گزشتہ دنوں ایک سرکاری اسپتال جانا ہوا، وہاں ایک خاتون ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی جو گریڈ 17 کی میڈیکل آفیسر سے ترقی پا کر گریڈ 18 میں سینئر میڈیکل آفیسر بنی ہیں۔ وہ شاید اخبارات یا فیس بک پر میری تحریریں پڑھتی رہی ہیں۔ میں جس مریض کی عیادت کے لیے اسپتال گیا تھا، اُس وارڈ میں اُن کی ڈیوٹی تھی۔
انہوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ کئی برسوں سے یہاں باقاعدگی سے ڈیوٹی انجام دے رہی ہیں اور غیر شادی شدہ ہیں۔ اُن کی گریڈ 18 میں پروموشن ہو چکی ہے، مگر اب پوسٹنگ آرڈرز جاری ہونے والے ہیں۔ سیکریٹریٹ میں بیٹھے محکمۂ صحت کے بااثر افراد کے ایجنٹوں نے پیغام دیا ہے کہ اُن کی پوسٹنگ کندھ کوٹ، کشمور یا شکارپور کی جا رہی ہے۔ اگر وہ موجودہ مقام پر سکون سے ڈیوٹی جاری رکھنا چاہتی ہیں تو لاکھوں روپے تیار رکھیں، ورنہ دور دراز اضلاع جانے کے لیے تیار ہو جائیں۔
رندھی ہوئی آواز میں انہوں نے کہا: ‘میں نے کبھی یہ اضلاع دیکھے تک نہیں، ایک غیر شادی شدہ لڑکی اکیلے ایسے دور دراز علاقوں میں کیسے جا سکتی ہے؟ میرا ڈومیسائل بھی ان اضلاع کا نہیں۔ یہ مسئلہ صرف میرا نہیں، بلکہ جن جن ڈاکٹروں کی گریڈ 18 میں بطور سینئر میڈیکل آفیسر پروموشن ہوئی ہے، اُن سب کے لیے یہ ترقی خوشی کے بجائے ذہنی اذیت بن چکی ہے۔ ہمارے پروموشن سیکریٹریٹ میں بیٹھی مافیا کے لیے گویا لاٹری بن گئے ہیں۔’
سندھ کے سرکاری محکموں میں گریڈ 17 سے 18 میں ترقی کسی بھی افسر کے کیریئر کا ایک اہم موڑ ہوتی ہے، مگر یہ ترقی اکثر متعلقہ افسران، خصوصاً لیڈی میڈیکل آفیسرز کے لیے ذہنی اور مالی عذاب بن جاتی ہے۔
1۔ پروموشن کے بعد پوسٹنگ کا عمل اور مالی بدعنوانی
جب ایک میڈیکل آفیسر گریڈ 17 سے ترقی پا کر گریڈ 18 یعنی سینئر میڈیکل آفیسر بنتا ہے، تو اُسے نئے گریڈ کی پوسٹنگ کے لیے آرڈر درکار ہوتا ہے۔ یہیں سے بدعنوانی کا ایک منظم جال شروع ہوتا ہے۔
آرڈرز میں تاخیر: پروموشن نوٹیفکیشن کے باوجود پوسٹنگ آرڈر جان بوجھ کر روکے جاتے ہیں تاکہ افسر ‘مفاہمت’ پر مجبور ہو جائے۔
ریٹ لسٹ کلچر: سیکریٹریٹ کے بعض مخصوص شعبوں میں مختلف شہروں اور پرکشش عہدوں کے لیے غیر رسمی ‘ریٹ’ مقرر ہوتے ہیں۔
2۔ پوسٹنگ کا خوف
ترقی پانے والے افسر کو اپنے شہر سے سینکڑوں میل دور کسی پسماندہ علاقے میں پوسٹنگ کا خوف دکھا کر رشوت طلب کی جاتی ہے۔
3۔ لیڈی میڈیکل آفیسرز کی بلیک میلنگ
محکمۂ صحت میں لیڈی میڈیکل آفیسرز اس نظام کا سب سے زیادہ شکار بنتی ہیں۔
4۔ خاندانی مجبوریاں
خواتین ڈاکٹروں کے لیے اپنے گھر، بچوں اور خاندان کو چھوڑ کر دور جانا اکثر ممکن نہیں ہوتا۔ اس انسانی مجبوری کو سیکشن آفیسر کلچر بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔
5۔ قریبی پوسٹنگ کا سودا
شہر کے بڑے اسپتالوں میں خالی اسامیاں ہونے کے باوجود انہیں کاغذوں میں پُر ظاہر کیا جاتا ہے تاکہ قریبی پوسٹنگ کے لیے بھاری رقم وصول کی جا سکے۔
میڈیکل آفیسر سے سینئر میڈیکل آفیسر تک کا سفر
محکمۂ صحت میں سینئر میڈیکل آفیسر کے طور پر ترقی پانے والوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں کچھ یوں ہیں:
1۔ کیڈر کی بلیک میلنگ
اکثر دیکھا گیا ہے کہ سینئر میڈیکل آفیسر کو اُس کے قریبی شہر کے بجائے ایسے مقام پر تعینات کیا جاتا ہے جہاں اُس کی ضرورت کم ہو، صرف اس لیے کہ اُس نے ‘سفارش’ یا ‘نذرانہ’ پیش نہیں کیا ہوتا۔
2۔ سرپلس پول
کئی افسران کو پروموشن کے بعد طویل عرصے تک پوسٹنگ کا انتظار کرایا جاتا ہے، جس سے اُن کی سروس متاثر ہوتی ہے۔
3۔ بدعنوانی کی بڑی وجوہات اور طریقے
سیاسی مداخلت:
بااثر سیاسی شخصیات اپنے من پسند افراد کو ایڈجسٹ کرانے کے لیے میرٹ کو پامال کرتی ہیں۔
بیوروکریٹک رکاوٹیں:
فائلوں کو غیر ضروری اعتراضات کے تحت دبا دیا جاتا ہے۔
ایجنٹ مافیا:
سیکریٹریٹ کے اندر اور باہر ایسے گروہ سرگرم ہیں جو افسران اور انتظامیہ کے درمیان ‘ڈیل’ کراتے ہیں۔
اثرات (Impact Analysis)
1۔ پیشہ ورانہ بددلی
جب ایک قابل ڈاکٹر یا پروفیسر کو اپنے حق کے لیے رشوت دینی پڑے تو اس کا اثر اُس کی کارکردگی اور جذبے پر پڑتا ہے۔
2۔ محکمۂ صحت کا زوال
جب پوسٹنگ میرٹ کے بجائے پیسے کی بنیاد پر ہوگی تو اسپتالوں میں اہل افراد کی کمی پیدا ہو جائے گی۔
3۔ عام آدمی کا نقصان
دور دراز علاقوں کے لوگ آج بھی بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہیں، کیونکہ وہاں کوئی جانا نہیں چاہتا اور لوگ رشوت دے کر شہروں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
4۔ تجویز کردہ اصلاحات
آن لائن پوسٹنگ سسٹم:
پوسٹنگ اور ٹرانسفر کا پورا نظام سافٹ ویئر کے ذریعے ہونا چاہیے، جہاں خالی آسامیوں کی تفصیل عوامی طور پر دستیاب ہو۔
فکسڈ ٹینئور پالیسی:
ہر افسر کے لیے ایک مخصوص مدت تک دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینا لازمی ہو، مگر یہ فیصلہ بلا امتیاز ہو۔
اینٹی کرپشن کا فعال کردار:
پروموشن سیزن میں محکمۂ صحت کے سیکریٹریٹس پر سخت نگرانی رکھی جائے۔
خواتین کے لیے خصوصی رعایت:
لیڈی میڈیکل آفیسرز کے لیے ‘قریبی پوسٹنگ’ کو بنیادی حق قرار دیا جائے تاکہ وہ گھر اور ملازمت میں توازن قائم رکھ سکیں۔
پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے نام پر ہونے والی یہ مالی بدعنوانی صرف ایک محکمے کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی ناسور ہے جو سندھ کے اہم ترین شعبے یعنی صحت کو کھوکھلا کر رہا ہے۔ جب تک پوسٹنگ کا اختیار شفاف اور خودکار نظام کے حوالے نہیں کیا جائے گا، یہ بلیک میلنگ جاری رہے گی۔
ایک کیس کا ذکر:
ایک خاتون لیکچرار کا کیس میری نظر سے گزرا۔ اُس خاتون لیکچرار کی پروموشن اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر ہوئی، مگر ترقی کے بعد اُن کی پوسٹنگ گورنمنٹ گرلز زبیدہ کالج حیدرآباد سے گورنمنٹ گرلز کالج ٹھٹھہ کر دی گئی۔ اُس خاتون اسسٹنٹ پروفیسر نے رقم دے کر اپنی ٹرانسفر رکوا لی۔ جس شخص نے اپنے ایجنٹ کے ذریعے یہ رقم وصول کی، وہی شخص آج کل سندھ کے ایک اہم ادارے میں تعینات ہے۔

