زاویہ: کارونجھر، لاکھوں سال پرانی ایک تہذیب جو پتھر بن گئی

کارونجھر

تم انہیں محض گرینائٹ کے پتھر جان کر کاٹنا چاہتے ہو، ہم انہیں مقدس تاریخ کو اپنے اندر سموئے وہ مقدس چٹانیں سمجھتے ہیں، جن کا ایک ایک عکس اپنی کہانی خود بیان کرتا ہے۔ کارونجھر محض ایک پہاڑ نہیں بلکہ ایک ایسی لازوال تہذیب ہے جو پتھر بن گئی ہو۔

جب نگرپارکر کے نوجوان فوٹوگرافر دلیپ پرمار نے اپنی آنکھ اور کیمرے کے لینز کو کارونجھر کے چھپے ہوئے حسن پر مرکوز کیا تو دنیا دنگ رہ گئی۔ کارونجھر کی چوٹی کی طرف بہنے والے پانی اور چٹان کے ملاپ کا عکس جب بڑا کر کے دیکھا جائے تو ایک واضح چہرہ یا شکل ابھرتی ہے، ایک ایسا پراسرار چہرہ جو موبائل کو سیدھا رکھنے پر واضح ہوتا ہے اور آڑا کرنے پر صرف پتھر اور پانی کا سنگم دکھائی دیتا ہے۔

یہ اس دھرتی کا جادو ہے جو باریک تصویربندی کے ذریعے اب عالمی سطح پر وائرل ہو چکا ہے۔

ماہرین ارضیات کے مطابق کارونجھر کا یہ سلسلہ تقریباً ڈھائی سے پانچ ارب سال پرانا ہے، یعنی یہ اس دور کی چٹانیں ہیں جب زمین کی اوپری سطح تشکیل پا رہی تھی۔ اربوں سال کے موسمیاتی اثرات، بارشوں اور ہوا کے دباؤ نے ان چٹانوں کو ایسی حیرت انگیز شکلیں بخشی ہیں جو انسانی فہم کو دنگ کر دیتی ہیں۔

یہاں دلیپ پرمار کی دریافت کردہ اونٹ نما چٹان موجود ہے جو صحرا میں بیٹھے اونٹ کا گمان پیدا کرتی ہے، مگرمچھ نما چٹان ہے جس کی کھردری سطح مگرمچھ کی پشت جیسی ہے، اور عقاب، پرندوں اور انسانی کھوپڑی جیسی پراسرار شکلیں ہیں جو شام کے سائے گہرے ہوتے ہی داستان گوئی کرتی محسوس ہوتی ہیں۔

یہ پہاڑی سلسلہ قدیم دور کی ایک عظیم تجارتی، تمدنی اور مذہبی سلطنت کا گواہ ہے۔ ماضی میں، خصوصاً 1226 تک، یہ خطہ جین مت کے ماننے والوں کا مضبوط قلعہ تھا، جہاں آج بھی تاج محل سے پرانا گوری مندر اور اس کے گنبدوں پر بنی قدیم تصاویر موجود ہیں۔ اسی پہاڑ کے دامن میں جین مندروں کے ساتھ سفید سنگ مرمر کی بھوڈیسر مسجد، جو 1505 میں سلطان محمود شاہ بیگڑا نے تعمیر کروائی، واقع ہے، جو یہاں کے مذہبی ہم آہنگی کے شاندار ماضی کو ظاہر کرتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ سردھڑو دھام، انچل ایشور اور چوڑیو مندر جیسے ہندو مت کے مقدس آستانے بھی اسی دامن میں موجود ہیں۔ مون سون کے آتے ہی کارونجھر کا رنگ بدل جاتا ہے اور اس سے گوردھرو اور بھٹیانی جیسی بیس سے زائد بارانی ندیاں اور چشمے پھوٹ پڑتے ہیں۔

مقامی لوگ کہتے ہیں کہ ‘کارونجھر روزانہ سو تولے سونا دیتا ہے’ کیونکہ یہ نایاب جڑی بوٹیوں، جنگلی موروں، چنکارا ہرنوں اور قیمتی سرخ گرینائٹ کا امین ہے۔ یہ وہی دھرتی ہے جہاں انگریز استعمار کے خلاف یہاں کے سچے سپوت روپلو کولہی نے کارونجھر کی چٹانوں کو اپنی پناہ گاہ بنا کر جنگ لڑی اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں کارونجھر کے ان تیرتے اور متوازن پتھروں کو نجی کمپنیوں نے کان کنی اور دھماکوں کے ذریعے نقصان پہنچایا، لیکن سندھ کے باشعور عوام اور عدلیہ نے بروقت اقدام کرتے ہوئے یہاں ہر قسم کی کان کنی پر مستقل پابندی عائد کی اور اسے جنگلی حیات کی محفوظ پناہ گاہ قرار دیا۔ کارونجھر کو بچانا دراصل سندھ کی تاریخ اور میراث کو بچانا ہے۔

اسی بارے میں: