باڑہ: 12 سالوں تک شوہر کی قید، تشدد سے متاثرہ فرانسیسی خاتون پانچ بچوں سمیت بازیاب

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں پولیس نے نے ایک مقامی شخص کو ان کی اپنی فرانسیسی اہلیہ اور پانچ بچوں کو تقریباً 12 سالوں تک گھر میں قید رکھنے اور انہیں جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

54 سالہ متاثرہ خاتون، سلوی یاسمینا، جو فرانس کی شہری ہیں، نے 18 جون کو ضلع خیبر کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو ایک تحریری درخواست دی جس میں کہا گیا کہ وہ اور ان کے بچے گزشتہ بارہ برس سے انتہائی کٹھن حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ درخواست میں انہوں نے اپنے شوہر پر گھریلو تشدد، جسمانی تشدد اور غیر قانونی طور پر قید رکھنے کے سنگین الزامات عائد کیے۔

ان کی درخواست پر پولیس نے ان کے شوہر کو گرفتار کرلیا۔

پولیس نے ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم بتایا ہے کہ وہ پاکستانی شہری ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں کی شادی 2003 میں ہوئی تھی اور وہ 2014 تک آسٹریلیا میں مقیم رہے، جس کے بعد اپنے دو بچوں کے ساتھ پاکستان منتقل ہو گئے تھے۔

اپنے پولیس بیان میں سلوی یاسمینہ نے کہا کہ انہیں اور ان کے بچوں کو آزادی سے محروم رکھا گیا، روزانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں خدشہ تھا کہ ان کے ساتھ ساتھ بچوں کا مستقبل بھی تباہ ہو جائے گا۔

پولیس کے مطابق فرانسیسی شہری سلوی یاسمینہ نے بیان دیا ہے کہ ان کا شوہر روزانہ کی بنیاد پر انہیں اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بناتا تھا اور انتہائی پرتشدد رویہ رکھتا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کے ایک بیٹے نے خفیہ طور پر گھر سے نکل کر پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد باڑہ میں واقع گھر پر چھاپہ مارا گیا۔

چھاپے کے دوران پولیس نے سلوی یاسمینہ اور ان کے پانچ بچوں کو ایک تنگ اور انتہائی خستہ حال کمرے سے بازیاب کرایا۔ پولیس کے مطابق خاتون اور بچوں کے جسموں پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے۔

سلوی یاسمینہ اور ان کے بچوں کو پشاور کے ایک دارالامان منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ خاندان فرانس واپس جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یاسمینہ کے مطابق وہ 2014 میں آسٹریلیا سے پاکستان منتقل ہونے کے بعد باڑہ میں رہائش اختیار کر لی۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ پاکستان آنے کے بعد ان کی دنیا محدود ہو کر صرف گھر کی چار دیواری تک رہ گئی۔اور انہیں عملاً قید زندگی گزار رہی تھیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں کسی سے ملنے یا بیرونی دنیا سے رابطہ رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔

پولیس حکام کے مطابق خاندان کے دو بڑے بچے تعلیم مکمل نہ کر سکے جبکہ پاکستان میں پیدا ہونے والے تین کم عمر بچوں کو کبھی اسکول میں داخل ہی نہیں کرایا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق شکایت موصول ہونے کے بعد اسی روز مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا جن میں جسمانی نقصان پہنچانے، غیر قانونی قید اور دھمکیاں دینے سے متعلق دفعات شامل

ہیں۔ اس کے علاوہ خیبر پختونخوا میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کی روک تھام اور تحفظ کے قانون 2021 کے تحت بھی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

پولیس کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کی ہدایت پر باڑہ تھانے کے اہلکاروں نے فوری طور پر کارروائی کی اور اس مکان پر چھاپہ مارا جہاں خاتون اپنے بچوں کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ چھاپے کے دوران خاتون اور بچوں کو بازیاب کرایا گیا جبکہ شوہر کو گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس کی جانب سے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں سلوی یاسمینا نے انگریزی اور پشتو زبان میں گفتگو کرتے ہوئے اپنی بازیابی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اب وہ اور ان کے بچے محفوظ زندگی گزار سکیں گے۔

انہوں نے اپنی آبائی سرزمین فرانس واپس جانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ پولیس حکام کے مطابق خاتون اور ان کے بچوں کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پہلے خواتین پولیس اسٹیشن اور بعد ازاں محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تاکہ انہیں ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ خاتون نے فرانس واپسی کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس سلسلے میں وزارت خارجہ کے ذریعے فرانس کے سفارت خانے سے رابطہ کیا گیا ہے تاکہ خاتون اور ان کے بچوں کی وطن واپسی کے لیے ضروری انتظامات مکمل کیے جا سکیں۔

اسی بارے میں: