انگلینڈ نے فرانس کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4-6 سے شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کانسی کا تمغہ جیت لیا

فیفا ورلڈ کپ

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں تیسری پوزیشن کے لیے کھیلا گیا میچ شائقین کے لیے یادگار ثابت ہوا، جہاں انگلینڈ نے فرانس کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 4-6 سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ اپنے نام کر لیا۔

میامی گارڈنز کے ہارڈ راک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں دونوں ٹیموں نے جارحانہ کھیل پیش کیا اور مجموعی طور پر 10 گول اسکور کیے، جو 1982 کے بعد کسی بھی ورلڈ کپ میچ میں سب سے زیادہ گول ہیں۔

میچ سے پہلے فرانس کے کوچ ڈیڈیئر ڈیشامپ نے کہا تھا کہ ان کی ٹیم تیسری پوزیشن کا میچ کھیلنے کی خواہش مند نہیں تھی، تاہم انہوں نے اپنی کئی اہم کھلاڑیوں کو میدان میں اتارا، جن میں کائلیان ایمباپے، مائیکل اولیزے اور گول کیپر مائیک میگنان شامل تھے۔

دوسری جانب انگلینڈ نے ہیری کین، جوڈ بیلنگھم اور گول کیپر جارڈن پِکفورڈ جیسے چند اہم کھلاڑیوں کو ابتدائی ٹیم میں شامل نہیں کیا۔

میچ کے آغاز ہی سے انگلینڈ نے جارحانہ انداز اپنایا۔ تیسرے ہی منٹ میں کپتان ڈیکلن رائس نے پنالٹی ایریا کے باہر سے زبردست شاٹ لگا کر گیند جال میں پہنچا دی اور اپنی ٹیم کو ایک صفر کی برتری دلا دی۔

18ویں منٹ میں انگلینڈ نے اپنی برتری مزید مستحکم کر لی۔ ڈیکلن رائس کے کارنر پر دفاعی کھلاڑی ایزری کونسا نے شاندار ہیڈر کے ذریعے دوسرا گول کر دیا اور اسکور 0-2 ہو گیا۔

فرانس کی دفاعی لائن مسلسل دباؤ کا شکار رہی جبکہ انگلینڈ کے ونگر بوکایو ساکا نے پہلے ہاف کے اختتامی لمحات میں صرف 10 منٹ کے اندر دو گول کر کے اسکور 0-4 کر دیا۔

پہلے ہاف کے اختتام تک ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ انگلینڈ یکطرفہ کامیابی حاصل کرے گا۔

وقفے کے بعد فرانس نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے بیک وقت چار تبدیلیاں کیں۔ موجودہ بیلون ڈی اور فاتح عثمان ڈیمبیلے، لوکاس دینیے، دایو اوپامیکانو اور بریڈلی بارکولا کو میدان میں اتارا گیا، جس کے بعد فرانسیسی ٹیم نے شاندار واپسی کی کوشش کی۔

دوسرے ہاف کے صرف تین منٹ بعد کائلیان ایمباپے نے گول کر کے اپنی ٹیم کی امیدیں زندہ کر دیں۔ یہ ٹورنامنٹ میں ان کا نواں گول تھا، جس کے ساتھ ہی انہوں نے گولڈن بوٹ کی دوڑ میں ارجنٹائن کے لیونل میسی کو پیچھے چھوڑ دیا۔

چند ہی منٹ بعد بریڈلی بارکولا نے دوسرا گول کر دیا اور اسکور 2-4 ہو گیا۔ فرانس نے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ انگلینڈ کی دفاعی کارکردگی کمزور دکھائی دی۔

66ویں منٹ میں ایمباپے نے اپنا دوسرا اور ٹیم کا تیسرا گول اسکور کیا۔ یہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں ان کا مجموعی طور پر 22واں گول تھا، جس کے ذریعے انہوں نے اس فہرست میں لیونل میسی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

فرانس کے مائیکل اولیزے نے بھی ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا۔ ایمباپے کے دونوں گولوں پر معاونت کرنے کے بعد وہ ایک ہی ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ سات اسسٹ کرنے والے کھلاڑی بن گئے اور انہوں نے برازیل کے لیجنڈ پیلے کا ریکارڈ توڑ دیا۔

دوسرے ہاف میں دونوں ٹیموں نے مسلسل ایک دوسرے کے گول پر حملے کیے۔ دونوں گول کیپرز کو کئی شاندار سیو کرنا پڑے اور میچ آخری لمحوں تک انتہائی دلچسپ رہا۔

انگلینڈ کے کوچ نے بعد میں جوڈ بیلنگھم اور ایلیٹ اینڈرسن کو میدان میں اتارا تاکہ برتری مزید بڑھائی جا سکے۔ 80ویں منٹ میں بیلنگھم نے گول کرنے کی کوشش کی لیکن فرانسیسی گول کیپر میگنان نے بہترین انداز میں گیند روک لی۔

چند منٹ بعد انگلینڈ کے ڈیجیڈ اسپینس کو فرانس کے مالو گستو نے پنالٹی ایریا میں فاؤل کر دیا، جس پر ریفری نے پنالٹی دے دی۔ بوکایو ساکا نے پنالٹی پر کامیابی سے گول کر کے اسکور 3-5 کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی وہ انگلینڈ کی مردوں کی ورلڈ کپ تاریخ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے صرف چوتھے کھلاڑی بن گئے۔

میچ ختم ہونے سے قبل اضافی وقت میں عثمان ڈیمبیلے نے فرانس کے لیے چوتھا گول کر دیا اور مقابلہ ایک بار پھر سنسنی خیز ہو گیا۔ تاہم صرف دو منٹ بعد جوڈ بیلنگھم نے انگلینڈ کے لیے چھٹا گول کر کے فرانس کی واپسی کی تمام امیدیں ختم کر دیں۔

ریفری کی آخری سیٹی بجتے ہی انگلینڈ نے 4-6 سے کامیابی حاصل کر کے ورلڈ کپ کا کانسی کا تمغہ جیت لیا۔ یہ گزشتہ 60 برسوں میں ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی بہترین کارکردگی قرار دی جا رہی ہے۔

میچ کے بعد ہارڈ راک اسٹیڈیم میں موجود انگلش شائقین نے اپنی ٹیم کے اعزاز میں گیت گائے جبکہ میدان میں ہی کانسی کے تمغوں کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس موقع پر فرانس کے اسٹار کائلیان ایمباپے نے انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخل سے ملاقات کر کے انہیں مبارک باد بھی دی۔

میچ کے بعد بوکایو ساکا نے کہا کہ ان کی ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کھیل پیش کیا، لیکن وہ اپنے اصل ہدف یعنی ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ ارجنٹائن کے خلاف شکست نے پوری ٹیم اور شائقین کو مایوس کیا، تاہم اب انہیں مستقبل کی جانب دیکھنا ہوگا۔

ساکا نے کوچ تھامس ٹوخل پر ہونے والی تنقید کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فٹ بال میں شکست کے بعد تنقید ہونا معمول کی بات ہے۔ ان کے مطابق اصل کامیابی یہ ہے کہ ٹیم اس دباؤ کا کس طرح جواب دیتی ہے، اور انگلینڈ نے اس میچ میں بہترین انداز میں واپسی کرتے ہوئے مضبوط اختتام کیا۔

ادھر اب پوری دنیا کی نظریں اتوار کو نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں ہونے والے ورلڈ کپ فائنل پر مرکوز ہیں، جہاں دفاعی چیمپئن ارجنٹائن کا مقابلہ اسپین سے ہوگا۔ ارجنٹائن مسلسل دوسری مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کی کوشش کرے گا، جبکہ اسپین 2010 کے بعد پہلی بار ورلڈ کپ ٹائٹل جیتنے کے لیے میدان میں اترے گا۔

گولڈن بوٹ کی دوڑ بھی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ فرانس کے کائلیان ایمباپے اس وقت لیونل میسی سے دو گول آگے ہیں، جبکہ ورلڈ کپ کی مجموعی تاریخ میں بھی وہ میسی پر ایک گول کی برتری حاصل کر چکے ہیں۔ شائقین کو امید ہے کہ فائنل میں بھی عالمی معیار کا دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔