سندھ کے ضلع شہید بینظیر آباد میں قاضی احمد اور دولت پور شہروں کے درمیان واقع صدیوں پرانا بدھ مت کا تاریخی مقام ٹھل میر رُکن ایک مرتبہ پھر غیرقانونی قبضوں کے خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔
ماہرین آثارِ قدیمہ، تاریخ دانوں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس نادر تاریخی مقام کے اطراف نئی تجاوزات کی کوششیں نہ صرف اس کی تاریخی شناخت بلکہ اس کی عالمی اہمیت کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے بدھ راہب جونسی تیراساوا (Junsei Terasawa) اپنے مقامی دوستوں کے ہمراہ اس تاریخی اسٹوپا کی زیارت کے لیے پہنچے۔
مقامی میزبانوں نے انہیں بتایا کہ اسٹوپا کی حفاظتی دیوار کے مرکزی دروازے کے عین سامنے حالیہ دنوں میں ایک نئی قبر تعمیر کی گئی ہے، جسے مقامی افراد ایک پیر کا مزار قرار دے رہے ہیں۔ قبر کے ساتھ ایک علم بھی نصب کیا گیا ہے۔
وفد میں شریک لوگوں نے اس نئی تعمیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ اقدام تاریخی مقام کے اطراف سرکاری زمین پر قبضے کی ایک نئی کوشش کا حصہ ہو سکتا ہے۔
اس تاریخی مقام کے قریب رہنے والے سماجی کارکن اور صحافی ولی محمد جوکھیو کے مطابق یہ قبر حفاظتی دیوار کے باہر، مرکزی دروازے کے عین سامنے تعمیر کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے یہاں نہ کوئی قبر تھی اور نہ ہی قبرستان موجود تھا۔
گوٹھ مٹھا خان جوکھیو کے رہائشی ولی جوکھیو نے بتایا کہ یادگار کی حفاظتی دیوار کے اردگرد حالیہ برسوں میں نیا گوٹھ قائم ہوا ہے۔
ان کے مطابق ان کچے مکانات کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مورو کے قریب ایک درگاہ کے متولی ہر ماہ کی 11 تاریخ کو یہاں آتے ہیں، فاتحہ خوانی کرتے ہیں اور نیاز تقسیم کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہیں خواب میں بتایا گیا تھا کہ یہ ایک بزرگ ولی اللہ کی قبر ہے۔
ولی محمد جوکھیو کے مطابق ان خاندانوں کا تعلق ہاری طبقے سے ہے اور وہ حال ہی میں مورو سے نقل مکانی کرکے ایک مقامی زمیندار کی زمین پر کھیتی باڑی کے لیے یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں۔
نواب شاھ کے سماجی رہنما اکرم خاصخیلی کا کہنا ہے کہ اگر اس قسم کی تعمیرات کو بروقت نہ روکا گیا تو مستقبل میں مزید قبریں، مزار یا دیگر مستقل ڈھانچے بھی قائم کیے جا سکتے ہیں، جس سے اس تاریخی مقام کی اصل حیثیت اور شناخت متاثر ہوگی۔

حکومتی موقف
سندھ حکومت کے محکمہ ثقافت، سیاحت، نوادرات اور محفوظات کے ڈائریکٹر جنرل عبدالفتاح شیخ نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ محکمہ آثارِ قدیمہ نے چند برس قبل اس اسٹوپا کے گرد حفاظتی دیوار اور مرکزی گیٹ تعمیر کیا تھا تاکہ تاریخی ورثے کو تجاوزات اور دیگر نقصانات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعے کی تفصیلات ابھی ان کے علم میں نہیں تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر شہید بینظیر آباد کے ڈپٹی کمشنر کو خط لکھ کر رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس تاریخی مقام کی حفاظت کے لیے محکمہ آثارِ قدیمہ کی جانب سے ایک چوکیدار بھی تعینات ہے۔
عبدالفتاح شیخ نے مزید بتایا کہ چند برس قبل ان کے محکمے نے اس مقام کی حد بندی (ڈیمارکیشن) کے لیے محکمہ ریونیو کو درخواست دی تھی، جس پر سرکاری طور پر کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ چاردیواری سے باہر موجود سرکاری زمین کی ملکیت اور حدود کے بارے میں مزید معلومات درکار ہیں، اسی لیے مقامی حکام سے اس حوالے سے بھی تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اس تاریخی مقام کے ساتھ مجموعی طور پر کتنی سرکاری زمین محفوظ ہے۔
سندھ کی نمایاں بدھ مت یادگار
محکمہ آثارِ قدیمہ سندھ کے مطابق ٹھل میر رُکن کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ سندھ میں موجود ان چند بدھ اسٹوپوں میں شامل ہے جو آج بھی اپنی اصل ساخت کے ساتھ نمایاں طور پر موجود ہیں۔ اس تاریخی مقام کو پاکستان اینٹی کوئٹیز ایکٹ 1975 کے تحت محفوظ آثار قرار دیا جا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی اور غیرملکی محققین اسے سندھ کی بدھ تاریخ کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم مقام قرار دیتے ہیں۔
تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تعمیر غالباً چھٹی سے گیارہویں صدی عیسوی کے درمیان ہوئی۔ اس زمانے میں سندھ بدھ مت کا ایک اہم مذہبی اور علمی مرکز تھا، جہاں متعدد خانقاہیں، عبادت گاہیں اور اسٹوپے تعمیر کیے گئے تھے۔
ٹھل میر رُکن ایک عظیم الشان گول نما اینٹوں کی تعمیر ہے، جس کی موجودہ بلندی تقریباً 60 سے 65 فٹ ہے۔ یہ ایک مضبوط مربع بنیاد پر تعمیر کیا گیا تھا، جس کا ہر رخ تقریباً 72 فٹ ہے۔
یہ اسٹوپا چار درجوں یا چار منزلوں پر مشتمل تھا، جن کے اوپر ایک گنبد تعمیر کیا گیا تھا۔ ہر منزل اپنے نیچے والی منزل سے نسبتاً چھوٹی تھی جبکہ ان کے درمیان نیم دائرہ نما آرائشی پٹیاں بنائی گئی تھیں۔ ہر درجے پر اینٹوں سے بنائے گئے ستون نما نقش اس دور کی تعمیراتی مہارت کا شاندار نمونہ پیش کرتے ہیں۔
کھدائی کے دوران اس مقام سے بدھ کی مٹی سے بنی متعدد تصاویر، مجسموں کے ٹکڑے اور بدھ کی پیدائش کے مناظر پر مشتمل فن پارے بھی دریافت ہوئے تھے۔
ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقام صرف ایک تاریخی یادگار نہیں بلکہ ایک فعال مذہبی اور تعلیمی مرکز بھی تھا، جہاں بدھ راہب عبادت کرتے اور تعلیم حاصل کرتے تھے۔ جاپان سے آنے والے بدھ راہب نے بھی اس مقام پر اپنی مذہبی رسومات ادا کیں۔
تاریخ دانوں کے مطابق اسلام کی آمد سے کئی صدیاں پہلے سندھ میں بدھ مت کو نمایاں مقام حاصل تھا۔ راجا داہر کے دور میں بھی سندھ کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد بدھ مت سے وابستہ تھی۔

چینی سیاح فاہیان اور شوان زانگ نے بھی اپنی سفری یادداشتوں میں سندھ کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں خانقاہوں اور ہزاروں بدھ راہبوں کا ذکر کیا ہے۔ بعد کے ادوار میں بدھ مت زوال پذیر ہوا، تاہم اس کے آثار آج بھی سندھ کے مختلف علاقوں میں محفوظ ہیں۔
سندھ میں بدھ مذہب ماننے والوں کی ایک قلیل تعداد آج بھی موجود ہے۔ ضلع نوشہروفیروز کے شہر محراب پور میں بدھ مت کے پیروکاروں کی قابل ذکر تعداد آباد ہے۔
آل پاکستان بدھسٹ سوسائٹی کے صدر منور لال نے ساگا ڈیجیٹل کو بتایا کہ موھن جو دڑو کے بدھ اسٹوپا کے علاوہ کاھو جو دڑو، سودھیرن جو ٹھل، ہیرو خان ٹھل، دیپر گھنگھرو اور ٹھل میر رُکن سندھ میں بدھ تہذیب کے اہم مراکز رہے ہیں۔
ان کے مطابق بدقسمتی سے ان میں سے کئی تاریخی مقامات موسمی اثرات، زمین میں نمکیات، غیرقانونی کھدائی، اینٹوں کی چوری اور تجاوزات کے باعث شدید نقصان کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹھل میر رُکن اب بھی نسبتاً اچھی حالت میں موجود ہے، اس لیے اس کا تحفظ پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
مقامی سماجی رہنما اکرم خاصخیلی کا کہنا ہے کہ اگر اس تاریخی مقام کو بہتر انداز میں محفوظ کیا جائے، مناسب سڑکیں تعمیر کی جائیں، رہنمائی کے بورڈ، معلوماتی مرکز، سکیورٹی اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں تو یہ مقام بین الاقوامی مذہبی سیاحت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔
جاپان، چین، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، سری لنکا، میانمار اور دیگر بدھ اکثریتی ممالک سے ہر سال لاکھوں افراد بدھ مت کے مقدس مقامات کی زیارت کرتے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان میں گندھارا تہذیب کے ساتھ ساتھ سندھ کے بدھ آثار بھی ان زائرین اور محققین کے لیے غیرمعمولی دلچسپی کا باعث بن سکتے ہیں۔
جاپانی بدھ راہب جونسی تیراساوا کا حالیہ دورہ بھی پاکستان میں بدھ آثار کے حوالے سے بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کی ایک نمایاں مثال سمجھا جا رہا ہے۔
منور لال کے مطابق جاپانی راہب کے ہمراہ آنے والا مقامی وفد اس تاریخی مقام کو دیکھ کر بے حد متاثر ہوا، تاہم مرکزی دروازے کے سامنے نئی تعمیر شدہ قبر دیکھ کر انہوں نے بھی افسوس کا اظہار کیا۔ وفد کے ارکان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات تاریخی مقام کی اصل شناخت اور منظرنامے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں محفوظ آثارِ قدیمہ کے اطراف نئی مستقل تعمیرات پر سخت پابندی عائد ہوتی ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف تاریخی منظرنامہ تبدیل ہوتا ہے بلکہ مستقبل کی تحقیق کے امکانات بھی متاثر ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی تاریخی مقام کے سامنے نئی مذہبی یا رہائشی تعمیرات کی اجازت دے دی جائے تو رفتہ رفتہ پورا علاقہ تجاوزات کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
اکرم خاصخیلی کے مطابق سندھ میں متعدد تاریخی مقامات اسی طرح آہستہ آہستہ تجاوزات کا شکار ہوئے، جہاں ابتدا میں ایک قبر یا مسجد بنی، پھر مزید قبریں قائم ہوئیں، اس کے بعد مزار تعمیر ہوئے اور بالآخر مستقل آبادیاں وجود میں آ گئیں۔ ان کے بقول اگر متعلقہ ادارے بروقت کارروائی نہ کریں تو ٹھل میر رُکن بھی اسی خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔
مقامی سماجی رہنماؤں اور آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے حکومت سندھ، محکمہ آثارِ قدیمہ، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ نئی تعمیر شدہ قبر کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو جائے کہ یہ تعمیر آثارِ قدیمہ کے تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہے تو اسے قانونی طریقہ کار کے تحت ہٹایا جائے اور مستقبل میں کسی بھی نئی تجاوزات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ماہرین نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ اسٹوپا کے اطراف مستقل نگرانی کے لیے اضافی سکیورٹی عملہ تعینات کیا جائے، جدید کیمرے نصب کیے جائیں، معلوماتی بورڈ لگائے جائیں، باقاعدہ سیاحتی رہنمائی کا نظام قائم کیا جائے اور مقامی آبادی میں تاریخی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی مہم چلائی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر مقامی لوگ اس تاریخی مقام کو اپنی مشترکہ ثقافتی شناخت کا حصہ سمجھیں تو اس کا تحفظ کہیں زیادہ مؤثر انداز میں ممکن ہو سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ کے مطالعاتی دوروں کا بھی باقاعدہ اہتمام کیا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل اپنے علاقے کی ہزاروں سال پرانی تاریخ سے آگاہ ہو سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں اور مذاہب کے آثار کا امین ہے۔ یہ آثار صرف کسی ایک مذہب یا قوم کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ میراث ہیں۔ ٹھل میر رُکن بھی اسی مشترکہ تہذیبی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے، جو سندھ کی قدیم تاریخ، بدھ مت کے فروغ اور اس دور کی شاندار تعمیراتی مہارت کا خاموش گواہ ہے۔
سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر اس تاریخی یادگار کو مؤثر تحفظ فراہم کیا گیا تو یہ نہ صرف پاکستان کی ثقافتی شناخت کو مزید مضبوط کرے گی بلکہ بین الاقوامی سطح پر مذہبی سیاحت، تحقیقی سرگرمیوں اور ثقافتی روابط کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تاہم اگر تجاوزات کا سلسلہ نہ روکا گیا تو آنے والی نسلیں شاید اس عظیم تاریخی ورثے کو صرف کتابوں اور تصویروں میں ہی دیکھ سکیں گی۔





