Tag: میئر

  • برطانوی حکومت کا میئرز کو ٹرانسپورٹ، رہائش اور ہنرمندی کے شعبوں میں مزید اختیارات دینے کا اعلان

    برطانوی حکومت کا میئرز کو ٹرانسپورٹ، رہائش اور ہنرمندی کے شعبوں میں مزید اختیارات دینے کا اعلان

    میں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ویسٹ منسٹر کے حکام کے سامنے فنڈز کے لیے درخواستیں کرتے ہوئے گزارا ہے۔ میں اتنا تجربہ رکھتا ہوں کہ جانتا ہوں کہ کسی ملک کو چلانے کا یہ کوئی مناسب طریقہ نہیں ہے۔

    میں دس سال تک گریٹر مانچسٹر کا میئر رہا۔ اس دوران میں نے کئی بار دیکھا کہ ہمارے پاس کام کرنے کے لیے منصوبے بھی تھے اور کچھ کر دکھانے کا عزم بھی، لیکن ان پر عمل درآمد کے لیے ہمیں پھر بھی لندن میں بیٹھے حکام سے فنڈز مانگنے پڑتے تھے۔

    اب ہم اس طرزِ عمل کو ختم کر رہے ہیں تاکہ ملک کے ہر علاقے میں حقیقی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    نئے گڈ گروتھ فنڈز (Good Growth Funds) مقامی رہنماؤں کو اپنی کمیونٹیز میں سرمایہ کاری کے لیے زیادہ آزادی فراہم کریں گے۔ ان فنڈز کے تحت آئندہ سال ابتدائی طور پر 285 ملین پاؤنڈ فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، ہم 1.5 ارب پاؤنڈ کا ایک نیا فنڈ بھی قائم کر رہے ہیں، جس سے میئرز قرض لے سکیں گے تاکہ اپنے علاقوں میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کر سکیں۔

    پہلی مرتبہ ان علاقوں کو بھی فنڈنگ دستیاب ہوگی جو اسٹریٹجک اتھارٹیز قائم کرنے کے عمل سے گزر رہے ہیں، تاکہ کسی بھی علاقے کو ترقی کے مواقع سے محروم نہ رکھا جائے۔

    اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہاں نئے گھر تعمیر کیے جائیں جہاں ان کی اشد ضرورت ہے، خالی دکانوں کو دوبارہ آباد کیا جائے اور ان تجارتی مراکز کو بحال کیا جائے جو طویل عرصے سے نظرانداز کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنایا جا سکتا ہے تاکہ لوگوں کو روزگار اور ترقی کے مواقع تک رسائی حاصل ہو۔

    یا پھر مقامی ضروریات کے مطابق کوئی بالکل مختلف منصوبہ بھی شروع کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اس پورے اقدام کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ علاقوں کی ضروریات کا فیصلہ مقامی لوگ کریں، نہ کہ وائٹ ہال میں کسی دفتر میں بیٹھا ہوا کوئی افسر۔

    ہم مقامی قیادت کو اپنے وسائل پیدا کرنے کے نئے طریقے بھی فراہم کر رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال رات گزارنے والے سیاحوں پر عائد کیا جانے والا لیوی (Overnight Visitor Levy) ہے، جس کے تحت مقامی قیادت ہوٹلوں میں قیام کرنے والے افراد پر معمولی فیس عائد کر سکے گی اور اس سے حاصل ہونے والی رقم اپنے علاقوں کی ترقی پر خرچ کر سکے گی۔ ہم پہلے ہی دیکھ رہے ہیں کہ یہ اقدام کس قدر مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

    اس سلسلے میں لیورپول کی مثال دیکھی جا سکتی ہے، جہاں اسٹیو روتھرام شہر کے لیے ایک اہم منصوبہ بنا رہے ہیں۔ وہ لیورپول کی شاندار موسیقی کی تاریخ کو آگے بڑھاتے ہوئے بیٹلز (The Beatles) کے حوالے سے ایک نیا سیاحتی مرکز قائم کرنا چاہتے ہیں، جو یقیناً دنیا بھر سے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرے گا۔

    مقامی سطح پر وسائل جمع کرنے کے ان نئے اختیارات اور زیادہ آزادی کے ساتھ قرض لینے کی سہولت کے ذریعے لیورپول کو اپنے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے درکار وسائل میسر آ سکیں گے۔

    میرا یہی مطلب ہے جب میں کہتا ہوں کہ ہر علاقے کی اپنی الگ شناخت اور ضروریات ہوتی ہیں۔ لیورپول کی پہچان بیٹلز ہیں، جبکہ دوسرے علاقوں کے پاس اپنی منفرد خصوصیات، صلاحیتیں اور مواقع موجود ہیں۔ کسی علاقے کے مسائل اور امکانات کو وہاں کے رہنے والوں سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ حکومت کا کام صرف ان کی مدد کرنا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ جب میں وزیراعظم بنا تو میں نے اپنی کابینہ کے ہر وزیر کو ایک ہی ہدایت دی: اگر کوئی فیصلہ مقامی سطح پر کیا جا سکتا ہے تو اسے وہیں کیا جانا چاہیے۔

    اختیارات کی منتقلی، بطورِ اصول (Devolution by Default)

    یہی وہ اصول ہے جس کی بنیاد پر اس ہفتے کے اختتام پر ان اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ ان تبدیلیوں کا تسلسل بھی ہے جن کا ہم پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں، جن کے تحت مقامی رہنماؤں اور میئرز کو ٹرانسپورٹ، رہائش اور ہنرمندی کے شعبوں میں زیادہ اختیارات دیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہیں اپنے علاقوں میں پیدا ہونے والی آمدنی پر عائد انکم ٹیکس میں سے بھی حصہ دیا جائے گا۔

    یہ ترقی سے متعلق میرے نظریے کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کا آغاز ان بنیادی سہولتوں اور ضروریات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے سے ہوتا ہے جو کسی بھی علاقے کی ترقی یا تنزلی کا تعین کرتی ہیں۔

    سب سے پہلے ان بنیادی امور پر اختیار ہونا ضروری ہے جن کی ہر شخص کو ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد مزید اختیارات مقامی علاقوں کو منتقل کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنے مستقبل کے فیصلے خود کر سکیں اور اپنی ترقی کی سمت کا تعین کریں۔

    ان اقدامات کے ذریعے ہم کاروباروں کی ترقی کے لیے سازگار حالات پیدا کریں گے اور اپنے لوگوں کی معاونت بھی کریں گے، تاکہ وہ اس قابل ہوں کہ کاروباری ادارے انہیں روزگار فراہم کر سکیں۔

    اسی طریقے سے ہم زیادہ گھر تعمیر کر سکیں گے، مزید کاروباروں کو ترقی دے سکیں گے اور زیادہ لوگوں کو اچھے روزگار کے مواقع فراہم کر سکیں گے۔

    اس طرح نوجوانوں کو بھی یہ موقع ملے گا کہ وہ اپنے ہی آبائی علاقوں میں رہتے ہوئے ترقی کریں اور اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکیں۔

    اور اسی طرح ہم اپنی کمیونٹیز کو وہ ترقی فراہم کریں گے جس کی وہ حق دار ہیں، تاکہ ملک کے ہر علاقے میں خوشحالی اور ترقی کے یکساں مواقع میسر آ سکیں۔میئرز

  • تامل نژاد نتھیا رامن لاس اینجلس کی میئر بننے کی دوڑ میں، امریکی سیاست میں نئی تبدیلی کی علامت؟

    تامل نژاد نتھیا رامن لاس اینجلس کی میئر بننے کی دوڑ میں، امریکی سیاست میں نئی تبدیلی کی علامت؟

    امریکہ کے دوسرے بڑے شہر لاس اینجلس میں رواں سال ہونے والے میئر کے انتخابات نے غیر معمولی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ انڈین تامل نژاد امریکی سیاست دان اور شہری منصوبہ ساز نتھیا رامن نے ابتدائی انتخابی مرحلہ عبور کرتے ہوئے موجودہ میئر کیرن باس کے مقابلے میں جگہ بنا لی ہے۔ اب نومبر میں ہونے والے حتمی مقابلے میں دونوں امیدوار آمنے سامنے ہوں گے۔

    45 سالہ نتھیا رامن کو امریکی سیاست میں ترقی پسند یا سوشلسٹ خیالات کی نمائندہ شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ وہ اس وقت لاس اینجلس سٹی کونسل کی رکن ہیں اور 2020 میں پہلی بار منتخب ہو کر شہر کی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کیا تھا۔ انہیں لاس اینجلس سٹی کونسل کے لیے منتخب ہونے والی پہلی جنوبی ایشیائی خاتون بھی قرار دیا جاتا ہے۔

    نتھیا رامن انڈین ریاست کیرالہ کے ایک تامل خاندان میں پیدا ہوئیں۔ جب وہ چھ برس کی تھیں تو ان کا خاندان امریکہ منتقل ہو گیا۔ انہوں نے ہارورڈ یونیورسٹی سے سیاسیات میں تعلیم حاصل کی جبکہ بعد ازاں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) سے اربن پلاننگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

    تعلیم مکمل کرنے کے بعد نتھیا رامن کچھ عرصہ انڈیا واپس گئیں جہاں انہوں نے "ٹرانسپیرنٹ چنئی” کے نام سے ایک تحقیقی ادارہ قائم کیا۔ یہ ادارہ شہری مسائل اور مقامی حکومتوں کی کارکردگی پر تحقیق کرتا تھا۔ بعد میں وہ دوبارہ امریکہ واپس آئیں اور لاس اینجلس میں سماجی سرگرمیوں سے وابستہ ہو گئیں۔

    لاس اینجلس میں انہوں نے بے گھر افراد کے مسائل پر کام کرنے والی تنظیم "سیلاہ نیبرہڈ ہوم لیس کولیشن” کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی کام نے انہیں عملی سیاست کی طرف راغب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں بے گھر افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی لیکن سرکاری ادارے اس مسئلے کو مؤثر طریقے سے حل نہیں کر پا رہے تھے۔

    لاس اینجلس امریکہ کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ اس کی آبادی تقریباً 40 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جبکہ شہر کا سالانہ بجٹ 14 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ یہ شہر ہالی ووڈ فلمی صنعت کا مرکز بھی ہے۔ تاہم گزشتہ کئی برسوں سے بے گھر افراد، جرائم، مہنگی رہائش اور عوامی خدمات کی خراب صورتِ حال یہاں کی سیاست کے اہم ترین موضوعات بنے ہوئے ہیں۔

    نتھیا رامن کی انتخابی مہم کا مرکز بھی یہی مسائل ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ شہر میں سستی رہائش کی فراہمی، مقامی حکومت کی کارکردگی میں بہتری اور فلمی صنعت کے فروغ کے لیے نئی پالیسیاں ضروری ہیں۔ انہوں نے موجودہ میئر کیرن باس کی بعض پالیسیوں خصوصاً بے گھر افراد سے متعلق پروگراموں پر تنقید بھی کی ہے اور کہا ہے کہ ان پروگراموں پر بہت زیادہ اخراجات آ رہے ہیں لیکن نتائج توقعات کے مطابق نہیں ہیں۔

    امریکی سیاست میں نتھیا رامن کو سینیٹر برنی سینڈرز اور ترقی پسند سیاسی حلقوں کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ ان کی کامیابی کو امریکہ کے بڑے شہروں میں بائیں بازو اور سوشل ڈیموکریٹ نظریات کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نیویارک، سیئٹل اور بوسٹن جیسے شہروں میں بھی ترقی پسند امیدوار حالیہ برسوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں۔

    رواں ماہ ہونے والے ابتدائی انتخابات میں نتھیا رامن نے اپنے اہم حریف اور ٹی وی شخصیت اسپینسر پراٹ کو پیچھے چھوڑ کر دوسرے نمبر پر جگہ بنائی۔ اس طرح وہ موجودہ میئر کیرن باس کے ساتھ حتمی مقابلے کے لیے منتخب ہو گئیں۔ انتخابی نتائج نے واضح کر دیا کہ لاس اینجلس کی سیاست اس وقت دو مختلف نظریاتی دھڑوں کے درمیان تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک طرف روایتی ڈیموکریٹ قیادت ہے جبکہ دوسری طرف ترقی پسند اور سوشلسٹ خیالات کے حامی سیاسی کارکن ہیں۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نومبر میں ہونے والا میئر کا انتخاب صرف ایک شہری عہدے کی دوڑ نہیں ہوگا بلکہ یہ امریکہ کے بڑے شہروں میں مستقبل کی سیاست کا رخ بھی متعین کر سکتا ہے۔ اگر نتھیا رامن کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ لاس اینجلس کی پہلی انڈین نژاد اور جنوبی ایشیائی خاتون میئر بن جائیں گی۔ ان کی کامیابی کو امریکی سیاست میں تارکینِ وطن، خواتین اور ترقی پسند سیاسی تحریکوں کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جائے گا۔ دوسری جانب اگر موجودہ میئر کیرن باس اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہیں تو یہ روایتی ڈیموکریٹ قیادت کے لیے ایک اہم فتح ہوگی۔

    اب تمام نظریں نومبر میں ہونے والے اس اہم انتخاب پر مرکوز ہیں، جہاں فیصلہ ہوگا کہ لاس اینجلس کے ووٹر شہر کے مستقبل کے لیے روایتی سیاسی قیادت کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر ایک نئی ترقی پسند آواز کو اقتدار سونپتے ہیں۔

    نتھیا رامن لاس اینجلس کے علاقے سلور لیک میں رہتی ہیں۔ ان کے شوہر ولی چندر شیکرن ٹیلی ویژن کے اسکرین رائٹر ہیں اور ہارورڈ یونیورسٹی میں ان کے ہم جماعت بھی رہ چکے ہیں۔ اس جوڑے کے جڑواں بچے ہیں، جن میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

    نتھیا رامن ہندو مذہب پر عمل کرتی ہیں اور مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور مکالمے کے فروغ کے لیے منعقد ہونے والی تقریبات میں باقاعدگی سے شرکت کرتی ہیں۔