تقریباً 40 دن کی جنگ کے بعد بالآخر امریکی اور ایرانی وفود مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں اور مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی بات چیت کے ذریعے کسی دیرپا امن معاہدے تک پہنچ جائے گی۔
ان امن مذاکرات، جسے پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر اسلام آباد ٹاکس کا نام دیا گیا ہے، میں ایران نے چند بنیادی شرائط رکھی ہیں، جن میں جنگ بندی اور علاقائی تنازعات کا خاتمہ، لبنان میں فوری جنگ بندی، وسیع تر خطے میں کشیدگی کم کرنا، جنگی نقصانات کا ازالہ (ایران نے حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے بدلے مالی معاوضہ بھی ایک اہم شرط کے طور پر پیش کیا ہے)، آبنائے ہرمز سے متعلق مطالبات (ایران چاہتا ہے کہ اس اہم سمندری راستے سے متعلق اس کی پوزیشن کو تسلیم کیا جائے، جبکہ اس کا تعلق عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل سے ہے) شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ایران نے اپنے منجمد اثاثوں کی واپسی یا انہیں غیر منجمد کرنے کو بھی مذاکرات کی اہم شرط بنایا ہے۔
ایران پر پابندیوں اور اس کے اثاثے منجمد کرنے کی تاریخ کئی مراحل پر مشتمل ہے۔
پہلا مرحلہ 1979 کا ہے، جب ایران میں انقلاب آیا اور تہران میں امریکی سفارتخانے کے عملے کو یرغمال بنایا گیا۔ اس واقعے کے ردعمل میں جمی کارٹر کی حکومت نے ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے۔ اس اقدام کا مقصد ایران پر دباؤ ڈالنا تھا تاکہ یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنائی جا سکے۔ یہ وہ پہلا موقع تھا جب ایران کے بڑے مالی وسائل بیرونِ ملک روک دیے گئے۔
دوسرا مرحلہ 1990 کی دہائی میں سامنے آیا، جب امریکہ نے ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کیں۔ بل کلنٹن کے دور میں ایران کے تیل اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری پر پابندی لگا دی گئی۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ایران خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کر رہا ہے۔ اس مرحلے پر اگرچہ بڑے پیمانے پر نئے اثاثے منجمد نہیں ہوئے، لیکن ایران کی عالمی مالیاتی رسائی مزید محدود ہو گئی۔
تیسرا اور اہم مرحلہ 2006 سے شروع ہوا، جب ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی خدشات بڑھنے لگے۔ اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے متعدد قراردادیں منظور کیں، جن کے تحت ایران پر بین الاقوامی پابندیاں عائد کی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یورپی یونین اور امریکہ نے بھی سخت اقتصادی اقدامات کیے۔
ان پابندیوں کے نتیجے میں ایران کے تیل سے حاصل ہونے والے اربوں ڈالر مختلف ممالک کے بینکوں میں جمع تو ہوتے رہے، لیکن ایران انہیں استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ یوں یہ رقوم عملی طور پر منجمد ہو گئیں۔
چوتھا مرحلہ 2015 میں آیا، جب ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے پایا۔ اس کے نتیجے میں کچھ پابندیاں نرم کی گئیں اور ایران کو اپنے بعض منجمد اثاثوں تک محدود رسائی حاصل ہوئی۔ یہ ایک اہم پیش رفت تھی، تاہم مکمل آزادی نہیں دی گئی بلکہ نگرانی برقرار رہی۔
پانچواں مرحلہ 2018 میں شروع ہوا، جب ٹرمپ نے اس معاہدے سے امریکہ کو الگ کر لیا اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے بعد ایران کے مزید اثاثے دنیا بھر میں دوبارہ منجمد یا محدود ہو گئے، خاص طور پر وہ رقوم جو تیل کی فروخت سے حاصل ہوئی تھیں۔
آخری مرحلہ حالیہ برسوں کا ہے، جہاں کچھ رقوم کو محدود شرائط کے تحت منتقل تو کیا گیا، لیکن ان کے استعمال پر سخت پابندیاں برقرار رہیں۔ ان رقوم کو صرف انسانی ضروریات، جیسے خوراک اور ادویات کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی، اور وہ بھی مکمل نگرانی کے تحت۔
ایران کے اثاثے منجمد ہونے کی بنیادی وجوہات تین رہی ہیں: 1979 کا یرغمالی بحران، دہشت گردی کی مبینہ حمایت کے الزامات، اور جوہری پروگرام سے متعلق عالمی خدشات۔ ان پابندیوں کا آغاز امریکہ نے کیا، بعد میں دیگر عالمی اداروں اور خطوں نے بھی اس میں کردار ادا کیا، اور آج بھی یہ مسئلہ عالمی سیاست اور سفارت کاری میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔
ایران کے منجمد اثاثے کتنے ہیں، ان اثاثوں پر کب اور کیوں پابندی لگی؟
ایران کے منجمد اثاثے گزشتہ چار دہائیوں سے عالمی سیاست، پابندیوں اور سفارتی کشمکش کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ یہ اثاثے دراصل وہ رقوم ہیں جو ایران نے زیادہ تر تیل کی فروخت سے کمائیں، مگر مختلف ممالک میں بینکاری نظام کے اندر پھنس گئیں اور ایران انہیں آزادانہ طور پر استعمال نہیں کر سکا۔
یہ کہانی 1979 کے ایرانی انقلاب سے شروع ہوتی ہے، جب امریکہ نے تہران میں سفارتخانے کے یرغمالی بحران کے بعد ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کر دیے۔ اس کے بعد آنے والی دہائیوں میں، خاص طور پر جوہری پروگرام کے باعث لگنے والی پابندیوں نے ایران کے مزید مالی وسائل کو دنیا بھر میں روک دیا۔
آج ایران کے منجمد اثاثے مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں، جن میں امریکہ، قطر، جنوبی کوریا، عراق اور چین شامل ہیں، اور ان کی مجموعی مالیت دسیوں ارب ڈالر تک پہنچتی ہے۔
امریکہ میں موجود ایرانی اثاثے سب سے پرانے تنازع کا حصہ ہیں۔ اندازوں کے مطابق تقریباً 2 ارب ڈالر کے اثاثے امریکہ میں منجمد ہیں، جن میں بینک فنڈز کے ساتھ کچھ جائیدادیں بھی شامل ہیں۔ ان اثاثوں کا ایک حصہ امریکی عدالتوں کے فیصلوں کے تحت ضبط بھی کیا جا چکا ہے، خاص طور پر دہشت گردی سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کے لیے۔
یہ اثاثے 1979 کے بعد سے مسلسل تنازع کا شکار ہیں اور آج بھی ایران اور امریکہ کے درمیان قانونی و سفارتی کشیدگی کا ایک بڑا سبب ہیں۔
قطر میں موجود ایرانی اثاثے حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ زیر بحث رہے ہیں۔ یہ تقریباً 6 ارب ڈالر کی رقم ہے، جو اصل میں ایران کی جنوبی کوریا کو تیل فروخت کرنے سے حاصل ہوئی تھی۔ 2018 میں جب امریکہ نے دوبارہ سخت پابندیاں عائد کیں تو یہ رقم جنوبی کوریا کے بینکوں میں منجمد ہو گئی۔
بعد ازاں 2023 میں امریکہ اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے تحت یہ رقم قطر کے بینکوں میں منتقل کی گئی، لیکن اس پر سخت پابندیاں برقرار رہیں۔ امریکہ نے واضح کیا کہ یہ رقم صرف انسانی ضروریات، جیسے خوراک اور ادویات کی خریداری کے لیے استعمال ہو سکتی ہے اور اس پر مکمل نگرانی ہوگی۔
اکتوبر 2023 کے بعد، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے پر ان فنڈز تک ایران کی رسائی مزید محدود کر دی گئی، اور 2026 تک بھی یہ رقم مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکی۔ حالیہ مذاکرات میں ایران کی ایک بڑی شرط انہی اثاثوں کی بحالی ہے، تاہم امریکہ نے کسی نئے معاہدے کی تصدیق نہیں کی۔
قطر کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی ایران کے بڑے مالی اثاثے موجود ہیں۔ جنوبی کوریا میں تقریباً 6 سے 7 ارب ڈالر کے اثاثے تھے، جن میں سے بڑی رقم بعد میں قطر منتقل کر دی گئی۔ عراق میں ایران کے تقریباً 6 سے 10 ارب ڈالر موجود ہیں، جو زیادہ تر بجلی اور گیس کی ادائیگیوں سے متعلق ہیں، مگر ایران انہیں مکمل طور پر استعمال نہیں کر سکتا کیونکہ یہ بھی پابندیوں کے دائرے میں ہیں۔
چین میں ایران کے تقریباً 20 ارب ڈالر کے اثاثے موجود بتائے جاتے ہیں، جبکہ جاپان اور یورپ کے کچھ ممالک میں بھی اربوں ڈالر کی رقوم مختلف شکلوں میں روکی گئی ہیں۔
خلیجی ممالک، خاص طور پر متحدہ عرب امارات، میں بھی ایرانی سرمائے کی موجودگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ بعض تجزیوں کے مطابق یہ رقم 50 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے، اگرچہ ان میں سے تمام اثاثے باضابطہ طور پر منجمد نہیں بلکہ نگرانی یا پابندیوں کے دائرے میں ہیں۔
ان تمام اثاثوں کے منجمد ہونے کی بنیادی وجہ بین الاقوامی پابندیاں ہیں، جو خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کے کردار کے باعث عائد کی گئیں۔ اس کے نتیجے میں ایران اپنی کمائی ہوئی رقم تک براہ راست رسائی حاصل نہیں کر پاتا اور اسے عالمی بینکاری نظام کے ذریعے استعمال کرنے کے لیے مخصوص شرائط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ منجمد اثاثے صرف مالی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری کا ایک اہم ہتھیار بھی ہیں۔ امریکہ اور مغربی ممالک اکثر ان اثاثوں کو مذاکرات میں دباؤ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جبکہ ایران انہیں اپنی معیشت کی بحالی کے لیے ناگزیر قرار دیتا ہے۔
یوں ایران کے منجمد اثاثے ایک ایسی پیچیدہ کہانی ہیں جہاں معیشت، سیاست، پابندیاں اور سفارت کاری سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اور ہر نیا معاہدہ یا کشیدگی ان اثاثوں کے مستقبل کا تعین کرتی ہے۔






