[rank_math_breadcrumb]

بلوچستان: مکران ساحل پر دنیا کا منفرد راز: اورماڑہ اور گوادر کے ہتھوڑی کی شکل کے جزیرہ نما جو دنیا میں اپنی نوعیت کے منفرد مقام

جب آپ پاکستان کے نقشے پر جنوب مغرب کی طرف سفر کرتے ہیں، مکران کے ساحل کے ساتھ نظریں دوڑاتے ہیں، تو سمندر اور خشکی کے بیچ دو عجیب و غریب شکلیں ابھرتی دکھائی دیتی ہیں۔ گوادر اور اورماڑہ کے قریب موجود یہ ہتھوڑی نما جزیرہ نما بظاہر ایک جیسے لگتے ہیں، مگر ان کی کہانی لاکھوں برس پر محیط ہے۔ لمبی، بلند اور ڈھلوانی سطحیں، جنہیں ٹیریسز کہا جاتا ہے، سمندر کی طرف جھکی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اور یہ تمام بلندیاں ایک باریک ریتلی پٹی کے ذریعے مرکزی زمین سے جڑی ہوئی ہیں، جسے ٹومبولو کہا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ منفرد شکلیں آخر وجود میں کیسے آئیں، اور دنیا میں کہیں اور اس انداز سے کیوں نہیں ملتیں؟

اس راز کی ابتدا زمین کی گہرائی میں ہوتی ہے۔ مکران کا ساحل دراصل ایک متحرک خطہ ہے جہاں عربین پلیٹ مسلسل یوریشین پلیٹ کے نیچے سرک رہی ہے۔ سمندری پلیٹ بھاری ہوتی ہے، اسی لئے جب وہ برِاعظمی پلیٹ سے ٹکراتی ہے تو اس کے نیچے چلی جاتی ہے۔ اس عمل کو سبڈکشن کہا جاتا ہے، اور یہاں یہی مکران سبڈکشن جاری ہے۔ مگر یہ ٹکراؤ صرف نیچے کی طرف حرکت نہیں، بلکہ اوپر کی دنیا کو بھی بدل دیتا ہے۔

سمندری تہہ میں جمع ریت اور کیچڑ کے ذخیرے دباؤ کے باعث ٹوٹتے اور جڑتے رہتے ہیں۔ ان ٹوٹے ہوئے حصوں کو ایکریشنی ویج کہا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی تلچھٹ سینڈ اسٹون اور لائم اسٹون جیسی چٹانوں میں بدل جاتی ہے۔ انہی چٹانوں سے وہ زمینی ڈھانچے تشکیل پاتے ہیں جو بعد میں جزیرہ نما کی صورت اختیار کرتے ہیں۔

زمین کی پرت ہر جگہ یکساں نہیں ٹوٹتی۔ کہیں فالٹ لائنز زیادہ سرگرم ہوتی ہیں، کہیں تلچھٹ کا دباؤ مختلف ہوتا ہے۔ انہی دراڑوں کے ساتھ کچھ حصے اوپر اٹھ جاتے ہیں، جنہیں ہورسٹ کہا جاتا ہے، جبکہ اردگرد کی زمین نسبتاً نیچے دھنس جاتی ہے، جسے گریبن کہا جاتا ہے۔ گوادر اور اورماڑہ دراصل ایسے ہی ہورسٹ بلاکس ہیں، جو سمندر کی تہہ سے بلند ہوئے اور نمایاں شکل اختیار کر گئے۔

مگر کہانی ابھی مکمل نہیں ہوتی۔ یہ بلند حصے کبھی مکمل جزیرے تھے۔ وقت کے ساتھ لہروں کی مسلسل آمد و رفت اور ریت کی حرکت نے ان کے گرد لمبی ریتلی پٹیاں بنا دیں۔ یہی ٹومبولو ہیں، جنہوں نے ان جزیروں کو مرکزی زمین سے جوڑ دیا۔ یوں پہلے یہ الگ تھلگ جزیرے تھے، پھر ریت نے راستہ بنایا، اور آج وہ ہتھوڑی نما جزیرہ نما بن کر ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔

یہ صرف ایک جغرافیائی ساخت نہیں۔ یہ زمین کی گہرائی میں جاری طاقتور حرکات کی خاموش گواہی ہیں۔ لاکھوں برس کی سبڈکشن، ایکریشنی ویجز، فالٹ لائنز اور سمندری لہروں کی مسلسل محنت نے مکران کے ساحل پر یہ عجوبہ تخلیق کیا۔

ساگا ڈیجیٹل پر زمین کے راز صرف دکھائے نہیں جاتے، سمجھائے جاتے ہیں۔

اور یہ تھی گوادر اور اورماڑہ کی حیران کن جغرافیائی کہانی۔

اسی بارے میں: