تامل نژاد نتھیا رامن لاس اینجلس کی میئر بننے کی دوڑ میں، امریکی سیاست میں نئی تبدیلی کی علامت؟

امریکہ کے دوسرے بڑے شہر لاس اینجلس میں رواں سال ہونے والے میئر کے انتخابات نے غیر معمولی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ انڈین تامل نژاد امریکی سیاست دان اور شہری منصوبہ ساز نتھیا رامن نے ابتدائی انتخابی مرحلہ عبور کرتے ہوئے موجودہ میئر کیرن باس کے مقابلے میں جگہ بنا لی ہے۔ اب نومبر میں ہونے والے حتمی مقابلے میں دونوں امیدوار آمنے سامنے ہوں گے۔

45 سالہ نتھیا رامن کو امریکی سیاست میں ترقی پسند یا سوشلسٹ خیالات کی نمائندہ شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ وہ اس وقت لاس اینجلس سٹی کونسل کی رکن ہیں اور 2020 میں پہلی بار منتخب ہو کر شہر کی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کیا تھا۔ انہیں لاس اینجلس سٹی کونسل کے لیے منتخب ہونے والی پہلی جنوبی ایشیائی خاتون بھی قرار دیا جاتا ہے۔

نتھیا رامن انڈین ریاست کیرالہ کے ایک تامل خاندان میں پیدا ہوئیں۔ جب وہ چھ برس کی تھیں تو ان کا خاندان امریکہ منتقل ہو گیا۔ انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے سیاسیات میں تعلیم حاصل کی جبکہ بعد ازاں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) سے اربن پلاننگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد نتھیا رامن کچھ عرصہ انڈیا واپس گئیں جہاں انہوں نے "ٹرانسپیرنٹ چنئی” کے نام سے ایک تحقیقی ادارہ قائم کیا۔ یہ ادارہ شہری مسائل اور مقامی حکومتوں کی کارکردگی پر تحقیق کرتا تھا۔ بعد میں وہ دوبارہ امریکہ واپس آئیں اور لاس اینجلس میں سماجی سرگرمیوں سے وابستہ ہو گئیں۔

لاس اینجلس میں انہوں نے بے گھر افراد کے مسائل پر کام کرنے والی تنظیم "سیلاہ نیبرہڈ ہوم لیس کولیشن” کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی کام نے انہیں عملی سیاست کی طرف راغب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں بے گھر افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی لیکن سرکاری ادارے اس مسئلے کو مؤثر طریقے سے حل نہیں کر پا رہے تھے۔

لاس اینجلس امریکہ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اس کی آبادی تقریباً 40 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جبکہ شہر کا سالانہ بجٹ 14 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ شہر ہالی ووڈ فلمی صنعت کا مرکز بھی ہے۔ تاہم گزشتہ کئی برسوں سے بے گھر افراد، جرائم، مہنگی رہائش اور عوامی خدمات کی خراب صورتِ حال یہاں کی سیاست کے اہم ترین موضوعات بنے ہوئے ہیں۔

نتھیا رامن کی انتخابی مہم کا مرکز بھی یہی مسائل ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ شہر میں سستی رہائش کی فراہمی، مقامی حکومت کی کارکردگی میں بہتری اور فلمی صنعت کے فروغ کے لیے نئی پالیسیاں ضروری ہیں۔ انہوں نے موجودہ میئر کیرن باس کی بعض پالیسیوں خصوصاً بے گھر افراد سے متعلق پروگراموں پر تنقید بھی کی ہے اور کہا ہے کہ ان پروگراموں پر بہت زیادہ اخراجات آ رہے ہیں لیکن نتائج توقعات کے مطابق نہیں ہیں۔

امریکی سیاست میں نتھیا رامن کو سینیٹر برنی سینڈرز اور ترقی پسند سیاسی حلقوں کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ ان کی کامیابی کو امریکہ کے بڑے شہروں میں بائیں بازو اور سوشل ڈیموکریٹ نظریات کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نیویارک، سیئٹل اور بوسٹن جیسے شہروں میں بھی ترقی پسند امیدوار حالیہ برسوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں۔

رواں ماہ ہونے والے ابتدائی انتخابات میں نتھیا رامن نے اپنے اہم حریف اور ٹی وی شخصیت اسپینسر پراٹ کو پیچھے چھوڑ کر دوسرے نمبر پر جگہ بنائی۔ اس طرح وہ موجودہ میئر کیرن باس کے ساتھ حتمی مقابلے کے لیے منتخب ہو گئیں۔ انتخابی نتائج نے واضح کر دیا کہ لاس اینجلس کی سیاست اس وقت دو مختلف نظریاتی دھڑوں کے درمیان تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک طرف روایتی ڈیموکریٹ قیادت ہے جبکہ دوسری طرف ترقی پسند اور سوشلسٹ خیالات کے حامی سیاسی کارکن ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نومبر میں ہونے والا میئر کا انتخاب صرف ایک شہری عہدے کی دوڑ نہیں ہوگا بلکہ یہ امریکہ کے بڑے شہروں میں مستقبل کی سیاست کا رخ بھی متعین کر سکتا ہے۔ اگر نتھیا رامن کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ لاس اینجلس کی پہلی انڈین نژاد اور جنوبی ایشیائی خاتون میئر بن جائیں گی۔ ان کی کامیابی کو امریکی سیاست میں تارکینِ وطن، خواتین اور ترقی پسند سیاسی تحریکوں کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جائے گا۔ دوسری جانب اگر موجودہ میئر کیرن باس اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہیں تو یہ روایتی ڈیموکریٹ قیادت کے لیے ایک اہم فتح ہوگی۔

اب تمام نظریں نومبر میں ہونے والے اس اہم انتخاب پر مرکوز ہیں، جہاں فیصلہ ہوگا کہ لاس اینجلس کے ووٹر شہر کے مستقبل کے لیے روایتی سیاسی قیادت کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر ایک نئی ترقی پسند آواز کو اقتدار سونپتے ہیں۔

نتھیا رامن لاس اینجلس کے علاقے سلور لیک میں رہتی ہیں۔ ان کے شوہر ولی چندر شیکرن ٹیلی ویژن کے اسکرین رائٹر ہیں اور ہارورڈ یونیورسٹی میں ان کے ہم جماعت بھی رہ چکے ہیں۔ اس جوڑے کے جڑواں بچے ہیں، جن میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

نتھیا رامن ہندو مذہب پر عمل کرتی ہیں اور مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور مکالمے کے فروغ کے لیے منعقد ہونے والی تقریبات میں باقاعدگی سے شرکت کرتی ہیں۔