پاکستان میں عدالتی کرپشن منظم شکل اختیار کر چکی ہے، عالمی رپورٹ

رپورٹ

انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومین رائیٹس (ایف آئی ڈی ایچ) اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے پاکستان کے عدالتی نظام پر جاری اپنی مشترکہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں عدالتی نظام کے تقریباً ہر درجے پر بدعنوانی جڑیں پکڑ چکی ہے۔ جس کے باعث عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل، قانون کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں عدالتی بدعنوانی اب انفرادی یا محدود نوعیت کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کے منظم اور وسیع پیمانے پر پھیل جانے کے شواہد موجود ہیں، جو ’بڑی سطح کی بدعنوانی‘ کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

32 صفحات پر مشتمل رپورٹ Under the Bench: Mapping corruption risks in Pakistan’s justice system ’بینچ کے اندر: پاکستان کے نظام انصاف میں بدعنوانی کے خطرات کی نقشہ سازی‘ کے لیے وکلا، حاضر و سابق ججوں، صحافیوں، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سمیت 30 افراد سے تفصیلی انٹرویوز کیے گئے۔

ان میں سپریم کورٹ کے دو سابق چیف جسٹس، سابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے جج بھی شامل تھے۔ انٹرویوز فروری اور مارچ 2026 کے دوران اسلام آباد، لاہور، کراچی اور پشاور میں کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کے جمہوری ادارے، خصوصاً عدلیہ، مسلسل کمزور ہوئے ہیں جبکہ بنیادی آزادیوں پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اس ماحول میں عدلیہ بعض مواقع پر اختلاف رائے رکھنے والوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف ریاستی اقدامات کا ذریعہ بنتی دکھائی دی، جس سے انصاف کی فراہمی پر عوامی اعتماد مزید متاثر ہوا۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ عدالتی بدعنوانی کو فروغ دینے والے تین بنیادی عوامل ہیں۔ ان میں کمزور نظام انصاف، سفارش اور اقربا پروری پر مبنی سماجی رویے، اور عدلیہ کی آزادی میں مسلسل کمی شامل ہیں۔ ان عوامل نے مل کر ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں رشوت، اثر و رسوخ اور سیاسی مداخلت کو روکنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایف آئی ڈی ایچ کی سیکریٹری جنرل شاہندہ اسماعیل نے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا کہ یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ عدالتی نظام کے تقریباً ہر شعبے میں بدعنوانی گہرائی تک سرایت کر چکی ہے اور اس کے اثرات براہ راست انسانی حقوق پر پڑ رہے ہیں۔

ان کے مطابق عدالتی بدعنوانی کوئی ایسا جرم نہیں جس کا کوئی متاثرہ فریق نہ ہو، بلکہ اس کی وجہ سے منصفانہ ٹرائل کا حق محدود ہو جاتا ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان اقلیتوں اور دیگر کمزور طبقات کو اٹھانا پڑتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کی ابتدائی تفتیش سے ہی بدعنوانی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ متعدد انٹرویو دینے والوں نے کہا کہ اکثر مقدمات میں ایف آئی آر درج کرانے، تحقیقات آگے بڑھانے یا بعض اوقات شواہد میں ردوبدل کرنے کے لیے رشوت طلب کی جاتی ہے۔

بعض وکلا نے مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ لاکھوں روپے مالیت کے مالیاتی تنازعات میں صرف ایف آئی آر درج کرانے کے لیے بھی بھاری رشوت مانگی گئی کیونکہ متاثرہ فریق کو خدشہ ہوتا ہے کہ پولیس سے تعلقات خراب ہونے پر پورا مقدمہ متاثر ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بدعنوانی صرف پولیس تک محدود نہیں رہتی بلکہ مقدمہ عدالت پہنچنے کے بعد بھی مختلف مراحل پر رشوت اور غیر قانونی اثر و رسوخ استعمال کیا جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بعض وکلا عدالتی عملے کو رشوت دے کر مقدمات مخصوص ججوں کے سامنے لگوانے، جلد سماعت حاصل کرنے، فیصلوں کی نقول جلد حاصل کرنے یا مقدمات کے ریکارڈ میں ردوبدل جیسے غیر قانونی کام کرواتے ہیں۔

 کئی انٹرویو دینے والوں نے کہا کہ مقدمات کی سماعت کے شیڈول میں شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے رشوت کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔

پاکستان میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہونے کی وجہ سے فریقین جلد سماعت کے لیے رشوت دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، جبکہ بعض صورتوں میں مقدمات کو جان بوجھ کر لٹکانے کے لیے بھی غیر قانونی ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر 2025 تک ملک بھر کی عدالتوں میں تقریباً 24 لاکھ مقدمات زیر سماعت تھے، جن میں بڑی تعداد ضلعی عدالتوں کی تھی جبکہ سپریم کورٹ میں بھی دسیوں ہزار مقدمات زیر التوا تھے۔

تحقیق میں عدالتی نظام میں سفارش، ذاتی تعلقات اور اقربا پروری کو بھی ایک بڑی بدعنوانی قرار دیا گیا ہے۔ متعدد وکلا نے بتایا کہ بعض بااثر وکلا، حاضر یا سابق ججوں کے قریبی رشتہ داروں یا بااثر شخصیات کے مقدمات کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض وکلا ججوں کے ساتھ سماجی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے مختلف غیر رسمی طریقے اختیار کرتے ہیں تاکہ مستقبل میں انہیں عدالتی کارروائی میں فائدہ حاصل ہو سکے۔

کئی انٹرویو دینے والوں نے اعلیٰ عدلیہ پر ریاستی اداروں اور سیاسی قوتوں کے اثر و رسوخ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق بعض جج دباؤ یا ممکنہ نتائج کے خوف سے ایسے فیصلے دیتے ہیں جو قانون کے مطابق نہیں ہوتے۔ رپورٹ میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان چھ ججوں کے خط کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے 2024 میں خفیہ اداروں کی جانب سے مبینہ دباؤ اور نگرانی کے الزامات سامنے رکھے تھے۔

26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم نے بھی عدلیہ کی محدود خودمختاری کو مزید کمزور کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان ترامیم کے ذریعے ججوں کی تقرری، تبادلوں اور برطرفی کے طریقہ کار میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جن سے عدلیہ پر سیاسی اثر و رسوخ بڑھنے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلیاں بین الاقوامی معیار کے مطابق عدالتی آزادی کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف موجود ادارے مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق احتسابی نظام اکثر مؤثر کارروائی کرنے کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، جبکہ بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والوں کے تحفظ کے لیے بھی مؤثر قانون سازی موجود نہیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے 2025 کے سروے کا حوالہ دیتے ہوئے  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عوام کے نزدیک پولیس سب سے زیادہ بدعنوان ادارہ ہے جبکہ عدلیہ تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے علاوہ 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق عدالتی نظام میں رشوت کی اوسط رقم دیگر شعبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی۔ رپورٹ میں ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے اشاریے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں بدعنوانی سے پاک نظام کے حوالے سے پاکستان کی درجہ بندی انتہائی کم بتائی گئی ہے۔

عدالتی بدعنوانی کا سب سے زیادہ نقصان غریب، کم آمدنی والے اور مذہبی و سماجی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو پہنچتا ہے کیونکہ وہ مہنگے قانونی عمل یا غیر قانونی ادائیگیوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اس کے علاوہ بدعنوانی کا تعلق تشدد، جبری اعترافات، سزائے موت کے مقدمات اور خواتین کے لیے قانونی شعبے میں مساوی مواقع کی کمی سے بھی جوڑا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل حارث خلیق نے رپورٹ کے اجرا پر کہا کہ عدالتی بدعنوانی ختم کرنے کے لیے صرف ججوں کی تنخواہیں اور مراعات بڑھانا یا عدالتوں میں کیمرے نصب کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اس کے لیے عدلیہ کی آزادی بحال کرنا، نظام انصاف کی بنیادی خامیوں کو دور کرنا، شفافیت بڑھانا اور ایسے عوامل کا خاتمہ ضروری ہے جو غیر مناسب عدالتی طرز عمل اور متنازع فیصلوں کو جنم دیتے ہیں۔

رپورٹ کے اختتام پر ایف آئی ڈی ایچ اور ایچ آر سی پی نے حکومت اور عدلیہ کو متعدد سفارشات پیش کی ہیں۔ ان میں عدالتی نظام کی انتظامی اصلاحات، مقدمات کی سماعت کے طریقہ کار میں شفافیت، بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف مؤثر احتساب، عدالتی فیصلوں میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ، اور بدعنوانی کی نشاندہی کرنے والے افراد کو قانونی تحفظ فراہم کرنا شامل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انصاف کے نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے صرف علامتی اقدامات کافی نہیں بلکہ وسیع، مؤثر اور بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔

اسی بارے میں: