Tag: اسلام آباد

  • اسلام آباد ٹاکس: ایران کا دیگر شرائط کے ساتھ اپنے منجمد اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ شامل، مگر یہ اثاثے کتنے ہیں اور ان پر کیوں اور کب پابندی لگی؟

    اسلام آباد ٹاکس: ایران کا دیگر شرائط کے ساتھ اپنے منجمد اثاثوں کی واپسی کا مطالبہ شامل، مگر یہ اثاثے کتنے ہیں اور ان پر کیوں اور کب پابندی لگی؟

    تقریباً 40 دن کی جنگ کے بعد بالآخر امریکی اور ایرانی وفود مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں اور مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی بات چیت کے ذریعے کسی دیرپا امن معاہدے تک پہنچ جائے گی۔

    ان امن مذاکرات، جسے پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر اسلام آباد ٹاکس کا نام دیا گیا ہے، میں ایران نے چند بنیادی شرائط رکھی ہیں، جن میں جنگ بندی اور علاقائی تنازعات کا خاتمہ، لبنان میں فوری جنگ بندی، وسیع تر خطے میں کشیدگی کم کرنا، جنگی نقصانات کا ازالہ (ایران نے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے بدلے مالی معاوضہ بھی ایک اہم شرط کے طور پر پیش کیا ہے)، آبنائے ہرمز سے متعلق مطالبات (ایران چاہتا ہے کہ اس اہم سمندری راستے سے متعلق اس کی پوزیشن کو تسلیم کیا جائے، جبکہ اس کا تعلق عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل سے ہے) شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ایران نے اپنے منجمد اثاثوں کی واپسی یا انہیں غیر منجمد کرنے کو بھی مذاکرات کی اہم شرط بنایا ہے۔

    ایران پر پابندیوں اور اس کے اثاثے منجمد کرنے کی تاریخ کئی مراحل پر مشتمل ہے۔

    پہلا مرحلہ 1979 کا ہے، جب ایران میں انقلاب آیا اور تہران میں امریکی سفارتخانے کے عملے کو یرغمال بنایا گیا۔ اس واقعے کے ردعمل میں جمی کارٹر کی حکومت نے ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے۔ اس اقدام کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنا تھا تاکہ یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنائی جا سکے۔ یہ وہ پہلا موقع تھا جب ایران کے بڑے مالی وسائل بیرونِ ملک روک دیے گئے۔

    دوسرا مرحلہ 1990 کی دہائی میں سامنے آیا، جب امریکہ نے ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کیں۔ بل کلنٹن کے دور میں ایران کے تیل اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری پر پابندی لگا دی گئی۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ایران خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کر رہا ہے۔ اس مرحلے پر اگرچہ بڑے پیمانے پر نئے اثاثے منجمد نہیں ہوئے، لیکن ایران کی عالمی مالیاتی رسائی مزید محدود ہو گئی۔

    تیسرا اور اہم مرحلہ 2006 سے شروع ہوا، جب ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی خدشات بڑھنے لگے۔ اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے متعدد قراردادیں منظور کیں، جن کے تحت ایران پر بین الاقوامی پابندیاں عائد کی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین اور امریکہ نے بھی سخت اقتصادی اقدامات کیے۔

    ان پابندیوں کے نتیجے میں ایران کے تیل سے حاصل ہونے والے اربوں ڈالر مختلف ممالک کے بینکوں میں جمع تو ہوتے رہے، لیکن ایران انہیں استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ یوں یہ رقوم عملی طور پر منجمد ہو گئیں۔

    چوتھا مرحلہ 2015 میں آیا، جب ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے پایا۔ اس کے نتیجے میں کچھ پابندیاں نرم کی گئیں اور ایران کو اپنے بعض منجمد اثاثوں تک محدود رسائی حاصل ہوئی۔ یہ ایک اہم پیش رفت تھی، تاہم مکمل آزادی نہیں دی گئی بلکہ نگرانی برقرار رہی۔

    پانچواں مرحلہ 2018 میں شروع ہوا، جب ٹرمپ نے اس معاہدے سے امریکہ کو الگ کر لیا اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے بعد ایران کے مزید اثاثے دنیا بھر میں دوبارہ منجمد یا محدود ہو گئے، خاص طور پر وہ رقوم جو تیل کی فروخت سے حاصل ہوئی تھیں۔

    آخری مرحلہ حالیہ برسوں کا ہے، جہاں کچھ رقوم کو محدود شرائط کے تحت منتقل تو کیا گیا، لیکن ان کے استعمال پر سخت پابندیاں برقرار رہیں۔ ان رقوم کو صرف انسانی ضروریات، جیسے خوراک اور ادویات کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی، اور وہ بھی مکمل نگرانی کے تحت۔

    ایران کے اثاثے منجمد ہونے کی بنیادی وجوہات تین رہی ہیں: 1979 کا یرغمالی بحران، دہشت گردی کی مبینہ حمایت کے الزامات، اور جوہری پروگرام سے متعلق عالمی خدشات۔ ان پابندیوں کا آغاز امریکہ نے کیا، بعد میں دیگر عالمی اداروں اور خطوں نے بھی اس میں کردار ادا کیا، اور آج بھی یہ مسئلہ عالمی سیاست اور سفارت کاری میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔

    ایران کے منجمد اثاثے کتنے ہیں، ان اثاثوں پر کب اور کیوں پابندی لگی؟

    ایران کے منجمد اثاثے گزشتہ چار دہائیوں سے عالمی سیاست، پابندیوں اور سفارتی کشمکش کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ یہ اثاثے دراصل وہ رقوم ہیں جو ایران نے زیادہ تر تیل کی فروخت سے کمائیں، مگر مختلف ممالک میں بینکاری نظام کے اندر پھنس گئیں اور ایران انہیں آزادانہ طور پر استعمال نہیں کر سکا۔

    یہ کہانی 1979 کے ایرانی انقلاب سے شروع ہوتی ہے، جب امریکہ نے تہران میں سفارتخانے کے یرغمالی بحران کے بعد ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے۔ اس کے بعد آنے والی دہائیوں میں، خاص طور پر جوہری پروگرام کے باعث لگنے والی پابندیوں نے ایران کے مزید مالی وسائل کو دنیا بھر میں روک دیا۔

    آج ایران کے منجمد اثاثے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں، جن میں امریکہ، قطر، جنوبی کوریا، عراق اور چین شامل ہیں، اور ان کی مجموعی مالیت دسیوں ارب ڈالر تک پہنچتی ہے۔

    امریکہ میں موجود ایرانی اثاثے سب سے پرانے تنازع کا حصہ ہیں۔ اندازوں کے مطابق تقریباً 2 ارب ڈالر کے اثاثے امریکہ میں منجمد ہیں، جن میں بینک فنڈز کے ساتھ کچھ جائیدادیں بھی شامل ہیں۔ ان اثاثوں کا ایک حصہ امریکی عدالتوں کے فیصلوں کے تحت ضبط بھی کیا جا چکا ہے، خاص طور پر دہشت گردی سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کے لیے۔

    یہ اثاثے 1979 کے بعد سے مسلسل تنازع کا شکار ہیں اور آج بھی ایران اور امریکہ کے درمیان قانونی و سفارتی کشیدگی کا ایک بڑا سبب ہیں۔

    قطر میں موجود ایرانی اثاثے حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ زیر بحث رہے ہیں۔ یہ تقریباً 6 ارب ڈالر کی رقم ہے، جو اصل میں ایران کی جنوبی کوریا کو تیل فروخت کرنے سے حاصل ہوئی تھی۔ 2018 میں جب امریکہ نے دوبارہ سخت پابندیاں عائد کیں تو یہ رقم جنوبی کوریا کے بینکوں میں منجمد ہو گئی۔

    بعد ازاں 2023 میں امریکہ اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے تحت یہ رقم قطر کے بینکوں میں منتقل کی گئی، لیکن اس پر سخت پابندیاں برقرار رہیں۔ امریکہ نے واضح کیا کہ یہ رقم صرف انسانی ضروریات، جیسے خوراک اور ادویات کی خریداری کے لیے استعمال ہو سکتی ہے اور اس پر مکمل نگرانی ہوگی۔

    اکتوبر 2023 کے بعد، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے پر ان فنڈز تک ایران کی رسائی مزید محدود کر دی گئی، اور 2026 تک بھی یہ رقم مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکی۔ حالیہ مذاکرات میں ایران کی ایک بڑی شرط انہی اثاثوں کی بحالی ہے، تاہم امریکہ نے کسی نئے معاہدے کی تصدیق نہیں کی۔

    قطر کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی ایران کے بڑے مالی اثاثے موجود ہیں۔ جنوبی کوریا میں تقریباً 6 سے 7 ارب ڈالر کے اثاثے تھے، جن میں سے بڑی رقم بعد میں قطر منتقل کر دی گئی۔ عراق میں ایران کے تقریباً 6 سے 10 ارب ڈالر موجود ہیں، جو زیادہ تر بجلی اور گیس کی ادائیگیوں سے متعلق ہیں، مگر ایران انہیں مکمل طور پر استعمال نہیں کر سکتا کیونکہ یہ بھی پابندیوں کے دائرے میں ہیں۔

    چین میں ایران کے تقریباً 20 ارب ڈالر کے اثاثے موجود بتائے جاتے ہیں، جبکہ جاپان اور یورپ کے کچھ ممالک میں بھی اربوں ڈالر کی رقوم مختلف شکلوں میں روکی گئی ہیں۔

    خلیجی ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات، میں بھی ایرانی سرمائے کی موجودگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ بعض تجزیوں کے مطابق یہ رقم 50 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے، اگرچہ ان میں سے تمام اثاثے باضابطہ طور پر منجمد نہیں بلکہ نگرانی یا پابندیوں کے دائرے میں ہیں۔

    ان تمام اثاثوں کے منجمد ہونے کی بنیادی وجہ بین الاقوامی پابندیاں ہیں، جو خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے کردار کے باعث عائد کی گئیں۔ اس کے نتیجے میں ایران اپنی کمائی ہوئی رقم تک براہ راست رسائی حاصل نہیں کر پاتا اور اسے عالمی بینکاری نظام کے ذریعے استعمال کرنے کے لیے مخصوص شرائط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    یہ منجمد اثاثے صرف مالی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری کا ایک اہم ہتھیار بھی ہیں۔ امریکہ اور مغربی ممالک اکثر ان اثاثوں کو مذاکرات میں دباؤ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جبکہ ایران انہیں اپنی معیشت کی بحالی کے لیے ناگزیر قرار دیتا ہے۔

    یوں ایران کے منجمد اثاثے ایک ایسی پیچیدہ کہانی ہیں جہاں معیشت، سیاست، پابندیاں اور سفارت کاری سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ہر نیا معاہدہ یا کشیدگی ان اثاثوں کے مستقبل کا تعین کرتی ہے۔

  • پاکستان میں بڑے مذہبی جلوسوں کا امکان، امریکی عملے کی نقل و حرکت 10 مارچ سے محدود  کرنے کا اعلان

    پاکستان میں بڑے مذہبی جلوسوں کا امکان، امریکی عملے کی نقل و حرکت 10 مارچ سے محدود  کرنے کا اعلان

    امریکی سفارت خانہ، اسلام آباد نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان بھر میں متوقع بڑے مذہبی جلوسوں کے پیش نظر 10 مارچ دوپہر 12 بجے سے امریکی عملے کی نقل و حرکت محدود کر دی جائے گی۔

    امریکی سفارت خانے کے جاری کردہ بیان کے مطابق اسلام آباد میں سفارت خانے کے علاوہ لاہور، کراچی اور پشاور میں قائم امریکی قونصل خانوں کی جانب سے ملک بھر میں ہونے والے بڑے مذہبی جلوسوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق ان اجتماعات کے باعث بڑے ہجوم، ٹریفک کے شدید دباؤ اور سیکیورٹی کے اضافی انتظامات کی توقع ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی کے پیش نظر مختلف علاقوں میں چیک پوسٹوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جبکہ بعض مقامات پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس میں عارضی خلل بھی آ سکتا ہے۔ جلوسوں کے راستوں کے قریب سڑکیں بند ہونے یا متبادل راستے اختیار کرنے کے باعث ٹریفک میں تاخیر کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔

    امریکی سفارت خانے کے مطابق بڑے اجتماعات اور جلوس بعض اوقات غیر متوقع صورت حال اختیار کر سکتے ہیں اور بظاہر پرامن اجتماعات بھی تشدد کی شکل اختیار کر سکتے ہیں، اس لیے امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بڑے اجتماعات سے دور رہیں اور اپنے اردگرد کے حالات سے باخبر رہیں۔

    بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ لاہور اور کراچی میں امریکی قونصل خانوں کی تمام قونصلر خدمات بدستور معطل رہیں گی، تاہم اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ امریکی شہریوں کو خدمات فراہم کرتا رہے گا۔ جن افراد کی قونصلر خدمات کے لیے ملاقات طے ہے انہیں کسی بھی تبدیلی کی صورت میں بذریعہ ای میل آگاہ کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے سے کراچی اور لاہور میں امریکی قونصل خانے بند ہیں اور وہاں تعینات تمام امریکی عملے کو اہلِ خانہ سمیت ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کی جا چکی ہے۔

    امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بڑے عوامی اجتماعات سے گریز کریں، مظاہروں یا ہجوم کے قریب غیر ضروری طور پر نہ جائیں، اپنی ذاتی سیکیورٹی منصوبہ بندی کا جائزہ لیں، مقامی میڈیا سے باخبر رہیں، غیر ضروری توجہ سے بچیں، شناختی دستاویزات اپنے پاس رکھیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔

  • اٹھارہویں ترمیم، صوبوں کی نئی بادشاہتیں اور اسلام آباد کی بے چینی

    اٹھارہویں ترمیم، صوبوں کی نئی بادشاہتیں اور اسلام آباد کی بے چینی

    اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کے عوام کو کیا حاصل ہوا، اس پر بحث ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہنی چاہیے۔ مگر اسلام آباد والوں کو اس ترمیم سے اس لیے تکلیف نہیں ہے کہ صوبوں کے عوام کو مطلوبہ فائدہ نہیں ملا۔

    وفاقی حکومت کی اپنی حالت یہ ہے کہ اس کے زیرِ انتظام چلنے والی سرکاری کمپنیوں نے ایک سال میں 833 ارب روپے کا نقصان کیا ہے۔ ریلوے، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، پوسٹ آفس، ایئر لائن، اسٹیل مل، بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں، سب خسارے میں چلی گئی ہیں۔

    میری اسلام آباد کے ’بادشاہی دور‘ کے بیوروکریٹس سے مختلف پروگراموں میں ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ انہیں اس ترمیم سے سب سے زیادہ چڑ اس بات پر ہوتی ہے کہ ’صوبے ہماری بات نہیں سنتے‘۔

    پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک بیوروکریٹ نے کہا کہ صوبے مقامی حکومتیں درست طریقے سے نہیں چلاتے۔ میں نے کہا کہ تمہاری بات درست ہے، مگر جس صوبے سے تمہارا تعلق ہے اور جس وفاقی دارالحکومت میں تم ملازمت کر رہے ہو، ان دونوں نے ابھی تک سچی یا جھوٹی، کوئی مقامی حکومتیں بھی قائم نہیں کیں۔

    باقی تین صوبوں میں خامیاں ضرور ہیں مگر نام کی حد تک ہی سہی، کچھ مقامی ادارے موجود ہیں۔ کبھی ان دونوں سے بھی کہو کہ اچھی مقامی حکومتیں بنائیں، تاکہ باقی تین صوبوں کو بھی شرم آئے۔

    ایک وفاقی بیوروکریٹ نے ایک اجلاس میں اٹھارہویں ترمیم کے بارے میں کہا کہ ملک میں ’ڈی وولیوشن ڈیزیز‘ پھیل گیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ تمہارا محترم محکمہ تو مکمل طور پر وفاقی ہے، وہ تو صوبوں کو منتقل بھی نہیں ہوا، اس میں کون سا انقلاب آ گیا ہے؟ یہ بتاؤ تاکہ میں بھی تمہارا ساتھ دوں۔ جواب میں وہ فضول باتیں کرنے لگا۔

    وفاقی سیاستدان اور بیوروکریٹس اس ترمیم کے خلاف کسی عوامی درد کی وجہ سے نہیں ہیں، بلکہ انہیں اپنی بادشاہت چھن جانے کا دکھ ہے۔

    اب صوبے وفاقی بیوروکریٹس کے رعب میں نہیں آتے۔ کبھی کبھار تو ان کے خطوط کا جواب بھی نہیں دیتے۔ انہیں صوبائی محکموں کی کمیٹیوں میں بھی اب شامل نہیں کیا جاتا۔ سرکاری اجلاسوں میں بھی وفاقی بیوروکریٹس کو پہلے جیسی اہمیت نہیں ملتی۔

    جو صوبے پہلے ان کی انتظامی بادشاہت کے ماتحت تھے، اب اپنی مرضی چلانے لگے ہیں۔ عالمی ڈونر ادارے بھی اب صوبوں سے براہِ راست بات کرنے لگے ہیں۔

    اسلام آباد کی بادشاہ بیوروکریسی کا بس چلے تو وہ اس ترمیم کو بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دے، اور شاید ملک میں ون یونٹ یا مارشل لا واپس لے آئے۔

    البتہ یہ حقیقت اٹل ہے کہ صوبائی حکومتوں نے اس ترمیم کے ذریعے عوام کی زندگیاں بہتر بنانے کے بجائے صوبوں میں نئی ’اسلام آبادیں‘ قائم کر لی ہیں۔ جمہوریت، اختیارات اور وسائل کی تقسیم کو انہوں نے اپنی اپنی بادشاہتیں قائم کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔

  • امریکی محکمہ خارجہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری جان مارک پومر شائم کی پاکستان کے دورے کے دوران کیا سرگرمیاں رہیں؟

    امریکی محکمہ خارجہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری جان مارک پومر شائم کی پاکستان کے دورے کے دوران کیا سرگرمیاں رہیں؟

    امریکی محکمہ خارجہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری جان مارک پومر شائم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ انہوں نے اعلیٰ سرکاری حکام، کاروباری شخصیات اور مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ ماہرین سے ملاقاتیں کیں۔

    ملاقاتوں میں ابھرتی ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور مستقبل کی شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت عالمی معیشت اور سفارت کاری کا اہم موضوع بن چکی ہے، اسی تناظر میں یہ روابط اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

    لاہور میں امریکی سفارتی حکام نے بسنت کے تہوار میں بھی شرکت کی۔ پنجاب کی اس قدیم روایت کی بحالی پر شہریوں کے ساتھ مل کر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ بسنت ماضی میں پابندیوں اور تنازعات کا شکار رہی، تاہم یہ تہوار شہری ثقافت اور سماجی ہم آہنگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ غیر ملکی سفارت کاروں کی شرکت کو عوامی روابط کے ایک نرم پہلو کے طور پر دیکھا گیا۔

    اسلام آباد میں فریڈم 250 لیکچر سیریز کا انعقاد جاری رہا۔ اس نشست میں قیادت اور تاریخی ورثے پر گفتگو کی گئی جبکہ امریکی صدارتی تاریخ کے مختلف ادوار کو موضوع بنایا گیا۔ یہ پروگرام ملک بھر میں قائم لنکن کارنرز کے ذریعے نشر کیا گیا۔

    لنکن کارنرز دراصل ایسے مراکز ہیں جو تعلیمی اور ثقافتی معلومات تک رسائی فراہم کرتے ہیں اور نوجوانوں کے لیے مباحثے کا پلیٹ فارم بنتے ہیں۔

    تعلیم کے شعبے میں ایجوکیشن یو ایس اے ٹیم نے کراچی اور لاہور میں امریکی جامعات کے تعلیمی میلوں کا انعقاد کیا۔ طلبہ کو داخلہ طریقہ کار، وظائف اور تعلیمی مواقع سے متعلق رہنمائی دی گئی۔

    اسلام آباد میں آخری میلہ اتوار کو منعقد ہو رہا ہے جہاں طلبہ براہ راست معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان سے ہر سال ہزاروں طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ جاتے ہیں، جو دو طرفہ تعلقات کا ایک مستقل اور اہم پہلو ہے۔

    کھیلوں کے میدان میں ٹی 20 مقابلے میں امریکی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کے خلاف حصہ لیا۔ مقابلہ دوستانہ ماحول میں دیکھا گیا۔ اسی ہفتے سپر باؤل بھی پاکستانی شائقین کے ساتھ دیکھا گیا، جسے امریکی کھیلوں کی ثقافت کی ایک نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔

    ہفتے کے اختتام پر امریکی حکام کی جانب سے پاکستان کے لیے تشکر کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں نئی شراکت داری، جدت اور آئندہ 250 برس کی سفارت کاری کے عزم کو دہرایا گیا۔ ماہرین کے مطابق تعلقات میں سیاسی اتار چڑھاؤ کے باوجود تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط ایسے شعبے ہیں جو مسلسل رابطے کا ذریعہ بنتے رہتے ہیں۔

     

  • اسلام آباد: منصوبہ بندی سے قائم کیا جانے والا شہر

    اسلام آباد: منصوبہ بندی سے قائم کیا جانے والا شہر

    پاکستان کے قیام کے بعد کراچی کو دارالحکومت بنایا گیا، مگر وقت کے ساتھ یہ احساس بڑھتا گیا کہ ایک نیا، محفوظ اور منظم دارالحکومت درکار ہے۔ سنہ 1960 میں فیصلہ ہوا کہ دارالحکومت کراچی سے منتقل کیا جائے۔ مقصد ایک ایسا شہر بنانا تھا جو انتظامی فیصلوں کے لیے موزوں ہو اور سیاسی و حکومتی سرگرمیوں کا مرکز بن سکے۔

    اس مقام کے انتخاب میں جغرافیہ، موسم اور دفاعی پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا۔ مارگلہ کے پہاڑ، قدرتی نالے، سرسبز زمین اور نسبتاً معتدل موسم اس علاقے کی خاص پہچان تھے۔ اس سے پہلے یہاں چھوٹے گاؤں، کھیت اور کھلی زمین موجود تھی۔ یہی خاموش فضا بعد میں ایک منظم شہر کی بنیاد بنی۔

    اسلام آباد کو ایک واضح تصور کے تحت ڈیزائن کیا گیا۔ شہر کو باقاعدہ سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا، جہاں ہر سیکٹر کو ایک مکمل محلہ سمجھا گیا۔ ہر سیکٹر میں رہائش، بازار، مسجد، اسکول اور پارک رکھے گئے تاکہ روزمرہ زندگی کے لیے طویل سفر کی ضرورت نہ پڑے۔

    یہ منصوبہ بندی صرف عمارتوں تک محدود نہیں تھی۔ شہر کو پیدل چلنے کے اصول پر ڈیزائن کیا گیا تاکہ شہری زندگی میں آسانی رہے اور نقل و حرکت دباؤ کا باعث نہ بنے۔ سڑکوں کا جال، رہائشی فاصلے اور سبز مقامات سب ایک مربوط نظام کا حصہ تھے۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ اسلام آباد کو ابتدا میں ایک پرسکون شہر کے طور پر تصور کیا گیا تھا۔ یہاں بھاری صنعتیں لگانے کا منصوبہ نہیں تھا۔ یہ شہر حکومتی کام، پالیسی سازی اور انتظامی امور کے لیے مخصوص رکھا گیا تاکہ شور اور آلودگی سے بچا جا سکے۔

    ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ فیصل مسجد شہر کے ابتدائی منصوبے کا حصہ نہیں تھی۔ بعد میں اسے شامل کیا گیا، اور وقت کے ساتھ یہ نہ صرف اسلام آباد بلکہ پورے پاکستان کی علامت بن گئی۔

    اسلام آباد کی گرین بیلٹس صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بنائی گئیں۔ ان کا مقصد ہوا کے قدرتی بہاؤ کو برقرار رکھنا، درجہ حرارت کو متوازن رکھنا اور شہریوں کو کھلی فضا فراہم کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شہر آج بھی نسبتاً کم درجہ حرارت اور صاف ماحول کے لیے جانا جاتا ہے۔

    یہاں تک کہ قبرستانوں کی جگہ بھی پہلے سے طے کی گئی تھی۔ مقصد یہ تھا کہ شہر بے ترتیب انداز میں نہ پھیلے اور زندگی کے تمام مراحل ایک نظم کے تحت رہیں۔

     

  • ‘ڈیجیٹل دہشت گردی’ کیس: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سات صحافیوں اور یوٹیوبرز کو عمر قید کی سزا سنادی

    ‘ڈیجیٹل دہشت گردی’ کیس: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سات صحافیوں اور یوٹیوبرز کو عمر قید کی سزا سنادی

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جمعے کے روز ایک اہم فیصلے میں سات صحافیوں اور سوشل میڈیا تبصرہ نگاروں کو ان کی غیر موجودگی میں عمر قید کی سزا سنا دی۔ یہ سزائیں نو مئی سے جڑے ‘ڈیجیٹل دہشت گردی’ کے مقدمات میں سنائی گئیں، جنہیں حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا سے متعلق سخت ترین عدالتی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

    عدالت کی جانب سے جن افراد کو سزا سنائی گئی، ان میں صحافی صابر شاکر، معید پیرزادہ، شاہین صہبائی اور وجاہت سعید خان شامل ہیں، جبکہ یوٹیوبرز اور سابق فوجی افسران عادل راجہ، حیدر رضا مہدی اور سید اکبر حسین بھی فیصلے کی زد میں آئے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق تمام ملزمان کو دو، دو مرتبہ عمر قید کی سزا دی گئی۔

    انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے فیصلے میں کہا کہ ملزمان نے نو مئی کے واقعات کے بعد سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی مواد پھیلایا۔ عدالت کے مطابق یہ طرز عمل دہشت گردی کے دائرے میں آتا ہے کیونکہ اس سے ریاستی نظم و نسق اور عوامی امن کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوا۔

    عدالت نے عمر قید کے علاوہ دیگر دفعات کے تحت مجموعی طور پر 35 سال اضافی قید اور 15 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید قید بھگتنا ہوگی۔

    عدالتی دستاویزات کے مطابق تھانہ آبپارہ اسلام آباد میں درج مقدمے میں صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کو سزا سنائی گئی، جبکہ تھانہ رمنا میں درج مقدمے کے تحت شاہین صہبائی، حیدر رضا مہدی اور وجاہت سعید خان کو مجرم قرار دیا گیا۔ مختلف مقدمات میں ملزمان کے کردار کو الگ الگ جانچا گیا، تاہم عدالت نے مجموعی طور پر ڈیجیٹل سرگرمیوں کو ایک منظم مہم قرار دیا۔

    استغاثہ کا مؤقف تھا کہ ملزمان نے نو مئی کے واقعات کے بعد سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف منظم ڈیجیٹل مہم چلائی، جس کے ذریعے عوام میں بے چینی اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ استغاثہ کے مطابق یہ سرگرمیاں ڈیجیٹل دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کا مقصد ریاستی اداروں کو کمزور دکھانا تھا۔

    عدالت کے اس فیصلے کو ملک میں ڈیجیٹل اظہار، سوشل میڈیا سرگرمیوں اور ان سے جڑے قانونی دائرہ کار کے حوالے سے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے پر مختلف حلقوں میں بحث اور ردعمل سامنے آنے کی توقع ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اظہار رائے اور قانون کی حدود کہاں متعین ہوتی ہیں۔