یورپ اس وقت اپنی جدید تاریخ کی شدید ترین گرمی کی لہروں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے، جہاں کئی ممالک میں درجہ حرارت 40 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ بلکہ بعض علاقوں میں اس سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ اس غیر معمولی گرمی نے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے، جبکہ ابتدائی سرکاری رپورٹس کے مطابق متعدد ممالک میں اموات، ہزاروں افراد کے اسپتال پہنچنے اور بنیادی ڈھانچے پر دباؤ کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
شدید گرمی کی یہ لہر مغربی یورپ سے وسطی یورپ تک پھیل چکی ہے۔ فرانس، اسپین، جرمنی، اٹلی، برطانیہ، پرتگال، پولینڈ، چیکیا، بیلجیم، نیدرلینڈز اور سوئٹزرلینڈ سمیت متعدد ممالک میں جون کے مہینے کے کئی دہائیوں پرانے درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔
فرانس میں حکومت نے ہیلتھ الرٹ جاری کر رکھا ہے، جہاں سینکڑوں اسکول عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ شدید گرمی، ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے باعث ہزاروں افراد اسپتالوں سے رجوع کر رہے ہیں، جبکہ بزرگ، بچے اور پہلے سے بیمار افراد کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔
اسپین میں متعدد مقامات پر درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ گیا، جس کے نتیجے میں جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی اور کئی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
جرمنی میں شدید گرمی نے ریلوے نظام کو بھی متاثر کیا، جہاں ٹرینوں کی رفتار حفاظتی اقدامات کے تحت محدود کر دی گئی، جبکہ اسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
اٹلی نے اپنے کئی بڑے شہروں میں ریڈ الرٹ نافذ کر دیا ہے، جبکہ برطانیہ میں صحت کے اداروں نے شدید گرمی سے متعلق خصوصی وارننگ جاری کی ہے۔ دوسری جانب یورپ کے مختلف ممالک میں بجلی کی طلب بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے کیونکہ لاکھوں افراد نے غیر معمولی گرمی سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر ایئر کنڈیشنرز کا استعمال شروع کر دیا ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موجودہ ہیٹ ویو محض ایک عارضی موسمی واقعہ نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی واضح مثال ہے۔ ان کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث مستقبل میں ایسی شدید گرمی کی لہریں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ آنے کا امکان ہے۔
ماہرین 2003 کی یورپی ہیٹ ویو کی بھی یاد دلاتے ہیں، جس میں تقریباً 70 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2026 کی گرمی نے کئی ممالک میں جون کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یورپ تیزی سے بدلتے موسمی حالات کا سامنا کر رہا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں اور کاربن کے اخراج میں مؤثر کمی نہ لائی گئی تو صرف یورپ ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر خطے بھی مستقبل میں مزید شدید گرمی، پانی کی قلت، جنگلات میں آگ اور انسانی جانوں کے بڑے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ ہیٹ ویو پوری دنیا کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا بحران بن چکی ہے۔
