Tag: برطانیہ

  • برطانیہ کے کھیتوں سے دنیا کی امیر ترین شخصیات تک، لینڈ روور کی حیران کن تاریخ

    برطانیہ کے کھیتوں سے دنیا کی امیر ترین شخصیات تک، لینڈ روور کی حیران کن تاریخ

    Land Rover دنیا کے مشہور ترین آف روڈ گاڑیوں کے برانڈز میں شمار ہوتا ہے۔ اس کمپنی کی بنیاد دوسری جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ میں رکھی گئی۔ ابتدا میں اس کا مقصد ایک ایسی مضبوط گاڑی تیار کرنا تھا جو کھیتوں، دشوار گزار علاقوں، فوجی استعمال اور خراب راستوں پر آسانی سے چل سکے۔

    لینڈ روور کی پہلی گاڑی 1948 میں متعارف کرائی گئی جسے ‘سیریز ون’ کہا جاتا تھا۔ یہ گاڑی ایلومینیم باڈی کے ساتھ تیار کی گئی کیونکہ جنگ کے بعد اسٹیل کی شدید کمی تھی۔ اس میں چار پہیوں کو طاقت دینے والا نظام، سادہ انجن اور مضبوط چیسز شامل تھا۔ اس وقت اس گاڑی کی قیمت تقریباً 600 سے 800 امریکی ڈالر کے درمیان تھی، جو آج کے حساب سے کئی ہزار ڈالر بنتی ہے۔

    1958 میں ‘سیریز ٹو’ متعارف ہوئی۔ اس ماڈل میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ طاقتور انجن، بہتر باڈی ڈیزائن اور آرام دہ نشستیں شامل کی گئیں۔ اس دوران لینڈ روور افریقہ، آسٹریلیا، پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ کے دشوار گزار علاقوں میں بہت مقبول ہوئی۔ اس ماڈل کی قیمت تقریباً 1,500 امریکی ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

    1961 میں ‘سیریز ٹو اے’ آئی، جسے لینڈ روور کی تاریخ کا سب سے کامیاب ابتدائی ماڈل سمجھا جاتا ہے۔ اس میں ڈیزل انجن کا بہتر نظام، مضبوط گیئر باکس اور زیادہ قابلِ اعتماد سسپنشن شامل کیا گیا۔ یہ ماڈل فوجی اداروں اور اقوامِ متحدہ کے مشنز میں بھی استعمال ہوا۔

    1971 میں ‘سیریز تھری’ متعارف ہوئی۔ اس میں نئی ڈیش بورڈ ٹیکنالوجی، بہتر بریکنگ نظام اور زیادہ آرام دہ اندرونی ڈیزائن شامل کیا گیا۔ اس دور تک لینڈ روور دنیا بھر میں ایک قابلِ اعتماد آف روڈ گاڑی کے طور پر مشہور ہو چکی تھی۔ اس کی قیمت تقریباً 3,000 سے 5,000 امریکی ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔

    1970 میں کمپنی نے ایک بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ‘رینج روور’ متعارف کرائی۔ یہ دنیا کی پہلی لگژری آف روڈ گاڑیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس میں طاقتور وی ایٹ انجن، نرم سسپنشن، آرام دہ نشستیں اور جدید اندرونی ڈیزائن شامل تھا۔ ابتدا میں اس کی قیمت تقریباً 8,000 امریکی ڈالر تھی، جبکہ آج جدید رینج روور کی قیمت 110,000 سے 250,000 امریکی ڈالر تک جا سکتی ہے۔

    1983 میں ‘لینڈ روور نائنٹی’ اور ‘ون ٹین’ متعارف ہوئیں، جنہیں بعد میں ‘ڈیفنڈر’ کا نام دیا گیا۔ یہ گاڑیاں پہلے کے ماڈلز کے مقابلے میں زیادہ مضبوط، زیادہ آرام دہ اور بہتر آف روڈ صلاحیتوں کی حامل تھیں۔ ان میں کوائل سسپنشن، زیادہ طاقتور انجن اور جدید ٹرانسمیشن شامل کی گئی۔

    1990 میں باقاعدہ طور پر ‘ڈیفنڈر’ نام اپنایا گیا۔ یہ گاڑی فوج، صحرا، جنگلات، پہاڑی علاقوں اور مہماتی سفر کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہوئی۔ پرانے ڈیفنڈر ماڈلز کی قیمت 25,000 سے 40,000 امریکی ڈالر تک ہوتی تھی۔

    1989 میں ‘ڈسکوری’ متعارف ہوئی۔ یہ خاندانوں کے لیے تیار کی گئی ایسی گاڑی تھی جس میں آف روڈ طاقت کے ساتھ آرام دہ سفری سہولیات بھی شامل تھیں۔ اس میں سات نشستوں کا آپشن، بہتر ایئر کنڈیشننگ اور شہری استعمال کے لیے نرم ڈرائیونگ سسٹم شامل کیا گیا۔ ابتدائی قیمت تقریباً 20,000 امریکی ڈالر تھی۔

    1997میں ‘فری لینڈر’ متعارف ہوئی۔ یہ کمپنی کی پہلی نسبتاً چھوٹی اسپورٹس یوٹیلٹی گاڑی تھی۔ اس میں شہری ڈرائیونگ کے لیے بہتر فیول بچت، کمپیکٹ ڈیزائن اور نسبتاً کم قیمت رکھی گئی۔ اس کی ابتدائی قیمت تقریباً 25,000 امریکی ڈالر تھی۔

    2004 میں ‘ڈسکوری تھری’ متعارف ہوئی جس میں مکمل الیکٹرانک سسپنشن، جدید نیویگیشن نظام اور بہتر حفاظتی خصوصیات شامل کی گئیں۔ اسی دور میں لینڈ روور نے جدید کمپیوٹرائزڈ آف روڈ سسٹم متعارف کرایا جسے ‘ٹیریَن رسپانس سسٹم’ کہا گیا۔ یہ نظام خودکار طور پر ریت، برف، کیچڑ یا پتھریلے راستے کے مطابق گاڑی کو ایڈجسٹ کرتا تھا۔

    2011 کے بعد کمپنی نے اپنی گاڑیوں میں ٹچ اسکرین، ڈیجیٹل میٹر، خودکار بریکنگ، کیمرہ سسٹم، ہائبرڈ انجن اور جدید حفاظتی فیچرز شامل کرنا شروع کیے۔

    2019 میں نئی نسل کی ‘ڈیفنڈر’ متعارف ہوئی۔ اس میں مکمل جدید ڈیزائن، ایلومینیم مونوکوک باڈی، جدید انفوٹینمنٹ سسٹم، خودکار ڈرائیونگ معاونت اور طاقتور ٹربو انجن شامل کیے گئے۔ اگرچہ کچھ پرانے شوقین افراد نے کلاسک ڈیزائن ختم ہونے پر تنقید کی، مگر نئی ڈیفنڈر تجارتی طور پر بہت کامیاب رہی۔ اس کی قیمت تقریباً 60,000 سے 120,000 امریکی ڈالر تک ہے۔

    آج لینڈ روور کے اہم ماڈلز میں ‘رینج روور’، ‘رینج روور اسپورٹ’، ‘رینج روور ویلار’، ‘رینج روور ایووگ’، ‘ڈیفنڈر’، اور ‘ڈسکوری’ شامل ہیں۔ جدید رینج روور میں مساج نشستیں، مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈرائیونگ نظام، بڑے ڈیجیٹل ڈسپلے، فور وہیل اسٹیئرنگ اور پلگ اِن ہائبرڈ ٹیکنالوجی شامل کی جا چکی ہے۔

    2008 سے لینڈ روور بھارتی کمپنی Tata Motors کی ملکیت میں ہے۔ ٹاٹا موٹرز نے کمپنی میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس کے بعد لینڈ روور نے جدید الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں پر بھی کام شروع کیا۔

    2026 تک کمپنی مکمل برقی ‘رینج روور الیکٹرک’ ماڈل پر کام کر رہی ہے، جسے مستقبل کی لگژری آف روڈ گاڑیوں میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ جدید لینڈ روور گاڑیوں کی قیمت تقریباً 50,000 امریکی ڈالر سے شروع ہو کر 250,000 امریکی ڈالر تک جا سکتی ہے، جبکہ خصوصی بکتر بند یا محدود ایڈیشن ماڈلز اس سے بھی زیادہ مہنگے ہوتے ہیں۔

  • برطانیہ، دوسری جنگِ عظیم کے رہنما چرچل سمیت تاریخی شخصیات کی تصاویر کرنسی نوٹوں سے کیوں ہٹایا جا رہا ہے؟

    برطانیہ، دوسری جنگِ عظیم کے رہنما چرچل سمیت تاریخی شخصیات کی تصاویر کرنسی نوٹوں سے کیوں ہٹایا جا رہا ہے؟

    برطانیہ میں ایک اہم علامتی تبدیلی زیرِ غور ہے۔ بینک آف انگلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ برسوں میں جاری ہونے والی نئی برطانوی کرنسی میں تاریخی شخصیات کی تصاویر ہٹا کر ان کی جگہ برطانیہ کی قدرتی حیات، یعنی جنگلی جانوروں اور فطرت کے مناظر کو شامل کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد دوسری جنگِ عظیم کے مشہور رہنما ونسنٹ چرچل سمیت کئی معروف شخصیات کرنسی نوٹوں سے غائب ہو جائیں گی۔

    چرچل اس وقت برطانیہ کے پانچ پاؤنڈ کے نوٹ پر موجود ہیں اور 2016 سے ان کی تصویر اس کرنسی کا حصہ ہے۔

    یہ تبدیلی صرف ایک ڈیزائن کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی سماجی، ثقافتی اور تکنیکی عوامل کارفرما ہیں۔

     چرچل کون تھے؟

    ونسنٹ چرچل برطانیہ کی سیاسی تاریخ کی سب سے نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران برطانیہ کے وزیرِ اعظم تھے اور نازی جرمنی کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئے۔ ان کی تقاریر اور قیادت نے جنگ کے مشکل دور میں برطانوی قوم کو حوصلہ دیا، اسی وجہ سے انہیں بیسویں صدی کے بڑے رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    چرچل نہ صرف سیاست دان تھے بلکہ مصنف بھی تھے اور انہیں 1953 میں ادب کا نوبیل انعام بھی ملا۔

     کرنسی نوٹوں سے ہٹانے کی اصل وجہ کیا ہے؟

    برطانوی مرکزی بینک کے مطابق یہ فیصلہ کسی ایک شخصیت کے خلاف نہیں بلکہ کرنسی کے نئے ڈیزائن کی پالیسی کا حصہ ہے۔ اس تبدیلی کی چند بڑی وجوہات سامنے آئی ہیں۔

    فطرت کو اجاگر کرنے کی پالیسی

    بینک آف انگلینڈ نے اعلان کیا ہے کہ نئی کرنسی میں برطانیہ کی جنگلی حیات اور قدرتی ماحول کو نمایاں کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مختلف جانوروں، پرندوں اور قدرتی مناظر کو نوٹوں پر شامل کیا جائے گا۔

    عوامی مشاورت کا نتیجہ

    2025 میں ایک عوامی سروے کیا گیا جس میں تقریباً 44 ہزار افراد نے حصہ لیا۔ اس سروے میں تقریباً 60 فیصد افراد نے فطرت کو کرنسی کے نئے تھیم کے طور پر ترجیح دی جبکہ تاریخی شخصیات کو نسبتاً کم حمایت ملی۔

    جعلی نوٹوں کے خلاف بہتر سکیورٹی

    بینک آف انگلینڈ کے مطابق قدرتی مناظر اور پیچیدہ تصویری ڈیزائن کرنسی کی جعلی سازی روکنے میں بھی مدد دیتے ہیں، اس لیے نئے نوٹوں میں ایسے عناصر شامل کیے جا رہے ہیں جو سکیورٹی کے لحاظ سے زیادہ مؤثر ہوں۔

     برطانوی کرنسی کی روایت میں بڑی تبدیلی

    برطانیہ میں گزشتہ تقریباً پچاس برس سے کرنسی نوٹوں پر تاریخی شخصیات کی تصاویر شامل کی جاتی رہی ہیں۔ 1970 میں پہلی بار ولیم شیکسپیئر کو نوٹ پر شامل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں کئی ادیبوں، سائنس دانوں اور سیاسی رہنماؤں کی تصاویر کرنسی پر آئیں۔

    چرچل، جین آسٹن، ایلن ٹیورنگ اور دیگر شخصیات اسی روایت کا حصہ تھے۔ لیکن نئی کرنسی میں اس روایت کو تبدیل کیا جا رہا ہے اور پہلی بار ممکن ہے کہ نوٹوں کے پچھلے حصے پر کوئی تاریخی شخصیت موجود نہ ہو۔

     فیصلے پر تنقید بھی

    چرچل کو کرنسی سے ہٹانے کے اعلان پر برطانیہ میں بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔ کچھ سیاست دانوں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ قومی کرنسی کو ان عظیم شخصیات کی یادگار ہونا چاہیے جنہوں نے تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔

    ان کے مطابق چرچل جیسے رہنما برطانوی تاریخ کا اہم حصہ ہیں اور انہیں کرنسی سے ہٹانا مناسب نہیں۔

    دوسری طرف کچھ حلقے اسے ایک علامتی تبدیلی قرار دیتے ہیں جس کے ذریعے برطانیہ اپنی فطرت اور ماحول کو بھی قومی شناخت کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔

    چرچل کا نوٹ سے ہٹنا فوری نہیں

    اہم بات یہ ہے کہ چرچل کی تصویر فوری طور پر کرنسی سے غائب نہیں ہوگی۔ نئے ڈیزائن کے نوٹ تیار ہونے اور مارکیٹ میں آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اس دوران موجودہ نوٹ بدستور گردش میں رہیں گے۔

    چرچل کو کرنسی نوٹ سے ہٹانے کا فیصلہ دراصل برطانیہ کی کرنسی ڈیزائن پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ اس کا مقصد کسی شخصیت کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ کرنسی کو ایک نئے قومی اور قدرتی موضوع سے جوڑنا ہے۔

    تاہم یہ فیصلہ ایک بار پھر اس سوال کو بھی زندہ کر دیتا ہے کہ قومی کرنسی پر تاریخ کے عظیم رہنماؤں کی یا کسی قوم کی فطرت اور علامتوں کی تصویر ہونی چاہیے۔

  • برطانیہ: مردہ ڈونر کی بچہ دانی سے بچے کی پیدائش ‘معجزہ’ قرار

    برطانیہ: مردہ ڈونر کی بچہ دانی سے بچے کی پیدائش ‘معجزہ’ قرار

    لندن :برطانیہ میں پہلی بار ایک ایسے بچے کی پیدائش ہوئی ہے جس کی ماں کو ایک انتقال کرنے جانے والی ڈونر کی بچہ دانی ٹرانسپلانٹ کی گئی تھی۔

     بچے کی پیدائش کو طبی دنیا میں ایک تاریخی پیش رفت اور والدین کے لیے “معجزہ” قرار دیا جا رہا ہے۔

    ہیوگوپائول دسمبر میں ایک آپتیشن کے زریعے پیدا ہوا، پیدائش کے وقت ہیوگو کا وزن چھ پائونڈ سے زیادہ تھا۔

    اسکائی نیوز کی رپورٹ کہتی ہے یہ برطانیہ کی تاریخ کا پہلا موقع ہے جب ایک مردہ ڈونر کی بچہ دانی کے ذریعے کسی خاتون نے بچے کو جنم دیا ہے۔

    اس سے پہلے یورپ میں اس نوعیت کے صرف دو کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ برطانیہ میں گزشتہ سال پہلی بار زندہ ڈونر کی بچہ دانی سے بچے کی پیدائش ہوئی تھی۔

    منفرد بیماری کے باوجود ماں بننے کا خواب پورا

    ہیوگو کی والدہ 30 سالہ گریس بیل جو ایک آئی ٹی پروگرام منیجر ہیں،ان پانچ ہزار برطانوی خواتین میں سے ایک ہیں جو ایم آر کے ایچ نامی سنڈروم کا شکار ہوتی ہیں۔

     اس کا مطلب ہے کہ پیدائشی طور پر ہی ان میں رحم نہیں ہوتا، انھیں ماہواری نہیں آتی لیکن ان کی بیضہ دانی بالکل معمول کے مطابق ہوتی ہے۔

    معجزہ کیوں ؟

    گریس بیل نے جذباتی انداز میں کہا کہ ‘میں نے“یہ واقعی ایک معجزہ ہے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ ممکن ہوگا’۔ میں اپنی زندگی میں پہلے سے کہیں ہیں زیادہ خوش ہوں۔

    انہوں نے بتایا کہ جب وہ 16 سال کی تھیں تو ڈاکٹروں نے انہیں بتایا تھا کہ وہ کبھی ماں نہیں بن سکیں گی، جس پر وہ شدید صدمے سے دوچار ہوئیں اور اسپتال کے واش روم میں جا کر بے قابو ہو کر رونے لگیں۔

    طویل سفراور انتظار کے بعد کامیاب

    گریس بیل اور ان کے شوہر اسٹیوپائول جنوبی انگلینڈ میں رہتے ہیں ، دونوں نے ابتدا میں سروگیسی پر غور کیا، لیکن بعد میں بچہ دانی ٹرانسپلانٹ پروگرام کے لئے آمادہ ہوگئے۔

    گریس بیل کا ٹرانسپلانٹ آپریشن 2024 میں کیا گیا، جو تقریباً سات گھنٹے جاری رہا۔ اس کے بعد چند ماہ بعد IVF کے ذریعے حمل قائم کیا گیا۔

    بچے کی پیدائش کے لمحے کو یاد کرتے ہوئے اسٹیو پاول نے کہا: ‘جب ہیوگو کو پردے کے اوپر سے ہماری طرف لایا گیا تو جذبات قابو سے باہر تھے۔ مجھے لگا میں رو پڑوں گا۔ یہ ہمارے طویل سفر کا ناقابل یقین اختتام تھا۔’

    عالمی سطح پر محدود مگر اہم کامیابی

    ماہرین کے مطابق، دنیا بھر میں اب تک مردہ ڈونر کی بچہ دانی کے ذریعے سے 30 بچے پیدا ہو چکے ہیں۔

    اسکائی نیوز کی رپورٹ کہتی ہے ڈاکٹروں کے مطابق، گریس بیل مستقبل میں ایک اور بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔

     اس کے بعد ٹرانسپلانٹ شدہ بچہ دانی کو نکال دیا جائے گا تاکہ انہیں طویل عرصے تک امیونوسپریسنٹ ادویات لینے کی ضرورت نہ پڑے۔

    یہ طبی کامیابی دنیا بھر میں ان ہزاروں خواتین کے لیے امید کی نئی کرن ہے جو MRKH syndrome یا دیگر وجوہات کی بنا پر بچہ دانی سے محروم ہوتی ہیں اور ماں بننے کا خواب رکھتی ہیں۔

    ڈونر کیسے بنتے ہیں؟

    زندہ ڈونر: بچہ دانی عطیہ کرنے کی خواہش رکھنے والی زندہ خواتین کو پہلے تفصیلی مشاورت (کاؤنسلنگ) سے گزرنا پڑتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے ۔

    فوت شدہ ڈونر: فوت شدہ افراد کی صورت میں بچہ دانی عام اعضا کی طرح خودکار طور پر عطیہ نہیں کی جاتی۔

     اس کے لیے ٹرانسپلانٹ ریسرچ پروگرام کی ٹیم ڈونر کے اہلِ خانہ سے خصوصی اجازت حاصل کرتی ہے۔ صرف خاندان کی رضامندی کے بعد ہی بچہ دانی عطیہ کی جا سکتی ہے۔

    فوت شدہ ڈونر کی صورت میں پیوندکاری صرف اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب اہلِ خانہ خصوصی طور پر بچہ دانی عطیہ کرنے کی اجازت