[rank_math_breadcrumb]

یورپ کا وہ شہر جہاں ایک پل تاریخ، جنگ اور امید کی علامت بن گیا

بوسنیا ہرزیگووینا کا تاریخی شہر موسٹار دنیا کے اُن چند شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں ایک پل صرف آمد و رفت کا ذریعہ نہیں بلکہ پورے شہر کی شناخت بن چکا ہے۔ دریائے نیروتوا کے کنارے آباد یہ شہر صدیوں سے مشرق اور مغرب کے درمیان ثقافتی رابطے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہاں واقع مشہور ‘اسٹاری موسٹ’ یعنی ‘پرانا پل’ نہ صرف عثمانی فنِ تعمیر کا ایک شاہکار ہے بلکہ بوسنیا جنگ، تباہی اور دوبارہ تعمیر کی ایک زندہ یادگار بھی مانا جاتا ہے۔

یہ پل سولہویں صدی میں عثمانی سلطنت کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق اس کی تعمیر سن 1557 میں شروع ہوئی اور 1566 میں مکمل ہوئی۔ اس منصوبے کی نگرانی عثمانی معمار معمار خیرالدین نے کی، جو مشہور عثمانی معمار سنان کے شاگرد سمجھے جاتے تھے۔ اس زمانے میں ایک ہی محراب پر مشتمل اتنا بڑا پتھریلا پل تعمیر کرنا انجینئرنگ کا حیرت انگیز کارنامہ تصور کیا جاتا تھا۔ پل تقریباً 29 میٹر لمبا اور دریائے نیروتوا سے قریب 24 میٹر بلند ہے۔

کم لوگ جانتے ہیں کہ اس پل کی تعمیر کے دوران عثمانی انجینئروں نے خاص قسم کے مقامی چونے کے پتھر ‘ٹینیلیا’ کا استعمال کیا تھا، جو ہرزیگووینا کے علاقے سے نکالا جاتا تھا۔ روایت ہے کہ پل کو مضبوط بنانے کے لیے پتھروں کو جوڑنے والے مسالے میں انڈوں کی سفیدی بھی شامل کی گئی تھی، اگرچہ بعض مؤرخین اسے ایک مقامی داستان قرار دیتے ہیں۔ اس پل کی خوبصورتی اور منفرد محرابی ساخت نے بعد میں یورپ کے کئی معماروں کو متاثر کیا۔

شہر ‘موسٹار’ کا نام بھی اسی پل سے جڑا ہوا ہے۔ قرونِ وسطیٰ میں پل کی حفاظت کرنے والے محافظوں کو ‘موستاری’ کہا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہی لفظ پورے شہر کی پہچان بن گیا۔ یہ پل صرف دو کناروں کو نہیں بلکہ مختلف مذاہب اور قومیتوں کو بھی آپس میں جوڑتا رہا۔ عثمانی دور میں یہاں مسلمان، کروشین اور سرب آبادی ایک ہی تجارتی مرکز میں رہتی تھی، جس کی جھلک آج بھی شہر کی گلیوں اور عمارتوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔

انیس سو ترانوے میں بوسنیا جنگ کے دوران یہ تاریخی پل شدید گولہ باری کے بعد منہدم ہوگیا۔ اس واقعے کی تصاویر دنیا بھر میں نشر ہوئیں اور بہت سے لوگوں نے اسے صرف ایک عمارت کی تباہی نہیں بلکہ مشترکہ تاریخ اور ثقافت کے ٹوٹنے کی علامت قرار دیا۔ پل کے گرنے کے بعد دریائے نیروتوا میں اس کے بڑے بڑے پتھر بکھر گئے تھے۔

جنگ کے بعد یونیسکو، ورلڈ بینک، ترکی، اٹلی، نیدرلینڈز اور کئی دیگر ممالک نے اس پل کی بحالی میں حصہ لیا۔ تعمیرِ نو کے دوران ماہرین نے اصل عثمانی نقشوں اور پرانی تصاویر کی مدد سے پل کو دوبارہ اسی طرز میں تعمیر کرنے کی کوشش کی۔ کم معروف حقیقت یہ ہے کہ غوطہ خوروں نے دریائے نیروتوا کی تہہ سے اصل پل کے متعدد پتھر نکالے تاکہ جہاں ممکن ہو انہیں نئی تعمیر میں دوبارہ استعمال کیا جا سکے۔ نئی تعمیر میں بھی وہی ٹینیلیا پتھر استعمال کیے گئے جو صدیوں پہلے اصل پل میں لگائے گئے تھے۔

سن 2004 میں پل دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا گیا اور اگلے ہی سال UNESCO نے موسٹار کے تاریخی علاقے کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے دیا۔ یونیسکو نے اسے مختلف تہذیبوں، مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی کی علامت قرار دیا تھا۔

آج بھی موسٹار کی سب سے مشہور روایت پل سے دریائے نیروتوا میں چھلانگ لگانا ہے۔ مقامی نوجوان گرمیوں کے موسم میں اس بلند پل سے برف جیسے ٹھنڈے پانی میں غوطہ لگاتے ہیں۔ یہ روایت کئی صدیوں پرانی سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ اس کا باقاعدہ ریکارڈ بیسویں صدی سے ملتا ہے، لیکن مقامی لوگ اسے عثمانی دور سے جوڑتے ہیں۔ ہر سال یہاں بین الاقوامی ڈائیونگ مقابلے منعقد ہوتے ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔ نیروتوا کا پانی گرمیوں میں بھی انتہائی ٹھنڈا رہتا ہے، اسی لیے یہ چھلانگ صرف بہادری نہیں بلکہ جسمانی مہارت کا امتحان بھی سمجھی جاتی ہے۔

موسٹار کی پرانی مارکیٹ آج بھی عثمانی دور کی فضا کو زندہ رکھتی ہے۔ پتھروں سے بنی تنگ گلیاں، ہاتھ سے تانبے کے برتن بنانے والے کاریگر، روایتی بوسنیائی قہوہ پیش کرنے والے کیفے اور لکڑی و دھات سے بنی یادگاری اشیا سیاحوں کو کئی صدی پیچھے لے جاتی ہیں۔ یہاں کے بازار میں آج بھی ایسی دکانیں موجود ہیں جو نسلوں سے ایک ہی خاندان چلا رہا ہے۔

اگرچہ شہر نے خود کو دوبارہ تعمیر کرلیا ہے، لیکن جنگ کے آثار اب بھی واضح ہیں۔ کئی عمارتوں کی دیواروں پر گولیوں کے نشانات موجود ہیں، جبکہ بہت سے خاندان آج بھی جنگ میں کھوئے ہوئے اپنے عزیزوں کی یادیں سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہی تضاد موسٹار کو ایک منفرد شہر بناتا ہے، جہاں خوبصورتی اور درد ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔

موسٹار کو اکثر یورپ میں تہذیبوں کے سنگم کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں ایک ہی وقت میں مسجدوں کی اذانیں، چرچ کی گھنٹیاں اور مختلف ثقافتی روایات ایک ساتھ محسوس کی جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مورخین موسٹار کو صرف ایک تاریخی مقام نہیں بلکہ یورپ میں بقائے باہمی کی ایک علامت بھی قرار دیتے ہیں۔

آج دنیا بھر سے لاکھوں سیاح موسٹار کا رخ کرتے ہیں، مگر اس شہر کی اصل کشش اس کا خوبصورت پل نہیں بلکہ وہ داستان ہے جو اس کے پتھروں میں چھپی ہوئی ہے۔ ایک ایسا شہر جو جنگ میں ٹوٹ گیا، مگر دوبارہ کھڑا ہوا، اور ایک ایسا پل جو تباہ ہونے کے باوجود آج بھی لوگوں کو جوڑنے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔