دبئی: برطانوی خاتون ٹک ٹاکر کو بوائے فرینڈ کے قتل کے الزام میں سزائے موت ہو سکتی ہے

برطانیہ سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ ٹک ٹاکر بروک جارج کو دبئی میں اپنے بوائے فرینڈ کے مبینہ قتل کے مقدمے میں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق اگر عدالت نے انہیں قصوروار قرار دیا تو انہیں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بروک جارج کا تعلق انگلینڈ کے علاقے کینٹ سے ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے اپنے بوائے فرینڈ پر اس وقت چاقو سے وار کیا جب وہ ایک پرتشدد گھریلو جھگڑے کے دوران اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اپنے دفاع میں کیا گیا تھا اور ان کا قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

دوسری جانب دبئی کے استغاثہ نے خاتون پر پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ اگر عدالت نے اس الزام کو درست قرار دیا تو انہیں متحدہ عرب امارات کے قانون کے تحت انتہائی سخت سزا دی جا سکتی ہے، جس میں سزائے موت بھی شامل ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ‘Detained in Dubai’ نے اس مقدمے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بروک جارج مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہیں کہ وہ گھریلو تشدد کا شکار تھیں اور واقعہ اپنی جان بچانے کی کوشش کے دوران پیش آیا۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ عدالت مقدمے کے تمام حالات اور شواہد کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے۔

رپورٹ کے مطابق بروک جارج سوشل میڈیا پر خاصی مقبول ہیں اور ٹک ٹاک پر ان کے ہزاروں مداح موجود ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد برطانیہ میں ان کے اہل خانہ اور دوست سخت پریشان ہیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ مقدمے کی شفاف سماعت ہو اور بروک کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔

ماہرین قانون کے مطابق متحدہ عرب امارات میں قتل کے مقدمات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ اگر کسی شخص پر جان بوجھ کر قتل ثابت ہو جائے تو عدالت سزائے موت سمیت مختلف سزائیں دے سکتی ہے۔ تاہم ہر مقدمہ اس کے حقائق، شواہد اور عدالت کے فیصلے کی بنیاد پر نمٹایا جاتا ہے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے سے آگاہ ہے اور اپنے شہری کو قونصلر خدمات فراہم کر رہی ہے۔ حکام نے مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں، تاہم کہا ہے کہ وہ مقامی قوانین کا احترام کرتے ہوئے مقدمے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق اگر دفاع یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے کہ خاتون نے اپنی جان بچانے کے لیے کارروائی کی تھی تو مقدمے کے نتائج پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔

یہ مقدمہ برطانیہ اور متحدہ عرب امارات دونوں میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کیس کو گھریلو تشدد اور خواتین کے حقِ دفاع کے تناظر میں بھی اہم قرار دے رہی ہیں، جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقدمے کا فیصلہ پیش کیے جانے والے شواہد اور عدالتی کارروائی پر منحصر ہوگا۔

فی الحال بروک جارج عدالتی تحویل میں ہیں اور مقدمے کی مزید سماعت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اگر عدالت انہیں قصوروار قرار دیتی ہے تو انہیں سخت ترین سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ عدالت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

اسی بارے میں: