[rank_math_breadcrumb]

کراچی: لیاری کا تاریخی ککری فٹبال گراؤنڈ، جو مکمل بحالی کے بعد ہر وقت آباد

لیاری کا تاریخی ککری فٹبال گراؤنڈ جدید سہولیات سے آراستہ ہونے کے بعد ایک بار پھر نوجوانوں کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے، جہاں روزانہ سینکڑوں کھلاڑی فٹبال کی مشق اور مختلف مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔

سندھ حکومت نے ورلڈ بینک کے تعاون سے کراچی نیبرہڈ امپروومنٹ پروجیکٹ کے تحت 2022 میں ککری گراؤنڈ کی ازسرنو تعمیر کا آغاز کیا تھا۔ منصوبے کے تحت گراؤنڈ میں فیفا معیار کے مطابق مصنوعی فٹبال ٹرف نصب کیا گیا، جبکہ باکسنگ ایرینا، کراٹے اکیڈمی، جم، لائبریری، کیفے ٹیریا اور دیگر جدید سہولیات بھی قائم کی گئیں۔ اس جدید اسپورٹس کمپلیکس کا افتتاح جون 2023 میں کیا گیا۔

افتتاح کے بعد سے ککری گراؤنڈ ایک بار پھر لیاری کے نوجوانوں سے آباد ہے، جہاں دن اور رات فٹبال کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ گراؤنڈ میں تقریباً چار سے پانچ ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے، جبکہ یہاں روزانہ نوجوان کھلاڑی تربیت اور دوستانہ مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔

لیاری ٹاؤن کے وائس چیئرمین جمیل احمد ہوت کے مطابق صرف لیاری میں 156 سے زائد فٹبال گراؤنڈز موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موسم کوئی بھی ہو، لیاری میں فٹبال کا کھیل نہیں رکتا۔ ان کے مطابق مقامی آبادی کا یقین ہے کہ جہاں کھیل کے میدان آباد ہوں گے، وہاں نوجوان منشیات اور جرائم سے دور رہیں گے۔

کراچی کے قدیم ترین علاقوں میں شمار ہونے والا لیاری کئی دہائیوں سے پاکستان میں فٹبال کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، اسی وجہ سے اسے ‘منی برازیل’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ککری فٹبال گراؤنڈ اس شناخت کی سب سے نمایاں علامت ہے، جہاں ایک صدی سے زائد عرصے سے فٹبال کو فروغ ملتا رہا ہے اور پاکستان کے متعدد قومی فٹبالرز نے اپنے کھیل کا آغاز اسی میدان سے کیا۔

یہ تاریخی گراؤنڈ صرف کھیل تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف سماجی اور تاریخی تقریبات کا بھی گواہ ہے۔ 1987 میں سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو اور سابق صدر آصف علی زرداری کی شادی کی تقریب بھی اسی گراؤنڈ میں منعقد ہوئی تھی۔

مقامی لوگوں کے نزدیک فٹبال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ امید، شناخت اور بہتر مستقبل کی علامت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی کھیل نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرتا ہے اور انہیں منشیات اور جرائم سے دور رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ککری گراؤنڈ کی بحالی صرف ایک کھیل کے میدان کی مرمت نہیں بلکہ لیاری کی اس تاریخی روایت کو نئی زندگی دینے کی کوشش ہے، جس نے محدود وسائل کے باوجود پاکستان کو بے شمار باصلاحیت فٹبالرز دیے اور آج بھی نئی نسل کو بڑے خواب دیکھنے کی ترغیب دے رہی ہے۔