زاویہ: جغرافیائی شکنجہ اور بقا کا مقدمہ، کیا اسٹیبلشمنٹ تاریخ کی سب سے بڑی چال چلے گی؟

تاریخ

تاریخ اقوام عالم کے سامنے بعض اوقات ایسے کڑے، بے رحم اور سفاک لمحات آتے ہیں جہاں تساہل کی گنجائش اور غلطی کا مارجن صفر ہو جاتا ہے۔

جولائی 2026 کا یہ تپتا ہوا مہینہ پاکستان کے لیے ایک ایسے ہی تاریخی، تزویراتی اور جغرافیائی امتحان کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔ ایک طرف ابھی حال ہی میں دنیا بھر میں ’چٹانوں کا عالمی دن‘ منایا گیا، جو ہمیں دھرتی کے مضبوط، غیر متزلزل اور قدیم جغرافیائی ڈھانچے کی یاد دلاتا ہے، تو دوسری طرف خود پاکستان کا جغرافیہ اس وقت ایک دم گھونٹ دینے والے تزویراتی شکنجے میں تبدیل ہو چکا ہے۔

پاکستان اس وقت ایک ایسے ’بیک وقت کئی محاذوں پر پھیلے بحران‘ کا شکار ہے، جہاں اس کی اندرونی سیاست مفلوج، معیشت وینٹی لیٹر پر اور سرحدیں بارود کی بو سے بوجھل ہیں۔ اس تاریک سرنگ میں اب سویلین قیادت کی بے بسی اور بے اختیاری پوری طرح عیاں ہو چکی ہے، اور اب فیصلہ کن گیند مکمل طور پر ملکی اسٹیبلشمنٹ کے کورٹ میں آ گری ہے۔

مقتدرہ کو اب اپنی روایتی انا اور مائیکرو مینیجمنٹ کی پالیسی کو پس پشت ڈال کر نہ صرف اندرونی طور پر سیاسی فراخدلی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، بلکہ بیرونی محاذ پر برادر ملک سعودی عرب کے تاریخی و معتبر کردار کو بروئے کار لا کر ملک کو اس تاریخی دلدل سے نکالنا ہوگا۔

جغرافیائی شکنجہ چار متحرک اور خطرناک محاذ

اگر ہم پاکستان کے موجودہ جغرافیائی و سیاسی نقشے پر نگاہ دوڑائیں، تو ہمارا ملک اس وقت چار انتہائی متحرک اور مہلک محاذوں کے درمیان گھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

جنوب مغربی محاذ ایران امریکہ جنگ کا ہولناک سایہ

پہلا اور سب سے بڑا تزویراتی دھچکا ہمارے جنوب مغرب میں پڑوسی ملک ایران اور امریکہ کے درمیان چھڑنے والی تازہ ترین ہولناک جنگ ہے۔ جون 2026 میں ہونے والے ’اسلام آباد جنگ بندی معاہدے‘ کے ٹوٹنے کے بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی اور ساحلی شہروں پر فضائی حملوں نے پورے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔

ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے جوابی کارروائی کے طور پر آبنائے ہرمز میں خلیجی ممالک کے آئل ٹینکرز اور بحرین و اردن میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے عمل نے پاکستان کو براہ راست لپیٹ میں لے لیا ہے۔

اس جنگ کا سب سے مہلک اثر ہماری معیشت پر پڑا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے خوف سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں حکومت پاکستان کو ملکی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پچاس فیصد تک کا کمر توڑ اضافہ کرنا پڑا ہے۔

اس بیرونی جھٹکے نے ملک میں مہنگائی کا وہ طوفان نوح کھڑا کیا ہے جس نے عام آدمی سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ مزید برآں، فرنس آئل اور درآمدی گیس کی سپلائی معطل ہونے سے ملک کا توانائی کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہے، طویل لوڈشیڈنگ نے صنعتی پہیے کو جام کر دیا ہے، اور عالمی مالیاتی فنڈ کے حالیہ سخت پروگرام کے اہداف بھی کھٹائی میں پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔

اس محاذ پر پاکستان کی بقا صرف اور صرف ’سخت اور غیر متزلزل غیر جانبداری‘ میں ہے۔ کسی بھی ایک فریق کا ساتھ دینا یا اپنی فضائی حدود کی فراہمی بلوچستان کے حساس بارڈر پر جنگ کی ایک نئی آگ بھڑکانے کے مترادف ہوگا۔

مغربی محاذ کابل سے تلخی اور زیرو ٹولرینس

دوسرا فعال محاذ ہماری مغربی سرحد یعنی افغانستان کا ہے۔ کراچی میں رینجرز پر ہونے والے حالیہ بزدلانہ حملے کے تانے بانے افغان سرزمین سے ملنے کے بعد اسلام آباد اور کابل کے مابین سفارتی و عسکری تلخی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔

پاکستان کی عسکری قیادت اب اپنی دہائیوں پرانی ’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘ کی روایتی پالیسی کو دفن کر کے ’زیرو ٹولرینس‘ کا جارحانہ اصول اپنا چکی ہے۔ طورخم اور چمن بارڈرز پر سخت ترین سکیورٹی ضابطے نافذ ہیں اور بغیر پاسپورٹ و ویزا کے افغان شہریوں کی آمدورفت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

پاکستان کو اس مغربی محاذ پر اپنے قلیل عسکری اور مالی وسائل جھونکنے پڑ رہے ہیں تاکہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر ملک دشمن گروہوں کے حملوں کا راستہ روکا جا سکے۔

تزویراتی ماہرین کو یہ شدید تشویش ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بحران کا فائدہ اٹھا کر پاکستان مخالف قوتیں مغربی سرحد پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں تاکہ پاک فوج کی توجہ اور دفاعی وسائل کو تقسیم کیا جا سکے۔

مشرقی محاذ روایتی حریف کی گھات

تیسرا محاذ مشرق میں روایتی حریف بھارت کا دیرینہ عناد ہے، جو ہمیشہ سے پاکستان کی اندرونی سیاسی کمزوری اور مغربی سرحدوں پر مصروفیت کا فائدہ اٹھانے کی تاک میں رہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان اندرونی طور پر کمزور اور معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار ہوا، مشرقی سرحد پر بھارت کی طرف سے کسی بھی قسم کے ایڈونچر ازم کا خطرہ دوچند ہو گیا۔

اندرونی محاذ سیاسی انتشار اور معاشی مفلوجگی

لیکن ان تمام بیرونی محاذوں سے زیادہ مہلک اور ہولناک چوتھا محاذ خود پاکستان کا مرکز یعنی اس کا اندرونی سیاسی اور معاشی خلفشار ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب تک ملک کے اندر سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل نہیں ہوگا، کوئی بھی ریاست بیرونی خطرات کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

موجودہ سویلین حکمران اتحاد اور حقیقی اپوزیشن کے مابین نفرتیں اور خلیج اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ وہ ملکی بقا کے لیے کسی ایک میز پر بیٹھنے یا عارضی ’سیاسی جنگ بندی‘ کرنے پر بھی راضی نہیں ہیں۔ سویلین قیادت اس وقت عوامی مقبولیت کے بدترین بحران اور شدید دھڑے بندی کا شکار ہے، جس سے پورا نظام حکومت مفلوج ہو چکا ہے۔ عوام کا ریاست پر سے اعتماد اٹھ رہا ہے اور اپوزیشن مہنگائی کو ڈھال بنا کر ملک گیر احتجاج کی تیاریاں کر رہی ہے۔

بند گلی سے نکلنے کا راستہ سیاسی فراخدلی

ایسے حالات میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس تزویراتی بند گلی سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ اس کا واحد، حتمی اور معروضی جواب یہ ہے کہ اب گیند مکمل طور پر اسٹیبلشمنٹ کے کورٹ میں ہے۔ چونکہ سویلین پارٹیاں اپنی سیاسی بقا، نظریاتی دشمنیوں اور ووٹ بینک کے خوف سے طویل مدتی یا کڑوے فیصلے کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اس لیے اسٹیبلشمنٹ کو خود آگے بڑھ کر ایک ’معاشی اور سیاسی منتظم‘ کا تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔

لیکن اس کے لیے مقتدرہ کو اپنا روایتی طریقہ کار بدلنا ہوگا۔ انہیں اب انتہائی ’فراخدلی‘ کے ساتھ گراؤنڈ پر موجود ملک کی حقیقی اپوزیشن اور عوامی نمائندوں کے ساتھ پس پردہ بامقصد مذاکرات کا آغاز کرنا ہوگا۔

اپوزیشن کو دیوار سے لگا کر، یا انہیں سیاسی عمل سے زبردستی باہر رکھ کر بنایا گیا کوئی بھی ’قومی ایجنڈا‘ یا ’میثاق معیشت‘ عوامی قبولیت حاصل نہیں کر سکے گا، اور ملک اسی طرح دائروں کے بے سود سفر میں بھٹکتا رہے گا۔ ملک کو اس وقت انتقام سے پاک ایک ’سیاسی عام معافی‘ اور تمام متعلقہ فریقوں کے مابین ایک طویل مدتی عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔

سعودی عرب کا کردار معتبر ضامن اور تزویراتی شراکت دار

اس اندرونی فراخدلی کے ساتھ ساتھ، پاکستان کو اس معاشی و سیاسی دلدل سے نکالنے کے لیے بیرونی طور پر سب سے معتبر چابی برادر ملک ’سعودی عرب‘ کے پاس ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاسی قیادت اور اہم متعلقہ فریقوں کے درمیان ڈیڈ لاک ناقابل حل ہوا، تو ریاض نے ہمیشہ ایک مخلص ’بڑے بھائی‘ اور ضامن کا کردار ادا کیا۔

موجودہ علاقائی صورتحال میں پاکستان کا مستحکم ہونا خود سعودی عرب کے اپنے مفاد میں ہے۔ ایران امریکہ جنگ کے سائے میں سعودی عرب کو اپنی آئل تنصیبات اور اندرونی سلامتی کے حوالے سے شدید تزویراتی خدشات لاحق ہیں۔ اس ہولناک جنگی ماحول میں پاکستان کی ایٹمی پوزیشن اور اس کی مضبوط روایتی عسکری قوت ہی وہ واحد دفاعی حصار اور ’ایٹمی چھتری‘ ہے جس پر خلیجی ممالک انحصار کر سکتے ہیں۔ ایک کمزور، ایٹمی صلاحیت رکھنے والا مگر معاشی طور پر مفلوج پاکستان خود سعودی عرب کی اپنی دفاعی صلاحیت کے لیے ایک بہت بڑا سکیورٹی رسک ہے۔

علاوہ ازیں، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اپنے پروگرام ’ویژن 2030‘ کے تحت پاکستان کے کان کنی اور توانائی کے شعبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اگر پاکستان کے اندر سیاسی ہیجان اور امن و امان کا بحران ختم نہ ہوا، تو ان کی یہ تمام تر سرمایہ کاری خطرے میں پڑ جائے گی۔

چنانچہ، اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب کو اس سیاسی ڈیڈ لاک کو توڑنے کے لیے بطور ثالث استعمال کرے۔ سعودی قیادت کا احترام پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ، حکمران جماعتوں اور حقیقی اپوزیشن، تینوں کے ہاں بلا تفریق پایا جاتا ہے۔ اگر سعودی عرب پاکستان کو معاشی بیل آؤٹ پیکج دینے کے ساتھ یہ دوستانہ شرط عائد کرے کہ وہ تمام حقیقی سیاسی قوتوں کو ایک میز پر دیکھنا چاہتا ہے، تو پاکستان کی سیاسی پارٹیوں کا کھویا ہوا اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور ملک میں ایک طویل مدتی سیاسی جنگ بندی ممکن ہو جائے گی۔

جیسا کہ کارونجھر کی چٹانوں کے بارے میں تھر کے تھری لوگ کہتے ہیں کہ ’کارونجھر سونا دیتا ہے‘ کیونکہ وہ پہاڑ ان کی زندگی، روزگار اور پانی کے ذخائر کا ضامن ہے۔ بالکل اسی طرح پاکستان کا تزویراتی جغرافیہ اور اس کا دفاعی مقام بھی ہمارا سب سے قیمتی اور بیش بہا اثاثہ ہے، بشرطیکہ ہم اسے اندرونی لڑائیوں اور انتقام کی بھٹی میں جھونکنے کے بجائے عقل و دانش سے استعمال کریں۔

چٹانوں کے عالمی دن پر ہمیں یہ آفاقی سبق یاد رکھنا چاہیے کہ جو قومیں اندرونی طور پر چٹان کی طرح مضبوط اور متحد نہیں ہوتیں، بیرونی طوفانی ہوائیں ان کے وجود کو ریت کے ذروں کی طرح اڑا کر لے جاتی ہیں۔

پاکستان کے پاس اب مزید سیاسی تجربات، بند کمروں کے فیصلوں، انتقامی سیاست یا اندرونی خلفشار کی گنجائش قطعی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کو اب اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اور فیصلہ کن چال چلنی ہوگی۔ انہیں سویلین قیادت کی مصلحت پسندی اور بے بسی کو بالائے طاق رکھ کر خود ایک قدم آگے بڑھانا ہوگا، حقیقی اپوزیشن کے لیے اپنے دروازے کھولنے ہوں گے اور سعودی عرب کی باوقار ضمانت میں ایک ایسا ’میثاق پاکستان‘ تشکیل دینا ہوگا جو اگلے دس سال کے لیے ملک کی معاشی اور خارجہ پالیسی کو روزمرہ کی گندی سیاست کی دست برد سے محفوظ کر دے۔

اگر آج یہ موقع گنوا دیا گیا، تو ایران کی جنگ، افغانستان کا تناؤ اور اندرونی مہنگائی کا یہ بھیانک طوفان پاکستان کو ایک ایسے تاریک گڑھے کی طرف دھکیل دے گا جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ وقت ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل رہا ہے اور تاریخ کی آنکھیں ہمیں دیکھ رہی ہیں۔

اسی بارے میں: