امریکہ کا یومِ آزادی: امریکی سفارتخانے اسلام آباد میں آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش

اسلام آباد: پاکستان میں امریکی سفارتخانے کی جانب سے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشنِ آزادی کے سلسلے میں آج یو ایس ایجوکیشن فاؤنڈیشن اِن پاکستان (یو ایس اِی ایف پی) کی عمارت میں آرٹس انٹرپرینیورشپ نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس میں فنکاروں، ڈیزائنرز، کاروباری شخصیات اور ثقافتی شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

اس تقریب میں معاشی ترقی، دوطرفہ تعلقات اور بین الثقافتی روابط کو فروغ دینے کے لیے تخلیقی شعبوں سے منسلک صنعتوں کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ پروگرام کے مہمانِ خصوصی امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر اور پاکستان کے معروف فیشن ڈیزائنر ایچ ایس وائی تھے، جبکہ معروف براڈکاسٹر اور فلم ساز توثیق حیدر نے تقریب کی نظامت کی۔

امریکہ کی آزادی کے ڈھائی سو سال مکمل ہونے کی مناسبت سے جاری فریڈم 250 مہم کے تحت منعقد ہونے والی اس تقریب میں تین نمایاں سرگرمیاں شامل تھیں۔ فریڈم 250 انٹرپرینیورشپ لیکچر، جس کا مقصد امریکی کاروباری مہارت اور بہترین طریقۂ کار سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔

اس کے علاوہ ایک آرٹس مارکیٹ پلیس، جس میں پاکستان۔امریکہ ایلومنائی نیٹ ورک کے بیس سابق شرکاء کے فن پاروں اور تخلیقی کام کو پیش کیا گیا، اور ایک فیشن رن وے شو، جس میں امریکی ڈیزائن، ثقافت اور ٹیکسٹائل جدت کے ڈھائی سو سالہ سفر کو اجاگر کیا گیا۔ ان تمام سرگرمیوں میں کاروبار، ثقافت اور فنونِ لطیفہ کے شعبوں میں امریکہ اور پاکستان کے مضبوط دوطرفہ تعلقات کی گہرائی اور مضبوطی کی عکاسی کی گئی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا کہ فنونِ لطیفہ اقوام اور عوام کے درمیان پائیدار روابط قائم کرنے کی منفرد صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت دونوں ممالک کے درمیان مضبوط ترین روابط میں سے ایک ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران امریکہ کو پاکستانی ملبوسات اور تیار شدہ گارمنٹس کی برآمدات کی اوسط مالیت چار ارب ڈالر سالانہ سے زائد رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے بہت سے ملبوسات امریکی کپاس سے بنائے گئے تھے، جبکہ پاکستان ہر سال تقریباً آٹھ سو ملین ڈالر مالیت کی امریکی کپاس اور دیگر خام ٹیکسٹائل مواد درآمد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں ڈینم کپڑے اور ڈینم ملبوسات تیار کرنے والے نمایاں ممالک میں شامل ہے اور امریکہ میں فروخت ہونے والی جینز کی ایک بڑی تعداد کا سفر پاکستان ہی سے شروع ہوتا ہے، جو اس حقیقت کی زبردست یاد دہانی ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات دونوں ملکوں کے عوام کی روزمرہ زندگیوں کا ایک لازمی حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ذرا لیوائیز کی ایک جینز کو دیکھیں، یہ اس بات کی ایک طاقتور یاد دہانی ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات دونوں ممالک کے لوگوں کی روزمرہ زندگیوں میں بُنے ہوئے ہیں۔‘‘

ناظم الامور نیٹلی بیکر نے تخلیقی کاروباری سرگرمیوں کو معاشی مواقع اور دوطرفہ شراکت داری کے فروغ کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ طویل عرصے سے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ تخلیقی صنعتیں ترقی اور معاشی نمو کو مہمیز دیتی ہیں۔ یہ 1776 سے ہماری قومی شناخت کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنون اور ڈیزائن کے شعبے میں امریکی کامیابی صرف صلاحیت ہی کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ ایک ایسی ثقافت کا ثمر ہے جو تجربات، کاروباری سوچ اور نئے خیالات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف شعبوں میں امریکی تخلیقی صنعتیں آج بھی عالمی مباحث پر اثرانداز ہو رہی ہیں اور دنیا بھر کے لوگوں کو متاثر کر رہی ہیں۔

تقریب کی نمایاں سرگرمیوں میں فیشن رن وے شو بھی شامل تھا، جس نے ٹیکسٹائل، ڈیزائن اور ثقافتی کہانیوں کے ذریعے امریکی فیشن کے ڈھائی سو سالہ سفر میں نئی جان ڈال دی۔ یہ شو امریکہ کے تخلیقی ورثے اور خود کو مسلسل نئے انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت کی بھرپور بصری عکاسی کرتا تھا۔

فریڈم 250 مہم امریکہ کی آزادی کے ڈھائی سو سال مکمل ہونے کی یاد میں سال بھر جاری رہنے والی تقریبات، شراکت داریوں اور پروگراموں کا سلسلہ ہے، جس کا مقصد امریکی کامیابیوں کو اجاگر کرنا، امریکی اقدار کو فروغ دینا اور دنیا بھر میں امریکہ کے شراکت دار ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانا ہے۔