21 اپریل 1972 کو پاکستان میں تین سال، 26 دن چلنے والی مارشل لا ختم کرکے ذوالفقار علی بھٹو نے ایک عبوری آئین کے تحت صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا جس کی منظوری قومی اسمبلی نے چار روز قبل دی تھی۔
بھٹو 20 دسمبر 1971 سے صدر کا عہدہ سنبھالے ہوئے تھے نے راولپنڈی ریس کورس گراؤنڈ میں تقریباً تین لاکھ افراد کے مجمع کے سامنے صدارتی حلف اٹھایا۔
انہوں نے پرجوش اور بے چین ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین اور عوام کی خواہشات کی پاسداری کریں گے اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے ساتھ تعاون کریں گے جنہوں نے شہری حکومت کی بحالی پر زور دیا تھا۔
قیدی رہا کرنے کا اعلان
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو نے 1971 کی پاکستان، بھارت جنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے قید کیے گئے بھارتی قیدی رہا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا: ‘اگر بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی مجوزہ مذاکرات میں ان سے بھارتی جنگی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کریں تو وہ انہیں رہا کر دیں گے چاہے بھارت پاکستانی قیدیوں کی رہائی پر راضی ہو یا نہ ہو۔’
بھارتی وزارت خارجہ کی پالیسی پلاننگ کمیٹی کے چیئرمین درگا پرشاد دھر کی قیادت میں ایک بھارتی وفد کو اسلام آباد پہنچنے والا تھا تاکہ پاکستانی نمائندے عزیز احمد جو وزارت خارجہ کے سیکرٹری جنرل ہیں کے ساتھ بات چیت کر سکے۔
توقع کی جارہی تھی کہ یہ مذاکرات اندراں گاندھی اور بھٹو کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقات کی تیاریوں سے متعلق ہوں گے جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات اگلے ماہ کے اوائل میں ہو سکتی ہے۔
بھٹو نے اپنی تقریر میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم مسئلہ 93 ہزار پاکستانی فوجیوں اور سرکاری اہلکاروں کا ہے جو بھارتی قیدی کیمپوں میں قید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ان قیدیوں کو روک کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
‘ہم سودے بازی نہیں کریں گے’
بھٹو نے کہا کہ ‘ہم اس معاملے پر سودے بازی نہیں کریں گے۔ ہم قانون کا احترام کریں گے۔’
بھٹو کے مطابق اگر بھارت قانون کا احترام نہیں کرتا تو وہ تمام بھارتی قیدیوں کو رہا کر دیں گے۔ پاکستان کے پاس دسمبر کی جنگ میں پکڑے گئے صرف 600 کے قریب بھارتی فوجی موجود ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں قومی اسمبلی سے قیدیوں کو غیر مشروط طور پر رہا کرنے کی منظوری مل چکی ہے اور پھر انہوں نے مجمع سے اس کی منظوری طلب کی۔ اس پر نعرے تو بلند ہوئے لیکن چند ایک نے ‘نہیں’ کے نعرے بھی لگائے۔
مارشل لا جو آدھی رات کو اس وقت ختم ہوا جناب بھٹو نے رات ہی کو عبوری آئین کی منظوری پر دستخط کیے جو پہلی بار اکتوبر 1958 میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے نافذ کیا تھا۔ اسے 1962 میں اٹھا لیا گیا اور پھر 25 مارچ 1969 کو صدر آغا محمد یحییٰ خان نے دوبارہ نافذ کر دیا۔
بھٹو نے دسمبر 1971 میں اقتدار سنبھالتے وقت اصلاحات کے نفاذ کے واحد ذریعے کے طور پر عارضی طور پر مارشل لا کو برقرار رکھنے کی دلیل دی تھی۔
بھٹو پر تنقید جسے مارشل لا کے معاملے نے مزید ہوا دیا اگلے مہینوں میں بڑھتی گئی اور یہی وجہ سمجھی جاتی ہے کہ انہوں نے 14 اگست کے طے شدہ منصوبے کے بجائے اب مارشل لا ختم کر دیا۔
20 اپریل 1972 کو پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا کہ جنرل یحییٰ خان کی مارشل لا حکومت غیر قانونی تھی اور اس کے بنائے گئے تمام قواعد و احکام ‘قانونی جواز کی بنیاد پر برقرار نہیں رکھے جا سکتے’ لیکن قومی بہبود کے لیے اٹھائے گئے کچھ اقدامات ‘درست تصور کیے جا سکتے ہیں۔’
اس فیصلے نے جناب بھٹو کی مارشل لا انتظامیہ اور ان کے اصلاحاتی اقدامات کو بھی سوالیہ نشان بنا دیا اور قانونی پیچیدگیوں کی توقع کی جا رہی تھی۔
تمام وزرا اور سرکاری اہلکار بشمول فوجی کمانڈروں نے مارشل لا ختم ہونے پر مستعفی ہو گئے تاکہ عبوری آئین کے تحت انہیں دوبارہ تعینات کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا تھا کہ کچھ تبدیلیاں متوقع کی گئیں۔
بھٹو کو بطور صدر پاکستان کے عہدے کا حلف چیف جسٹس حمود الرحمان عدالت نے دلایا جنہوں خود اسی دن بھٹو کے ہاتھوں عبوری آئین کے تحت چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔

