گذشتہ ہفتے یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کی شرائط پر مکمل عمل درآمد نہ کرنے پر تنقید کے بعد اب امریکہ نے بھی ’جبری مشقت‘ روکنے میں ناکامی پر پاکستان سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد تک نئے ٹیرف نافذ کر دیے ہیں، جن کا اطلاق آج سے ہو گیا ہے۔
متاثرہ ممالک میں بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، برطانیہ، چین، یورپی یونین، کینیڈا اور جاپان بھی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان برآمدات اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جس پر نئے امریکی ٹیرف منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
پاکستان میں ماضی میں بھی مزدوروں کے حقوق، بچوں سے مشقت اور جبری مزدوری کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور لیبر قوانین پر عمل درآمد کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اب بھی ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔
پاکستانی تاجروں کے نمائندے اور ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان (ای ایف پی) کے صدر مجید عزیز نے امریکی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر جبری مشقت ی نئی شق کو ٹیرف عائد کرنے کی وجہ بنایا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف تجارت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری، سفارتی تعلقات اور سیاحت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
جبری مشقت کے الزامات کی بنیاد پر جاری کیا گیا صدارتی حکم نامہ عدالتوں یا دوطرفہ مذاکرات میں زیادہ دیر برقرار رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست میں یورپی ممالک کو بھی ان ممالک کے ساتھ شامل کر دیا گیا ہے جہاں آمرانہ حکومتیں ہیں یا جمہوری نظام موجود نہیں۔ حالانکہ کئی یورپی ممالک نے قوانین سازی، بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے کنونشنز کی توثیق اور سخت نگرانی کے ذریعے جبری مشقت کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔
پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے جبری مشقت کے خاتمے یا اس میں نمایاں کمی لانے کے لیے سنجیدہ اور فوری اقدامات کیے ہیں۔
مثبت پہلو صرف یہ ہے کہ اگر پاکستان، ٹرمپ انتظامیہ کی نظر میں ایک قابل اعتماد شراکت دار سمجھا جاتا ہے تو ممکن ہے اس پر اضافی ٹیرف عائد نہ کیا جائے، یا پھر صرف علامتی نوعیت کا معمولی ٹیرف لگایا جائے۔
ای ایف پی کا مؤقف ہے کہ جبری مشقت نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ پائیدار کاروباری ترقی، منصفانہ مسابقت اور معاشی ترقی کی راہ میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جبری مشقت کا خاتمہ حکومتوں، آجروں، مزدوروں اور آجر تنظیموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق نئے ٹیرف ان تمام ممالک پر لاگو ہوں گے جن سے امریکہ بڑی مقدار میں اشیا درآمد کرتا ہے۔ ان 60 ممالک سے ہونے والی درآمدات امریکہ کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 99.4 فیصد بنتی ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد کیا گیا ہے۔ ان تحقیقات میں الزام لگایا گیا تھا کہ مختلف ممالک میں جبری مشقت کے ذریعے تیار ہونے والی اشیا امریکہ برآمد کی جا رہی ہیں اور متعلقہ حکومتیں اس مسئلے کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہیں۔
امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرف 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوں گے۔ پاکستان 10 فیصد ٹیرف والے ممالک میں شامل ہے، کیونکہ انہوں نے مبینہ جبری مشقت کے خاتمے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں، تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ان اقدامات سے مطمئن نہیں اور اس مسئلے پر نظر رکھے گا۔
یہ نئے ٹیرف ایسے وقت میں نافذ کیے گئے ہیں جب اس سال کے آغاز میں صدر ٹرمپ کی جانب سے تقریباً تمام درآمدات پر عائد کیا گیا 10 فیصد عمومی ٹیرف امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے۔ اس فیصلے کے بعد امریکی انتظامیہ نے ایک مختلف قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے نئے ٹیرف نافذ کیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے سینئر حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اپنی تجارتی پالیسی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے دستیاب ہر قانونی اختیار استعمال کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ایک قانونی اختیار پر عدالت پابندی عائد کر دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت اپنی تجارتی حکمت عملی ترک کر دے گی۔
امریکی انتظامیہ نے ان ٹیرف کے نفاذ کے لیے ٹریڈ ایکٹ 1974ء کی شق 301 کا سہارا لیا ہے۔ تجارتی ماہرین کے مطابق اس قانون کے تحت لگائے جانے والے ٹیرف عدالتوں میں زیادہ مضبوط قانونی حیثیت رکھتے ہیں اور ماضی میں بھی ایسے اقدامات عدالتی چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود برقرار رہے ہیں۔
امریکہ نے واضح کیا ہے کہ تمام درآمدات پر یہ ٹیرف لاگو نہیں ہوں گے۔ خام تیل، قدرتی گیس اور بعض ایسی مصنوعات جن کی مقامی سطح پر دستیابی ممکن نہیں، انہیں اس اقدام سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے تاکہ امریکی معیشت اور صنعت کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرف کو اسی وقت نافذ کیا گیا جب پہلے سے موجود 10 فیصد عمومی ٹیرف کی مدت ختم ہوئی، تاکہ درآمد کنندگان کو ایک ہی وقت میں مختلف اقسام کے ٹیرف کا سامنا نہ کرنا پڑے اور کاروباری اداروں کے لیے نظام نسبتاً آسان رہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کاروباری حلقے بار بار ٹیرف کی شرحوں میں تبدیلی سے پریشان تھے۔ اس لیے اب حکومت نے نسبتاً واضح اور مستقل نظام متعارف کرانے کی کوشش کی ہے تاکہ درآمد کنندگان کو پہلے سے معلوم ہو کہ انہیں کس شرح سے ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔
ادھر یورپی یونین نے امریکی اقدام پر سخت ردعمل دیا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کالاس نے ان ٹیرف کو "منفی حیرت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جبری مشقت سے متعلق امریکی الزامات بے بنیاد ہیں۔
سوئٹزرلینڈ نے بھی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امریکی فیصلے کی مخالفت کی ہے، جبکہ ناروے نے کہا ہے کہ وہ جواب میں امریکی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
برازیل نے بھی اپنے سامان پر 12.5 فیصد ٹیرف مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی تعلقات باہمی برابری کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔ دوسری جانب میکسیکو کے وزیر اقتصادیات نے کہا ہے کہ ان کے ملک پر مؤثر ٹیرف کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
آسٹریلیا، جس پر بھی 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے، نے امریکی فیصلے کو مکمل طور پر غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ آسٹریلوی وزیر تجارت ڈان فیرل نے کہا کہ ان کی حکومت امریکہ سے مسلسل رابطے میں رہے گی تاکہ آسٹریلوی مصنوعات پر عائد تمام ٹیرف ختم کرائے جا سکیں۔
امریکی انتظامیہ اس کے علاوہ بھی مزید تجارتی تحقیقات کر رہی ہے۔ ان میں ایک تحقیق چین، میکسیکو اور یورپی یونین سمیت بڑے تجارتی شراکت داروں پر عالمی سطح پر صنعتی پیداوار کی ضرورت سے زیادہ صلاحیت پیدا کرنے کے الزامات سے متعلق ہے۔
اسی ہفتے وائٹ ہاؤس نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ آئندہ ماہ سے کینیڈا کی بعض مصنوعات پر 50 فیصد تک نیا ٹیرف نافذ کیا جائے گا۔ یہ اقدام ایک ایسے امریکی قانون کے تحت کیا جا رہا ہے جسے اس سے پہلے کبھی استعمال نہیں کیا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی حکومت تجارتی پالیسی کو مزید سخت بنانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں دیگر ممالک پر بھی نئے تجارتی اقدامات متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ پاکستان سمیت متاثرہ ممالک کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ یہ نئے امریکی ٹیرف ان کی برآمدات اور امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔

