جاپان نے دو ارب ڈالر کی آن لائن دھوکہ دہی روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ‘پولیس چیف’ متعارف کرا دیا

جاپان میں آن لائن دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نمٹنے کے لیے پولیس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک ورچوئل پولیس چیف متعارف کرا دیا ہے، جس کا نام آئیکو (AIKO)رکھا گیا ہے۔

حکام کو امید ہے کہ یہ ڈیجیٹل پولیس افسر لوگوں، خصوصاً نوجوانوں، کو سائبر فراڈ سے بچانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

آئیکو، جس کے نام میں ‘AI’ اور ‘KO’ کو ملا کر نام بنایا گیا ہے، جبکہ ‘کو’ جاپانی خواتین کے ناموں کے آخر میں عام طور پر استعمال ہونے والا لاحقہ ہے، کو مئی میں اوساکا کی صوبائی پولیس نے متعارف کرایا۔

رپورٹ کے مطابق جاپان میں گزشتہ سال سوشل میڈیا، جعلی سرمایہ کاری کی اسکیموں اور دیگر آن لائن فراڈ کے ذریعے شہریوں کو دو ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا، جو اب تک کی ریکارڈ سطح ہے۔

اسی خطرے سے نمٹنے کے لیے اوساکا کی صوبائی پولیس نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ "آئیکو” کو عوامی آگاہی مہم کا حصہ بنایا ہے۔

آئیکو نے پہلی بار مئی کے آخر میں اوساکا پولیس کے یوٹیوب چینل پر اپنی ویڈیو جاری کی۔ اس ویڈیو میں وہ عام شہریوں کو خبردار کرتی ہے کہ دھوکہ باز کس طرح خود کو پولیس افسر، مشہور سرمایہ کار یا رومانوی ساتھی ظاہر کرکے لوگوں سے رقم ہتھیا لیتے ہیں۔

وہ آسان اور سادہ زبان میں بتاتی ہے کہ ایسے فراڈ کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے۔

ایک ویڈیو میں آئیکو واضح طور پر کہتی ہے کہ حقیقی پولیس افسر کبھی بھی آن لائن اپنی شناخت یا گرفتاری کے وارنٹ نہیں دکھاتے۔ اگر کوئی شخص ویڈیو کال یا سوشل میڈیا پر خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرکے رقم یا ذاتی معلومات مانگے تو اس پر ہرگز یقین نہ کریں۔

یہ ورچوئل کردار جاپان کی کاگاوا یونیورسٹی کے سائبر سکیورٹی مرکز سے وابستہ پروفیسر توشینوری ہیرانو نے تیار کیا ہے۔ وہ اس سے پہلے بھی اوساکا پولیس کے مشیر رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام میں جرائم سے بچاؤ کا شعور پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پولیس کے مطابق ماضی میں فراڈ سے زیادہ تر بزرگ شہری متاثر ہوتے تھے، لیکن اب نوجوان بھی بڑی تعداد میں دھوکہ بازوں کا شکار بن رہے ہیں۔ ابتدائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوساکا میں گزشتہ سال فراڈ کے تقریباً نصف متاثرین کی عمر 65 سال سے کم تھی۔ اسی وجہ سے پولیس نے نوجوانوں تک پہنچنے کے لیے یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی سرمایہ کاری کی جعلی اسکیمیں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

دھوکہ باز معروف شخصیات کی تصاویر اور ویڈیوز استعمال کرکے لوگوں کو زیادہ منافع کا لالچ دیتے ہیں۔ کئی افراد اپنی جمع پونجی ایسی اسکیموں میں لگا دیتے ہیں، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب فراڈ تھا۔

اس کے علاوہ رومانوی تعلقات کے نام پر ہونے والے فراڈ میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مجرم پہلے سوشل میڈیا یا پیغام رسانی کی ایپس کے ذریعے دوستی کرتے ہیں، پھر اعتماد حاصل کرنے کے بعد متاثرہ شخص سے مختلف بہانوں سے رقم وصول کر لیتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کا استعمال صرف جرائم پیشہ افراد ہی نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی عوام کی حفاظت کے لیے کر سکتے ہیں۔ جاپان کی یہ نئی مہم اسی سوچ کی ایک مثال ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی کو عوامی آگاہی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو مستقبل میں آئیکو کو مزید پلیٹ فارموں پر بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری آن لائن فراڈ سے محفوظ رہ سکیں۔ حکام کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بروقت اور مؤثر آگاہی فراہم کرکے مالی جرائم میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں: