ایران پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی: کیا پاکستان، ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل ہو سکے گا؟

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ آج پاکستان پہنچ رہے ہیں اور ان کے اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تجارت، توانائی، سرحدی تعاون اور علاقائی روابط سمیت متعدد اہم موضوعات پر بات چیت متوقع ہے، لیکن ان تمام معاملات میں ایک سوال سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے: کیا تقریباً تین دہائیوں سے تعطل کا شکار پاکستان۔ایران گیس پائپ لائن منصوبہ اب دوبارہ زندگی پا سکے گا؟

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان اس وقت شدید توانائی بحران، گیس کی قلت اور مہنگی درآمدی ایل این جی پر انحصار کے دور سے گزر رہا ہے۔ دوسری جانب حالیہ ایران۔امریکہ سفارتی پیش رفت نے بھی خطے میں توانائی کے نئے امکانات کے بارے میں بحث چھیڑ دی ہے۔

پاکستان میں قدرتی گیس کئی دہائیوں تک توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ رہی۔ گھریلو صارفین، صنعتیں، بجلی گھر، کھاد ساز کارخانے اور سی این جی سیکٹر بڑی حد تک مقامی گیس پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ تاہم سوئی، ماری، قادری اور دیگر بڑے گیس ذخائر سے پیداوار میں مسلسل کمی کے باعث ملک کو گیس کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

سردیوں میں کئی شہروں خاص طور پر بلوچستان اور خیبرپختون خوا میں گیس کا دباؤ کم ہو جاتا ہے جبکہ صنعتوں کو بھی گیس کی فراہمی محدود کر دی جاتی ہے۔ اس خلا کو پورا کرنے کے لیے پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے مہنگی ایل این جی درآمد کر رہا ہے، جس پر سالانہ اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔

توانائی ماہرین کے مطابق اگر ایران سے پائپ لائن کے ذریعے گیس پاکستان پہنچتی ہے تو یہ ایل این جی کے مقابلے میں نسبتاً کم لاگت والا اور زیادہ مستحکم ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

تیس برس کا خواب

ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی کہانی 1990 کی دہائی میں شروع ہوئی۔ اس وقت خیال یہ تھا کہ ایران کے وسیع گیس ذخائر سے گیس پاکستان اور پھر بھارت تک پہنچائی جائے۔

اسی وجہ سے ابتدائی طور پر اس منصوبے کو ایران۔پاکستان۔بھارت یا آئی پی آئی پائپ لائن کہا جاتا تھا۔ منصوبہ خطے میں اقتصادی تعاون کی ایک بڑی مثال سمجھا جاتا تھا اور اسے بعض مبصرین نے "امن کی پائپ لائن” کا نام بھی دیا تھا۔

تاہم بھارت نے قیمتوں، سکیورٹی خدشات اور سیاسی عوامل کا حوالہ دیتے ہوئے منصوبے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ یوں یہ منصوبہ صرف ایران اور پاکستان کے درمیان محدود ہو گیا اور بعد میں اسے آئی پی گیس پائپ لائن کہا جانے لگا۔

پاکستان اور ایران کے درمیان گیس خریداری کا معاہدہ 2010 میں طے پایا۔ اس کے بعد مارچ 2013 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے سرحدی علاقے میں منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔

اس موقع پر دونوں ممالک نے اسے توانائی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ توقع تھی کہ چند برسوں میں ایرانی گیس پاکستان کے قومی نظام کا حصہ بن جائے گی اور ملک کے توانائی مسائل میں نمایاں کمی آئے گی۔

لیکن یہ امیدیں جلد ہی مشکلات کی نذر ہو گئیں، کیوں کہ ایران پر امریکہ کی پابندیوں کے باعث پاکستان اپنے علاقے میں پائیپ لائین تعمیر کرنے سے ہچکچاہت کا شکار رہا۔ اس حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ ایران نے اپنے حصے کا پائیپ بچھا دیا تھا۔ پاکستان کو خدشہ تھا کہ اگر اس نے منصوبے پر مکمل عملدرآمد کیا تو اسے امریکی ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری طرف عالمی بینکوں اور مالیاتی اداروں نے بھی پابندیوں کے ماحول میں اس منصوبے کی مالی معاونت سے گریز کیا۔ اس وجہ سے پاکستان کو سرمایہ کاری اور فنانسنگ کے مسائل کا سامنا رہا۔

اس دوران پاکستان نے قطر سے ایل این جی درآمد کرنے کا راستہ اختیار کیا جبکہ توانائی کی پالیسیوں میں بھی تبدیلیاں آتی رہیں۔ نتیجتاً پائپ لائن منصوبہ پس منظر میں چلا گیا۔

اس منصوبے کی بنیاد جنوبی پارس گیس فیلڈ پر ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس ذخائر میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس میں واقع یہ میدان قطر کے ساتھ مشترکہ ذخائر کا حصہ بھی ہے۔

ایران نے اپنی سرزمین پر تقریباً 1100 کلومیٹر طویل پائپ لائن تعمیر کی جو صوبہ بوشہر کے علاقے عسلویہ سے شروع ہو کر مختلف صوبوں سے گزرتی ہوئی پاکستان کی سرحد تک پہنچتی ہے۔

پاکستان میں پائپ لائن کو بلوچستان کے سرحدی مقام گبد سے داخل ہونا تھا۔ وہاں سے یہ گوادر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے گزرتی ہوئی سندھ کے شہر نواب شاہ تک پہنچنی تھی، جہاں پاکستان کا مرکزی گیس ٹرانسمیشن نیٹ ورک موجود ہے۔

منصوبے کے مطابق پاکستان کے حصے کی لمبائی تقریباً 781 کلومیٹر رکھی گئی تھی۔ معاہدے کے تحت ایران روزانہ تقریباً 750 ملین کیوبک فٹ گیس پاکستان کو فراہم کرتا۔

ماہرین کے مطابق یہ مقدار پاکستان کی مجموعی ضروریات کا قابل ذکر حصہ پوری کر سکتی تھی۔ اس گیس کو گھریلو استعمال، صنعتوں، کھاد سازی، سی این جی اسٹیشنوں اور بجلی گھروں کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر یہ منصوبہ وقت پر مکمل ہو جاتا تو آج پاکستان کو گیس لوڈشیڈنگ اور مہنگی ایل

ایران کا مؤقف اور جرمانے کا خطرہ

ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا کہ اس نے اپنے حصے کا کام مکمل کر دیا ہے اور اب پاکستان کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔

معاہدے کے تحت پاکستان کو مخصوص مدت کے اندر اپنا حصہ تعمیر کرنا تھا، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ بعد ازاں ایران کی جانب سے جرمانے اور قانونی کارروائی کی ممکنہ باتیں بھی سامنے آئیں۔

دونوں ممالک نے مختلف ادوار میں مذاکرات کیے اور کوئی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جس سے معاہدہ بھی برقرار رہے اور پاکستان بین الاقوامی پابندیوں کے خطرات سے بھی محفوظ رہ سکے۔

2024 میں نئی پیش رفت

منصوبے میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب مارچ 2024 میں پاکستان نے ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت اپنی سرزمین پر ابتدائی 80 کلومیٹر حصے کی تعمیر کی منظوری دی تو اس معاملے پر امریکہ نے کھل کر مخالفت کا اظہار کیا۔ اس دوران امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر سے واشنگٹن میں ایک پریس بریفنگ کے دوران سوال کیا گیا کہ اگر پاکستان ایران سے گیس درآمد کرنے کے منصوبے پر آگے بڑھتا ہے تو امریکہ کا ردعمل کیا ہوگا۔

جواب میں میتھیو ملر نے کہا کہ امریکہ اس منصوبے کی حمایت نہیں کرتا اور ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "جو بھی ایران کے ساتھ کاروبار کرتا ہے، اسے ہماری پابندیوں کے خطرات کو بہت سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے۔” یہ وہ بیان تھا جسے بعض بین الاقوامی اور پاکستانی میڈیا اداروں نے عام فہم انداز میں "face the music” یعنی "نتائج بھگتنا پڑیں گے” کے مفہوم سے بیان کیا۔

اس سے چند روز قبل امریکی معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو بھی کانگریس کی ایک سماعت میں کہہ چکے تھے کہ ایران سے گیس درآمد کرنے کی صورت میں پاکستان امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب پاکستان ایران کی جانب سے ممکنہ اربوں ڈالر جرمانے سے بچنے کے لیے پائپ لائن کے سرحدی حصے پر تعمیراتی کام شروع کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امریکی مخالفت کے باعث یہ منصوبہ ایک بار پھر بین الاقوامی سیاست، توانائی کی ضرورت اور اقتصادی مفادات کے درمیان توازن کا ایک اہم امتحان بن گیا۔ تاہم منصوبے کا بڑا حصہ اب بھی تعمیر کا منتظر ہے۔

کیا موجودہ حالات میں منصوبہ ممکن ہے؟

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان نے اس سوال کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

پاکستان کو توانائی کی شدید ضرورت ہے۔ مقامی گیس ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں جبکہ درآمدی ایل این جی ملکی معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔ ایسے میں ایران سے زمینی راستے کے ذریعے گیس کی فراہمی ایک پرکشش آپشن سمجھی جاتی ہے۔

دوسری جانب ایران بھی اپنی توانائی برآمدات بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر پابندیوں کے ماحول میں نرمی آتی ہے یا دونوں ممالک کوئی ایسا طریقہ کار تلاش کر لیتے ہیں جو بین الاقوامی قوانین سے مطابقت رکھتا ہو، تو منصوبے کے دوبارہ فعال ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ صرف سیاسی خواہش کافی نہیں ہوگی۔ منصوبے کی تکمیل کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، بین الاقوامی مالیاتی تعاون، تکنیکی انتظامات اور مضبوط سفارتی حکمت عملی درکار ہوگی۔

ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن محض ایک توانائی منصوبہ نہیں بلکہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان اقتصادی، جغرافیائی اور تزویراتی تعاون کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔

ایرانی صدر کے موجودہ دورے کے دوران اگرچہ کسی بڑی پیش رفت کی توقعات قبل از وقت ہوں گی، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات اور خطے میں بدلتے ہوئے حالات نے اس منصوبے کو ایک بار پھر قومی بحث کا اہم موضوع بنا دیا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آنے والے برسوں میں بلوچستان کے سرحدی علاقے گبد سے گزرنے والی یہی پائپ لائن پاکستان کے توانائی نقشے کو بدلنے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا یہ منصوبہ ماضی کی طرح ایک بار پھر سیاسی اور سفارتی رکاوٹوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔