پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رواں ہفتے نمایاں تیزی دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں واضح اضافہ ہوا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس ایک ہفتے کے دوران 5 ہزار 800 سے زائد پوائنٹس بڑھ کر ایک لاکھ 85 ہزار 372 پوائنٹس پر بند ہوا، جو ہفتہ وار بنیاد پر 3.2 فیصد اضافہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بہتری کی بڑی وجوہات عالمی سیاسی کشیدگی میں کمی، خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ، توقعات سے کم مہنگائی اور شرح سود میں مزید کمی کی امیدیں ہیں۔
آبا علی حبیب سیکیورٹیز کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں نیچے آئیں، جس کے مثبت اثرات پاکستان کی معیشت اور اسٹاک مارکیٹ پر بھی پڑے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں جون کے دوران مہنگائی کی شرح مارکیٹ کی توقعات سے کم رہی، جس سے سرمایہ کاروں میں اعتماد بڑھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ہفتے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامی میں منافع کی شرح بھی کم ہوئی، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوا کہ آئندہ مہینوں میں شرح سود مزید کم ہو سکتی ہے۔ اسی امید نے بینکنگ، ٹیکنالوجی، پاور اور دیگر شعبوں کے حصص میں خریداری کو فروغ دیا۔
اعداد و شمار کے مطابق حجم کے لحاظ سے ٹیکنالوجی کا شعبہ سب سے زیادہ سرگرم رہا، جبکہ بینکنگ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، سرمایہ کاری کمپنیوں اور بجلی کے شعبے میں بھی نمایاں کاروبار ہوا۔ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے باعث مجموعی مارکیٹ مثبت رجحان کے ساتھ بند ہوئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ نے اس ہفتے کئی بڑی عالمی منڈیوں سے بہتر کارکردگی دکھائی۔ پاکستان میں 3.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 3 فیصد، امریکی ڈاؤ جونز 2 فیصد اور ایس اینڈ پی 500 انڈیکس تقریباً 1.7 فیصد بڑھا۔
اقتصادی اشاریوں کے مطابق اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری آئی۔ رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں تقریباً 611 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 22 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے۔ اس بہتری کی وجہ کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے حاصل ہونے والی رقوم کو قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی معیشت کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی، جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ تاہم دوسری جانب مالی سال کے دوران تجارتی خسارہ 21.57 فیصد بڑھ کر 39.47 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، کیونکہ درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی دیکھی گئی۔
توانائی کے شعبے کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون کے دوران ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سالانہ بنیاد پر 20 فیصد کم رہی۔ اس کی وجہ ایندھن کی بلند قیمتیں، طلب میں کمی اور سرحدی اسمگلنگ کو قرار دیا گیا۔ اسی طرح جولائی سے مئی کے دوران پاکستان نے 1 کروڑ 60 لاکھ ٹن سے زائد خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں۔
رپورٹ کے مطابق گردشی قرضے میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق بجلی کے شعبے کا گردشی قرض ایک سال میں تقریباً 780 ارب روپے کم ہو کر 1.614 کھرب روپے رہ گیا، جو توانائی کے شعبے کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
اجناس کی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 71.8 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل تقریباً 68.7 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ مقامی سطح پر بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے مہنگائی پر دباؤ کم ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ہفتے سرمایہ کاروں کی توجہ کمپنیوں کے دوسری سہ ماہی مالی نتائج، ٹی بلز کی آئندہ نیلامی اور عالمی سیاسی صورتحال پر مرکوز رہے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مہنگائی میں کمی اور شرح سود میں نرمی کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔

