برطانیہ کے شہر بلیک برن میں واقع تاریخی ہیر اینڈ ہاؤنڈز پب، جو 1799 میں قائم کیا گیا تھا، مقامی کونسل کی منظوری کے بعد مسجد میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ یہ عمارت گزشتہ برس اکتوبر میں بند کر دی گئی تھی کیونکہ اسے منافع بخش کاروبار کے طور پر جاری رکھنا ممکن نہیں رہا تھا۔
برطانوی نشریاتی ادارے جی بی نیوز کی رپورٹ کے مطابق درخواست لامیک کمیونٹی ایسوسی ایشن کی جانب سے دی گئی، جو اپنی موجودہ عبادت گاہ کے محدود ہونے کے باعث ایک بڑی جگہ کی تلاش میں تھی۔ کونسل کی منصوبہ بندی کمیٹی نے عمارت کو عبادت گاہ میں تبدیل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ہیر اینڈ ہاؤنڈز پب کی بنیاد 1799 میں رکھی گئی تھی۔ یہ بلیک برن کے قدیم ترین پبوں میں شمار ہوتا ہے اور تاریخی ڈٹنز بریوری سے وابستہ آخری فعال پب بھی تھا۔ اس کی بندش کے ساتھ اس تاریخی سلسلے کا بھی اختتام ہو گیا۔
منصوبے کے تحت تاریخی عمارت کو منہدم نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کی اصل ساخت کو برقرار رکھتے ہوئے مسجد میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ایک نئی توسیع تعمیر کی جائے گی، جس میں وضو کی جگہ، بیت الخلا اور دیگر سہولیات شامل ہوں گی، جبکہ پہلی منزل پر دفتر، لائبریری، باورچی خانہ اور اسٹوریج قائم کیا جائے گا۔
درخواست گزاروں کے مطابق گزشتہ 25 برسوں کے دوران علاقے کی آبادی میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ 2021 کی مردم شماری کے مطابق اس وارڈ کی تقریباً 66 فیصد آبادی ایشیائی نسل سے تعلق رکھتی ہے، جبکہ موجودہ عبادت گاہ مقامی مسلم برادری کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہو چکی تھی۔
منصوبے پر غور کے دوران بعض مقامی رہائشیوں نے ٹریفک اور پارکنگ کے مسائل پر اعتراضات بھی اٹھائے، جس کے بعد کونسل نے پارکنگ کے انتظامات سمیت متعدد شرائط عائد کرتے ہوئے منصوبے کی منظوری دی۔
برطانیہ میں حالیہ برسوں کے دوران معاشی دباؤ، بدلتی سماجی عادات اور گاہکوں کی کم ہوتی تعداد کے باعث متعدد تاریخی پب بند ہو چکے ہیں۔ ان میں سے کئی عمارتوں کو رہائشی، تجارتی، کمیونٹی اور مذہبی مقاصد کے لیے دوبارہ استعمال میں لایا جا رہا ہے۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی 23 سالہ ٹک ٹاکر بروک جارج کو دبئی میں اپنے بوائے فرینڈ کے مبینہ قتل کے مقدمے میں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق اگر عدالت نے انہیں قصوروار قرار دیا تو انہیں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جا سکتی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بروک جارج کا تعلق انگلینڈ کے علاقے کینٹ سے ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے اپنے بوائے فرینڈ پر اس وقت چاقو سے وار کیا جب وہ ایک پرتشدد گھریلو جھگڑے کے دوران اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اپنے دفاع میں کیا گیا تھا اور ان کا قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
دوسری جانب دبئی کے استغاثہ نے خاتون پر پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ اگر عدالت نے اس الزام کو درست قرار دیا تو انہیں متحدہ عرب امارات کے قانون کے تحت انتہائی سخت سزا دی جا سکتی ہے، جس میں سزائے موت بھی شامل ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ‘Detained in Dubai’ نے اس مقدمے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بروک جارج مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہی ہیں کہ وہ گھریلو تشدد کا شکار تھیں اور واقعہ اپنی جان بچانے کی کوشش کے دوران پیش آیا۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ عدالت مقدمے کے تمام حالات اور شواہد کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے۔
رپورٹ کے مطابق بروک جارج سوشل میڈیا پر خاصی مقبول ہیں اور ٹک ٹاک پر ان کے ہزاروں مداح موجود ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد برطانیہ میں ان کے اہل خانہ اور دوست سخت پریشان ہیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ مقدمے کی شفاف سماعت ہو اور بروک کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔
ماہرین قانون کے مطابق متحدہ عرب امارات میں قتل کے مقدمات کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ اگر کسی شخص پر جان بوجھ کر قتل ثابت ہو جائے تو عدالت سزائے موت سمیت مختلف سزائیں دے سکتی ہے۔ تاہم ہر مقدمہ اس کے حقائق، شواہد اور عدالت کے فیصلے کی بنیاد پر نمٹایا جاتا ہے۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے سے آگاہ ہے اور اپنے شہری کو قونصلر خدمات فراہم کر رہی ہے۔ حکام نے مزید تفصیلات جاری نہیں کی ہیں، تاہم کہا ہے کہ وہ مقامی قوانین کا احترام کرتے ہوئے مقدمے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر دفاع یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے کہ خاتون نے اپنی جان بچانے کے لیے کارروائی کی تھی تو مقدمے کے نتائج پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔
یہ مقدمہ برطانیہ اور متحدہ عرب امارات دونوں میں توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کیس کو گھریلو تشدد اور خواتین کے حقِ دفاع کے تناظر میں بھی اہم قرار دے رہی ہیں، جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقدمے کا فیصلہ پیش کیے جانے والے شواہد اور عدالتی کارروائی پر منحصر ہوگا۔
فی الحال بروک جارج عدالتی تحویل میں ہیں اور مقدمے کی مزید سماعت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اگر عدالت انہیں قصوروار قرار دیتی ہے تو انہیں سخت ترین سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ عدالت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
برطانیہ کے شمال میں، انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کی سرحد کے قریب واقع ایک چھوٹا سا گاؤں گریٹنا گرین صدیوں سے محبت، بغاوت اور فرار ہو کر کی جانے والی شادیوں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ آج یہ دنیا کے معروف شادی مقامات میں شمار ہوتا ہے، لیکن اس کی شہرت کسی محل، چرچ یا شاہی روایت کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک لوہار کی دکان اور ایک سندان کی بدولت بنی۔
گریٹنا گرین اسکاٹ لینڈ کے جنوبی حصے میں واقع ہے اور تاریخی طور پر یہ انگلینڈ سے اسکاٹ لینڈ داخل ہونے والا پہلا بڑا مقام تھا۔ اٹھارویں صدی میں جب نوجوان جوڑے انگلینڈ سے بھاگ کر شادی کرنے نکلتے تھے تو سرحد پار کرتے ہی سب سے پہلے اسی گاؤں پہنچتے تھے۔
اس قصے کا آغاز 1754 میں ہوا جب انگلینڈ میں لارڈ ہارڈوک کا میرج ایکٹ نافذ ہوا۔ اس قانون کے تحت اکیس سال سے کم عمر افراد کو شادی کے لیے والدین کی اجازت درکار تھی اور شادی کے لیے کئی رسمی تقاضے بھی لازم قرار دیے گئے۔ تاہم یہ قانون اسکاٹ لینڈ پر لاگو نہیں ہوتا تھا، جہاں اس وقت نسبتاً آسان قوانین موجود تھے اور دو گواہوں کے سامنے شادی کا اعلان کافی سمجھا جا سکتا تھا۔ نتیجتاً ہزاروں نوجوان جوڑے انگلینڈ سے فرار ہو کر گریٹنا گرین پہنچنے لگے۔
گریٹنا گرین کی سب سے مشہور جگہ ‘اولڈ بلیک اسمتھ شاپ’ یعنی پرانی لوہار کی دکان ہے۔ یہ دکان 1713 میں تعمیر ہوئی تھی اور بعد میں دنیا کی مشہور ترین شادی گاہوں میں تبدیل ہوگئی۔ یہاں آنے والے جوڑوں کی شادی اکثر ایک لوہار کرواتا تھا، جو پادری نہیں ہوتا تھا لیکن اسکاٹ لینڈ کے اُس وقت کے قوانین کے تحت تقریب منعقد کرا سکتا تھا۔
یہ لوہار ‘اینول پریسٹ’ یعنی ‘سندان کے پادری’ کہلاتے تھے۔ شادی کی تقریب کے دوران جوڑا سندان کے سامنے کھڑا ہوتا، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتا اور گواہوں کے سامنے شادی کا اعلان کرتا۔ تقریب کے اختتام پر لوہار اپنے ہتھوڑے سے سندان پر ضرب لگاتا جسے شادی کی تکمیل اور عہد کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ یہی روایت آج بھی گریٹنا گرین کی شناخت ہے۔
کم لوگ جانتے ہیں کہ ان لوہاروں میں بعض افراد انتہائی مشہور ہوگئے تھے۔ جوزف پیسلے ان اولین ‘اینول پریسٹ’ میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے 1754 کے بعد اس کاروبار کو فروغ دیا۔ بعد میں رچرڈ رینیسن سب سے معروف نام بنے، جنہیں گریٹنا گرین کا آخری ‘اینول پریسٹ’ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے 1926 سے 1940 کے درمیان 5,147 شادیاں کرائیں، جو ایک غیرمعمولی ریکارڈ سمجھا جاتا ہے۔
اٹھارویں اور انیسویں صدی میں بھاگ کر شادی کرنے والے جوڑوں کے لیے سفر بھی ایک مہم سے کم نہیں تھا۔ کئی نوجوان گھوڑا گاڑیوں میں راتوں رات لندن یا شمالی انگلینڈ سے نکلتے، والدین یا سرپرست ان کا تعاقب کرتے اور جوڑا سرحد پار کر کے گریٹنا گرین پہنچنے کی کوشش کرتا۔ بعض امیر خاندانوں کی بیٹیاں بھی یہاں آ کر شادی کرتیں، جس پر خاندانی تنازعات جنم لیتے تھے۔
ایک کم معروف حقیقت یہ ہے کہ 1856 میں اسکاٹ لینڈ نے قانون تبدیل کر کے شادی سے پہلے اکیس دن کی رہائش کی شرط عائد کردی، تاکہ صرف سرحد پار کر کے فوری شادیوں کا سلسلہ محدود کیا جا سکے۔ بعد ازاں 1940 میں نام نہاد غیر رسمی شادیوں کا نظام بھی ختم کر دیا گیا، جس کے بعد صرف مجاز مذہبی یا سول حکام ہی شادیاں کرا سکتے تھے۔
اس کے باوجود گریٹنا گرین کی رومانوی شہرت ختم نہ ہوئی۔ آج بھی ہزاروں جوڑے یہاں شادی کرنے آتے ہیں اور تقریب کے دوران سندان پر ہاتھ رکھنا یا اس کے سامنے عہد کرنا روایت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ پرانی لوہار کی دکان اب ایک میوزیم، شادی مقام اور سیاحتی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔
گریٹنا گرین میں ایک اور مقبول روایت ‘لاک وال’ یا محبت کے تالوں کی دیوار بھی ہے، جہاں جوڑے اپنی محبت کی یاد میں تالے لگاتے ہیں۔ اگرچہ یہ روایت نسبتاً جدید ہے، لیکن سیاحوں اور نوبیاہتا جوڑوں میں خاصی مقبول ہو چکی ہے۔
آج گریٹنا گرین کو اکثر برطانیہ کا ‘شادیوں کا دارالحکومت’ کہا جاتا ہے، مگر اس کی اصل شناخت اب بھی وہی لوہار کی دکان، سندان پر پڑنے والی ہتھوڑے کی ضرب اور وہ نوجوان جوڑے ہیں جو کبھی محبت کی خاطر قانون اور سماجی رکاوٹوں سے آگے نکل جایا کرتے تھے۔ یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں ایک چھوٹے سے سرحدی گاؤں نے برطانیہ کی سماجی تاریخ میں مستقل جگہ بنا لی۔
Land Rover دنیا کے مشہور ترین آف روڈ گاڑیوں کے برانڈز میں شمار ہوتا ہے۔ اس کمپنی کی بنیاد دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ میں رکھی گئی۔ ابتدا میں اس کا مقصد ایک ایسی مضبوط گاڑی تیار کرنا تھا جو کھیتوں، دشوار گزار علاقوں، فوجی استعمال اور خراب راستوں پر آسانی سے چل سکے۔
لینڈ روور کی پہلی گاڑی 1948 میں متعارف کرائی گئی جسے ‘سیریز ون’ کہا جاتا تھا۔ یہ گاڑی ایلومینیم باڈی کے ساتھ تیار کی گئی کیونکہ جنگ کے بعد اسٹیل کی شدید کمی تھی۔ اس میں چار پہیوں کو طاقت دینے والا نظام، سادہ انجن اور مضبوط چیسز شامل تھا۔ اس وقت اس گاڑی کی قیمت تقریباً 600 سے 800 امریکی ڈالر کے درمیان تھی، جو آج کے حساب سے کئی ہزار ڈالر بنتی ہے۔
1958 میں ‘سیریز ٹو’ متعارف ہوئی۔ اس ماڈل میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقتور انجن، بہتر باڈی ڈیزائن اور آرام دہ نشستیں شامل کی گئیں۔ اس دوران لینڈ روور افریقہ، آسٹریلیا، پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ کے دشوار گزار علاقوں میں بہت مقبول ہوئی۔ اس ماڈل کی قیمت تقریباً 1,500 امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
1961 میں ‘سیریز ٹو اے’ آئی، جسے لینڈ روور کی تاریخ کا سب سے کامیاب ابتدائی ماڈل سمجھا جاتا ہے۔ اس میں ڈیزل انجن کا بہتر نظام، مضبوط گیئر باکس اور زیادہ قابلِ اعتماد سسپنشن شامل کیا گیا۔ یہ ماڈل فوجی اداروں اور اقوامِ متحدہ کے مشنز میں بھی استعمال ہوا۔
1971 میں ‘سیریز تھری’ متعارف ہوئی۔ اس میں نئی ڈیش بورڈ ٹیکنالوجی، بہتر بریکنگ نظام اور زیادہ آرام دہ اندرونی ڈیزائن شامل کیا گیا۔ اس دور تک لینڈ روور دنیا بھر میں ایک قابلِ اعتماد آف روڈ گاڑی کے طور پر مشہور ہو چکی تھی۔ اس کی قیمت تقریباً 3,000 سے 5,000 امریکی ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔
1970 میں کمپنی نے ایک بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ‘رینج روور’ متعارف کرائی۔ یہ دنیا کی پہلی لگژری آف روڈ گاڑیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس میں طاقتور وی ایٹ انجن، نرم سسپنشن، آرام دہ نشستیں اور جدید اندرونی ڈیزائن شامل تھا۔ ابتدا میں اس کی قیمت تقریباً 8,000 امریکی ڈالر تھی، جبکہ آج جدید رینج روور کی قیمت 110,000 سے 250,000 امریکی ڈالر تک جا سکتی ہے۔
1983 میں ‘لینڈ روور نائنٹی’ اور ‘ون ٹین’ متعارف ہوئیں، جنہیں بعد میں ‘ڈیفنڈر’ کا نام دیا گیا۔ یہ گاڑیاں پہلے کے ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ مضبوط، زیادہ آرام دہ اور بہتر آف روڈ صلاحیتوں کی حامل تھیں۔ ان میں کوائل سسپنشن، زیادہ طاقتور انجن اور جدید ٹرانسمیشن شامل کی گئی۔
1990 میں باقاعدہ طور پر ‘ڈیفنڈر’ نام اپنایا گیا۔ یہ گاڑی فوج، صحرا، جنگلات، پہاڑی علاقوں اور مہماتی سفر کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہوئی۔ پرانے ڈیفنڈر ماڈلز کی قیمت 25,000 سے 40,000 امریکی ڈالر تک ہوتی تھی۔
1989 میں ‘ڈسکوری’ متعارف ہوئی۔ یہ خاندانوں کے لیے تیار کی گئی ایسی گاڑی تھی جس میں آف روڈ طاقت کے ساتھ آرام دہ سفری سہولیات بھی شامل تھیں۔ اس میں سات نشستوں کا آپشن، بہتر ایئر کنڈیشننگ اور شہری استعمال کے لیے نرم ڈرائیونگ سسٹم شامل کیا گیا۔ ابتدائی قیمت تقریباً 20,000 امریکی ڈالر تھی۔
1997میں ‘فری لینڈر’ متعارف ہوئی۔ یہ کمپنی کی پہلی نسبتاً چھوٹی اسپورٹس یوٹیلٹی گاڑی تھی۔ اس میں شہری ڈرائیونگ کے لیے بہتر فیول بچت، کمپیکٹ ڈیزائن اور نسبتاً کم قیمت رکھی گئی۔ اس کی ابتدائی قیمت تقریباً 25,000 امریکی ڈالر تھی۔
2004 میں ‘ڈسکوری تھری’ متعارف ہوئی جس میں مکمل الیکٹرانک سسپنشن، جدید نیویگیشن نظام اور بہتر حفاظتی خصوصیات شامل کی گئیں۔ اسی دور میں لینڈ روور نے جدید کمپیوٹرائزڈ آف روڈ سسٹم متعارف کرایا جسے ‘ٹیریَن رسپانس سسٹم’ کہا گیا۔ یہ نظام خودکار طور پر ریت، برف، کیچڑ یا پتھریلے راستے کے مطابق گاڑی کو ایڈجسٹ کرتا تھا۔
2011 کے بعد کمپنی نے اپنی گاڑیوں میں ٹچ اسکرین، ڈیجیٹل میٹر، خودکار بریکنگ، کیمرہ سسٹم، ہائبرڈ انجن اور جدید حفاظتی فیچرز شامل کرنا شروع کیے۔
2019 میں نئی نسل کی ‘ڈیفنڈر’ متعارف ہوئی۔ اس میں مکمل جدید ڈیزائن، ایلومینیم مونوکوک باڈی، جدید انفوٹینمنٹ سسٹم، خودکار ڈرائیونگ معاونت اور طاقتور ٹربو انجن شامل کیے گئے۔ اگرچہ کچھ پرانے شوقین افراد نے کلاسک ڈیزائن ختم ہونے پر تنقید کی، مگر نئی ڈیفنڈر تجارتی طور پر بہت کامیاب رہی۔ اس کی قیمت تقریباً 60,000 سے 120,000 امریکی ڈالر تک ہے۔
آج لینڈ روور کے اہم ماڈلز میں ‘رینج روور’، ‘رینج روور اسپورٹ’، ‘رینج روور ویلار’، ‘رینج روور ایووگ’، ‘ڈیفنڈر’، اور ‘ڈسکوری’ شامل ہیں۔ جدید رینج روور میں مساج نشستیں، مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈرائیونگ نظام، بڑے ڈیجیٹل ڈسپلے، فور وہیل اسٹیئرنگ اور پلگ اِن ہائبرڈ ٹیکنالوجی شامل کی جا چکی ہے۔
2008 سے لینڈ روور بھارتی کمپنی Tata Motors کی ملکیت میں ہے۔ ٹاٹا موٹرز نے کمپنی میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس کے بعد لینڈ روور نے جدید الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی کام شروع کیا۔
2026 تک کمپنی مکمل برقی ‘رینج روور الیکٹرک’ ماڈل پر کام کر رہی ہے، جسے مستقبل کی لگژری آف روڈ گاڑیوں میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ جدید لینڈ روور گاڑیوں کی قیمت تقریباً 50,000 امریکی ڈالر سے شروع ہو کر 250,000 امریکی ڈالر تک جا سکتی ہے، جبکہ خصوصی بکتر بند یا محدود ایڈیشن ماڈلز اس سے بھی زیادہ مہنگے ہوتے ہیں۔
برطانیہ میں ایک اہم علامتی تبدیلی زیرِ غور ہے۔ بینک آف انگلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ برسوں میں جاری ہونے والی نئی برطانوی کرنسی میں تاریخی شخصیات کی تصاویر ہٹا کر ان کی جگہ برطانیہ کی قدرتی حیات، یعنی جنگلی جانوروں اور فطرت کے مناظر کو شامل کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد دوسری جنگِ عظیم کے مشہور رہنما ونسنٹ چرچل سمیت کئی معروف شخصیات کرنسی نوٹوں سے غائب ہو جائیں گی۔
چرچل اس وقت برطانیہ کے پانچ پاؤنڈ کے نوٹ پر موجود ہیں اور 2016 سے ان کی تصویر اس کرنسی کا حصہ ہے۔
یہ تبدیلی صرف ایک ڈیزائن کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی سماجی، ثقافتی اور تکنیکی عوامل کارفرما ہیں۔
چرچل کون تھے؟
ونسنٹ چرچل برطانیہ کی سیاسی تاریخ کی سب سے نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ کے وزیرِ اعظم تھے اور نازی جرمنی کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئے۔ ان کی تقاریر اور قیادت نے جنگ کے مشکل دور میں برطانوی قوم کو حوصلہ دیا، اسی وجہ سے انہیں بیسویں صدی کے بڑے رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
چرچل نہ صرف سیاست دان تھے بلکہ مصنف بھی تھے اور انہیں 1953 میں ادب کا نوبیل انعام بھی ملا۔
کرنسی نوٹوں سے ہٹانے کی اصل وجہ کیا ہے؟
برطانوی مرکزی بینک کے مطابق یہ فیصلہ کسی ایک شخصیت کے خلاف نہیں بلکہ کرنسی کے نئے ڈیزائن کی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس تبدیلی کی چند بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں۔
فطرت کو اجاگر کرنے کی پالیسی
بینک آف انگلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ نئی کرنسی میں برطانیہ کی جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کو نمایاں کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مختلف جانوروں، پرندوں اور قدرتی مناظر کو نوٹوں پر شامل کیا جائے گا۔
عوامی مشاورت کا نتیجہ
2025 میں ایک عوامی سروے کیا گیا جس میں تقریباً 44 ہزار افراد نے حصہ لیا۔ اس سروے میں تقریباً 60 فیصد افراد نے فطرت کو کرنسی کے نئے تھیم کے طور پر ترجیح دی جبکہ تاریخی شخصیات کو نسبتاً کم حمایت ملی۔
جعلی نوٹوں کے خلاف بہتر سکیورٹی
بینک آف انگلینڈ کے مطابق قدرتی مناظر اور پیچیدہ تصویری ڈیزائن کرنسی کی جعلی سازی روکنے میں بھی مدد دیتے ہیں، اس لیے نئے نوٹوں میں ایسے عناصر شامل کیے جا رہے ہیں جو سکیورٹی کے لحاظ سے زیادہ مؤثر ہوں۔
برطانوی کرنسی کی روایت میں بڑی تبدیلی
برطانیہ میں گزشتہ تقریباً پچاس برس سے کرنسی نوٹوں پر تاریخی شخصیات کی تصاویر شامل کی جاتی رہی ہیں۔ 1970 میں پہلی بار ولیم شیکسپیئر کو نوٹ پر شامل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں کئی ادیبوں، سائنس دانوں اور سیاسی رہنماؤں کی تصاویر کرنسی پر آئیں۔
چرچل، جین آسٹن، ایلن ٹیورنگ اور دیگر شخصیات اسی روایت کا حصہ تھے۔ لیکن نئی کرنسی میں اس روایت کو تبدیل کیا جا رہا ہے اور پہلی بار ممکن ہے کہ نوٹوں کے پچھلے حصے پر کوئی تاریخی شخصیت موجود نہ ہو۔
فیصلے پر تنقید بھی
چرچل کو کرنسی سے ہٹانے کے اعلان پر برطانیہ میں بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔ کچھ سیاست دانوں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ قومی کرنسی کو ان عظیم شخصیات کی یادگار ہونا چاہیے جنہوں نے تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے مطابق چرچل جیسے رہنما برطانوی تاریخ کا اہم حصہ ہیں اور انہیں کرنسی سے ہٹانا مناسب نہیں۔
دوسری طرف کچھ حلقے اسے ایک علامتی تبدیلی قرار دیتے ہیں جس کے ذریعے برطانیہ اپنی فطرت اور ماحول کو بھی قومی شناخت کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔
چرچل کا نوٹ سے ہٹنا فوری نہیں
اہم بات یہ ہے کہ چرچل کی تصویر فوری طور پر کرنسی سے غائب نہیں ہوگی۔ نئے ڈیزائن کے نوٹ تیار ہونے اور مارکیٹ میں آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اس دوران موجودہ نوٹ بدستور گردش میں رہیں گے۔
چرچل کو کرنسی نوٹ سے ہٹانے کا فیصلہ دراصل برطانیہ کی کرنسی ڈیزائن پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ اس کا مقصد کسی شخصیت کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ کرنسی کو ایک نئے قومی اور قدرتی موضوع سے جوڑنا ہے۔
تاہم یہ فیصلہ ایک بار پھر اس سوال کو بھی زندہ کر دیتا ہے کہ قومی کرنسی پر تاریخ کے عظیم رہنماؤں کی یا کسی قوم کی فطرت اور علامتوں کی تصویر ہونی چاہیے۔
لندن :برطانیہ میں پہلی بار ایک ایسے بچے کی پیدائش ہوئی ہے جس کی ماں کو ایک انتقال کرنے جانے والی ڈونر کی بچہ دانی ٹرانسپلانٹ کی گئی تھی۔
بچے کی پیدائش کو طبی دنیا میں ایک تاریخی پیش رفت اور والدین کے لیے “معجزہ” قرار دیا جا رہا ہے۔
ہیوگوپائول دسمبر میں ایک آپتیشن کے زریعے پیدا ہوا، پیدائش کے وقت ہیوگو کا وزن چھ پائونڈ سے زیادہ تھا۔
اسکائی نیوز کی رپورٹ کہتی ہے یہ برطانیہ کی تاریخ کا پہلا موقع ہے جب ایک مردہ ڈونر کی بچہ دانی کے ذریعے کسی خاتون نے بچے کو جنم دیا ہے۔
اس سے پہلے یورپ میں اس نوعیت کے صرف دو کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ برطانیہ میں گزشتہ سال پہلی بار زندہ ڈونر کی بچہ دانی سے بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔
منفرد بیماری کے باوجود ماں بننے کا خواب پورا
ہیوگو کی والدہ 30 سالہ گریس بیل جو ایک آئی ٹی پروگرام منیجر ہیں،ان پانچ ہزار برطانوی خواتین میں سے ایک ہیں جو ایم آر کے ایچ نامی سنڈروم کا شکار ہوتی ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ پیدائشی طور پر ہی ان میں رحم نہیں ہوتا، انھیں ماہواری نہیں آتی لیکن ان کی بیضہ دانی بالکل معمول کے مطابق ہوتی ہے۔
معجزہ کیوں ؟
گریس بیل نے جذباتی انداز میں کہا کہ ‘میں نے“یہ واقعی ایک معجزہ ہے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ ممکن ہوگا’۔ میں اپنی زندگی میں پہلے سے کہیں ہیں زیادہ خوش ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ جب وہ 16 سال کی تھیں تو ڈاکٹروں نے انہیں بتایا تھا کہ وہ کبھی ماں نہیں بن سکیں گی، جس پر وہ شدید صدمے سے دوچار ہوئیں اور اسپتال کے واش روم میں جا کر بے قابو ہو کر رونے لگیں۔
طویل سفراور انتظار کے بعد کامیاب
گریس بیل اور ان کے شوہر اسٹیوپائول جنوبی انگلینڈ میں رہتے ہیں ، دونوں نے ابتدا میں سروگیسی پر غور کیا، لیکن بعد میں بچہ دانی ٹرانسپلانٹ پروگرام کے لئے آمادہ ہوگئے۔
گریس بیل کا ٹرانسپلانٹ آپریشن 2024 میں کیا گیا، جو تقریباً سات گھنٹے جاری رہا۔ اس کے بعد چند ماہ بعد IVF کے ذریعے حمل قائم کیا گیا۔
بچے کی پیدائش کے لمحے کو یاد کرتے ہوئے اسٹیو پاول نے کہا: ‘جب ہیوگو کو پردے کے اوپر سے ہماری طرف لایا گیا تو جذبات قابو سے باہر تھے۔ مجھے لگا میں رو پڑوں گا۔ یہ ہمارے طویل سفر کا ناقابل یقین اختتام تھا۔’
عالمی سطح پر محدود مگر اہم کامیابی
ماہرین کے مطابق، دنیا بھر میں اب تک مردہ ڈونر کی بچہ دانی کے ذریعے سے 30 بچے پیدا ہو چکے ہیں۔
اسکائی نیوز کی رپورٹ کہتی ہے ڈاکٹروں کے مطابق، گریس بیل مستقبل میں ایک اور بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔
اس کے بعد ٹرانسپلانٹ شدہ بچہ دانی کو نکال دیا جائے گا تاکہ انہیں طویل عرصے تک امیونوسپریسنٹ ادویات لینے کی ضرورت نہ پڑے۔
یہ طبی کامیابی دنیا بھر میں ان ہزاروں خواتین کے لیے امید کی نئی کرن ہے جو MRKH syndrome یا دیگر وجوہات کی بنا پر بچہ دانی سے محروم ہوتی ہیں اور ماں بننے کا خواب رکھتی ہیں۔
ڈونر کیسے بنتے ہیں؟
زندہ ڈونر: بچہ دانی عطیہ کرنے کی خواہش رکھنے والی زندہ خواتین کو پہلے تفصیلی مشاورت (کاؤنسلنگ) سے گزرنا پڑتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے ۔
فوت شدہ ڈونر: فوت شدہ افراد کی صورت میں بچہ دانی عام اعضا کی طرح خودکار طور پر عطیہ نہیں کی جاتی۔
اس کے لیے ٹرانسپلانٹ ریسرچ پروگرام کی ٹیم ڈونر کے اہلِ خانہ سے خصوصی اجازت حاصل کرتی ہے۔ صرف خاندان کی رضامندی کے بعد ہی بچہ دانی عطیہ کی جا سکتی ہے۔
فوت شدہ ڈونر کی صورت میں پیوندکاری صرف اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب اہلِ خانہ خصوصی طور پر بچہ دانی عطیہ کرنے کی اجازت