Tag: جاپان

  • جاپان کے بدھ راہب کا نواب شاہ کے تقریباً ڈیڑھ صدی قدیم بدھ اسٹوپا میر رُکن کا دورہ

    جاپان کے بدھ راہب کا نواب شاہ کے تقریباً ڈیڑھ صدی قدیم بدھ اسٹوپا میر رُکن کا دورہ

    سندھ کے ضلع شہید بینظیر آباد میں قاضی احمد اور دولت پور شہروں کے درمیان واقع صدیوں پرانا بدھ مت کا تاریخی مقام ٹھل میر رُکن ایک مرتبہ پھر غیرقانونی قبضوں کے خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔

    ماہرین آثارِ قدیمہ، تاریخ دانوں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس نادر تاریخی مقام کے اطراف نئی تجاوزات کی کوششیں نہ صرف اس کی تاریخی شناخت بلکہ اس کی عالمی اہمیت کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

    جاپان سے تعلق رکھنے والے بدھ راہب جونسی تیراساوا (Junsei Terasawa) اپنے مقامی دوستوں کے ہمراہ اس تاریخی اسٹوپا کی زیارت کے لیے پہنچے۔

    مقامی میزبانوں نے انہیں بتایا کہ اسٹوپا کی حفاظتی دیوار کے مرکزی دروازے کے عین سامنے حالیہ دنوں میں ایک نئی قبر تعمیر کی گئی ہے، جسے مقامی افراد ایک پیر کا مزار قرار دے رہے ہیں۔ قبر کے ساتھ ایک علم بھی نصب کیا گیا ہے۔

    وفد میں شریک لوگوں نے اس نئی تعمیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ اقدام تاریخی مقام کے اطراف سرکاری زمین پر قبضے کی ایک نئی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے۔

    اس تاریخی مقام کے قریب رہنے والے سماجی کارکن اور صحافی ولی محمد جوکھیو کے مطابق یہ قبر حفاظتی دیوار کے باہر، مرکزی دروازے کے عین سامنے تعمیر کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے یہاں نہ کوئی قبر تھی اور نہ ہی قبرستان موجود تھا۔

    گوٹھ مٹھا خان جوکھیو کے رہائشی ولی جوکھیو نے بتایا کہ یادگار کی حفاظتی دیوار کے اردگرد حالیہ برسوں میں نیا گوٹھ قائم ہوا ہے۔

    ان کے مطابق ان کچے مکانات کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مورو کے قریب ایک درگاہ کے متولی ہر ماہ کی 11 تاریخ کو یہاں آتے ہیں، فاتحہ خوانی کرتے ہیں اور نیاز تقسیم کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں خواب میں بتایا گیا تھا کہ یہ ایک بزرگ ولی اللہ کی قبر ہے۔

    ولی محمد جوکھیو کے مطابق ان خاندانوں کا تعلق ہاری طبقے سے ہے اور وہ حال ہی میں مورو سے نقل مکانی کرکے ایک مقامی زمیندار کی زمین پر کھیتی باڑی کے لیے یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں۔

    نواب شاھ کے سماجی رہنما اکرم خاصخیلی کا کہنا ہے کہ اگر اس قسم کی تعمیرات کو بروقت نہ روکا گیا تو مستقبل میں مزید قبریں، مزار یا دیگر مستقل ڈھانچے بھی قائم کیے جا سکتے ہیں، جس سے اس تاریخی مقام کی اصل حیثیت اور شناخت متاثر ہوگی۔

    حکومتی موقف

    سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات اور محفوظات کے ڈائریکٹر جنرل عبدالفتاح شیخ نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ محکمہ آثارِ قدیمہ نے چند برس قبل اس اسٹوپا کے گرد حفاظتی دیوار اور مرکزی گیٹ تعمیر کیا تھا تاکہ تاریخی ورثے کو تجاوزات اور دیگر نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعے کی تفصیلات ابھی ان کے علم میں نہیں تھیں۔

    انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر شہید بینظیر آباد کے ڈپٹی کمشنر کو خط لکھ کر رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس تاریخی مقام کی حفاظت کے لیے محکمہ آثارِ قدیمہ کی جانب سے ایک چوکیدار بھی تعینات ہے۔

    عبدالفتاح شیخ نے مزید بتایا کہ چند برس قبل ان کے محکمے نے اس مقام کی حد بندی (ڈیمارکیشن) کے لیے محکمہ ریونیو کو درخواست دی تھی، جس پر سرکاری طور پر کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ چاردیواری سے باہر موجود سرکاری زمین کی ملکیت اور حدود کے بارے میں مزید معلومات درکار ہیں، اسی لیے مقامی حکام سے اس حوالے سے بھی تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اس تاریخی مقام کے ساتھ مجموعی طور پر کتنی سرکاری زمین محفوظ ہے۔

    سندھ کی نمایاں بدھ مت یادگار

    محکمہ آثارِ قدیمہ سندھ کے مطابق ٹھل میر رُکن کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ سندھ میں موجود ان چند بدھ اسٹوپوں میں شامل ہے جو آج بھی اپنی اصل ساخت کے ساتھ نمایاں طور پر موجود ہیں۔ اس تاریخی مقام کو پاکستان اینٹی کوئٹیز ایکٹ 1975 کے تحت محفوظ آثار قرار دیا جا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی اور غیرملکی محققین اسے سندھ کی بدھ تاریخ کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم مقام قرار دیتے ہیں۔

    تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تعمیر غالباً چھٹی سے گیارہویں صدی عیسوی کے درمیان ہوئی۔ اس زمانے میں سندھ بدھ مت کا ایک اہم مذہبی اور علمی مرکز تھا، جہاں متعدد خانقاہیں، عبادت گاہیں اور اسٹوپے تعمیر کیے گئے تھے۔

    ٹھل میر رُکن ایک عظیم الشان گول نما اینٹوں کی تعمیر ہے، جس کی موجودہ بلندی تقریباً 60 سے 65 فٹ ہے۔ یہ ایک مضبوط مربع بنیاد پر تعمیر کیا گیا تھا، جس کا ہر رخ تقریباً 72 فٹ ہے۔

    یہ اسٹوپا چار درجوں یا چار منزلوں پر مشتمل تھا، جن کے اوپر ایک گنبد تعمیر کیا گیا تھا۔ ہر منزل اپنے نیچے والی منزل سے نسبتاً چھوٹی تھی جبکہ ان کے درمیان نیم دائرہ نما آرائشی پٹیاں بنائی گئی تھیں۔ ہر درجے پر اینٹوں سے بنائے گئے ستون نما نقش اس دور کی تعمیراتی مہارت کا شاندار نمونہ پیش کرتے ہیں۔

    کھدائی کے دوران اس مقام سے بدھ کی مٹی سے بنی متعدد تصاویر، مجسموں کے ٹکڑے اور بدھ کی پیدائش کے مناظر پر مشتمل فن پارے بھی دریافت ہوئے تھے۔

    ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقام صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ ایک فعال مذہبی اور تعلیمی مرکز بھی تھا، جہاں بدھ راہب عبادت کرتے اور تعلیم حاصل کرتے تھے۔ جاپان سے آنے والے بدھ راہب نے بھی اس مقام پر اپنی مذہبی رسومات ادا کیں۔

    تاریخ دانوں کے مطابق اسلام کی آمد سے کئی صدیاں پہلے سندھ میں بدھ مت کو نمایاں مقام حاصل تھا۔ راجا داہر کے دور میں بھی سندھ کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد بدھ مت سے وابستہ تھی۔

    چینی سیاح فاہیان اور شوان زانگ نے بھی اپنی سفری یادداشتوں میں سندھ کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں خانقاہوں اور ہزاروں بدھ راہبوں کا ذکر کیا ہے۔ بعد کے ادوار میں بدھ مت زوال پذیر ہوا، تاہم اس کے آثار آج بھی سندھ کے مختلف علاقوں میں محفوظ ہیں۔

    سندھ میں بدھ مذہب ماننے والوں کی ایک قلیل تعداد آج بھی موجود ہے۔ ضلع نوشہروفیروز کے شہر محراب پور میں بدھ مت کے پیروکاروں کی قابل ذکر تعداد آباد ہے۔

    آل پاکستان بدھسٹ سوسائٹی کے صدر منور لال نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ موھن جو دڑو کے بدھ اسٹوپا کے علاوہ کاھو جو دڑو، سودھیرن جو ٹھل، ہیرو خان ٹھل، دیپر گھنگھرو اور ٹھل میر رُکن سندھ میں بدھ تہذیب کے اہم مراکز رہے ہیں۔

    ان کے مطابق بدقسمتی سے ان میں سے کئی تاریخی مقامات موسمی اثرات، زمین میں نمکیات، غیرقانونی کھدائی، اینٹوں کی چوری اور تجاوزات کے باعث شدید نقصان کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹھل میر رُکن اب بھی نسبتاً اچھی حالت میں موجود ہے، اس لیے اس کا تحفظ پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

    مقامی سماجی رہنما اکرم خاصخیلی کا کہنا ہے کہ اگر اس تاریخی مقام کو بہتر انداز میں محفوظ کیا جائے، مناسب سڑکیں تعمیر کی جائیں، رہنمائی کے بورڈ، معلوماتی مرکز، سکیورٹی اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں تو یہ مقام بین الاقوامی مذہبی سیاحت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔

    جاپان، چین، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، سری لنکا، میانمار اور دیگر بدھ اکثریتی ممالک سے ہر سال لاکھوں افراد بدھ مت کے مقدس مقامات کی زیارت کرتے ہیں۔

    ان کے مطابق پاکستان میں گندھارا تہذیب کے ساتھ ساتھ سندھ کے بدھ آثار بھی ان زائرین اور محققین کے لیے غیرمعمولی دلچسپی کا باعث بن سکتے ہیں۔

    جاپانی بدھ راہب جونسی تیراساوا کا حالیہ دورہ بھی پاکستان میں بدھ آثار کے حوالے سے بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کی ایک نمایاں مثال سمجھا جا رہا ہے۔

    منور لال کے مطابق جاپانی راہب کے ہمراہ آنے والا مقامی وفد اس تاریخی مقام کو دیکھ کر بے حد متاثر ہوا، تاہم مرکزی دروازے کے سامنے نئی تعمیر شدہ قبر دیکھ کر انہوں نے بھی افسوس کا اظہار کیا۔ وفد کے ارکان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات تاریخی مقام کی اصل شناخت اور منظرنامے کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں محفوظ آثارِ قدیمہ کے اطراف نئی مستقل تعمیرات پر سخت پابندی عائد ہوتی ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف تاریخی منظرنامہ تبدیل ہوتا ہے بلکہ مستقبل کی تحقیق کے امکانات بھی متاثر ہوتے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی تاریخی مقام کے سامنے نئی مذہبی یا رہائشی تعمیرات کی اجازت دے دی جائے تو رفتہ رفتہ پورا علاقہ تجاوزات کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

    اکرم خاصخیلی کے مطابق سندھ میں متعدد تاریخی مقامات اسی طرح آہستہ آہستہ تجاوزات کا شکار ہوئے، جہاں ابتدا میں ایک قبر یا مسجد بنی، پھر مزید قبریں قائم ہوئیں، اس کے بعد مزار تعمیر ہوئے اور بالآخر مستقل آبادیاں وجود میں آ گئیں۔ ان کے بقول اگر متعلقہ ادارے بروقت کارروائی نہ کریں تو ٹھل میر رُکن بھی اسی خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔

    مقامی سماجی رہنماؤں اور آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے حکومت سندھ، محکمہ آثارِ قدیمہ، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ نئی تعمیر شدہ قبر کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو جائے کہ یہ تعمیر آثارِ قدیمہ کے تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہے تو اسے قانونی طریقہ کار کے تحت ہٹایا جائے اور مستقبل میں کسی بھی نئی تجاوزات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

    ماہرین نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ اسٹوپا کے اطراف مستقل نگرانی کے لیے اضافی سکیورٹی عملہ تعینات کیا جائے، جدید کیمرے نصب کیے جائیں، معلوماتی بورڈ لگائے جائیں، باقاعدہ سیاحتی رہنمائی کا نظام قائم کیا جائے اور مقامی آبادی میں تاریخی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جائے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگر مقامی لوگ اس تاریخی مقام کو اپنی مشترکہ ثقافتی شناخت کا حصہ سمجھیں تو اس کا تحفظ کہیں زیادہ مؤثر انداز میں ممکن ہو سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ کے مطالعاتی دوروں کا بھی باقاعدہ اہتمام کیا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل اپنے علاقے کی ہزاروں سال پرانی تاریخ سے آگاہ ہو سکے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں اور مذاہب کے آثار کا امین ہے۔ یہ آثار صرف کسی ایک مذہب یا قوم کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ میراث ہیں۔ ٹھل میر رُکن بھی اسی مشترکہ تہذیبی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے، جو سندھ کی قدیم تاریخ، بدھ مت کے فروغ اور اس دور کی شاندار تعمیراتی مہارت کا خاموش گواہ ہے۔

    سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر اس تاریخی یادگار کو مؤثر تحفظ فراہم کیا گیا تو یہ نہ صرف پاکستان کی ثقافتی شناخت کو مزید مضبوط کرے گی بلکہ بین الاقوامی سطح پر مذہبی سیاحت، تحقیقی سرگرمیوں اور ثقافتی روابط کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

    تاہم اگر تجاوزات کا سلسلہ نہ روکا گیا تو آنے والی نسلیں شاید اس عظیم تاریخی ورثے کو صرف کتابوں اور تصویروں میں ہی دیکھ سکیں گی۔

  • جاپان نے دو ارب ڈالر کی آن لائن دھوکہ دہی روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ‘پولیس چیف’ متعارف کرا دیا

    جاپان نے دو ارب ڈالر کی آن لائن دھوکہ دہی روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ‘پولیس چیف’ متعارف کرا دیا

    جاپان میں آن لائن دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نمٹنے کے لیے پولیس نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک ورچوئل پولیس چیف متعارف کرا دیا ہے، جس کا نام آئیکو (AIKO)رکھا گیا ہے۔

    حکام کو امید ہے کہ یہ ڈیجیٹل پولیس افسر لوگوں، خصوصاً نوجوانوں، کو سائبر فراڈ سے بچانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    آئیکو، جس کے نام میں ‘AI’ اور ‘KO’ کو ملا کر نام بنایا گیا ہے، جبکہ ‘کو’ جاپانی خواتین کے ناموں کے آخر میں عام طور پر استعمال ہونے والا لاحقہ ہے، کو مئی میں اوساکا کی صوبائی پولیس نے متعارف کرایا۔

    رپورٹ کے مطابق جاپان میں گزشتہ سال سوشل میڈیا، جعلی سرمایہ کاری کی اسکیموں اور دیگر آن لائن فراڈ کے ذریعے شہریوں کو دو ارب امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا، جو اب تک کی ریکارڈ سطح ہے۔

    اسی خطرے سے نمٹنے کے لیے اوساکا کی صوبائی پولیس نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ "آئیکو” کو عوامی آگاہی مہم کا حصہ بنایا ہے۔

    آئیکو نے پہلی بار مئی کے آخر میں اوساکا پولیس کے یوٹیوب چینل پر اپنی ویڈیو جاری کی۔ اس ویڈیو میں وہ عام شہریوں کو خبردار کرتی ہے کہ دھوکہ باز کس طرح خود کو پولیس افسر، مشہور سرمایہ کار یا رومانوی ساتھی ظاہر کرکے لوگوں سے رقم ہتھیا لیتے ہیں۔

    وہ آسان اور سادہ زبان میں بتاتی ہے کہ ایسے فراڈ کو کیسے پہچانا جا سکتا ہے۔

    ایک ویڈیو میں آئیکو واضح طور پر کہتی ہے کہ حقیقی پولیس افسر کبھی بھی آن لائن اپنی شناخت یا گرفتاری کے وارنٹ نہیں دکھاتے۔ اگر کوئی شخص ویڈیو کال یا سوشل میڈیا پر خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرکے رقم یا ذاتی معلومات مانگے تو اس پر ہرگز یقین نہ کریں۔

    یہ ورچوئل کردار جاپان کی کاگاوا یونیورسٹی کے سائبر سکیورٹی مرکز سے وابستہ پروفیسر توشینوری ہیرانو نے تیار کیا ہے۔ وہ اس سے پہلے بھی اوساکا پولیس کے مشیر رہ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام میں جرائم سے بچاؤ کا شعور پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    پولیس کے مطابق ماضی میں فراڈ سے زیادہ تر بزرگ شہری متاثر ہوتے تھے، لیکن اب نوجوان بھی بڑی تعداد میں دھوکہ بازوں کا شکار بن رہے ہیں۔ ابتدائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوساکا میں گزشتہ سال فراڈ کے تقریباً نصف متاثرین کی عمر 65 سال سے کم تھی۔ اسی وجہ سے پولیس نے نوجوانوں تک پہنچنے کے لیے یوٹیوب اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

    جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی سرمایہ کاری کی جعلی اسکیمیں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

    دھوکہ باز معروف شخصیات کی تصاویر اور ویڈیوز استعمال کرکے لوگوں کو زیادہ منافع کا لالچ دیتے ہیں۔ کئی افراد اپنی جمع پونجی ایسی اسکیموں میں لگا دیتے ہیں، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب فراڈ تھا۔

    اس کے علاوہ رومانوی تعلقات کے نام پر ہونے والے فراڈ میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مجرم پہلے سوشل میڈیا یا پیغام رسانی کی ایپس کے ذریعے دوستی کرتے ہیں، پھر اعتماد حاصل کرنے کے بعد متاثرہ شخص سے مختلف بہانوں سے رقم وصول کر لیتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کا استعمال صرف جرائم پیشہ افراد ہی نہیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی عوام کی حفاظت کے لیے کر سکتے ہیں۔ جاپان کی یہ نئی مہم اسی سوچ کی ایک مثال ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی کو عوامی آگاہی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو مستقبل میں آئیکو کو مزید پلیٹ فارموں پر بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری آن لائن فراڈ سے محفوظ رہ سکیں۔ حکام کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے بروقت اور مؤثر آگاہی فراہم کرکے مالی جرائم میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

  • جاپان کے وزیر اعظم کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیوں؟

    جاپان کے وزیر اعظم کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیوں؟

    جاپان کے وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے ایوان زیریں، ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز، کو تحلیل کرتے ہوئے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا ہے۔ انتخابات کے لیے آٹھ فروری کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ غیر مقبول ہوتی حکومت کے اس فیصلے کو جاپانی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    قبل از وقت انتخابات کیوں؟

    وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کا کہنا ہے کہ انہیں عوام سے نیا مینڈیٹ درکار ہے تاکہ وہ اپنے پالیسی ایجنڈے کو آگے بڑھا سکیں اور حکومتی استحکام کو یقینی بنا سکیں۔ حکومتی اتحاد کو ایوان زیریں میں اکثریت حاصل ہے، لیکن ایوان بالا میں واضح اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے قانون سازی اور پالیسیوں کی توثیق میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسی صورت حال میں معاشی اور دفاعی پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد حکمران اتحاد کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

    سانائے تاکائیچی کی قیادت کا دور

    سانائے تاکائیچی جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہیں۔ وزیر اعظم منتخب ہوتے ہی انہوں نے عوامی مفاد کے چند اقدامات کا اعلان کیا جن میں عام آدمی پر مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کے لیے صارفین کے لیے سبسڈی اور ریلیف پیکج، قومی سلامتی کے تناظر میں دفاعی اخراجات میں اضافہ، اور خواتین کی ورک فورس میں شمولیت سے متعلق اصلاحات شامل ہیں۔ ان اقدامات کو اگرچہ عوامی توجہ ملی، تاہم سیاسی سطح پر انہیں مکمل حمایت حاصل نہ ہو سکی۔

    گذشتہ انتخابات: ایوان میں پارٹی پوزیشن

    جاپان میں گذشتہ عام انتخابات میں حکمران اتحاد، جس میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور اس کی اتحادی جاپان انوویشن پارٹی شامل تھیں، ایوان زیریں میں واضح برتری حاصل نہ کر سکا۔ حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی ماضی کے مقابلے میں اپنی کئی نشستوں سے محروم رہی، جس کے باعث پارلیمان میں حکمران اتحاد کی حیثیت کمزور ہو گئی اور اسے قانون سازی میں مسلسل مشکلات کا سامنا رہا۔

    گذشتہ انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی، بالخصوص شہری علاقوں میں نوجوان اور متوسط طبقے کے ووٹرز کا رجحان اپوزیشن جماعتوں کی جانب بڑھتا ہوا نظر آیا۔ یہی تبدیلی موجودہ سیاسی صورت حال میں ایک اہم عنصر سمجھی جا رہی ہے۔

    قبل از وقت الیکشن کے سیاسی اثرات

    سانائے تاکائیچی نے اس امید کے ساتھ قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ ووٹ اور نشستیں حاصل کر کے ایک مستحکم حکومت کی بنیاد رکھ سکیں گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر ایسا نہ ہو سکا تو یہ فیصلہ ان کے لیے سیاسی جوا ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر یہ انتخابات ان کے حق میں جاتے ہیں تو وہ نہ صرف ایک مضبوط حکومت بنانے میں کامیاب ہوں گی بلکہ جاپانی سیاست میں ایک طویل المدتی کردار بھی ادا کر سکیں گی۔

    سیاسی منظرنامہ، جماعتوں کی حکمت عملی اور عوامی ردعمل

    جاپان میں نئے انتخابات کے لیے انتخابی مہم ستائیس جنوری سے شروع ہو جائے گی۔ یہ انتخابات سانائے تاکائیچی کی جماعت کے لیے پہلا بڑا عوامی امتحان ہوں گے، کیونکہ وہ اپنے معاشی پروگرام کی عوامی توثیق چاہتی ہیں، خاص طور پر اقتصادی اصلاحات، دفاعی پالیسی اور ٹیکسوں سے متعلق اہم فیصلوں کے حوالے سے۔

    جاپان کی سیاست میں چند مرکزی جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اپنے معاشی ایجنڈے، سیلز ٹیکس میں عارضی نرمی، اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ اور دفاعی اخراجات میں اضافے کو مرکزی نکتہ بنا رہی ہے۔ اس جماعت کا اتحاد جاپان انوویشن پارٹی کے ساتھ برقرار ہے، تاہم نشستوں کی کمی کے باعث یہ اتحاد کمزور دکھائی دیتا ہے اور اپوزیشن کی سخت تنقید کا سامنا کر رہا ہے۔

    مرکزی اپوزیشن کی سطح پر کونسٹی ٹیوشنل ڈیموکریٹک پارٹی اور کومیئیتو کے اشتراک سے قائم ہونے والا نیا اتحاد ایک معتدل سیاسی متبادل پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اپوزیشن بلاک خوراک پر سیلز ٹیکس کے مستقل خاتمے، قومی معیشت کے استحکام اور متوازن معاشی پالیسیوں کو اپنی مہم کا حصہ بنا رہا ہے۔

    بین الاقوامی تناظر

    یہ انتخابات جاپان کی داخلی سیاست کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تعلقات، معاشی استحکام اور علاقائی سیکیورٹی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ حکومتی اتحاد اور اپوزیشن بلاک کے درمیان مقابلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ جاپان دفاعی تعاون، چین کے ساتھ تعلقات اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے کس سمت آگے بڑھتا ہے۔

     

  • اسکرین پر زبان رکھ کر کھانا چکھنے کی جاپانی ٹیکنالوجی

    اسکرین پر زبان رکھ کر کھانا چکھنے کی جاپانی ٹیکنالوجی

    جاپان میں ایک منفرد اور حیران کن ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی ہے جس کے ذریعے ٹی وی اسکرین پر نظر آنے والے کھانوں کا ذائقہ براہِ راست انسانی زبان تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس تجرباتی ڈیوائس کو ‘ٹیسٹ دی ٹی وی’‘ یا (ٹی ٹی ٹی وی) کا نام دیا گیا ہے، جسے ٹوکیو کی میجی یونیورسٹی کے پروفیسر ہومی مِیاشِتا نے اپنی تحقیقی ٹیم کے تعاون سے تیار کیا ہے۔

    یہ ٹی وی بظاہر ایک عام فلیٹ اسکرین جیسا دکھائی دیتا ہے، تاہم اس میں ذائقہ منتقل کرنے کا ایک خاص نظام نصب ہے۔ اس نظام میں دس بنیادی ذائقوں کا امتزاج استعمال کیا جاتا ہے، جن میں میٹھا، کھٹا، نمکین اور دیگر ذائقے شامل ہیں۔ یہ ذائقے مخصوص تناسب سے اسکرین پر ایک باریک تہہ یا اسپرے کی صورت میں منتقل کیے جاتے ہیں۔ ناظرین اس اسکرین پر زبان پھیر کر اس کھانے کا ذائقہ محسوس کر سکتے ہیں جو ٹی وی پر دکھایا جا رہا ہو۔

    پروفیسر ہومی مِیاشِتا کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا مقصد صرف تفریح نہیں بلکہ انسانی تجربات کو نئی جہت دینا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 کے دوران جب لوگ گھروں تک محدود ہو گئے تھے، اس وقت یہ احساس شدت سے ابھرا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے بیرونی دنیا سے جڑنے کے نئے طریقے تلاش کیے جائیں۔ ان کے مطابق یہ نظام مستقبل میں لوگوں کو دنیا کے مختلف ممالک اور ثقافتوں کے کھانوں کا ذائقہ گھر بیٹھے محسوس کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔

    یہ منصوبہ تقریباً 30 طلبہ پر مشتمل ایک تحقیقی ٹیم کے تعاون سے مکمل کیا گیا۔ پروفیسر مِیاشِتا کے مطابق ٹی ٹی ٹی وی کا ابتدائی پروٹوٹائپ گزشتہ برس تیار کیا گیا تھا، جبکہ اس کے کمرشل ورژن کی ممکنہ قیمت تقریباً ایک لاکھ جاپانی ین (تقریباً چھ سو 39 امریکی ڈالرز) رکھی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ ڈیوائس اس وقت عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں اور اسے مزید بہتری اور جانچ کے مراحل سے گزارا جا رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمال صرف ٹی وی تک محدود نہیں رہیں گے۔ مستقبل میں اسے آن لائن کھانا پکانے کی تربیت، ریستورانوں کی ورچوئل مارکیٹنگ اور ذائقے کی بنیاد پر فاصلاتی تعلیم جیسے شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے یہ خیال بھی پیش کیا جا رہا ہے کہ جیسے کئی دیگر سہولیات موبائل فون میں سمٹ چکی ہیں، ویسے ہی ذائقہ منتقل کرنے کی یہ ٹیکنالوجی بھی کسی ایپ یا اضافی ڈیوائس کی صورت میں موبائل فون کا حصہ بن سکتی ہے، تاہم یہ فی الحال ایک تصوراتی امکان ہے۔

    اسی تحقیق کے تحت خوشبو منتقل کرنے کی ٹیکنالوجی پر بھی کام کیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مستقبل میں لوگ دنیا کے کسی بھی حصے سے خوشبو پر مبنی پیغام بھیج سکیں گے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی کامیابی سے عام استعمال تک پہنچ گئی تو انسانی حواس اور ڈیجیٹل دنیا کے درمیان فاصلہ مزید کم ہو جائے گا۔

     

  • پاکستان اور جاپان: ایک دیرینہ اور دلچسپ تاریخی تعلق

    پاکستان اور جاپان: ایک دیرینہ اور دلچسپ تاریخی تعلق

    اکثر لوگ پاکستان اور جاپان کے تعلقات کو صرف موجودہ اقتصادی شراکت داری تک محدود سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے کی بنیاد دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد استوار ہوئی۔

    ایک وقت تھا جب نوآبادیاتی دور سے نکلتا پاکستان جاپان کی معاشی بحالی میں معاون بنا، اور آج جاپان پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ تعلقات خیرسگالی، تجارت اور عالمی سیاست کے اتار چڑھاؤ کا ایک خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔ آئیے اس تاریخ کو تفصیل سے دیکھتے ہیں۔

    دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان تباہ حال تھا۔ 1947 میں نئے آئین کے نفاذ کے بعد جاپان نے عسکری طاقت چھوڑ کر صنعت اور تجارت پر توجہ دی۔ اس دور میں جاپان کو خام مال کی شدید ضرورت تھی، اور پاکستان نے یہ موقع فراہم کیا۔

    1948 سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی رابطے شروع ہوئے۔ جاپان نے کراچی میں اپنا پہلا غیر ملکی تجارتی دفتر قائم کیا۔

    پاکستان سے کپاس اور پٹ سن (جوٹ) درآمد کیا گیا، جب کہ جاپان نے ٹیکسٹائل مشینری برآمد کی۔ زرمبادلہ کی کمی کی وجہ سے اشیا کے تبادلے اور تاخیری ادائیگیوں کا نظام اپنایا گیا۔ پاکستان نے جاپان کے جنگ کے معاوضے بھی معاف کیے، جو جاپان کی بحالی میں اہم ثابت ہوئے۔

    1952-1953 میں غذائی بحران کے دوران پاکستان نے جاپان کو 60 ہزار ٹن چاول امداد کے طور پر بھیجے۔ جاپان میں یہ اقدام آج بھی خیرسگالی کی مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

    اگرچہ جاپان کی معاشی بحالی کی بنیاد امریکی اصلاحات، کوریا کی جنگ کے آرڈرز اور جاپانی محنت تھی، لیکن پاکستان کا ابتدائی تعاون ضمنی مگر قابل قدر تھا۔

    1951 میں سان فرانسسکو امن معاہدے پر پاکستان کے دستخط جاپان کی عالمی واپسی کی حمایت تھے۔ 28 اپریل 1952 کو باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔

    دسمبر 1960 میں صدر ایوب خان کا جاپان کا سرکاری دورہ ایک تاریخی لمحہ تھا۔ جاپانی شہنشاہ ہیروہیتو نے خود ائیرپورٹ پر استقبال کیا – یہ نایاب اعزاز تھا۔ دورے میں تجارت، سرمایہ کاری اور تکنیکی تعاون پر بات ہوئی۔ جاپان نے پاکستان کو نرم قرضے اور اقتصادی مدد کا وعدہ کیا۔

    1960-1970 کی دہائی میں تعلقات میں سردمہری آئی۔ پاکستان کی چین سے قربت، کشمیر مسئلہ اور جاپان کا امریکہ سے گٹھ جوڑ وجوہات تھیں۔ شہری ہوابازی معاہدے پر بھی اختلاف ہوا۔

    1971 کی پاک بھارت جنگ اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد جاپان نے 10 فروری 1972 کو بنگلہ دیش کو تسلیم کر لیا۔ یہ پاکستان کے لیے سفارتی دھچکا تھا، لیکن یہ فیصلہ انسانی بحران اور بین الاقوامی دباؤ کی بنیاد پر تھا۔

    آج تعلقات مضبوط اور متنوع ہیں۔

    جاپان پاکستان کا اہم ترقیاتی شراکت دار ہے۔ 1954 سے تکنیکی مدد شروع ہوئی، اور اب تک اربوں ڈالر کی گرانٹس، نرم قرضے اور پروجیکٹس ملے ہیں – بنیادی ڈھانچے، توانائی، صحت اور تعلیم میں۔

    2022 کے سیلاب میں جاپان نے سات ملین ڈالر کی ایمرجنسی امداد دی۔ حال ہی میں (2024-2025) فلڈ مینجمنٹ، صحت کے آلات اور دیگر پروجیکٹس کے لیے مزید گرانٹس دی گئیں۔

    ستمبر 2025 میں نویں اعلیٰ سطحی اقتصادی پالیسی ڈائیلاگ ہوا، جہاں تجارت، سرمایہ کاری اور اصلاحات پر بات ہوئی۔ دوطرفہ تجارت مالی سال 2024-25 میں تقریباً 1.5 ارب ڈالر رہی۔ جاپانی کمپنیاں جیسے ٹویوٹا، سوزوکی اور ہونڈا پاکستان میں سرگرم ہیں۔

    پاکستان اور جاپان کے تعلقات وقت کے ساتھ بدلتے رہے، لیکن بنیاد خیرسگالی اور باہمی مفاد پر قائم رہی۔ ایک وقت پاکستان نے جاپان کی مدد کی، آج جاپان پاکستان کی ترقی میں معاون ہے۔

    یہ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں صبر اور وسیع تر تناظر اہم ہوتا ہے۔ مستقبل میں دونوں ممالک اقتصادی، تکنیکی اور ثقافتی تعاون کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔