سندھ کے ضلع عمرکوٹ کے شہر ڈھورونارو کے رہائشی محمد علی نے ڈاٹ پر تصویر بنانے کا منفرد کام اپنایا۔ وہ پینٹنگ کے لیے لاکھوں ڈاتس کا استعمال کرتے ہیں۔
ڈاٹ آرٹسٹ محمد علی منڱريو نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ میں فائن آرٹسٹ ہوں اور میں نے بیچلر آف فائن آرٹس سندھ یونیورسٹی سے 2021 میں مکمل کیا۔ آرٹ کی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد میں نے ایک منفرد انداز اپنایا جسے ڈاٹ آرٹ یا پوائنٹلزم موومنٹ کہتے ہیں۔ اس انداز میں ہر پینٹنگ چھوٹے چھوٹے نکتوں کے ذریعے بنائی جاتی ہے، جو تصویر میں گہرائی اور حقیقت پیدا کرتے ہیں۔
محمد علی منڱريو کے مطابق: ‘میری زندگی اور گاؤں کے حالات میرے کام کا بنیادی حصہ ہیں۔ 2022 میں سلاب آیا جس سے نہ صرف میں بلکہ میرا پورا گاؤں متاثر ہوا۔ اس تجربے سے متاثر ہو کر میں نے ایک پینٹنگ بنائی جس میں ایک ماں اپنے بچے کو لے کر جا رہی ہے۔ ماں کے سر پر ایک کھجور کے پتوں سے بنی ٹوکری ہے جس میں بچہ ہے اور ساتھ ایک کتے کا پلہ بھی موجود ہے۔
‘میں نے اس پینٹنگ میں پانچ لاکھ نقطوں کا استعمال کیا ہے یہ پینٹنگ نہ صرف میری تخلیقی مہارت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ انسانی جذبات اور سماجی مسائل کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
‘میں نے تھر کے مسائل پر بھی کام کیا، جہاں بچوں کی مشکلات اور حالات کو کینواس کے ذریعے ظاہر کیا ہے مختلف میڈیمز جیسے چارکول، پینسل اور آئل کلرز کے ذریعے پیش کیا۔ اس کے علاوہ، میں نے مشہور شخصیات کے اسکیچز بھی بنائے، جیسے میں قائد اعظم محمد علی جناح ، عاطف اسلم اور اور بھی ہیروز کی پینٹنگز بنائی ہیں تاکہ فن اور ثقافت کو عام لوگوں تک پہنچایا جا سکے اور لوگ اس سے متاثر ہوں۔’
محمد علی منڱريو کا تعلق ایک چھوٹے گاؤں سے ہے، جہاں آرٹ کے مٹیریل مہنگے اور کم دستیاب ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ اکثر ان کو اپنے کام کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
محمد علی منڱريو کے مطابق: ‘میری خواہش ہے کہ میرے پاس ایک سٹوڈیو ہو جہاں میں اپنے منفرد انداز میں پینٹنگز تخلیق کر سکوں اور آرٹ کو ایک پروفیشنل سطح پر لے جا سکوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا کام نہ صرف گاؤں بلکہ بڑی گیلریز اور سوسائٹی تک پہنچے تاکہ لوگ میرے فن کو سمجھیں اور اس سے متاثر ہوں۔’
محمد علی منڱريو کے لیے آرٹ صرف تخلیق کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک پیغام ہے جو وہ اپنے کام کے ذریعے دنیا تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
‘میں چاہتا ہوں کہ میرا فن لوگوں کے دلوں تک پہنچے اور انہیں سوچنے، محسوس کرنے اور اپنی دنیا کے بارے میں زیادہ آگاہ ہونے پر مجبور کرے۔ میرا سفر ابھی جاری ہے اور میں اپنے منفرد اسٹائل کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہوں۔’


