ نواز: اس خطے میں چنگ سمیت روایتی سازوں کو کیا خطرات درپیش ہیں؟

    بلوچستان کے آخری چنگ نواز: اس خطے میں چنگ سمیت روایتی سازوں کو کیا خطرات درپیش ہیں؟

    ماضی کے روایتی اور قدیم ساز چنگ کے حوالے سے بلوچستان کے مایہ ناز فنکار بنگل مصری کے پوتے محمد اقبال مصری کو آج بلوچستان کے آخری چنگ نوازوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ جدید دور میں درپیش متعدد خطرات کے باوجود اس نایاب ساز کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    بلوچستان کی سنگلاخ زمین، خاموش پہاڑ اور دور تک پھیلے ریگستان صرف قدرتی مناظر نہیں بلکہ صدیوں پرانی تہذیب کی زندہ گواہی بھی ہیں۔ اسی تہذیب کا ایک نایاب اور آہستہ آہستہ خاموش ہوتا ہوا ورثہ چنگ ہے، ایک ایسا قدیم ساز جس کی آواز کبھی بلوچ بستیوں، قافلوں اور میلوں میں سنائی دیتی تھی، مگر اب یہ آواز مدھم پڑ چکی ہے۔

    چنگ بنیادی طور پر ایک سادہ مگر گہرے اثرات رکھنے والا ساز ہے۔ لکڑی یا دھات سے بنے اس ساز میں باریک زبانیں ہوتی ہیں جنہیں منہ کے قریب رکھ کر بجایا جاتا ہے۔ اس کی آواز نرم، اداس اور دل میں اتر جانے والی ہوتی ہے۔ بلوچستان میں چنگ کو محض موسیقی کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ یہ تنہائی، ہجرت، محبت اور فراق جیسے جذبات کا ترجمان بھی تھا۔

    ساگا ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چنگ نواز محمد اقبال مصری نے بتایا کہ جدید سازوں اور بدلتے سماجی رجحانات کے باعث بلوچستان میں روایتی اور قدیم چنگ کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں چنگ زیادہ تر رات کے وقت بجایا جاتا تھا۔

    ‘چرواہے، مسافر یا طویل سفر پر نکلنے والے لوگ چنگ کی آواز کے ساتھ اپنا دل بہلاتے تھے۔ یہ ساز محفلوں کے شور کے لیے نہیں بلکہ خاموشی کے لیے بنا تھا، شاید اسی لیے جدید دور کے تیز اور اونچی آواز والے سازوں کے سامنے چنگ پیچھے رہ گیا۔’

    محمد اقبال مصری کا کہنا ہے کہ اب نہ وہ ماحول باقی رہا ہے اور نہ ہی وہ سننے والے۔ موبائل فون، جدید موسیقی اور بدلتی سماجی ترجیحات نے چنگ کو تقریباً فراموش کر دیا ہے۔ نوجوان نسل اس ساز سے ناآشنا ہے اور اگر اس کا نام سن بھی لے تو اسے پرانا اور غیر متعلق سمجھتی ہے۔

    چنگ صرف ایک ساز نہیں بلکہ بلوچستان کی غیر تحریری تاریخ کا حصہ ہے۔ اس کی دھنوں میں ہجرتوں کی کہانیاں، قحط کے دن، محبت کے وعدے اور پہاڑوں کی خاموشی سمٹی ہوئی ہے۔ جب آخری چنگ نواز خاموش ہو جائے گا تو صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک پوری آواز ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔

    ماہرین ثقافت کا کہنا ہے کہ اگر چنگ جیسے روایتی سازوں کو محفوظ نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں اپنی ہی سرزمین کے کئی ثقافتی رنگوں سے ناواقف رہ جائیں گی۔ چنگ کی بقا صرف ایک ساز کی بقا نہیں بلکہ اس سوچ کی بقا ہے جس میں سادگی، تنہائی اور احساس کو موسیقی کا درجہ حاصل تھا۔

    بلوچستان میں آخری چنگ نواز آج بھی کبھی کبھار اس ساز کو ہونٹوں سے لگا کر ایک دھن چھیڑتا ہے۔ شاید اسے معلوم ہے کہ سننے والے کم ہیں، مگر تاریخ اب بھی کہیں نہ کہیں اس آواز کو محفوظ کر رہی ہے۔

     

  • سندھ اور بلوچستان کے صوفیانہ موسیقی کے قدیم اور روحانی ساز دنبوری

    سندھ اور بلوچستان کے صوفیانہ موسیقی کے قدیم اور روحانی ساز دنبوری

    دنبوری سندھ اور بلوچستان کے صوفیانہ موسیقی کا ایک قدیم اور روحانی ساز ہے۔ یہ ساز لکڑی سے بنایا جاتا ہے اور اس میں تاریں لگائی جاتی ہیں۔ دنبوری کو عموماً گود میں رکھ کر یا کندھے سے لگا کر بجایا جاتا ہے۔ اس کے تار انگلیوں یا لکڑی کی پتلی پٹی سے چھیڑے جاتے ہیں۔

    دنبوری کی آواز گہری، سادہ اور دل میں اتر جانے والی ہوتی ہے۔ یہ ساز زیادہ تر لوک داستانوں اور صوفی کلام کے ساتھ بجایا جاتا ہے۔ شاہ لطیف بھٹائی کے کلام میں دنبوری کی روایت خاص اہمیت رکھتی ہے۔

    سندھ کے فقیروں اور لوک گویوں میں یہ ساز شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ دنبوری سنگیت میں راگ کے بجائے احساس کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

    یہ ساز محفل کو خاموشی اور توجہ کی کیفیت میں لے آتا ہے۔ دنبوری بجانے والا فنکار کہانی اور درد کو آواز دیتا ہے۔ آج بھی سندھ کے میلوں اور درگاہوں میں دنبوری کی گونج سنائی دیتی ہے۔ دنبوری صرف ساز نہیں بلکہ سندھ کی روحانی ثقافت کی آواز ہے۔