[rank_math_breadcrumb]

عمرکوٹ: صحرا میں ریت کا طوفان، خشک سالی اور پانی کی قلت، مون سون کی بارشوں کا بے چینی سے انتظار

تھرپارکر، عمرکوٹ اور اچھڑو تھر میں مون سون بارشوں سے قبل چلنے والی تیز سمندری طوفانی ہواؤں نے معمولاتِ زندگی مفلوج کر دیے ہیں۔

گرد آلود ہوائیں پورے صحرائی خطے پر چھائی ہوئی ہیں، جبکہ ریت کے طوفانوں نے دیہی راستوں، سڑکوں اور کھلے میدانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مقامی آبادی اب شدت سے مون سون بارشوں کی منتظر ہے، جنہیں اس بحران سے نجات کی واحد امید سمجھا جا رہا ہے۔

صحرائے تھر اس وقت شدید خشک سالی، پانی کی قلت اور مسلسل تیز ہواؤں کا سامنا کر رہا ہے۔ کئی دیہی علاقوں میں سڑکوں پر ریت جمع ہونے سے آمد و رفت شدید متاثر ہو گئی ہے، جبکہ متعدد مقامات پر صرف فور ویل گاڑیوں کے ذریعے ہی سفر ممکن رہ گیا ہے۔ تیز گرد آلود ہواؤں کے باعث لوگ گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

تھر کے بیشتر خاندانوں کا انحصار مویشی پالنے پر ہے، لیکن بارشوں میں تاخیر اور خشک سالی نے چرائی کے میدان تقریباً ختم کر دیے ہیں۔ چھوٹے پودے ریت میں دب چکے ہیں، جس سے جانوروں کے لیے چارے کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ پانی اور خوراک کی کمی کے باعث مویشیوں میں بیماریوں کے خطرات بھی بڑھنے لگے ہیں، جس سے مقامی آبادی کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

جنگلی حیات بھی اس صورتحال سے محفوظ نہیں۔ صحرائے تھر کے مور، ہرن اور مختلف اقسام کے پرندے پانی اور خوراک کی کمی کے باعث شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اس پورے خطے میں واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر مون سون کی بارشوں میں مزید تاخیر ہوئی تو پانی، چارے اور روزگار سے جڑے مسائل مزید سنگین ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق بارشیں ہی تھر کی زندگی، زراعت، مویشیوں اور قدرتی ماحول کی بحالی کی امید ہیں۔

محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں مون سون بارشوں کے آغاز کی پیش گوئی کی ہے، جس سے صحرائے تھر کے لاکھوں مکینوں کو ریلیف ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم بارشوں کے آغاز تک اس صحرائی خطے کے باسی سخت موسمی حالات کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔

کیول لاوا

اسی بارے میں: