دنبوری سندھ اور بلوچستان کے صوفیانہ موسیقی کا ایک قدیم اور روحانی ساز ہے۔ یہ ساز لکڑی سے بنایا جاتا ہے اور اس میں تاریں لگائی جاتی ہیں۔ دنبوری کو عموماً گود میں رکھ کر یا کندھے سے لگا کر بجایا جاتا ہے۔ اس کے تار انگلیوں یا لکڑی کی پتلی پٹی سے چھیڑے جاتے ہیں۔
دنبوری کی آواز گہری، سادہ اور دل میں اتر جانے والی ہوتی ہے۔ یہ ساز زیادہ تر لوک داستانوں اور صوفی کلام کے ساتھ بجایا جاتا ہے۔ شاہ لطیف بھٹائی کے کلام میں دنبوری کی روایت خاص اہمیت رکھتی ہے۔
سندھ کے فقیروں اور لوک گویوں میں یہ ساز شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ دنبوری سنگیت میں راگ کے بجائے احساس کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
یہ ساز محفل کو خاموشی اور توجہ کی کیفیت میں لے آتا ہے۔ دنبوری بجانے والا فنکار کہانی اور درد کو آواز دیتا ہے۔ آج بھی سندھ کے میلوں اور درگاہوں میں دنبوری کی گونج سنائی دیتی ہے۔ دنبوری صرف ساز نہیں بلکہ سندھ کی روحانی ثقافت کی آواز ہے۔
