Tag: برطانیہ

  • برطانیہ کے بڑے پبلشرز سے مسترد ہونے کے باوجود ناول کی ڈیڑھ کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت کرنے والے مصنف پیٹر مے کون تھے؟

    برطانیہ کے بڑے پبلشرز سے مسترد ہونے کے باوجود ناول کی ڈیڑھ کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت کرنے والے مصنف پیٹر مے کون تھے؟

    سکاٹش مصنف پیٹر مے 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    سکاٹ لینڈ کے معروف ناول نگار، صحافی اور ٹیلی ویژن اسکرین رائٹر پیٹر مے 74 برس کی عمر میں جنوبی فرانس میں انتقال کر گئے۔ ان کی اہلیہ اور مصنفہ جینس ہیلی نے پیر کو ان کے انتقال کی تصدیق کی۔ پیٹر مے جمعے کی شب جنوبی فرانس میں واقع اپنے تعطیلاتی گھر میں انتقال کر گئے۔

    پیٹر مے کو دنیا بھر میں جرائم پر مبنی ناولوں کے لیے شہرت حاصل ہوئی، تاہم ان کی ادبی شناخت صرف کرائم فکشن تک محدود نہیں تھی۔ وہ صحافت، ٹیلی ویژن اور ادب، تینوں شعبوں میں طویل اور کامیاب کیریئر رکھتے تھے۔ ان کی 31 کتابیں شائع ہوئیں، جو 40 سے زائد ممالک میں 15 ملین سے زیادہ کی تعداد میں فروخت ہوئیں۔ انہیں برطانیہ، فرانس، ڈنمارک اور امریکہ میں ادبی اعزازات بھی ملے۔

    پیٹر مے 20 دسمبر 1951 کو گلاسگو، اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کم عمری میں صحافت کا آغاز کیا اور 21 برس کی عمر میں اسکاٹش ینگ جرنلسٹ آف دی ایئر کا اعزاز حاصل کیا۔ 26 برس کی عمر میں ان کا پہلا ناول ‘The  Reporter’  شائع ہوا۔ اس ناول کو بعد میں بی بی سی نے ڈرامائی سیریز میں ڈھالا، جس کے بعد مے نے صحافت چھوڑ کر ٹیلی ویژن کے شعبے میں قدم رکھا۔

    ٹیلی ویژن میں اگلے تقریباً 15 برس کے دوران وہ اسکاٹ لینڈ کے نمایاں ڈرامہ رائٹرز میں شمار ہونے لگے۔ انہوں نے اسکرپٹ رائٹر اور اسکرپٹ ایڈیٹر کے طور پر ایک ہزار سے زیادہ ٹی وی اقساط پر کام کیا اور کئی معروف ڈرامہ سیریز تخلیق کیں۔ ان میں ‘Take the High Road’ اور گیلک زبان میں بنائی گئی ‘Machair’ خاص طور پر نمایاں تھیں۔

    ‘Machair’ پر کام کے دوران پیٹر مے کو اسکاٹ لینڈ کے جزائر پر مشتمل علاقے ہیبرڈیز اور خاص طور پر آئل آف لیوس سے گہری وابستگی پیدا ہوئی۔ بعد میں یہی علاقہ ان کی سب سے مشہور ادبی تخلیقات کا پس منظر بنا۔

    پیٹر مے نے 1996 میں ٹیلی ویژن چھوڑ کر دوبارہ ناول نگاری پر توجہ مرکوز کی۔ ان کے ابتدائی معروف ناولوں میں چین کے پس منظر میں لکھی گئی ‘China Thrillers’ سیریز شامل تھی، جبکہ بعد میں ‘Enzo Files’ سیریز نے بھی انہیں عالمی قارئین تک پہنچایا۔

    تاہم عالمی سطح پر ان کی سب سے بڑی شناخت ‘The Blackhouse’ سے بنی، جو 2011 میں انگریزی میں شائع ہوا اور بعد میں ‘Lewis Trilogy’ کا پہلا ناول بنا۔ اس کے بعد ‘The Lewis Man’ اور ‘The Chessmen’ شائع ہوئے۔ یہ تینوں ناول اسکاٹ لینڈ کے دور افتادہ آئل آف لیوس کے ماحول، معاشرے، تاریخ اور انسانی رشتوں کے پس منظر میں جرائم کی کہانیاں بیان کرتے ہیں۔

    ‘The Blackhouse’ کی کامیابی کی کہانی بھی غیر معمولی ہے۔ بڑے برطانوی پبلشرز کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد یہ ناول پہلے فرانس میں شائع ہوا، جہاں اسے غیر معمولی پذیرائی ملی اور اسے فرانسیسی ادبی ایوارڈ ‘Prix Cezam’ سے نوازا گیا۔ بعد میں انگریزی ایڈیشن ایک بین الاقوامی بیسٹ سیلر بنا اور امریکہ میں بیری ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

    فرانس میں پیٹر مے کو خاص طور پر مضبوط ادبی پذیرائی حاصل ہوئی۔ وہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک فرانس میں مقیم رہے اور فرانسیسی و برطانوی شہریت رکھتے تھے۔ 2025 میں انہیں فرانس کے معروف کرائم فکشن اعزاز ‘Grand Prix de Littérature Policière’ سے نوازا گیا۔ اس سے قبل 2021 میں انہیں برطانیہ کے کرائم رائٹرز ایسوسی ایشن کا ‘Dagger in the Library’ ایوارڈ بھی ملا تھا۔

    ان کی تحریروں میں اسکاٹ لینڈ کے مناظر، جزیرے کی زندگی، انسانی رشتے، تنہائی اور ماحول نمایاں موضوعات رہے۔ ان کے ناول ‘Coffin Road’ میں ماحول اور کرۂ ارض کے مستقبل سے متعلق خدشات بھی نمایاں ہوئے۔

    پیٹر مے ادب کے ساتھ موسیقی سے بھی وابستہ رہے۔ 2025 میں انہوں نے ‘Towards the Light’ کے نام سے ایک البم جاری کیا، جس میں ان کے ناولوں اور ذاتی دلچسپیوں سے متاثر گیت شامل تھے۔

    ان کی آخری کتاب بھی ان کی وفات کے بعد قارئین تک پہنچے گی۔ ‘Island of the Dead’ جنوری 2027 میں شائع ہونے والی ہے۔ پیٹر مے نے اسے اپنا آخری ناول قرار دیا تھا اور اس کی اشاعت کے موقع پر اسکاٹ لینڈ اور آئل آف لیوس کا ایک الوداعی دورہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔

    ان کے ناشر اور دیرینہ دوست جون رائلی نے انہیں ‘ناقابلِ تلافی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیٹر مے نہ صرف اپنی نسل کے مقبول اور پسندیدہ کرائم رائٹرز میں شامل تھے بلکہ ان کی شخصیت نے قارئین اور ان کے ساتھ کام کرنے والوں میں بھی گہری محبت اور وابستگی پیدا کی۔ اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سوینی نے بھی ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خاص طور پر ہیبرڈیز کے بارے میں ان کی تحریروں کو سراہا۔

    پیٹر مے کی ادبی میراث کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے جرائم کی کہانی کو صرف قتل، تفتیش اور مجرم کی تلاش تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں جگہ، تاریخ، موسم، تنہائی، معاشرہ اور انسانی نفسیات کو بھی کہانی کا حصہ بنایا۔ خاص طور پر آئل آف لیوس اور ہیبرڈیز ان کی تحریروں میں محض پس منظر نہیں بلکہ کہانی کی شناخت بن گئے۔

    پیٹر مے کے انتقال کے ساتھ اسکاٹ لینڈ کے ایک ایسے مصنف کا سفر اختتام پذیر ہوا جس نے صحافت سے آغاز کیا، ٹیلی ویژن میں ایک ہزار سے زیادہ اقساط پر کام کیا، پھر ناول نگاری میں عالمی کامیابی حاصل کی اور اپنی کہانیوں کے ذریعے اسکاٹ لینڈ کے دور افتادہ جزائر اور ان کے لوگوں کو دنیا بھر کے قارئین تک پہنچایا۔ ان کی آخری کتاب ‘Island of the Dead’ اب ان کی ادبی زندگی کا آخری باب بن کر جنوری 2027 میں سامنے آئے گی۔

  • برطانیہ: نگہداشت پر مامور پاکستانی شہری فضلی قدیر کو 70 سالہ خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کیس میں 12 سال سزا

    برطانیہ: نگہداشت پر مامور پاکستانی شہری فضلی قدیر کو 70 سالہ خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کیس میں 12 سال سزا

    برطانیہ کی عدالت نے 70 سال سے زائد عمر کی ایک انتہائی کمزور اور بستر تک محدود خاتون سے جنسی زیادتی کے جرم میں ایک پاکستانی شہری فضلی قدیر کو 12 سال قید کی سزا سنا دی۔

    25 سالہ فضلی قدیر کا تعلق پشاور سے ہے اور وہ برطانیہ میں طالب علم ویزے پر موجود تھا۔ وہ گزشتہ سال یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اپنے بھائی کے پاس برسٹل گیا تھا۔ بعد میں تعلیمی اور دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے اس نے نگہداشت کرنے والے کارکن کے طور پر کام شروع کیا۔

    برسٹل کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ فضلی قدیر نے اس وقت خاتون کو نشانہ بنایا جب اسے معلوم ہوا کہ ان کے اہل خانہ گھر سے باہر ہوں گے۔ وہ خاتون کے بستر پر چڑھ گیا اور اسے کہا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔

    عدالت کے مطابق فضلی قدیر نے خاتون کو ہونٹوں پر بوسہ دیا، ان کے جسم کو نامناسب طور پر چھوا اور انہیں طویل جنسی حملے کا نشانہ بنایا۔ واقعے میں زبانی جنسی زیادتی بھی شامل تھی۔

    گرفتاری کے بعد فضلی قدیر نے خاتون سے زیادتی کرنے سے انکار کیا۔ بعد میں عدالت میں اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بستر پر موجود معمر خاتون نے خود اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم عدالت نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد اسے مجرم قرار دیا اور 12 سال قید کی سزا سنائی۔

    عدالت نے فضلی قدیر کو متاثرہ خاتون سے کسی بھی قسم کا رابطہ کرنے سے بھی روک دیا ہے۔ سزا مکمل ہونے کے بعد برطانوی محکمہ داخلہ اس کی امیگریشن حیثیت کا جائزہ لے گا۔

    متاثرہ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعے نے ان کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان کے مطابق فضلی قدیر نے ان کی آزادی چھین لی۔

    خاتون نے بتایا کہ واقعے کے بعد سے وہ شدید خوف اور ڈراؤنے خوابوں کا شکار ہیں۔ انہیں نیند نہیں آتی اور معمولی آوازیں بھی انہیں خوفزدہ کر دیتی ہیں۔ انہیں مسلسل یہ خدشہ رہتا ہے کہ حملہ آور دوبارہ واپس آ کر انہیں قتل کر دے گا۔

    انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انہیں معلوم نہیں کہ فضلی قدیر نے اس سے پہلے کسی اور شخص کو بھی نشانہ بنایا یا نہیں، تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ اسے سزا ملنے سے وہ دوبارہ ایسا جرم کرنے سے روکا جا سکے گا۔

    دفاعی وکیل جمیما لوویٹ نے عدالت کو بتایا کہ فضلی قدیر نے مقدمے کے بعد اپنے معذرتی خط میں لکھا تھا کہ وہ مشکل حالات میں پلا بڑھا جہاں تشدد اور خوف کا ماحول موجود تھا۔

    وکیل کے مطابق سزا سنائے جانے کے بعد فضلی قدیر نے اپنے اہل خانہ کو بتایا کہ بچپن میں وہ خود بھی جنسی زیادتی کا شکار ہوا تھا۔ تاہم عدالت نے موجودہ مقدمے میں اسے معمر اور انتہائی کمزور خاتون کے خلاف جنسی جرم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 12 سال قید کی سزا سنائی۔

  • کراچی بار ایسوسی ایشن کا برطانیہ کے بادشاہ کو تاریخی خط، سورہیہ بادشاہ کی آخری آرام گاہ ظاہر کرنے کا مطالبہ

    کراچی بار ایسوسی ایشن کا برطانیہ کے بادشاہ کو تاریخی خط، سورہیہ بادشاہ کی آخری آرام گاہ ظاہر کرنے کا مطالبہ

    کراچی بار ایسوسی ایشن نے برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم کے نام ایک خط ارسال کرکے حر تحریک کے رہنما پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی، المعروف سورہیہ بادشاہ، کی تدفین کی جگہ سے متعلق برطانوی تاریخی اور سرکاری ریکارڈ سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    خط برطانوی ہائی کمیشن، اسلام آباد کے ذریعے بھیجا گیا ہے اور اس پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ، جنرل سیکریٹری محمد ارشد شر اور دیگر عہدیداران کے دستخط موجود ہیں۔

    بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سورہیہ بادشاہ کو 20 مارچ 1943 کو حیدرآباد سینٹرل جیل میں برطانوی نوآبادیاتی حکومت نے پھانسی دی، لیکن 83 سال گزرنے کے باوجود ان کی آخری آرام گاہ کا مقام عوامی طور پر حتمی طور پر سامنے نہیں آ سکا۔

    سورہیہ بادشاہ کون تھے؟

    پیر سید صبغت اللہ شاہ ثانی پیر پاگارا خاندان کے چھٹے پیر تھے اور حر جماعت کے روحانی و سیاسی رہنما کے طور پر برطانوی اقتدار کے خلاف مزاحمت کی قیادت کرتے رہے۔ انہیں ان کے پیروکاروں نے سورہیہ بادشاہ یعنی بہادر بادشاہ کا لقب دیا۔

    وہ کم عمری میں پیر پاگارا بنے اور وقت کے ساتھ برطانوی نوآبادیاتی نظام کے خلاف حر تحریک کے اہم رہنما بن گئے۔ ان کی قیادت میں حر مزاحمت نے 1930 کی دہائی کے آخر اور 1940 کی دہائی کے آغاز میں مسلح شکل اختیار کی۔ انگریزوں کے خلاف ان کی تاریخی جدوجہد کے دوران سورہیہ بادشاہ کا نعرہ ‘وطن یا کفن’ آج بھی سندھ کی عوام میں مقبول ہے۔ برطانوی حکومت نے اس تحریک کو دبانے کے لیے سخت قوانین، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں، فوجی کارروائیاں اور سندھ میں مارشل لا نافذ کیا۔

    حر تحریک کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ برطانوی انتظامیہ نے 1942 میں سندھ میں مارشل لا نافذ کیا، جس کے دوران فوجی عدالتوں کے ذریعے مقدمات چلائے گئے اور ہزاروں حروں اور ان کے خاندانوں کو حراستی کیمپوں میں رکھا گیا۔

    سورہیہ بادشاہ کو کیوں پھانسی دی گئی؟

    برطانوی حکومت نے ان کے خلاف مقدمہ مارشل لا کے تحت قائم فوجی عدالت میں چلایا۔ انہیں برطانوی تاج کے خلاف جنگ چھیڑنے اور بغاوت سے متعلق الزامات کا سامنا تھا اور بالآخر انہیں سزائے موت سنائی گئی۔

    تاریخی ریکارڈز پر تحقیق کرنے والے محققین کے مطابق برطانوی انتظامیہ کے اندر یہ سوچ موجود تھی کہ جب تک پیر زندہ ہیں، حر تحریک کو ختم کرنا مشکل ہوگا۔ بعض برطانوی انتظامی ریکارڈز میں ان کے خلاف کارروائی اور مقدمے کے حوالے سے اہم تفصیلات بھی موجود ہیں۔

    1942 میں لاہور میل پر حملے اور مسافروں کی ہلاکت کے بعد برطانوی حکومت نے حر تحریک کے خلاف کارروائی مزید سخت کر دی۔ اسی دور میں سورہیہ بادشاہ کے خلاف مقدمہ آگے بڑھا اور بالآخر انہیں 20 مارچ 1943 کو حیدرآباد سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

    اس وقت ان کی عمر تقریباً 33 سال تھی۔

    تدفین کہاں ہوئی؟

    یہی وہ سوال ہے جس نے 83 سال بعد بھی تاریخ دانوں اور سندھ کے عوام کو متوجہ کر رکھا ہے۔

    سورہیہ بادشاہ نے اپنی زندگی میں اپنی تدفین آبائی قبرستان پیر جو گوٹھ میں ہونے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن برطانوی حکومت نے انہیں وہاں دفن نہیں کیا۔ تاریخی تحقیق کے مطابق برطانوی حکام کو خدشہ تھا کہ ان کی قبر ان کے پیروکاروں کے لیے مزاحمت اور عقیدت کا مرکز بن سکتی ہے۔

    2008 میں سابق آئی جی سندھ آفتاب نبی نے لیمبرک پیپرز پر تحقیق کی بنیاد پر بتایا کہ برطانوی حکام نے سورہیہ بادشاہ کو خفیہ طور پر بلوچستان کے ساحل کے قریب آسٹولا جزیرے پر دفن کیا تھا۔ ان کے مطابق یہ جگہ انتہائی دور افتادہ تھی۔

    بعد میں برطانوی دور کے ریکارڈز سے متعلق شائع ہونے والی تحقیقات میں بھی آسٹولا جزیرے کا ذکر سامنے آیا۔ ایک دستاویز میں 19 مارچ 1943 کے وائسرائے کے ٹیلی گرام کا حوالہ دیا گیا جس میں سورہیہ بادشاہ کو آسٹولا جزیرے پر دفن کرنے کی ہدایت کا ذکر تھا۔ تدفین کے مقام کو خفیہ رکھنے کی بات بھی اس ریکارڈ سے منسوب کی گئی ہے۔

    آسٹولا جزیرے کا نام تاریخی تحقیق اور برطانوی ریکارڈز سے منسوب حوالوں میں ضرور آتا ہے، مگر آج تک ایسا عوامی طور پر تسلیم شدہ اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ قبر کا مقام سامنے نہیں آیا جسے حتمی طور پر سورہیہ بادشاہ کی قبر قرار دیا جا سکے۔

    اسی وجہ سے کراچی بار ایسوسی ایشن اب براہ راست برطانوی حکومت سے اصل ریکارڈ سامنے لانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

    یہ معاملہ کئی دہائیوں تک مختلف قیاس آرائیوں کا موضوع بھی رہا ہے۔ بعض محققین نے آسٹولا جزیرے، بعض نے مکران کے دوسرے ساحلی مقامات اور بعض نے کراچی میں ایک مقام کو ممکنہ مدفن قرار دیا، لیکن ان دعووں میں سے کسی کو حتمی طور پر ثابت نہیں کیا جا سکا۔

    برطانوی ریکارڈ کیوں اہم ہیں؟

    سورہیہ بادشاہ کے مقدمے، گرفتاری، پھانسی اور تدفین سے متعلق برطانوی دور کے سرکاری ریکارڈ تاریخی تحقیق کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

    2008 میں لیمبرک پیپرز کا بڑا ریکارڈ، جو برٹش لائبریری کے انڈیا آفس ریکارڈز میں محفوظ تھا، تحقیق کے لیے دستیاب ہوا۔ ان ریکارڈز میں 1893 سے 1947 تک حر تحریک سے متعلق تفصیلات موجود تھیں اور انہوں نے سورہیہ بادشاہ کے مقدمے اور برطانوی انتظامیہ کے فیصلوں پر نئی بحث کو جنم دیا۔

    اسی لیے کراچی بار کا مطالبہ محض قبر تلاش کرنے کا مطالبہ نہیں ہے۔ یہ ایک تاریخی ریکارڈ کی فراہمی کا مطالبہ بھی ہے۔

    اگر برطانوی آرکائیوز میں پھانسی، لاش کی منتقلی، تدفین، قبر کے مقام یا اس مقام کو خفیہ رکھنے کے احکامات سے متعلق اصل دستاویزات موجود ہیں تو ان کا سامنے آنا حر تحریک کی تاریخ کے ایک اہم اور ابھی تک غیر واضح باب کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    دنیا میں اس نوعیت کی ایک مثال

    سورہیہ بادشاہ کا معاملہ منفرد ضرور ہے، لیکن نوآبادیاتی دور میں برطانوی حکومت کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ایک اور معروف آزادی پسند رہنما کی قبر بھی کئی دہائیوں تک نامعلوم رہی۔

    کینیا کے ماؤ ماؤ آزادی پسند رہنما ڈیڈن کیماتھی کو برطانوی نوآبادیاتی حکومت نے 18 فروری 1957 کو کامیتی جیل میں پھانسی دی۔ انہیں ایک غیر نشان زدہ قبر میں دفن کیا گیا اور ان کی درست قبر کا مقام کئی دہائیوں تک معلوم نہیں ہو سکا۔

    ان کے خاندان، ماؤ ماؤ کے سابق جنگجوؤں اور حامیوں نے کئی برس تک قبر تلاش کرنے کی کوششیں کیں، لیکن طویل عرصے تک کوئی حتمی مقام سامنے نہیں آیا۔

    یہ مثال سورہیہ بادشاہ کے معاملے سے اس لحاظ سے ملتی ہے کہ دونوں نوآبادیاتی مزاحمت کے نمایاں رہنما تھے، دونوں کو برطانوی نوآبادیاتی حکومت نے پھانسی دی اور دونوں کی تدفین کو طویل عرصے تک غیر واضح یا غیر نشان زدہ رکھا گیا۔

    یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ نوآبادیاتی دور میں مزاحمتی رہنماؤں کی تدفین کو غیر نمایاں رکھنا بعض صورتوں میں اس خوف سے بھی جڑا ہوا تھا کہ ان کی قبریں بعد میں مزاحمت، عقیدت یا سیاسی اجتماع کا مرکز بن سکتی تھیں۔

    کراچی بار کا مطالبہ کتنا اہم ہے؟

    کراچی بار ایسوسی ایشن کا مطالبہ اس لیے بھی اہم ہے کہ سورہیہ بادشاہ سندھ کی برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت کی تاریخ کا ایک مرکزی کردار ہیں۔ ان کی پھانسی اور اس کے بعد لاش کی تدفین سے متعلق مکمل ریکارڈ سامنے آنا تاریخ کے ایک اہم خلا کو پُر کر سکتا ہے۔

    اس تاریخی مطالبے کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ اگر برطانوی سرکاری اداروں کے پاس تدفین سے متعلق اصل احکامات، ٹیلی گرام، فوجی مراسلات، جیل ریکارڈ یا دیگر دستاویزات موجود ہیں تو ان تک عوامی اور تحقیقی رسائی تاریخی تحقیق کے لیے انتہائی اہم ہوگی۔

    اس کے علاوہ ایک ایسے شخص کی آخری آرام گاہ جسے اس کے پیروکار آج بھی شہید اور آزادی کی جدوجہد کی علامت سمجھتے ہیں، 83 سال بعد بھی غیر یقینی کا شکار ہو، تو اس مقام کی دستاویزی وضاحت صرف ایک تاریخی سوال نہیں رہتی بلکہ اجتماعی یادداشت اور تاریخی انصاف کا معاملہ بھی بن جاتی ہے۔

    تاہم اس مطالبے کی اصل اہمیت اسی وقت سامنے آئے گی جب برطانوی حکومت اپنے آرکائیوز میں موجود متعلقہ دستاویزات کی بنیاد پر واضح جواب دے۔

    سورہیہ بادشاہ کی قبر کہاں ہے، یہ سوال 83 سال سے سندھ کی تاریخ میں موجود ہے۔ آسٹولا جزیرے سے متعلق برطانوی ریکارڈز اور محققین کے دعوے اس سوال کو ایک ممکنہ سمت ضرور دیتے ہیں، لیکن حتمی اور قابلِ تصدیق جواب اب بھی سامنے آنا باقی ہے۔

    کراچی بار ایسوسی ایشن کا شاہ چارلس سوم کے نام خط اسی لیے اہم ہے کہ اس نے ایک پرانے تاریخی سوال کو دوبارہ برطانوی ریاست کے ریکارڈ اور ذمہ داری کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

    اگر متعلقہ برطانوی ریکارڈ عوام کے سامنے آتے ہیں تو ممکن ہے 83 سال پرانا یہ راز بالآخر حل ہو جائے کہ سورہیہ بادشاہ کو کہاں دفن کیا گیا، ان کی لاش کس راستے سے منتقل ہوئی اور کس حکم کے تحت ان کی آخری آرام گاہ کو راز رکھا گیا۔

  • ماں کی لاش تقریباً تین سال فریزر میں رکھنے والے بیٹے کو دو سال چار ماہ قید

    ماں کی لاش تقریباً تین سال فریزر میں رکھنے والے بیٹے کو دو سال چار ماہ قید

    برطانیہ میں ایک شخص کو اپنی 89 سالہ ماں کی لاش تقریباً تین سال تک گھر کے ایک فریزر میں رکھنے اور اس دوران ان کے نام پر 78 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کے سرکاری وظائف وصول کرنے پر دو سال چار ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    بی بی سی کے مطابق 60 سالہ کرسٹوفر فلپس نے اپنی والدہ سلویا فلپس کی موت مارچ 2023 میں ہونے کے بعد ان کی موت کی اطلاع متعلقہ اداروں کو نہیں دی۔ اس کے بجائے اس نے ان کی لاش کو گھر کے ایک بڑے فریزر میں رکھا اور تقریباً تین سال تک یہ ظاہر کرتا رہا کہ ان کی والدہ زندہ ہیں۔

    یہ واقعہ ویلز کے شہر پورٹکاؤل میں پیش آیا۔ کرسٹوفر اپنی والدہ کے ساتھ اسی گھر میں رہتا تھا اور ان کی دیکھ بھال بھی کرتا تھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وہ اپنی والدہ کے انتقال سے چند ماہ پہلے اپنی ملازمت چھوڑ کر ان کی مکمل دیکھ بھال کرنے لگا تھا۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کرسٹوفر نے عدالت میں اپنی والدہ کی تدفین روکنے اور دھوکا دہی کے الزامات کا اعتراف کیا۔ اس نے محکمہ برائے کام اور پنشن اور مقامی کونسل کو اپنی والدہ کی موت سے آگاہ نہیں کیا اور ان کے نام پر ملنے والی رقم وصول کرتا رہا۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ کرسٹوفر نے اپنی والدہ کی موت کے بعد مجموعی طور پر 78,190 پاؤنڈ 92 پنس وصول کیے۔ اس رقم میں سرکاری پنشن، پنشن کریڈٹ، معذوری یا نگہداشت سے متعلق الاؤنس، سردیوں میں ایندھن کے اخراجات کے لیے دی جانے والی رقم، مہنگائی کے دوران دی گئی امداد اور مکان کے کرائے سے متعلق مالی مدد شامل تھی۔

    بی بی سی کے مطابق کرسٹوفر نے اپنی والدہ کے انتقال کے بعد ایک بڑا فریزر خریدا اور ان کی لاش کو گھر کے رہنے والے کمرے میں رکھ دیا۔ اس دوران وہ ان کی لاش کے ساتھ ایسے ہی پیش آتا رہا جیسے وہ زندہ ہوں۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ لاش کے قریب گلاب کے پھول اور سالگرہ کا ایک کارڈ بھی رکھا گیا تھا۔ کارڈ پر ’’ممی کے نام، کرسٹوفر اور ٹینا کی طرف سے‘‘ لکھا تھا۔ ٹینا ان کے خاندان کے کتے کا نام تھا۔ لاش کو ایک چیتے کے نقش والے کمبل سے ڈھانپا گیا تھا۔

    کرسٹوفر نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی والدہ کو جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔ اس کے وکیل کے مطابق وہ ان کی لاش کے پاس بیٹھتا اور ان سے ایسے بات کرتا تھا جیسے وہ ابھی زندہ ہوں۔ وہ ان کے ساتھ ٹیلی ویژن پروگراموں، گھڑ دوڑ اور روزمرہ کی دوسری باتوں پر گفتگو کرتا تھا۔

    عدالت میں بتایا گیا کہ کرسٹوفر اور اس کی والدہ کا تعلق انتہائی قریبی تھا۔ سلویا نے کرسٹوفر کو اس وقت گود لیا تھا جب وہ صرف دو سال کا تھا۔ دونوں تقریباً 50 سال تک ایک ہی گھر میں رہے۔ کرسٹوفر 2008 سے اپنی والدہ کی دیکھ بھال بھی کر رہا تھا۔

    ماہر نفسیات نے عدالت کو بتایا کہ کرسٹوفر اپنی والدہ کی موت کے وقت شدید اور طویل غم کی کیفیت کا شکار تھا۔ ماہر کے مطابق اسے اپنی والدہ کی موت قبول کرنے میں دشواری تھی، وہ مسلسل ان کی یاد میں رہتا تھا اور عام زندگی کی طرف واپس نہیں آ پا رہا تھا۔ ماہر نے اس کے محدود سماجی تعلقات اور والدہ پر اس کے انحصار کا بھی ذکر کیا۔

    تاہم عدالت نے مالی فائدہ حاصل کرنے کے معاملے کو بھی انتہائی اہم قرار دیا۔ جج ٹریسی لائیڈ کلارک نے کہا کہ کرسٹوفر نے طویل عرصے تک اپنی والدہ کی موت چھپائی اور اس دوران ان کی پنشن اور دیگر سرکاری رقوم حاصل کرتا رہا۔ عدالت نے اس عمل کو جرم کی سنگینی میں اضافے کا سبب قرار دیا۔

    عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ کرسٹوفر نے اپنی والدہ کی موت کے بعد بھی ان کے طبی نسخے حاصل کیے اور طبی عملے کو ان کی صحت اور موجودگی کے بارے میں گمراہ کیا۔ جب ڈاکٹر اور طبی عملہ ان سے رابطہ کرنا چاہتے تو وہ مختلف بہانے بناتا رہا اور کہتا رہا کہ وہ ملاقات یا طبی معائنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

    پولیس کو سلویا فلپس کی لاش فروری 2026 میں ملی۔ اس وقت طبی عملے کی جانب سے ان کی خیریت کے بارے میں تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ اس کے بعد پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کیں اور گھر سے لاش برآمد ہوئی۔ سلویا کی موت کی اصل وجہ ابھی تک واضح نہیں ہوئی۔

    استغاثہ کا کہنا تھا کہ کرسٹوفر نے جان بوجھ کر اپنی والدہ کی موت چھپائی تاکہ سرکاری رقوم وصول کرتا رہے۔ دوسری جانب دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ذہنی طور پر انتہائی کمزور حالت میں تھا اور اپنی والدہ سے گہری وابستگی کے باعث ان کی موت قبول نہیں کر سکا۔

    عدالت نے بالآخر اسے دو سال چار ماہ قید کی سزا سنائی۔ اس کے علاوہ اس سے حاصل کی گئی رقم کی واپسی کے لیے بھی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

    جنوبی ویلز پولیس کی افسر کلیئر لیمَرٹن نے اس واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا۔ ان کے مطابق کرسٹوفر نے اپنی والدہ کی موت چھپائی اور ایک طویل عرصے تک مالی فائدہ حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب سلویا کے عزیز انہیں مناسب طریقے سے سپرد خاک کر سکے ہیں اور امید ہے کہ اس سے انہیں کچھ سکون ملے گا۔

    یہ واقعہ برطانیہ میں ذہنی صحت، تنہائی، بزرگ افراد کی دیکھ بھال اور سرکاری مالی امداد کے نظام سے متعلق کئی سوالات بھی اٹھاتا ہے۔ عدالت میں سامنے آنے والی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ صرف مالی دھوکا دہی تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک ایسے شخص کی ذہنی کیفیت بھی تھی جو اپنی والدہ کی موت کو قبول نہیں کر پا رہا تھا۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ ذہنی مشکلات کے باوجود طویل عرصے تک سرکاری رقم وصول کرنے کا عمل قانون کی نظر میں ایک سنگین جرم ہے۔

  • برطانیہ: بلیک برن میں واقع 227 سال پرانا تاریخی ہیر اینڈ ہاؤنڈز پب کو مسجد میں تبدیل کرنے کی منظوری دے دی گئی

    برطانیہ: بلیک برن میں واقع 227 سال پرانا تاریخی ہیر اینڈ ہاؤنڈز پب کو مسجد میں تبدیل کرنے کی منظوری دے دی گئی

    برطانیہ کے شہر بلیک برن میں واقع تاریخی ہیر اینڈ ہاؤنڈز پب، جو 1799 میں قائم کیا گیا تھا، مقامی کونسل کی منظوری کے بعد مسجد میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ عمارت گزشتہ برس اکتوبر میں بند کر دی گئی تھی کیونکہ اسے منافع بخش کاروبار کے طور پر جاری رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔

    برطانوی نشریاتی ادارے جی بی نیوز کی رپورٹ کے مطابق درخواست لامیک کمیونٹی ایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی، جو اپنی موجودہ عبادت گاہ کے محدود ہونے کے باعث ایک بڑی جگہ کی تلاش میں تھی۔ کونسل کی منصوبہ بندی کمیٹی نے عمارت کو عبادت گاہ میں تبدیل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    ہیر اینڈ ہاؤنڈز پب کی بنیاد 1799 میں رکھی گئی تھی۔ یہ بلیک برن کے قدیم ترین پبوں میں شمار ہوتا ہے اور تاریخی ڈٹنز بریوری سے وابستہ آخری فعال پب بھی تھا۔ اس کی بندش کے ساتھ اس تاریخی سلسلے کا بھی اختتام ہو گیا۔

    منصوبے کے تحت تاریخی عمارت کو منہدم نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کی اصل ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے مسجد میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ایک نئی توسیع تعمیر کی جائے گی، جس میں وضو کی جگہ، بیت الخلا اور دیگر سہولیات شامل ہوں گی، جبکہ پہلی منزل پر دفتر، لائبریری، باورچی خانہ اور اسٹوریج قائم کیا جائے گا۔

    درخواست گزاروں کے مطابق گزشتہ 25 برسوں کے دوران علاقے کی آبادی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ 2021 کی مردم شماری کے مطابق اس وارڈ کی تقریباً 66 فیصد آبادی ایشیائی نسل سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ موجودہ عبادت گاہ مقامی مسلم برادری کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہو چکی تھی۔

    منصوبے پر غور کے دوران بعض مقامی رہائشیوں نے ٹریفک اور پارکنگ کے مسائل پر اعتراضات بھی اٹھائے، جس کے بعد کونسل نے پارکنگ کے انتظامات سمیت متعدد شرائط عائد کرتے ہوئے منصوبے کی منظوری دی۔

    برطانیہ میں حالیہ برسوں کے دوران معاشی دباؤ، بدلتی سماجی عادات اور گاہکوں کی کم ہوتی تعداد کے باعث متعدد تاریخی پب بند ہو چکے ہیں۔ ان میں سے کئی عمارتوں کو رہائشی، تجارتی، کمیونٹی اور مذہبی مقاصد کے لیے دوبارہ استعمال میں لایا جا رہا ہے۔

  • دبئی: برطانوی خاتون ٹک ٹاکر کو بوائے فرینڈ کے قتل کے الزام میں سزائے موت ہو سکتی ہے

    دبئی: برطانوی خاتون ٹک ٹاکر کو بوائے فرینڈ کے قتل کے الزام میں سزائے موت ہو سکتی ہے

    برطانیہ سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ ٹک ٹاکر بروک جارج کو دبئی میں اپنے بوائے فرینڈ کے مبینہ قتل کے مقدمے میں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق اگر عدالت نے انہیں قصوروار قرار دیا تو انہیں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جا سکتی ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بروک جارج کا تعلق انگلینڈ کے علاقے کینٹ سے ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے اپنے بوائے فرینڈ پر اس وقت چاقو سے وار کیا جب وہ ایک پرتشدد گھریلو جھگڑے کے دوران اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اپنے دفاع میں کیا گیا تھا اور ان کا قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

    دوسری جانب دبئی کے استغاثہ نے خاتون پر پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ اگر عدالت نے اس الزام کو درست قرار دیا تو انہیں متحدہ عرب امارات کے قانون کے تحت انتہائی سخت سزا دی جا سکتی ہے، جس میں سزائے موت بھی شامل ہے۔

    انسانی حقوق کی تنظیم ‘Detained in Dubai’ نے اس مقدمے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بروک جارج مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہیں کہ وہ گھریلو تشدد کا شکار تھیں اور واقعہ اپنی جان بچانے کی کوشش کے دوران پیش آیا۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ عدالت مقدمے کے تمام حالات اور شواہد کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے۔

    رپورٹ کے مطابق بروک جارج سوشل میڈیا پر خاصی مقبول ہیں اور ٹک ٹاک پر ان کے ہزاروں مداح موجود ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد برطانیہ میں ان کے اہل خانہ اور دوست سخت پریشان ہیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ مقدمے کی شفاف سماعت ہو اور بروک کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔

    ماہرین قانون کے مطابق متحدہ عرب امارات میں قتل کے مقدمات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ اگر کسی شخص پر جان بوجھ کر قتل ثابت ہو جائے تو عدالت سزائے موت سمیت مختلف سزائیں دے سکتی ہے۔ تاہم ہر مقدمہ اس کے حقائق، شواہد اور عدالت کے فیصلے کی بنیاد پر نمٹایا جاتا ہے۔

    برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے سے آگاہ ہے اور اپنے شہری کو قونصلر خدمات فراہم کر رہی ہے۔ حکام نے مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں، تاہم کہا ہے کہ وہ مقامی قوانین کا احترام کرتے ہوئے مقدمے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    قانونی ماہرین کے مطابق اگر دفاع یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے کہ خاتون نے اپنی جان بچانے کے لیے کارروائی کی تھی تو مقدمے کے نتائج پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔

    یہ مقدمہ برطانیہ اور متحدہ عرب امارات دونوں میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کیس کو گھریلو تشدد اور خواتین کے حقِ دفاع کے تناظر میں بھی اہم قرار دے رہی ہیں، جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقدمے کا فیصلہ پیش کیے جانے والے شواہد اور عدالتی کارروائی پر منحصر ہوگا۔

    فی الحال بروک جارج عدالتی تحویل میں ہیں اور مقدمے کی مزید سماعت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اگر عدالت انہیں قصوروار قرار دیتی ہے تو انہیں سخت ترین سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ عدالت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

  • گریٹنا گرین: برطانیہ میں صدیوں پرانا ‘شادیوں کا دارالحکومت’ جہاں محبت قانون سے آگے نکل گئی

    گریٹنا گرین: برطانیہ میں صدیوں پرانا ‘شادیوں کا دارالحکومت’ جہاں محبت قانون سے آگے نکل گئی

    برطانیہ کے شمال میں، انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کی سرحد کے قریب واقع ایک چھوٹا سا گاؤں گریٹنا گرین صدیوں سے محبت، بغاوت اور فرار ہو کر کی جانے والی شادیوں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ آج یہ دنیا کے معروف شادی مقامات میں شمار ہوتا ہے، لیکن اس کی شہرت کسی محل، چرچ یا شاہی روایت کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک لوہار کی دکان اور ایک سندان کی بدولت بنی۔

    گریٹنا گرین اسکاٹ لینڈ کے جنوبی حصے میں واقع ہے اور تاریخی طور پر یہ انگلینڈ سے اسکاٹ لینڈ داخل ہونے والا پہلا بڑا مقام تھا۔ اٹھارویں صدی میں جب نوجوان جوڑے انگلینڈ سے بھاگ کر شادی کرنے نکلتے تھے تو سرحد پار کرتے ہی سب سے پہلے اسی گاؤں پہنچتے تھے۔

    اس قصے کا آغاز 1754 میں ہوا جب انگلینڈ میں لارڈ ہارڈوک کا میرج ایکٹ نافذ ہوا۔ اس قانون کے تحت اکیس سال سے کم عمر افراد کو شادی کے لیے والدین کی اجازت درکار تھی اور شادی کے لیے کئی رسمی تقاضے بھی لازم قرار دیے گئے۔ تاہم یہ قانون اسکاٹ لینڈ پر لاگو نہیں ہوتا تھا، جہاں اس وقت نسبتاً آسان قوانین موجود تھے اور دو گواہوں کے سامنے شادی کا اعلان کافی سمجھا جا سکتا تھا۔ نتیجتاً ہزاروں نوجوان جوڑے انگلینڈ سے فرار ہو کر گریٹنا گرین پہنچنے لگے۔

    گریٹنا گرین کی سب سے مشہور جگہ ‘اولڈ بلیک اسمتھ شاپ’ یعنی پرانی لوہار کی دکان ہے۔ یہ دکان 1713 میں تعمیر ہوئی تھی اور بعد میں دنیا کی مشہور ترین شادی گاہوں میں تبدیل ہوگئی۔ یہاں آنے والے جوڑوں کی شادی اکثر ایک لوہار کرواتا تھا، جو پادری نہیں ہوتا تھا لیکن اسکاٹ لینڈ کے اُس وقت کے قوانین کے تحت تقریب منعقد کرا سکتا تھا۔

    یہ لوہار ‘اینول پریسٹ’ یعنی ‘سندان کے پادری’ کہلاتے تھے۔ شادی کی تقریب کے دوران جوڑا سندان کے سامنے کھڑا ہوتا، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتا اور گواہوں کے سامنے شادی کا اعلان کرتا۔ تقریب کے اختتام پر لوہار اپنے ہتھوڑے سے سندان پر ضرب لگاتا جسے شادی کی تکمیل اور عہد کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہی روایت آج بھی گریٹنا گرین کی شناخت ہے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ ان لوہاروں میں بعض افراد انتہائی مشہور ہوگئے تھے۔ جوزف پیسلے ان اولین ‘اینول پریسٹ’ میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے 1754 کے بعد اس کاروبار کو فروغ دیا۔ بعد میں رچرڈ رینیسن سب سے معروف نام بنے، جنہیں گریٹنا گرین کا آخری ‘اینول پریسٹ’ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے 1926 سے 1940 کے درمیان 5,147 شادیاں کرائیں، جو ایک غیرمعمولی ریکارڈ سمجھا جاتا ہے۔

    اٹھارویں اور انیسویں صدی میں بھاگ کر شادی کرنے والے جوڑوں کے لیے سفر بھی ایک مہم سے کم نہیں تھا۔ کئی نوجوان گھوڑا گاڑیوں میں راتوں رات لندن یا شمالی انگلینڈ سے نکلتے، والدین یا سرپرست ان کا تعاقب کرتے اور جوڑا سرحد پار کر کے گریٹنا گرین پہنچنے کی کوشش کرتا۔ بعض امیر خاندانوں کی بیٹیاں بھی یہاں آ کر شادی کرتیں، جس پر خاندانی تنازعات جنم لیتے تھے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ 1856 میں اسکاٹ لینڈ نے قانون تبدیل کر کے شادی سے پہلے اکیس دن کی رہائش کی شرط عائد کردی، تاکہ صرف سرحد پار کر کے فوری شادیوں کا سلسلہ محدود کیا جا سکے۔ بعد ازاں 1940 میں نام نہاد غیر رسمی شادیوں کا نظام بھی ختم کر دیا گیا، جس کے بعد صرف مجاز مذہبی یا سول حکام ہی شادیاں کرا سکتے تھے۔

    اس کے باوجود گریٹنا گرین کی رومانوی شہرت ختم نہ ہوئی۔ آج بھی ہزاروں جوڑے یہاں شادی کرنے آتے ہیں اور تقریب کے دوران سندان پر ہاتھ رکھنا یا اس کے سامنے عہد کرنا روایت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ پرانی لوہار کی دکان اب ایک میوزیم، شادی مقام اور سیاحتی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔

    گریٹنا گرین میں ایک اور مقبول روایت ‘لاک وال’ یا محبت کے تالوں کی دیوار بھی ہے، جہاں جوڑے اپنی محبت کی یاد میں تالے لگاتے ہیں۔ اگرچہ یہ روایت نسبتاً جدید ہے، لیکن سیاحوں اور نوبیاہتا جوڑوں میں خاصی مقبول ہو چکی ہے۔

    آج گریٹنا گرین کو اکثر برطانیہ کا ‘شادیوں کا دارالحکومت’ کہا جاتا ہے، مگر اس کی اصل شناخت اب بھی وہی لوہار کی دکان، سندان پر پڑنے والی ہتھوڑے کی ضرب اور وہ نوجوان جوڑے ہیں جو کبھی محبت کی خاطر قانون اور سماجی رکاوٹوں سے آگے نکل جایا کرتے تھے۔ یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں ایک چھوٹے سے سرحدی گاؤں نے برطانیہ کی سماجی تاریخ میں مستقل جگہ بنا لی۔

  • برطانیہ کے کھیتوں سے دنیا کی امیر ترین شخصیات تک، لینڈ روور کی حیران کن تاریخ

    برطانیہ کے کھیتوں سے دنیا کی امیر ترین شخصیات تک، لینڈ روور کی حیران کن تاریخ

    Land Rover دنیا کے مشہور ترین آف روڈ گاڑیوں کے برانڈز میں شمار ہوتا ہے۔ اس کمپنی کی بنیاد دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ میں رکھی گئی۔ ابتدا میں اس کا مقصد ایک ایسی مضبوط گاڑی تیار کرنا تھا جو کھیتوں، دشوار گزار علاقوں، فوجی استعمال اور خراب راستوں پر آسانی سے چل سکے۔

    لینڈ روور کی پہلی گاڑی 1948 میں متعارف کرائی گئی جسے ‘سیریز ون’ کہا جاتا تھا۔ یہ گاڑی ایلومینیم باڈی کے ساتھ تیار کی گئی کیونکہ جنگ کے بعد اسٹیل کی شدید کمی تھی۔ اس میں چار پہیوں کو طاقت دینے والا نظام، سادہ انجن اور مضبوط چیسز شامل تھا۔ اس وقت اس گاڑی کی قیمت تقریباً 600 سے 800 امریکی ڈالر کے درمیان تھی، جو آج کے حساب سے کئی ہزار ڈالر بنتی ہے۔

    1958 میں ‘سیریز ٹو’ متعارف ہوئی۔ اس ماڈل میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقتور انجن، بہتر باڈی ڈیزائن اور آرام دہ نشستیں شامل کی گئیں۔ اس دوران لینڈ روور افریقہ، آسٹریلیا، پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ کے دشوار گزار علاقوں میں بہت مقبول ہوئی۔ اس ماڈل کی قیمت تقریباً 1,500 امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

    1961 میں ‘سیریز ٹو اے’ آئی، جسے لینڈ روور کی تاریخ کا سب سے کامیاب ابتدائی ماڈل سمجھا جاتا ہے۔ اس میں ڈیزل انجن کا بہتر نظام، مضبوط گیئر باکس اور زیادہ قابلِ اعتماد سسپنشن شامل کیا گیا۔ یہ ماڈل فوجی اداروں اور اقوامِ متحدہ کے مشنز میں بھی استعمال ہوا۔

    1971 میں ‘سیریز تھری’ متعارف ہوئی۔ اس میں نئی ڈیش بورڈ ٹیکنالوجی، بہتر بریکنگ نظام اور زیادہ آرام دہ اندرونی ڈیزائن شامل کیا گیا۔ اس دور تک لینڈ روور دنیا بھر میں ایک قابلِ اعتماد آف روڈ گاڑی کے طور پر مشہور ہو چکی تھی۔ اس کی قیمت تقریباً 3,000 سے 5,000 امریکی ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔

    1970 میں کمپنی نے ایک بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ‘رینج روور’ متعارف کرائی۔ یہ دنیا کی پہلی لگژری آف روڈ گاڑیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس میں طاقتور وی ایٹ انجن، نرم سسپنشن، آرام دہ نشستیں اور جدید اندرونی ڈیزائن شامل تھا۔ ابتدا میں اس کی قیمت تقریباً 8,000 امریکی ڈالر تھی، جبکہ آج جدید رینج روور کی قیمت 110,000 سے 250,000 امریکی ڈالر تک جا سکتی ہے۔

    1983 میں ‘لینڈ روور نائنٹی’ اور ‘ون ٹین’ متعارف ہوئیں، جنہیں بعد میں ‘ڈیفنڈر’ کا نام دیا گیا۔ یہ گاڑیاں پہلے کے ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ مضبوط، زیادہ آرام دہ اور بہتر آف روڈ صلاحیتوں کی حامل تھیں۔ ان میں کوائل سسپنشن، زیادہ طاقتور انجن اور جدید ٹرانسمیشن شامل کی گئی۔

    1990 میں باقاعدہ طور پر ‘ڈیفنڈر’ نام اپنایا گیا۔ یہ گاڑی فوج، صحرا، جنگلات، پہاڑی علاقوں اور مہماتی سفر کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہوئی۔ پرانے ڈیفنڈر ماڈلز کی قیمت 25,000 سے 40,000 امریکی ڈالر تک ہوتی تھی۔

    1989 میں ‘ڈسکوری’ متعارف ہوئی۔ یہ خاندانوں کے لیے تیار کی گئی ایسی گاڑی تھی جس میں آف روڈ طاقت کے ساتھ آرام دہ سفری سہولیات بھی شامل تھیں۔ اس میں سات نشستوں کا آپشن، بہتر ایئر کنڈیشننگ اور شہری استعمال کے لیے نرم ڈرائیونگ سسٹم شامل کیا گیا۔ ابتدائی قیمت تقریباً 20,000 امریکی ڈالر تھی۔

    1997میں ‘فری لینڈر’ متعارف ہوئی۔ یہ کمپنی کی پہلی نسبتاً چھوٹی اسپورٹس یوٹیلٹی گاڑی تھی۔ اس میں شہری ڈرائیونگ کے لیے بہتر فیول بچت، کمپیکٹ ڈیزائن اور نسبتاً کم قیمت رکھی گئی۔ اس کی ابتدائی قیمت تقریباً 25,000 امریکی ڈالر تھی۔

    2004 میں ‘ڈسکوری تھری’ متعارف ہوئی جس میں مکمل الیکٹرانک سسپنشن، جدید نیویگیشن نظام اور بہتر حفاظتی خصوصیات شامل کی گئیں۔ اسی دور میں لینڈ روور نے جدید کمپیوٹرائزڈ آف روڈ سسٹم متعارف کرایا جسے ‘ٹیریَن رسپانس سسٹم’ کہا گیا۔ یہ نظام خودکار طور پر ریت، برف، کیچڑ یا پتھریلے راستے کے مطابق گاڑی کو ایڈجسٹ کرتا تھا۔

    2011 کے بعد کمپنی نے اپنی گاڑیوں میں ٹچ اسکرین، ڈیجیٹل میٹر، خودکار بریکنگ، کیمرہ سسٹم، ہائبرڈ انجن اور جدید حفاظتی فیچرز شامل کرنا شروع کیے۔

    2019 میں نئی نسل کی ‘ڈیفنڈر’ متعارف ہوئی۔ اس میں مکمل جدید ڈیزائن، ایلومینیم مونوکوک باڈی، جدید انفوٹینمنٹ سسٹم، خودکار ڈرائیونگ معاونت اور طاقتور ٹربو انجن شامل کیے گئے۔ اگرچہ کچھ پرانے شوقین افراد نے کلاسک ڈیزائن ختم ہونے پر تنقید کی، مگر نئی ڈیفنڈر تجارتی طور پر بہت کامیاب رہی۔ اس کی قیمت تقریباً 60,000 سے 120,000 امریکی ڈالر تک ہے۔

    آج لینڈ روور کے اہم ماڈلز میں ‘رینج روور’، ‘رینج روور اسپورٹ’، ‘رینج روور ویلار’، ‘رینج روور ایووگ’، ‘ڈیفنڈر’، اور ‘ڈسکوری’ شامل ہیں۔ جدید رینج روور میں مساج نشستیں، مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈرائیونگ نظام، بڑے ڈیجیٹل ڈسپلے، فور وہیل اسٹیئرنگ اور پلگ اِن ہائبرڈ ٹیکنالوجی شامل کی جا چکی ہے۔

    2008 سے لینڈ روور بھارتی کمپنی Tata Motors کی ملکیت میں ہے۔ ٹاٹا موٹرز نے کمپنی میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس کے بعد لینڈ روور نے جدید الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی کام شروع کیا۔

    2026 تک کمپنی مکمل برقی ‘رینج روور الیکٹرک’ ماڈل پر کام کر رہی ہے، جسے مستقبل کی لگژری آف روڈ گاڑیوں میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ جدید لینڈ روور گاڑیوں کی قیمت تقریباً 50,000 امریکی ڈالر سے شروع ہو کر 250,000 امریکی ڈالر تک جا سکتی ہے، جبکہ خصوصی بکتر بند یا محدود ایڈیشن ماڈلز اس سے بھی زیادہ مہنگے ہوتے ہیں۔

  • برطانیہ، دوسری جنگِ عظیم کے رہنما چرچل سمیت تاریخی شخصیات کی تصاویر کرنسی نوٹوں سے کیوں ہٹایا جا رہا ہے؟

    برطانیہ، دوسری جنگِ عظیم کے رہنما چرچل سمیت تاریخی شخصیات کی تصاویر کرنسی نوٹوں سے کیوں ہٹایا جا رہا ہے؟

    برطانیہ میں ایک اہم علامتی تبدیلی زیرِ غور ہے۔ بینک آف انگلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ برسوں میں جاری ہونے والی نئی برطانوی کرنسی میں تاریخی شخصیات کی تصاویر ہٹا کر ان کی جگہ برطانیہ کی قدرتی حیات، یعنی جنگلی جانوروں اور فطرت کے مناظر کو شامل کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد دوسری جنگِ عظیم کے مشہور رہنما ونسنٹ چرچل سمیت کئی معروف شخصیات کرنسی نوٹوں سے غائب ہو جائیں گی۔

    چرچل اس وقت برطانیہ کے پانچ پاؤنڈ کے نوٹ پر موجود ہیں اور 2016 سے ان کی تصویر اس کرنسی کا حصہ ہے۔

    یہ تبدیلی صرف ایک ڈیزائن کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی سماجی، ثقافتی اور تکنیکی عوامل کارفرما ہیں۔

     چرچل کون تھے؟

    ونسنٹ چرچل برطانیہ کی سیاسی تاریخ کی سب سے نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ کے وزیرِ اعظم تھے اور نازی جرمنی کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئے۔ ان کی تقاریر اور قیادت نے جنگ کے مشکل دور میں برطانوی قوم کو حوصلہ دیا، اسی وجہ سے انہیں بیسویں صدی کے بڑے رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    چرچل نہ صرف سیاست دان تھے بلکہ مصنف بھی تھے اور انہیں 1953 میں ادب کا نوبیل انعام بھی ملا۔

     کرنسی نوٹوں سے ہٹانے کی اصل وجہ کیا ہے؟

    برطانوی مرکزی بینک کے مطابق یہ فیصلہ کسی ایک شخصیت کے خلاف نہیں بلکہ کرنسی کے نئے ڈیزائن کی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس تبدیلی کی چند بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں۔

    فطرت کو اجاگر کرنے کی پالیسی

    بینک آف انگلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ نئی کرنسی میں برطانیہ کی جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کو نمایاں کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مختلف جانوروں، پرندوں اور قدرتی مناظر کو نوٹوں پر شامل کیا جائے گا۔

    عوامی مشاورت کا نتیجہ

    2025 میں ایک عوامی سروے کیا گیا جس میں تقریباً 44 ہزار افراد نے حصہ لیا۔ اس سروے میں تقریباً 60 فیصد افراد نے فطرت کو کرنسی کے نئے تھیم کے طور پر ترجیح دی جبکہ تاریخی شخصیات کو نسبتاً کم حمایت ملی۔

    جعلی نوٹوں کے خلاف بہتر سکیورٹی

    بینک آف انگلینڈ کے مطابق قدرتی مناظر اور پیچیدہ تصویری ڈیزائن کرنسی کی جعلی سازی روکنے میں بھی مدد دیتے ہیں، اس لیے نئے نوٹوں میں ایسے عناصر شامل کیے جا رہے ہیں جو سکیورٹی کے لحاظ سے زیادہ مؤثر ہوں۔

     برطانوی کرنسی کی روایت میں بڑی تبدیلی

    برطانیہ میں گزشتہ تقریباً پچاس برس سے کرنسی نوٹوں پر تاریخی شخصیات کی تصاویر شامل کی جاتی رہی ہیں۔ 1970 میں پہلی بار ولیم شیکسپیئر کو نوٹ پر شامل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں کئی ادیبوں، سائنس دانوں اور سیاسی رہنماؤں کی تصاویر کرنسی پر آئیں۔

    چرچل، جین آسٹن، ایلن ٹیورنگ اور دیگر شخصیات اسی روایت کا حصہ تھے۔ لیکن نئی کرنسی میں اس روایت کو تبدیل کیا جا رہا ہے اور پہلی بار ممکن ہے کہ نوٹوں کے پچھلے حصے پر کوئی تاریخی شخصیت موجود نہ ہو۔

     فیصلے پر تنقید بھی

    چرچل کو کرنسی سے ہٹانے کے اعلان پر برطانیہ میں بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔ کچھ سیاست دانوں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ قومی کرنسی کو ان عظیم شخصیات کی یادگار ہونا چاہیے جنہوں نے تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔

    ان کے مطابق چرچل جیسے رہنما برطانوی تاریخ کا اہم حصہ ہیں اور انہیں کرنسی سے ہٹانا مناسب نہیں۔

    دوسری طرف کچھ حلقے اسے ایک علامتی تبدیلی قرار دیتے ہیں جس کے ذریعے برطانیہ اپنی فطرت اور ماحول کو بھی قومی شناخت کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔

    چرچل کا نوٹ سے ہٹنا فوری نہیں

    اہم بات یہ ہے کہ چرچل کی تصویر فوری طور پر کرنسی سے غائب نہیں ہوگی۔ نئے ڈیزائن کے نوٹ تیار ہونے اور مارکیٹ میں آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اس دوران موجودہ نوٹ بدستور گردش میں رہیں گے۔

    چرچل کو کرنسی نوٹ سے ہٹانے کا فیصلہ دراصل برطانیہ کی کرنسی ڈیزائن پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ اس کا مقصد کسی شخصیت کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ کرنسی کو ایک نئے قومی اور قدرتی موضوع سے جوڑنا ہے۔

    تاہم یہ فیصلہ ایک بار پھر اس سوال کو بھی زندہ کر دیتا ہے کہ قومی کرنسی پر تاریخ کے عظیم رہنماؤں کی یا کسی قوم کی فطرت اور علامتوں کی تصویر ہونی چاہیے۔

  • برطانیہ: مردہ ڈونر کی بچہ دانی سے بچے کی پیدائش ‘معجزہ’ قرار

    برطانیہ: مردہ ڈونر کی بچہ دانی سے بچے کی پیدائش ‘معجزہ’ قرار

    لندن :برطانیہ میں پہلی بار ایک ایسے بچے کی پیدائش ہوئی ہے جس کی ماں کو ایک انتقال کرنے جانے والی ڈونر کی بچہ دانی ٹرانسپلانٹ کی گئی تھی۔

     بچے کی پیدائش کو طبی دنیا میں ایک تاریخی پیش رفت اور والدین کے لیے “معجزہ” قرار دیا جا رہا ہے۔

    ہیوگوپائول دسمبر میں ایک آپتیشن کے زریعے پیدا ہوا، پیدائش کے وقت ہیوگو کا وزن چھ پائونڈ سے زیادہ تھا۔

    اسکائی نیوز کی رپورٹ کہتی ہے یہ برطانیہ کی تاریخ کا پہلا موقع ہے جب ایک مردہ ڈونر کی بچہ دانی کے ذریعے کسی خاتون نے بچے کو جنم دیا ہے۔

    اس سے پہلے یورپ میں اس نوعیت کے صرف دو کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ برطانیہ میں گزشتہ سال پہلی بار زندہ ڈونر کی بچہ دانی سے بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔

    منفرد بیماری کے باوجود ماں بننے کا خواب پورا

    ہیوگو کی والدہ 30 سالہ گریس بیل جو ایک آئی ٹی پروگرام منیجر ہیں،ان پانچ ہزار برطانوی خواتین میں سے ایک ہیں جو ایم آر کے ایچ نامی سنڈروم کا شکار ہوتی ہیں۔

     اس کا مطلب ہے کہ پیدائشی طور پر ہی ان میں رحم نہیں ہوتا، انھیں ماہواری نہیں آتی لیکن ان کی بیضہ دانی بالکل معمول کے مطابق ہوتی ہے۔

    معجزہ کیوں ؟

    گریس بیل نے جذباتی انداز میں کہا کہ ‘میں نے“یہ واقعی ایک معجزہ ہے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ ممکن ہوگا’۔ میں اپنی زندگی میں پہلے سے کہیں ہیں زیادہ خوش ہوں۔

    انہوں نے بتایا کہ جب وہ 16 سال کی تھیں تو ڈاکٹروں نے انہیں بتایا تھا کہ وہ کبھی ماں نہیں بن سکیں گی، جس پر وہ شدید صدمے سے دوچار ہوئیں اور اسپتال کے واش روم میں جا کر بے قابو ہو کر رونے لگیں۔

    طویل سفراور انتظار کے بعد کامیاب

    گریس بیل اور ان کے شوہر اسٹیوپائول جنوبی انگلینڈ میں رہتے ہیں ، دونوں نے ابتدا میں سروگیسی پر غور کیا، لیکن بعد میں بچہ دانی ٹرانسپلانٹ پروگرام کے لئے آمادہ ہوگئے۔

    گریس بیل کا ٹرانسپلانٹ آپریشن 2024 میں کیا گیا، جو تقریباً سات گھنٹے جاری رہا۔ اس کے بعد چند ماہ بعد IVF کے ذریعے حمل قائم کیا گیا۔

    بچے کی پیدائش کے لمحے کو یاد کرتے ہوئے اسٹیو پاول نے کہا: ‘جب ہیوگو کو پردے کے اوپر سے ہماری طرف لایا گیا تو جذبات قابو سے باہر تھے۔ مجھے لگا میں رو پڑوں گا۔ یہ ہمارے طویل سفر کا ناقابل یقین اختتام تھا۔’

    عالمی سطح پر محدود مگر اہم کامیابی

    ماہرین کے مطابق، دنیا بھر میں اب تک مردہ ڈونر کی بچہ دانی کے ذریعے سے 30 بچے پیدا ہو چکے ہیں۔

    اسکائی نیوز کی رپورٹ کہتی ہے ڈاکٹروں کے مطابق، گریس بیل مستقبل میں ایک اور بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔

     اس کے بعد ٹرانسپلانٹ شدہ بچہ دانی کو نکال دیا جائے گا تاکہ انہیں طویل عرصے تک امیونوسپریسنٹ ادویات لینے کی ضرورت نہ پڑے۔

    یہ طبی کامیابی دنیا بھر میں ان ہزاروں خواتین کے لیے امید کی نئی کرن ہے جو MRKH syndrome یا دیگر وجوہات کی بنا پر بچہ دانی سے محروم ہوتی ہیں اور ماں بننے کا خواب رکھتی ہیں۔

    ڈونر کیسے بنتے ہیں؟

    زندہ ڈونر: بچہ دانی عطیہ کرنے کی خواہش رکھنے والی زندہ خواتین کو پہلے تفصیلی مشاورت (کاؤنسلنگ) سے گزرنا پڑتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے ۔

    فوت شدہ ڈونر: فوت شدہ افراد کی صورت میں بچہ دانی عام اعضا کی طرح خودکار طور پر عطیہ نہیں کی جاتی۔

     اس کے لیے ٹرانسپلانٹ ریسرچ پروگرام کی ٹیم ڈونر کے اہلِ خانہ سے خصوصی اجازت حاصل کرتی ہے۔ صرف خاندان کی رضامندی کے بعد ہی بچہ دانی عطیہ کی جا سکتی ہے۔

    فوت شدہ ڈونر کی صورت میں پیوندکاری صرف اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب اہلِ خانہ خصوصی طور پر بچہ دانی عطیہ کرنے کی اجازت