کیا کراچی واقعی دنیا کا سب سے ناقابل رہائش شہر ہے؟

دنیا کے 173 بڑے شہروں پر مشتمل اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) کے EIU’s Global Livability Index میں پاکستان کے صرف ایک شہر کراچی کو شامل کیا گیا ہے، جہاں اسے مجموعی طور پر 170واں نمبر ملا ہے۔ تاہم رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ بعض پاکستانی ذرائع ابلاغ نے کراچی کو ’دنیا کا سب سے ناقابلِ رہائش شہر‘ قرار دیا، جبکہ اصل رپورٹ اس دعوے کی تائید نہیں کرتی۔

رپورٹ کے مطابق کراچی آخری دس شہروں میں ضرور شامل ہے، لیکن یہ فہرست میں آخری نمبر پر نہیں۔ اس کے بعد بھی تین شہر موجود ہیں، جن میں بنگلہ دیش کا ڈھاکا، لیبیا کا طرابلس اور شام کا دمشق شامل ہیں۔

ای آئی یو کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے رہنے کے قابل 173 شہروں میں کراچی 170ویں نمبر پر ہے، جبکہ ڈھاکا 171ویں، طرابلس 172ویں اور دمشق 173ویں نمبر پر ہے۔ اسی طرح ایران کا دارالحکومت تہران 164ویں، زمبابوے کا ہرارے 165ویں اور یوکرین کا کیف 166ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس درجہ بندی میں پاکستان کا صرف ایک شہر، کراچی، شامل کیا گیا ہے۔ غور سے مطالعہ کرنے کے بنعد معلوم ہو کہ پاکستان کے بہترین اور ترقی یافتہ شہروں جیسا کہ لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، فیصل آباد، پشاور، کوئٹہ یا کسی دوسرے کسی بھی شہر کا اس رپورٹ میں کوئی ذکر موجود نہیں۔ اس وجہ سے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پاکستان کا کوئی دوسرا شہر کراچی سے زیادہ یا کم قابلِ رہائش ہے، کیونکہ ان شہروں کا سرے سے جائزہ ہی نہیں لیا گیا۔

ای آئی یو کے مطابق گلوبل لویبلٹی انڈیکس کا مقصد دنیا کے مختلف شہروں میں رہنے کے معیار کا تقابلی جائزہ لینا ہے۔ اس کے لیے 173 شہروں کو 30 مختلف اشاریوں کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے، جنہیں پانچ بڑی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں استحکام، صحت کی سہولتیں، ثقافت اور ماحول، تعلیم اور بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔ انہی شعبوں کے مجموعی نمبروں کی بنیاد پر ہر شہر کو سو میں سے اسکور اور عالمی درجہ بندی دی جاتی ہے۔

رپورٹ میں کراچی کا مجموعی اسکور 43 رہا۔ استحکام کے شعبے میں اسے صرف 20 نمبر ملے، جبکہ صحت کی سہولتوں میں 54، ثقافت اور ماحول میں 36، تعلیم میں 75 اور بنیادی ڈھانچے میں 52 نمبر دیے گئے۔ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی کی کمزور درجہ بندی کی سب سے بڑی وجہ استحکام کا شعبہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں اوسط لائیویبلٹی اسکور 76.1 رہا، جو گزشتہ سال کے برابر ہے۔ تاہم استحکام کے شعبے میں عالمی سطح پر اوسط اسکور میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ صحت کی سہولتوں میں مجموعی طور پر بہتری دیکھی گئی۔ تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بھی معمولی بہتری آئی، لیکن ثقافت اور ماحول کے شعبے میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔

ای آئی یو کا کہنا ہے کہ اس سال مشرق وسطیٰ کے کئی شہروں کی درجہ بندی ایران میں جنگ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث متاثر ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق فروری 2026 میں ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی کارروائیوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی نے کئی شہروں کے استحکام کے نمبروں کو متاثر کیا۔ اسی وجہ سے تہران پہلی مرتبہ آخری دس شہروں میں شامل ہوا۔

رپورٹ کے مطابق آخری دس شہروں میں شامل زیادہ تر شہر جنگ، سیاسی عدم استحکام یا شدید غربت سے متاثر ہیں۔ دمشق مسلسل آخری نمبر پر موجود ہے، اگرچہ وہاں صحت کی سہولتوں میں کچھ بہتری آئی ہے۔ اسی طرح طرابلس میں بھی صحت کے شعبے میں معمولی پیش رفت ہوئی، لیکن مجموعی درجہ بندی بہتر نہ ہو سکی۔

دوسری جانب دنیا کے سب سے زیادہ قابلِ رہائش شہروں میں ڈنمارک کا دارالحکومت کوپن ہیگن مسلسل دوسرے سال پہلے نمبر پر رہا۔ آسٹریا کا ویانا دوسرے، آسٹریلیا کا میلبورن تیسرے، سڈنی چوتھے، سوئٹزر لینڈ کا زیورخ پانچویں اور جنیوا چھٹے نمبر پر رہا۔ جاپان کا اوساکا ساتویں، آسٹریلیا کا ایڈیلیڈ آٹھویں، کینیڈا کا وینکوور نویں اور جاپان کا ٹوکیو دسویں نمبر پر شامل ہیں۔ ان شہروں نے تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تقریباً مکمل نمبر حاصل کیے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مغربی یورپ مجموعی طور پر دنیا کا سب سے زیادہ قابلِ رہائش خطہ برقرار رہا، جبکہ ایشیا کی اوسط درجہ بندی میں بہتری آئی۔ چین کے کئی شہروں نے صحت کی سہولتوں میں سرمایہ کاری کے باعث اپنی پوزیشن بہتر بنائی، جبکہ جاپان کے بعض شہروں نے بھی ثقافت اور ماحول کے شعبے میں بہتر کارکردگی دکھائی۔

ای آئی یو کے مطابق درجہ بندی تیار کرتے وقت صرف جرائم یا امن و امان کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ 30 مختلف معیارات کو یکجا کرکے مجموعی اسکور بنایا جاتا ہے۔ اسی لیے کسی شہر کی پوزیشن کو سمجھنے کے لیے صرف عالمی رینک نہیں بلکہ اس کے مختلف شعبوں میں حاصل کردہ نمبروں کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔

رپورٹ کا جائزہ لینے سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اس میں صرف کراچی کو پاکستان کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ لہٰذا اس رپورٹ کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کے دوسرے شہر کراچی سے بہتر یا بدتر ہیں، کیونکہ ان کا جائزہ اس انڈیکس میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 173 شہروں میں کراچی کی 170ویں پوزیشن کا مطلب یہ ہے کہ تین شہر اس سے بھی نیچے موجود ہیں۔ اس لیے رپورٹ کی اصل درجہ بندی کے مطابق کراچی کو دنیا کا ’سب سے ناقابلِ رہائش شہر‘ قرار دینا درست تعبیر نہیں، بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ کراچی دنیا کے آخری چار رہنے کے قابل شہروں میں شامل ہے اور مجموعی درجہ بندی میں 170ویں نمبر پر ہے۔

اسی بارے میں: